غوری کا انتقام: ایک زخمی شیر کی واپسی
شکست کی شام اور زخمی بھیڑیا (1191ء)
1191ء کی وہ خونی شام جب سورج ترائن (تراوڑی) کے میدان میں ڈوب رہا تھا، ریت خون سے سرخ ہو چکی تھی۔ شہاب الدین غوری—جسے دنیا ایک طوفان سمجھتی تھی—آج زخموں سے چور تھا۔ گھوڑے سے گرتے ہوئے اسے ایک وفادار خلجی سپاہی نے پشت پر لادا اور میدانِ جنگ سے نکال لے گیا۔ پیچھے راجپوتوں کی فتح کے نعرے گونج رہے تھے۔ پرتھوی راج چوہان نے اسے بھاگنے دیا، یہ سمجھ کر کہ ایک زخمی دشمن اب واپس نہیں آئے گا۔ مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ زخمی بھیڑیا پہلے سے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ یہ ترائن کی پہلی جنگ کی شکست تھی—اور دوسری جنگ کی بنیاد۔
غزنی کی بے خواب راتیں اور نئی حکمتِ عملی
غزنی واپس پہنچ کر غوری بدل چکا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس نے نیند کو اپنی آنکھوں پر حرام کر لیا۔ خون آلود کپڑے نہ بدلے تاکہ شکست یاد رہے۔ بزدل امیروں اور سالاروں کو شہر میں ذلیل کروایا۔ ایک سال تک غزنی میں صرف تلواروں اور تیروں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ غوری سمجھ چکا تھا کہ راجپوتوں کو ان کے انداز میں شکست نہیں دی جا سکتی۔ ان کی طاقت ہاتھی اور بھاری فوج تھی، مگر کمزوری رفتار۔ چنانچہ اس نے ہلکی پھلکی، تیز رفتار گھڑ سوار فوج تیار کی—ایسے تیر انداز جو گھوڑے پر دوڑتے ہوئے پلٹ کر تیر برسا سکتے تھے۔
طوفان کی واپسی اور دھوکے کا جال (1192ء)
1192ء میں خبر پھیلی: "غوری واپس آ گیا ہے" اس بار اس کے ساتھ ایک لاکھ بیس ہزار جنگجو تھے۔ پرتھوی راج نے خطرے کو سنجیدہ نہ لیا۔ اس نے راجپوتانہ کے تمام راجاؤں کو بلایا۔ اندازاً تین لاکھ سپاہی اور تین سو جنگی ہاتھی جمع ہو گئے۔ ایک بار پھر وہی میدان—ترائن۔ جنگ سے ایک رات پہلے غوری نے خط بھیجا کہ وہ صلح یا جنگ کے لیے وقت چاہتا ہے۔ یہ ایک دھوکہ تھا۔ راجپوتوں نے اسے کمزوری سمجھا اور رات جشن میں گزار دی۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ دشمن اصول نہیں، فتح مانگتا ہے۔
قیامت کی صبح اور فیصلہ کن وار
فجر سے پہلے زمین لرز اٹھی۔ غوری نے علی الصبح حملہ کر دیا۔ تیر برسنے لگے، کیمپ میں بھگدڑ مچ گئی۔ ہاتھی بدک کر اپنی ہی فوج کو روندنے لگے۔ غوری کی فوج بار بار حملہ کرتی، پھر پیچھے ہٹتی۔ راجپوت سمجھے دشمن بھاگ رہا ہے اور صفیں توڑ کر پیچھا کیا۔ یہی وہ جال تھا—گھوڑوں پر دوڑتے ہوئے پیچھے مڑ کر تیر (Parthian Shot) چلائے گئے۔ دوپہر تک راجپوت فوج تھک چکی تھی۔ تب غوری نے اپنے 12 ہزار تازہ دم منتخب گھڑ سوار میدان میں اتار دیے۔ یہ آخری طوفان تھا۔ گووند رائے کے مارے جانے کے ساتھ ہی راجپوت فوج کا حوصلہ ٹوٹ گیا۔
پرتھوی راج کا انجام اور تاریخ کا موڑ
پرتھوی راج نے فرار کی کوشش کی، مگر سرسوتی ندی کے قریب گرفتار ہو گیا۔ ہندوستان کا سب سے طاقتور راجہ زنجیروں میں جکڑا غوری کے سامنے تھا۔ اس کے بعد تاریخ نے نیا رخ لیا: پرتھوی راج قتل ہوا ہندوستان کے دروازے بیرونی حکمرانوں کے لیے کھل گئے قطب الدین ایبک کو گورنر بنایا گیا اور دلی میں وہ سلطنت قائم ہوئی جو تقریباً 600 سال تک قائم رہی اختتامیہ: ترائن کی دوسری جنگ صرف تلواروں کی لڑائی نہیں تھی، یہ روایتی بہادری اور جدید جنگی حکمتِ عملی کا ٹکراؤ تھا۔ اس دن گھوڑوں، تیروں اور چالوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔