سلطان محمد دوم اور قسطنطنیہ کا سقوط — ایک مکمل داستان

میراث، بشارت اور ایک شہزادے کا خواب

میراث، بشارت اور ایک شہزادے کا خواب تاریخ کے اوراق میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو پیدا ہی دنیا کا نقشہ بدلنے کے لیے ہوتی ہیں، اور سلطان محمد ثانی، جنہیں دنیا فاتح کے نام سے یاد کرتی ہے، ان میں سرِ فہرست ہیں۔ عثمانی سلطنت کے ساتویں سلطان، محمد کی پیدائش 30 مارچ 1432 کو ادرنہ میں ہوئی، جو اس وقت عثمانیوں کا دارالحکومت تھا، اور ان کے والد سلطان مراد ثانی ایک عظیم جنگجو اور صوفی منش حکمران تھے جنہوں نے اپنی سلطنت کو مضبوطی بخشی تھی لیکن ان کے دل میں ایک خواب ہمیشہ سے کانٹے کی طرح کھٹکتا تھا اور وہ خواب قسطنطنیہ کی فتح تھا، وہ شہر جس کے بارے میں پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ نے فرمایا تھا کہ "تم ضرور قسطنطنیہ کو فتح کرو گے، پس وہ امیر کیا ہی اچھا امیر ہوگا اور وہ لشکر کیا ہی اچھا لشکر ہوگا۔" یہ بشارت ہر مسلمان حکمران کے دل کی دھڑکن تھی، اور شہزادہ محمد نے اپنی ابتدائی زندگی اسی خواب کے سائے میں گزاری، حالانکہ ان کے بچپن میں وہ ایک سرکش اور ضدی بچے تھے جنہیں قابو کرنا مشکل تھا، لیکن جب ان کے والد نے انہیں مانیسا بھیجا اور ان کی تربیت کے لیے سخت گیر اور جید علما مقرر کیے، تو ان کی کایا پلٹ گئی۔ خاص طور پر ملا کورانی، جنہوں نے ہاتھ میں ڈنڈا لے کر شہزادے کو قرآن اور اسلامی علوم سکھائے، اور صوفی بزرگ آق شمس الدین، جنہوں نے محمد کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی کہ وہ ہی وہ "امیر" ہیں جس کی بشارت دی گئی ہے، ان اساتذہ نے ایک لاپرواہ شہزادے کو ایک عظیم اسٹریٹجسٹ اور ولی صفت حکمران میں تبدیل کر دیا جو کئی زبانیں جانتا تھا، تاریخ، جغرافیہ اور سائنس کا ماہر تھا اور جس کی آنکھوں میں صرف ایک ہی تصویر بستی تھی: قسطنطنیہ کے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے دیواریں۔ محمد ثانی کا بچپن عام شہزادوں جیسا نہیں تھا، انہوں نے کم عمری میں ہی اقتدار کا بوجھ محسوس کیا جب ان کے والد تخت چھوڑ کر گوشہ نشین ہو گئے اور 12 سال کی عمر میں محمد کو تخت پر بٹھا دیا گیا، جہاں انہیں صلیبیوں کی یلغار اور وزراء کی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا، جس نے انہیں یہ سبق سکھایا کہ ایک کامیاب حکمران کو نہ صرف شیر کی طرح بہادر بلکہ لومڑی کی طرح چالاک بھی ہونا چاہیے، اور یہی وہ ابتدائی اسباق تھے جنہوں نے 1453 کے عظیم معرکے کی بنیاد رکھی۔

Young Ottoman prince Mehmed II studying maps
Back to Top Back to Top
Share to Facebook Share to FB
Share to Twitter Share to Twitter
Share to WhatsApp Share to WhatsApp