ایک تخت، 19 جنازے: سلطان محمد سوم کی خوفناک کہانی

استنبول کی تاریخ کا سیاہ ترین دن: 19 تابوتوں کا راز

استنبول... دنیا کا وہ شہر جہاں تاریخ کی سب سے بڑی بڑی فتوحات لکھی گئیں۔ جہاں کے میناروں سے "اللہ اکبر" کی صدائیں گونجتی تھیں۔ لیکن ۲۸ جنوری، ۱۵۹۵ کی صبح... استنبول کی گلیوں میں کوئی جشن نہیں تھا۔ ہواؤں میں ایک عجیب سا بوجھ تھا۔ توپ کاپی محل کا دروازہ کھلا، اور وہاں سے ایک نہیں، دو نہیں... بلکہ ۱۹ تابوت باہر نکلے۔ یہ تابوت کسی دشمن کے سپاہیوں کے نہیں تھے۔ یہ کسی غدار کے نہیں تھے۔ ان میں سے کچھ تابوت تو اتنے چھوٹے تھے کہ دیکھنے والوں کا کلیجہ پھٹ گیا۔ وہ تابوت ان ننھے شہزادوں کے تھے جو ابھی ٹھیک سے بولنا بھی نہیں سیکھے تھے۔ یہ سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ کا وہ کالا دن تھا جسے آج بھی ترک تاریخ میں "The Black Event" (سیاہ واقعہ) کہا جاتا ہے۔ وہ رات جب ایک سلطان نے تخت بچانے کے لیے اپنے ہی ۱۹ بھائیوں کا گلا گھونٹ دیا۔ ایک رات میں... ایک پورا خاندان ختم کر دیا گیا۔ آخر کیوں؟ کیا وجہ تھی کہ ایک بھائی اپنے ہی خون کا پیاسا ہو گیا؟ کیا یہ صرف اقتدار کی ہوس تھی، یا اس کے پیچھے کوئی ایسا "قانون" تھا جو ان بادشاہوں کو درندہ بنا دیتا تھا؟ آئیے چلتے ہیں اس خوفناک رات کی طرف... جب توپ کاپی محل کی دیواریں معصوموں کی چیخوں سے گونج اٹھی تھیں۔ اس دردناک کہانی کو سمجھنے کے لیے ہمیں تھوڑا پیچھے جانا ہوگا۔ سلطنتِ عثمانیہ کا ایک اصول تھا — "نظامِ عالم"۔ سلطان محمد فاتح، جنہوں نے قسطنطنیہ فتح کیا تھا، انہوں نے ایک قانون منظور کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سلطنت کو "خانہ جنگی" سے بچانے کے لیے، اگر کسی سلطان کو اپنے بھائیوں کو مارنا بھی پڑے، تو یہ جائز ہے۔ مقصد تھا سلطنت کو ٹوٹنے سے بچانا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، یہ "مجبوری" ایک "رواج" بن گئی۔ جب بھی کوئی نیا سلطان تخت پر بیٹھتا، وہ سب سے پہلے اپنے بھائیوں کو مارتا، تاکہ کل کو کوئی اس کے تخت کے لیے خطرہ نہ بنے۔

Sultan Mehmed III

ایک لاش، برف کے سل اور تخت کا کھیل

اب واپس آتے ہیں ۱۵۹۵ء میں۔ سلطان مراد سوم، جو سلطنتِ عثمانیہ کے ایک طاقتور بادشاہ تھے، اب اپنے بسترِ مرگ پر تھے۔ توپ کاپی محل میں ہر طرف سازشیں چل رہی تھیں۔ سلطان مراد کی بہت سی بیویاں تھیں اور ان کے بہت سے بچے تھے۔ لیکن ان کا سب سے بڑا بیٹا، شہزادہ محمد، مانیسا میں گورنر تھا۔ محمد (جو بعد میں سلطان محمد سوم بنا) اپنی ماں صفیہ سلطان کے بہت قریب تھا۔ صفیہ سلطان... وہ عورت جس کے اشاروں پر پوری سلطنت ناچتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر اس کا بیٹا محمد سلطان نہیں بنا، تو دوسری بیویوں کے بیٹے اسے مار دیں گے۔ یہ "مارو یا مر جاؤ" والی صورتحال تھی۔ ۱۶ جنوری ۱۵۹۵ء کی رات۔ سلطان مراد سوم کا انتقال ہو گیا۔ لیکن صفیہ سلطان نے موت کا اعلان نہیں کیا۔ کیوں؟ کیونکہ شہزادہ محمد ابھی استنبول میں نہیں تھا۔ اگر خبر پھیل جاتی تو دوسرے شہزادے بغاوت کر دیتے۔

Safiye Sultan

مانیسا سے استنبول: طوفانی رات کا سفر

صفیہ سلطان نے اپنے شوہر کی لاش کو برف میں رکھا اور چپکے سے محمد کو پیغام بھیجا: "جلدی آؤ، تخت تمہارا انتظار کر رہا ہے۔" محمد... جو مانیسا سے نکلا تو اس کے دماغ میں صرف ایک چیز تھی—تاج۔ اس نے راتوں رات سفر کیا۔ طوفانی موسم، تیز بارش، سمندر کی لہریں... مانو قدرت بھی اسے روکنا چاہتی تھی۔ لیکن وہ نہیں رکا۔ محمد استنبول پہنچا۔ اس نے اپنے باپ کی لاش دیکھی، دعا کی، اور پھر تختِ عثمانی پر بیٹھ گیا۔ اب وہ سلطان محمد سوم تھا۔ لیکن جشن منانے سے پہلے، اسے ایک "ادھورا کام" (unfinished business) نمٹانا تھا۔ اس کے ۱۹ بھائی۔ جن میں سے سب سے بڑا شاید ۱۱ یا ۱۲ سال کا تھا۔ اور سب سے چھوٹا... صرف کچھ مہینوں کا دودھ پیتا بچہ۔

Prince Mehmed Journey

وہ خوفناک رات: جب محل میں "گونگے جلاد" آئے

سلطان محمد سوم نے توپ کاپی محل کے جلادوں (Executioners) کو بلایا۔ یہ عام جلاد نہیں تھے۔ یہ "دل سز" (Dil-siz - یعنی بے زبان) تھے۔ وہ گونگے اور بہرے پہلوان، جنہیں سلطان کی حفاظت اور قتل کے لیے پالا جاتا تھا۔ انہیں چیخیں سنائی نہیں دیتی تھیں۔ ان کے دلوں میں رحم نہیں تھا۔ رات گہری ہو چکی تھی۔ حرم (شاہی خاندان کی رہائش گاہ) میں سب سو رہے تھے۔ تبھی گارڈز نے دروازے کھٹکھٹائے۔ شہزادوں کو اٹھایا گیا۔ ان کی ماؤں کو کہا گیا: "شہزادوں کو تیار کرو، سلطان محمد ان سے ملنا چاہتے ہیں۔" کچھ کو کہا گیا کہ ان کا "ختنہ" ہونے والا ہے۔ ذرا سوچیے اس منظر کو... چھوٹے چھوٹے بچے، نیند بھری آنکھوں سے اٹھ رہے ہیں۔ انہیں نئے کپڑے پہنائے جا رہے ہیں۔ وہ خوش ہیں کہ وہ اپنے بڑے بھائی (سلطان) سے ملنے جا رہے ہیں۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنے بھائی سے نہیں، اپنی موت سے ملنے جا رہے ہیں۔ مورخین لکھتے ہیں کہ ایک چھوٹا شہزادہ، جب اسے لے جایا جا رہا تھا، اس نے راستے میں گارڈ سے پوچھا: "مجھے بھوک لگی ہے، کیا مجھے وہ شاہ بلوط (Chestnut/پھل) مل سکتا ہے؟" گارڈ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، لیکن اس نے کچھ نہیں کہا۔ وہ بچے، ہنستے کھیلتے، تخت گاہ (Throne Room) کی طرف نہیں، بلکہ اس کمرے کی طرف لے جائے گئے جہاں "دل سز" ریشمی رسیاں (silk cords) لے کر کھڑے تھے۔ وہ دروازہ بند ہوا۔ اور پھر... صرف خاموشی۔ لیکن اس بند کمرے کے اندر کیا ہوا؟ کیسے ان ۱۹ شہزادوں کی سانسیں چھینی گئیں؟ اور جب اگلی صبح ان کے تابوت نکلے، تو استنبول کے لوگوں نے سلطان کے ساتھ کیا کیا؟ اس کمرے میں کیا ہوا، اس کی تفصیلات لکھتے ہوئے اس وقت کے مورخین کے ہاتھ بھی کانپ گئے تھے۔ سلطنتِ عثمانیہ میں ایک اصول تھا کہ شاہی خاندان کے کسی فرد کا خون زمین پر نہیں گرنا چاہیے۔ خون کو مقدس مانا جاتا تھا۔ اس لیے تلوار یا خنجر کا استعمال نہیں ہوتا تھا۔ موت دینے کے لیے "کمان کی ڈوری" یا "ریشمی رومال" کا استعمال کیا جاتا تھا۔

Mute Executioners

ننھی قبریں: جب پورا استنبول رو پڑا

ایک ایک کر کے شہزادوں کو اندر بلایا گیا۔ وہ دل سز (گونگے) جلاد، جو انسانی جذبات سے عاری تھے، انہوں نے اپنے کام کو بڑی "مہارت" سے انجام دیا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ سب سے چھوٹے شہزادے... جو ابھی ماؤں کی گود میں تھے... انہیں جب ان کی ماؤں سے چھینا گیا، تو حرم میں ایسی چیخیں گونجیں کہ پتھر دل انسان بھی پگھل جائے۔ کہا جاتا ہے کہ سلطان محمد سوم خود ایک دوسرے کمرے میں بیٹھا تھا۔ وہ انتظار کر رہا تھا۔ جب سب ختم ہو گیا، تو چیف جلاد نے آ کر خبر دی: "سلطان، اب آپ کے راج میں کوئی حصہ دار نہیں۔" ۱۹ زندگیاں... صرف کچھ گھنٹوں میں بجھا دی گئیں۔ اقتدار کا نشہ خون کے رشتوں پر حاوی ہو چکا تھا۔ ۲۸ جنوری کی صبح۔ سورج نکلا، لیکن استنبول پر اداسی کی چادر تنی ہوئی تھی۔ محل کے دروازے سے جنازے نکلنا شروع ہوئے۔ لوگ گنتی گن رہے تھے... ایک، دو، پانچ، دس... انیس (۱۹)۔ بازار بند تھے۔ گلیاں سنسان تھیں۔ عوام، جو سلطان کو "ظلِ الٰہی" (اللہ کا سایہ) مانتی تھی، آج حیرت میں تھی کہ یہ کیسا سایہ ہے جس نے اپنے ہی گھر کو جلا دیا؟ ان ۱۹ شہزادوں کو ان کے باپ، سلطان مراد سوم کے مقبرے کے پاس ہی دفنا دیا گیا۔ آیا صوفیہ (Hagia Sophia) کے احاطے میں آج بھی وہ قبریں موجود ہیں۔ اگر آپ کبھی استنبول جائیں اور سلطان مراد سوم کے مقبرے میں جائیں، تو وہاں آپ کو چھوٹی چھوٹی قبریں دکھیں گی۔ وہ قبریں ان ننھے شہزادوں کی ہیں جو کبھی بڑے نہیں ہو سکے۔ اس واقعے نے استنبول کے لوگوں کے دلوں میں سلطان محمد سوم کے لیے نفرت پیدا کر دی۔ لوگ سڑکوں پر چپ چاپ روتے تھے۔ کوئی کھل کر سلطان کے خلاف بول نہیں سکتا تھا، لیکن دلوں میں سب جانتے تھے کہ یہ "انصاف" نہیں، "ظلم" تھا۔

Coffins of Princes

مکافاتِ عمل: باپ کے ہاتھوں بیٹے کا قتل

کیا ان قتلوں کے بعد سلطان محمد سوم کو سکون ملا؟ جواب ہے: نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس تخت کی بنیاد اپنوں کے خون پر رکھی جائے، وہ کبھی پرسکون نہیں رہتا۔ محمد سوم اپنی باقی زندگی "وہم" (Paranoia) کا شکار رہے۔ انہیں ہر وقت لگتا تھا کہ کوئی انہیں مارنے آ رہا ہے۔ ان کا وزن بڑھتا گیا۔ وہ محل سے باہر نکلنا بند ہو گئے۔ لیکن "خون کی پیاس" ابھی بجھی نہیں تھی۔ محمد سوم کا اپنا بیٹا، شہزادہ محمود، ایک بہادر اور ہونہار نوجوان تھا۔ فوج (یعنی ینی چری) اسے پسند کرتی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ اناطولیہ میں جا کر بغاوتوں کو کچلے۔ لیکن صفیہ سلطان (محمد کی ماں) کو لگا کہ محمود اس کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے محمد سوم کے کان بھرنے شروع کیے: "تیرا بیٹا تجھے تخت سے ہٹا کر خود سلطان بننا چاہتا ہے۔" ایک دن، ایک جعلی خط پکڑا گیا جس میں لکھا تھا کہ سلطان محمد جلد مرنے والا ہے اور محمود سلطان بنے گا۔ بس... شک کا بیج بو دیا گیا۔ ۷ جون ۱۶۰۳ء۔ سلطان محمد سوم نے وہی کیا جو اس نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔ اس نے اپنے ہی جوان بیٹے، شہزادہ محمود کو توپ کاپی محل میں قتل کروا دیا۔ ایک باپ نے پہلے اپنے بھائیوں کو مارا، اور اب اپنے بیٹے کو۔ لیکن یہ آخری خون تھا جو محمد سوم کے ہاتھوں لگنا تھا۔ اس کے ٹھیک ۶ مہینے بعد، ۳۷ سال کی عمر میں، سلطان محمد سوم کی اچانک موت ہو گئی۔ کچھ کہتے ہیں ہارٹ اٹیک (دل کا دورہ)، کچھ کہتے ہیں... ۱۹ بھائیوں کی بددعا۔

Sultan Mehmed and Son

اقتدار کا انجام: کیا وہ 19 چہرے یاد آئے

محمد سوم کی موت کے بعد، ان کا دوسرا بیٹا احمد اول تخت پر بیٹھا۔ احمد کی عمر صرف ۱۳ سال تھی۔ اور اس کے سامنے وہی سوال تھا: "کیا میں اپنے چھوٹے بھائی مصطفیٰ کو مار دوں؟" مصطفیٰ صرف ۱۲، ۱۳ سال کا تھا اور دماغی طور پر تھوڑا کمزور تھا۔ سلطان محمد سوم کا دورِ حکومت صرف ۸ سال رہا۔ لیکن ان کا نام تاریخ میں صرف اس "سیاہ رات" کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے۔ وہ ۱۹ قبریں آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اقتدار کی قیمت کتنی بھاری ہوتی ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں... جب سلطان محمد سوم اپنے آخری وقت میں ہوں گے، تو کیا انہیں وہ ۱۹ معصوم چہرے یاد آئے ہوں گے؟ کیا انہیں وہ "شاہ بلوط" مانگنے والا بچہ یاد آیا ہوگا؟ تاریخ اس پر خاموش ہے۔ لیکن انسانیت آج بھی سوال پوچھتی ہے۔

Grave of Sultan
Up Back to Top
WhatsApp Share on WhatsApp Facebook Share on Facebook Twitter Share on Twitter