برف کا قیدی

موت کی وادی میں ایک دریافت

یہ ستمبر 1991 کی ایک روشن دوپہر تھی، لیکن اؤٹزتال الپس (Ötztal Alps) کی بلندیوں پر ہوا میں خنکی بدستور موجود تھی۔ جرمن کوہ پیما جوڑا، ہیلمٹ سائمن اور ان کی اہلیہ ایریکا، راستہ بھٹک کر ایک ایسے راستے پر نکل آئے تھے جہاں عموماً سیاح نہیں جاتے۔ سطح سمندر سے 3,210 میٹر کی بلندی پر، جہاں چاروں طرف صرف برف اور خاموشی کا راج تھا، انہیں برف میں کچھ عجیب سی چیز دکھائی دی۔ پہلی نظر میں انہیں لگا کہ یہ کوئی کچرا یا پھینکی ہوئی گڑیا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ قریب پہنچے، ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہ ایک انسانی لاش تھی۔ لاش اوندھے منہ برف میں دبی ہوئی تھی۔ اس کا سر، ننگا کندھا اور پیٹھ کا کچھ حصہ باہر نکلا ہوا تھا۔ جسم کی جلد مومی کاغذ جیسی زرد اور خشک ہو چکی تھی، مگر حیرت انگیز طور پر محفوظ تھی۔ ہیلمٹ نے فوراً ایک تصویر کھینچی۔ ان کا خیال تھا کہ یہ کوئی بدقسمت کوہ پیما ہے جو شاید چند سال پہلے یا شاید پچھلی دہائی میں یہاں پھنس کر ہلاک ہو گیا تھا۔ خبر ملتے ہی آسٹریا کی پولیس حرکت میں آ گئی۔ لیکن موسم کی خرابی اور مشکل چڑھائی کی وجہ سے لاش کو نکالنے میں چار دن لگ گئے۔ اس دوران ریسکیو ٹیم نے بے دھیانی میں ڈرل مشین اور برف توڑنے والے اوزار استعمال کیے، جس سے لاش کے نچلے دھڑ کو نقصان بھی پہنچا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ کسی "عام لاش" کو نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کے سب سے قیمتی خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جب لاش کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکال کر لیبارٹری لایا گیا، تو وہاں موجود ڈاکٹروں نے ایک عجیب بات نوٹ کی۔ اس آدمی کے پاس کوئی پلاسٹک، کوئی نائلون، یا کوئی جدید جوتا نہیں تھا۔ اس کے کپڑے جانوروں کی کھال کے تھے اور اس کے جوتے گھاس سے بھرے ہوئے تھے۔ راز کھلنے والا تھا۔۔۔ اور یہ راز سائنس کی دنیا میں بھونچال لانے والا تھا۔

پانچ ہزار سال کا جھٹکا

24 ستمبر 1991 کو لاش انزبروک (Innsbruck) یونیورسٹی لائی گئی۔ وہاں ماہر آثارِ قدیمہ کونراڈ اسپنڈلر کو معائنے کے لیے بلایا گیا۔ جب اسپنڈلر نے لاش کے پاس سے ملنے والی اشیاء کو دیکھا تو وہ اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر سکے۔ ایک کلہاڑی۔۔۔ جس کا پھل (Blade) لوہے یا اسٹیل کا نہیں، بلکہ تانبے (Copper) کا تھا۔ ایک چاقو۔۔۔ جو پتھر (Flint) سے بنا تھا۔ اور تیر۔۔۔ جو لکڑی اور ہڈیوں سے تراشے گئے تھے۔ اسپنڈلر نے کانپتی آواز میں کہا: "یہ لاش جدید نہیں ہے۔ یہ کم از کم چار ہزار سال پرانی ہے۔" خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ میڈیا نے اسے "اوٹزی دی آئس مین" (Ötzi the Iceman) کا نام دیا۔ لیکن اصل دھماکہ تب ہوا جب کاربن ڈیٹنگ (Carbon Dating) کی رپورٹ آئی۔ مشینوں نے بتایا کہ اوٹزی کی موت 1991 میں نہیں، بلکہ 3350 اور 3100 قبل مسیح (BC) کے درمیان ہوئی تھی۔ یہ ایک ایسا انکشاف تھا جس نے دماغ سن کر دیے۔ یہ لاش 5,300 سال پرانی تھی۔ ذرا تصور کریں! جب اوٹزی زندہ تھا، ابھی مصر کے اہرام نہیں بنے تھے۔ اسٹون ہینج (Stonehenge) تعمیر نہیں ہوا تھا۔ رومن سلطنت کا نام و نشان نہیں تھا۔ وہ اس دنیا کا باسی تھا جب انسان نے ابھی لکھنا بھی نہیں سیکھا تھا۔ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود، برف نے اسے ایسے محفوظ رکھا جیسے وہ کل ہی سویا ہو۔ اس کی جلد، بال، دانت، اور یہاں تک کہ پلکیں بھی سلامت تھیں۔ یہ دنیا کی سب سے پرانی اور سب سے محفوظ قدرتی ممی (Mummy) تھی۔

وہ وحشی نہیں، ہنرمند تھا

اوٹزی کو دیکھ کر سائنسدانوں نے اپنی وہ تمام کتابیں پھاڑ دیں جن میں لکھا تھا کہ قدیم انسان وحشی اور گندے ہوتے تھے۔ اوٹزی کا سامان اور لباس دیکھ کر پتا چلا کہ وہ ایک انتہائی ذہین اور ہنرمند دور کا انسان تھا۔ اس کا لباس انجینئرنگ کا شاہکار تھا۔ اس نے جو کوٹ پہنا تھا وہ بکری اور بھیڑ کی کھال کی مختلف پٹیوں کو سی کر بنایا گیا تھا (بالکل آج کے پیچ ورک فیشن کی طرح)۔ اس کی ٹوپی ریچھ کی کھال سے بنی تھی جو اسے شدید سردی سے بچاتی تھی۔ لیکن سب سے حیران کن چیز اس کے جوتے تھے۔ سائنسدان حیران تھے کہ 5000 سال پہلے کا انسان ایسے جوتے کیسے بنا سکتا ہے؟ جوتوں کے نیچے ریچھ کا مضبوط چمڑا تھا (گرپ کے لیے)، اوپر ہرن کا نرم چمڑا تھا، اور جوتے کے اندر سوکھی گھاس بھری ہوئی تھی جو ایک جدید "انسولیشن" کا کام کرتی تھی اور پاؤں کو گرم رکھتی تھی۔ یہ جوتے اتنے بہترین تھے کہ ایک چیک کمپنی نے بعد میں بالکل اسی ڈیزائن کے جوتے بنائے اور تجربہ کیا کہ وہ منفی درجہ حرارت میں بہترین کام کرتے ہیں۔ اس کے پاس ایک بیگ (Backpack) تھا جس کا فریم لکڑی کا تھا۔ اس کے پاس آگ جلانے کے لیے چقماق پتھر اور خاص قسم کی فنگس (Fungus) تھی جو آگ پکڑتی ہے۔ وہ اپنے ساتھ دوا بھی لے کر گھوم رہا تھا۔ اس کے سامان میں برچ (Birch) درخت کی فنگس ملی جو قدرتی اینٹی بائیوٹک کا کام کرتی ہے۔ وہ کوئی معمولی آدمی نہیں تھا۔ اس کے پاس موجود تانبے کی کلہاڑی اس دور میں ایٹم بم جتنی اہمیت رکھتی تھی۔ اس زمانے میں تانبا نایاب اور قیمتی تھا اور صرف قبیلے کے سرداروں یا بہت امیر لوگوں کے پاس ہوتا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ اوٹزی اپنے قبیلے کا لیڈر یا کوئی بہت اہم شخصیت تھا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ اتنا طاقتور، ہنرمند اور امیر شخص، اکیلا ان برفانی پہاڑوں میں کیا کر رہا تھا؟ اس کے جسم پر موجود زخم اور اس کے معدے میں موجود آخری کھانا ایک خوفناک کہانی سنانے والے تھے۔۔۔

جسم پر لکھے راز اور قدیم علاج

اوٹزی کا لباس اور سامان تو حیران کن تھا ہی، لیکن جب سائنسدانوں نے اس کے ننگے جسم کا باریکی سے معائنہ کیا تو انہیں کچھ سیاہ لکیریں نظر آئیں۔ یہ میل کچیل نہیں تھی، یہ ٹیٹوز (Tattoos) تھے۔ پورے جسم پر کل 61 ٹیٹوز گنے گئے۔ یہ ٹیٹوز جدید دور کی طرح ڈیزائن یا تصویریں نہیں تھیں، بلکہ چھوٹی چھوٹی متوازی لکیریں (Lines) اور کراس کے نشان تھے۔ سوال یہ تھا کہ ان کا مقصد کیا تھا؟ تحقیق نے ایک اور حیران کن انکشاف کیا۔ اوٹزی ایک بیمار آدمی تھا۔ اس کی عمر 45 سال کے لگ بھگ تھی جو اس دور میں بہت زیادہ سمجھی جاتی تھی۔ وہ جوڑوں کے درد (Arthritis)، پیٹ کے کیڑوں (Parasites) اور کمر کی تکلیف میں مبتلا تھا۔ حیرت کا جھٹکا تب لگا جب ڈاکٹروں نے نوٹ کیا کہ یہ ٹیٹوز عین ان جگہوں پر بنائے گئے تھے جہاں اوٹزی کو تکلیف تھی۔ یعنی کمر کے نچلے حصے، گھٹنوں اور ٹخنوں پر۔ یہ مقامات آج کے جدید "ایکیوپنکچر" (Acupuncture) پوائنٹس ہیں۔ دنیا اب تک یہ سمجھتی تھی کہ ایکیوپنکچر کا علاج چین میں ایجاد ہوا تھا، لیکن اوٹزی نے ثابت کر دیا کہ یورپ کے پہاڑوں میں رہنے والے لوگ چینیوں سے 2000 سال پہلے یہ علاج جانتے تھے۔ وہ کوئلے کی راکھ کو زخم میں بھر کر یہ نشانات بناتے تھے تاکہ درد میں سکون ملے۔

آخری سفر اور آخری نوالہ

سائنس اب اتنی ترقی کر چکی ہے کہ وہ 5000 سال پرانی لاش کے معدے میں جھانک سکتی ہے۔ اوٹزی کی آنتوں اور معدے کا معائنہ کرنے پر پتا چلا کہ اس نے مرنے سے تقریباً دو گھنٹے پہلے پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا۔ اس کے آخری کھانے (Last Meal) میں پہاڑی بکرے (Ibex) کا گوشت، ہرن کا گوشت، اور گندم شامل تھی۔ یہ ایک بہت چکنائی والا اور طاقتور کھانا تھا، جیسے اسے معلوم ہو کہ اسے کسی مشکل سفر کے لیے توانائی کی ضرورت ہے۔ لیکن سب سے اہم سراغ اس کے جسم کے اندر موجود پولن (Pollen) یعنی پھولوں کے زرات تھے۔ یہ زرات مائیکروسکوپک ہوتے ہیں لیکن یہ بتاتے ہیں کہ انسان کہاں کہاں سے گزرا ہے۔ پولن نے بتایا کہ اوٹزی اپنی موت سے 24 گھنٹے پہلے وادی میں نیچے (کم بلندی پر) موجود تھا، جہاں موسم بہار تھا اور درختوں پر نئے پتے آ رہے تھے۔ پھر اچانک اس نے پہاڑ کی اونچائی کی طرف سفر شروع کیا۔ یہ کوئی تفریحی ہائیکنگ نہیں تھی۔ وہ بھاگ رہا تھا۔ وہ بہت تیزی سے، صرف چند گھنٹوں میں ہزاروں فٹ بلندی پر پہنچ گیا۔ ایسا لگتا تھا کہ کوئی خوفناک چیز یا کوئی دشمن اس کا پیچھا کر رہا تھا، اور وہ جان بچانے کے لیے برفانی چوٹیوں کی طرف بھاگا جہاں چھپنا آسان ہو۔

قتل کا انکشاف

دس سال تک دنیا یہی سمجھتی رہی کہ اوٹزی شاید برفانی طوفان میں پھنس کر ٹھنڈ سے مر گیا تھا۔ لیکن 2001 میں، لاش ملنے کے پورے 10 سال بعد، ایک ریڈیولوجسٹ نے اوٹزی کا جدید "سی ٹی اسکین" (CT Scan) کیا۔ اسکین کی سکرین پر ایک ایسی چیز نظر آئی جس نے لیبارٹری میں موجود ہر شخص کی سانس روک دی۔ اوٹزی کے بائیں کندھے کے پیچھے، ہڈی کے نیچے، ایک پتھر کے تیر کی نوک (Arrowhead) پیوست تھی۔ یہ ایک قدرتی موت نہیں تھی۔۔۔ یہ ایک "کولڈ بلڈڈ مرڈر" (سفاکانہ قتل) تھا۔ تیر پیچھے سے چلایا گیا تھا۔ قاتل نے تقریباً 100 فٹ کے فاصلے سے نشانہ لیا۔ تیر سیدھا اس کے کندھے میں گھسا اور ایک اہم شریان (Subclavian Artery) کو کاٹ دیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس زخم کے بعد اوٹزی کے پاس زندہ رہنے کے لیے بمشکل چند منٹ تھے۔ وہ تیزی سے خون بہنے کی وجہ سے وہیں گر گیا ہوگا۔ سر پر لگی چوٹ بتاتی ہے کہ گرتے وقت اس کا سر کسی چٹان سے ٹکرایا۔ قاتل نے اس کے پاس آکر تیر کی ڈنڈی تو کھینچ لی، لیکن تیر کی نوک جسم کے اندر ہی رہ گئی، جو 5300 سال بعد اس جرم کی گواہی دینے کے لیے محفوظ رہی۔

خونی جھڑپ اور نامعلوم قاتل

قتل سے پہلے کیا ہوا تھا؟ اوٹزی کے دائیں ہاتھ پر ایک گہرا زخم ملا۔ یہ زخم انگوٹھے اور انگلی کے درمیان تھا اور ہڈی تک گہرا تھا۔ ماہرین جرمیات (Forensic Experts) کے مطابق یہ ایک "دفاعی زخم" (Defensive Wound) تھا۔ یعنی موت سے تقریباً 24 یا 48 گھنٹے پہلے اوٹزی کی کسی سے شدید لڑائی ہوئی تھی۔ اس نے وار روکنے کے لیے ہاتھ آگے کیا جس سے یہ زخم آیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اوٹزی کا پیچھا کیا جا رہا تھا۔ وہ نیچے وادی میں لڑا، زخمی ہوا، اور پھر اپنی جان بچانے کے لیے اوپر پہاڑوں کی طرف بھاگا۔ اس نے وہاں کیمپ لگایا، کھانا کھایا اور شاید سمجھا کہ وہ اب محفوظ ہے۔ لیکن قاتل اس کے پیچھے تھا۔ یہاں ایک اور معمہ ہے۔ اوٹزی کے پاس انتہائی قیمتی تانبے کی کلہاڑی تھی۔ اس کا لباس بہترین تھا۔ اس کا سامان کارآمد تھا۔ اگر یہ ڈکیتی ہوتی، تو قاتل کلہاڑی اور سامان لے جاتا۔ لیکن ہر چیز لاش کے پاس ہی پڑی ملی۔ اس کا مطلب؟ یہ قتل چوری کے لیے نہیں ہوا تھا۔ یہ ذاتی دشمنی، انتقام، یا کسی قبیلے کی جنگ کا نتیجہ تھا۔ قاتل کا مقصد صرف اوٹزی کو ختم کرنا تھا، اس کا مال لوٹنا نہیں۔

بددعا

کیا 5300 سال پرانی قبر کو چھیڑنا خطرے سے خالی تھا؟ قدیم مصر کے فرعونوں کی طرح اوٹزی کے بارے میں بھی یہ مشہور ہو گیا کہ جو اسے نیند سے جگائے گا، وہ مارا جائے گا۔ یہ صرف افواہ نہیں تھی، بلکہ اس کے دریافت ہونے کے بعد پیش آنے والے واقعات نے بڑے بڑے سائنسدانوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اوٹزی کی دریافت اور تحقیق سے جڑے 7 اہم افراد اگلے چند سالوں میں غیر طبعی یا اچانک موت کا شکار ہوئے۔ سب سے پہلے ہیلمٹ سائمن (Helmut Simon)، وہ شخص جس نے اوٹزی کو سب سے پہلے دیکھا تھا۔ 2004 میں وہ انہی پہاڑوں میں ہائیکنگ کرتے ہوئے لاپتا ہو گئے۔ جب ان کی لاش ملی تو وہ اوندھے منہ برف میں پڑے تھے—بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے اوٹزی کو 13 سال پہلے دیکھا تھا۔ اس کے بعد وہ گائیڈ جس نے ہیلمٹ سائمن کی لاش ڈھونڈی تھی، وہ اپنے جنازے سے پہلے ہی دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا۔ فرانزک ٹیم کے سربراہ رائنر ہین (Rainer Henn)، جو اوٹزی کو ننگے ہاتھوں سے اٹھانے والے پہلے لوگوں میں سے تھے، ایک خوفناک کار حادثے میں ہلاک ہو گئے جب وہ اوٹزی پر لیکچر دینے جا رہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ صحافی جس نے اوٹزی کی دستاویزی فلم بنائی اور وہ گائیڈ جس نے لاش کو ہیلی کاپٹر تک پہنچایا، سب یکے بعد دیگرے مختلف حادثات یا بیماریوں کا شکار ہوئے۔ سائنس اسے محض "اتفاق" کہتی ہے، لیکن مقامی لوگ آج بھی مانتے ہیں کہ اوٹزی نے اپنی نیند خراب کرنے والوں سے بدلہ لیا۔

انیس زندہ وارث (The Living Relatives)

سائنس کا سفر یہاں ختم نہیں ہوا۔ جب اوٹزی کا مکمل ڈی این اے (DNA) نکالا گیا تو ایک اور حیرت انگیز سوال پیدا ہوا: کیا آج کی دنیا میں کوئی ایسا شخص موجود ہے جس کا خون اوٹزی سے ملتا ہو؟ اس سوال کا جواب "ہاں" میں ہے۔ 2013 میں سائنسدانوں نے آسٹریا کے علاقے ٹائرول (Tyrol) میں 3,700 لوگوں کے خون کے نمونے لیے۔ تحقیق سے پتا چلا کہ ان میں سے 19 افراد کا جینیاتی کوڈ (Genetic Code) براہ راست اوٹزی سے ملتا ہے۔ یہ لوگ آج بھی وہیں آس پاس رہتے ہیں جہاں اوٹزی 5000 سال پہلے رہتا تھا۔ ان 19 لوگوں کو خبر نہیں تھی کہ وہ یورپ کی قدیم ترین ممی کے دور کے رشتہ دار ہیں۔ اوٹزی بے اولاد نہیں مرا تھا، یا کم از کم اس کا خاندان ختم نہیں ہوا تھا۔ اس کی نسل (یا اس کے خاندان کی شاخ) ہزاروں سال کی جنگوں، وباؤں اور قحط کے باوجود زندہ رہی اور آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔

شیشے کا تابوت اور ایک ادھورا سوال

آج اوٹزی اٹلی کے شہر بولزانو (Bolzano) کے ساؤتھ ٹائرول میوزیم میں آرام کر رہا ہے۔ اسے ایک خاص چیمبر میں رکھا گیا ہے جہاں کا درجہ حرارت مستقل -6 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے—وہی درجہ حرارت جو گلیشیئر کے اندر تھا۔ اسے ہوا کے اثرات سے بچانے کے لیے نائٹروجن گیس کے ماحول میں رکھا گیا ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح ایک چھوٹی سی کھڑکی سے اس قدیم انسان کو دیکھنے آتے ہیں جو وقت کے سفر پر نکلا تھا۔ اوٹزی کی کہانی ہمیں بہت کچھ سکھاتی ہے۔ اس نے ہمیں بتایا کہ 5000 سال پہلے کا انسان وحشی نہیں تھا، بلکہ ذہین، ہنرمند اور جذبات رکھنے والا انسان تھا۔ وہ اپنے درد کا علاج جانتا تھا، بہترین لباس بناتا تھا، اور اپنے قبیلے کی حفاظت کے لیے لڑتا تھا۔ 5300 سال گزر گئے۔ برف پگھل گئی۔ لاش مل گئی۔ سائنس نے ہمیں یہ تو بتا دیا کہ وہ کیسے مرا، کیا کھایا اور کون سی بیماریوں کا شکار تھا۔ مگر ایک سوال آج بھی، اور ہمیشہ کے لیے ایک راز رہے گا: وہ قاتل کون تھا؟ وہ جس نے پیچھے سے وار کیا، جس نے اسے مرتے ہوئے دیکھا اور پھر برفانی ہواؤں میں غائب ہو گیا۔ قاتل کا نام تاریخ کے اندھیروں میں کھو گیا، لیکن مقتول (اوٹزی) آج دنیا کا سب سے مشہور انسان بن چکا ہے۔ (ختم شد)