محاصرہ بغداد — خون اور راکھ کی داستان
سکوت سے طوفان تک
1258 کی صبح بغداد میں سکوت چھایا ہوا تھا۔ دریا کی لہریں پرسکون تھیں، گلیوں میں لوگ عام روزمرہ میں مصروف تھے، اور بازاروں کی رونق اپنے عروج پر تھی۔ مگر شہر کے کنارے، مغول فوج ایک زبردست لشکر کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ ہر گھوڑے کی ٹھوکریں اور ہر تلوار کی دھمک، شہر کے دل میں خوف کی لہر دوڑا رہی تھی۔ اس دن کی صبح نے کسی کو اندازہ نہیں دیا کہ شام تک بغداد کی عظمت خاک میں مل جائے گی۔
حملہ — خون کی بارش
بغداد کی عظیم لائبریریاں — خاص طور پر بائبلوتیکہ — مکمل طور پر جلا دی گئیں۔ ہزاروں کتابیں اور دستاویزات خاک میں مل گئیں۔ فلسفہ، سائنس، طب اور ریاضی کی روشنی بجھ گئی۔ علماء، دانشور اور طلباء یا تو ہلاک ہوئے یا فرار اختیار کیا۔ شہر، جو علم کا عالمی مرکز تھا، اندھیروں میں ڈوب گیا۔
علم کی تباہی
بغداد کی عظیم لائبریریاں — خاص طور پر بائبلوتیکہ — مکمل طور پر جلا دی گئیں۔ ہزاروں کتابیں اور دستاویزات خاک میں مل گئیں۔ فلسفہ، سائنس، طب اور ریاضی کی روشنی بجھ گئی۔ علماء، دانشور اور طلباء یا تو ہلاک ہوئے یا فرار اختیار کیا۔ شہر، جو علم کا عالمی مرکز تھا، اندھیروں میں ڈوب گیا۔
انسانیت کا صدمہ
فاتحین نے ہر طرف تباہی مچا دی۔ یتیم بچے، جلتی ہوئی جھونپڑیاں، اور زخمی لوگ دیکھ کر کچھ تاریخ دان کہتے ہیں کہ اشرفیہ بھی لرز اٹھے۔ بغداد کی عظمت کے مدنظر یہ منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ ایک شہر جو صدیوں سے ثقافت اور علم کا مرکز رہا، لمحوں میں راکھ اور خون میں ڈوب گیا۔
سبق اور وراثت
چند لوگ بچ گئے، مگر شہر کبھی پہلے جیسا نہ رہا۔ عباسی خلافت کا سورج غروب ہو گیا، مگر یہ یاد دلاتا ہے کہ طاقت کی انتہا انسانیت کو تباہ کر سکتی ہے، اور علم کی حفاظت کے بغیر ثقافت فنا ہو جاتی ہے۔ بغداد کی کہانی آج بھی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگ زمین تو فتح کر سکتی ہے، مگر دل اور علم کو نہیں۔