جنگِ کلنگا — خون اور توبہ کی داستان
خوفناک آغاز — کلنگا کی زمین پر جنگ
یا آپ تصور کر سکتے ہیں ایک ایسے منظر کا جہاں میلوں دور تک پھیلے میدان میں صرف لاشیں ہی لاشیں ہوں؟ جہاں دریا کے پانی میں انسانی اعضاء تیر رہے ہوں اور پانی کا رنگ سرخ ہو چکا ہو؟ یہ کوئی فلم نہیں بلکہ 261 قبل مسیح کی حقیقت ہے — "جنگِ کلنگا"۔
اشوک اور کلنگا — طاقت اور تصادم
اشوک، جو "چنڈ اشوک" کے نام سے جانا جاتا تھا، اپنی سلطنت کی طاقت بڑھانے کے لیے کلنگا پر حملہ کرنے آیا۔ کلنگا نہ صرف طاقتور تھی بلکہ اپنے مذہبی نشان "جینا" کی حفاظت کر رہی تھی۔
تباہی — ٹوٹل وار اور قتل عام
اشوک نے "ٹوٹل وار" کا آغاز کیا۔ 4 سے 6 لاکھ فوج کلنگا پر ٹوٹ پڑی، ایک لاکھ کے قریب لوگ مارے گئے، ڈیڑھ لاکھ کو غلام بنایا گیا، اور دریا کا پانی خون کی طرح سرخ بہا۔
اشوک کی توبہ — چنڈ سے دھرم
فاتح اشوک جب میدان میں آیا تو جلی ہوئی جھونپڑیاں، یتیم بچے اور لاشیں دیکھ کر لرز گیا۔ اسی لمحے اس کا ضمیر جاگ اُٹھا اور اس نے اپنی تلوار زمین پر پھینک دی — "یہ فتح نہیں، یہ تباہی ہے"۔
تاریخ کا سبق اور بعد کے اثرات
اشوک کی توبہ کے بعد موریہ فوج نے حملہ بند کیا، اور صدیوں بعد بادشاہ کھارویلا نے کلنگا کا بدلہ لے کر "جینا" واپس کیا۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ زمین تلوار سے فتح ہو سکتی ہے، مگر دل نہیں۔