سلطان محمد دوم اور قسطنطنیہ کا سقوط — ایک مکمل داستان
میراث، بشارت اور ایک شہزادے کا خواب
میراث، بشارت اور ایک شہزادے کا خواب تاریخ کے اوراق میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو پیدا ہی دنیا کا نقشہ بدلنے کے لیے ہوتی ہیں، اور سلطان محمد ثانی، جنہیں دنیا فاتح کے نام سے یاد کرتی ہے، ان میں سرِ فہرست ہیں۔ عثمانی سلطنت کے ساتویں سلطان، محمد کی پیدائش 30 مارچ 1432 کو ادرنہ میں ہوئی، جو اس وقت عثمانیوں کا دارالحکومت تھا، اور ان کے والد سلطان مراد ثانی ایک عظیم جنگجو اور صوفی منش حکمران تھے جنہوں نے اپنی سلطنت کو مضبوطی بخشی تھی لیکن ان کے دل میں ایک خواب ہمیشہ سے کانٹے کی طرح کھٹکتا تھا اور وہ خواب قسطنطنیہ کی فتح تھا، وہ شہر جس کے بارے میں پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ نے فرمایا تھا کہ "تم ضرور قسطنطنیہ کو فتح کرو گے، پس وہ امیر کیا ہی اچھا امیر ہوگا اور وہ لشکر کیا ہی اچھا لشکر ہوگا۔" یہ بشارت ہر مسلمان حکمران کے دل کی دھڑکن تھی، اور شہزادہ محمد نے اپنی ابتدائی زندگی اسی خواب کے سائے میں گزاری، حالانکہ ان کے بچپن میں وہ ایک سرکش اور ضدی بچے تھے جنہیں قابو کرنا مشکل تھا، لیکن جب ان کے والد نے انہیں مانیسا بھیجا اور ان کی تربیت کے لیے سخت گیر اور جید علما مقرر کیے، تو ان کی کایا پلٹ گئی۔ خاص طور پر ملا کورانی، جنہوں نے ہاتھ میں ڈنڈا لے کر شہزادے کو قرآن اور اسلامی علوم سکھائے، اور صوفی بزرگ آق شمس الدین، جنہوں نے محمد کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی کہ وہ ہی وہ "امیر" ہیں جس کی بشارت دی گئی ہے، ان اساتذہ نے ایک لاپرواہ شہزادے کو ایک عظیم اسٹریٹجسٹ اور ولی صفت حکمران میں تبدیل کر دیا جو کئی زبانیں جانتا تھا، تاریخ، جغرافیہ اور سائنس کا ماہر تھا اور جس کی آنکھوں میں صرف ایک ہی تصویر بستی تھی: قسطنطنیہ کے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے دیواریں۔ محمد ثانی کا بچپن عام شہزادوں جیسا نہیں تھا، انہوں نے کم عمری میں ہی اقتدار کا بوجھ محسوس کیا جب ان کے والد تخت چھوڑ کر گوشہ نشین ہو گئے اور 12 سال کی عمر میں محمد کو تخت پر بٹھا دیا گیا، جہاں انہیں صلیبیوں کی یلغار اور وزراء کی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا، جس نے انہیں یہ سبق سکھایا کہ ایک کامیاب حکمران کو نہ صرف شیر کی طرح بہادر بلکہ لومڑی کی طرح چالاک بھی ہونا چاہیے، اور یہی وہ ابتدائی اسباق تھے جنہوں نے 1453 کے عظیم معرکے کی بنیاد رکھی۔
نوعمر سلطان کی رسوائی اور دوبارہ عروج
نوعمر سلطان کی رسوائی اور دوبارہ عروج سلطان محمد کی زندگی کا سب سے تلخ اور فیصلہ کن موڑ ان کا پہلا دورِ حکومت تھا جو محض 12 سال کی عمر میں شروع ہوا اور ناکامی کے احساس کے ساتھ ختم ہوا، کیونکہ جب سلطان مراد ثانی نے دنیاوی امور سے کنارہ کشی اختیار کی اور نوعمر محمد کو تخت سونپا، تو یورپ کی عیسائی طاقتوں نے اسے عثمانی سلطنت کی کمزوری سمجھا اور ایک عظیم صلیبی لشکر تیار کر کے حملہ کر دیا۔ اس وقت سلطنت کے حالات انتہائی نازک تھے، اندرونی طور پر طاقتور وزیرِ اعظم خلیل پاشا، جو محمد کے سخت خلاف تھے اور اسے نالائق سمجھتے تھے، نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور جنیسری فوج میں بغاوت کے آثار نمایاں ہونے لگے، جس کے نتیجے میں محمد کو اپنے والد کو خط لکھنا پڑا کہ "اگر آپ سلطان ہیں تو آئیے اور اپنی فوج کی کمان سنبھالیے، اور اگر میں سلطان ہوں تو میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ فوراً آئیں اور میری فوج کی قیادت کریں،" یہ الفاظ تاریخ میں امر ہو گئے لیکن اس کے پیچھے چھپی ہوئی بے بسی نے محمد کے دل پر گہرے زخم چھوڑے۔ مراد ثانی واپس آئے، صلیبیوں کو شکست دی اور دوبارہ تخت سنبھال لیا، جبکہ محمد کو واپس مانیسا بھیج دیا گیا جہاں انہوں نے اپنی شکست کا ماتم کرنے کے بجائے خود کو تیار کرنے کا فیصلہ کیا اور اگلے کئی سالوں تک انہوں نے صرف جنگی حکمت عملی، توپ خانے کی سائنس اور بازنطینی تاریخ کا مطالعہ کیا، انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ قسطنطنیہ کو فتح کرنے کے لیے صرف بہادری کافی نہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجی اور حکمت عملی درکار ہے جو دنیا نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔ آق شمس الدین نے ان کی روحانی تربیت جاری رکھی اور انہیں یقین دلایا کہ یہ عارضی پسپائی دراصل ایک بڑی چھلانگ کی تیاری ہے، اس دوران محمد نے یورپ کے نقشے، قسطنطنیہ کی دیواروں کے کمزور مقامات اور سمندری لہروں کا بغور جائزہ لیا، یہاں تک کہ جب 1451 میں سلطان مراد کا انتقال ہوا اور 19 سالہ محمد دوبارہ ادرنہ کے تخت پر بیٹھے، تو وہ اب وہ خوفزدہ بچہ نہیں تھے بلکہ ایک ایسا طوفان تھے جسے روکنا ناممکن تھا، اور تخت نشین ہوتے ہی انہوں نے پہلا حکم جاری کیا جو ان کے ارادوں کا عکاس تھا: قسطنطنیہ کی تیاری۔
گلے کو کاٹنے والا قلعہ: روملی حصار کی تعمیر
روملی حصار کی تعمیر سلطان محمد ثانی نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنی تمام تر توجہ آبنائے باسفورس پر مرکوز کر دی جو بحیرہ اسود اور بحیرہ مرمرہ کو ملانے والی اہم ترین گزرگاہ تھی اور قسطنطنیہ کی لائف لائن سمجھی جاتی تھی، کیونکہ بازنطینی شہر کو خوراک اور امداد بحری راستوں سے ہی ملتی تھی اور محمد جانتے تھے کہ جب تک اس شہر کا "گلا" نہیں گھونٹا جائے گا، اسے فتح کرنا ناممکن ہے۔ سلطان نے ایک انتہائی جرات مندانہ فیصلہ کیا اور قسطنطنیہ کے بالکل قریب، باسفورس کے یورپی کنارے پر ایک عظیم قلعہ تعمیر کرنے کا حکم دیا جو اس سے پہلے تعمیر کیے گئے انادولو حصار کے بالکل سامنے تھا، تاکہ آبنائے کے دونوں کناروں سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو روکا جا سکے۔ بازنطینی شہنشاہ قسطنطین یازدہم نے اس تعمیر کو روکنے کے لیے سفیر بھیجے اور تحفے تحائف پیش کیے، لیکن سلطان نے انہیں واپس بھیج دیا اور کہا کہ "زمین خدا کی ہے اور میں جہاں چاہوں تعمیر کر سکتا ہوں،" اور پھر دنیا نے دیکھا کہ سلطان محمد نے خود اپنی پیٹھ پر پتھر اٹھائے اور معماروں کے ساتھ کام کیا تاکہ یہ قلعہ ریکارڈ مدت میں مکمل ہو سکے۔ ہزاروں مزدوروں اور بہترین انجینئروں کی رات دن کی محنت سے صرف چار مہینوں اور کچھ دنوں میں ایک مضبوط اور فلک بوس قلعہ کھڑا ہو گیا جسے "روملی حصار" کا نام دیا گیا لیکن جسے لوگ خوف سے "بوغاز کین" یا "گلا کاٹنے والا" کہتے تھے، کیونکہ اس کے تین بڑے برجوں پر نصب بھاری توپیں کسی بھی جہاز کو سمندر کی تہہ میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتی تھیں اور اس کا عملی مظاہرہ تب ہوا جب ایک وینس کے جہاز نے رکنے کے حکم کو نظر انداز کیا اور عثمانی توپوں نے اسے ایک ہی وار میں غرق کر دیا۔ روملی حصار کی تکمیل نے قسطنطنیہ کے محاصرے کی بنیاد رکھ دی تھی کیونکہ اب بازنطینیوں کا بحیرہ اسود سے رابطہ کٹ چکا تھا اور وہ مکمل طور پر محصور ہو چکے تھے، یہ سلطان محمد کی اسٹریٹجک ذہانت کا پہلا بڑا شاہکار تھا جس نے نہ صرف دشمن کے حوصلے پست کر دیے بلکہ اپنی فوج کو یہ پیغام بھی دیا کہ ان کا سلطان ناممکن کو ممکن بنانے کا ہنر جانتا ہے۔
شاہی توپ اور جنگی جنون کی انتہا
شاہی توپ اور جنگی جنون کی انتہا قلعہ بندی کے بعد سلطان محمد نے اپنی توجہ فوجی تاریخ کے سب سے بڑے ہتھیار کی طرف مبذول کی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قسطنطنیہ کی تھیوڈوسیئن دیواریں ہزار سال سے ناقابلِ تسخیر رہی ہیں اور انہیں گرانے کے لیے روایتی منجنیقیں یا چھوٹی توپیں بیکار ہیں، اس لیے انہیں ایک ایسا ہتھیار چاہیے تھا جو قیامت ڈھا سکے۔ اسی دوران ایک ہنگری کا انجینئر جس کا نام اربیان (Urban) تھا، قسطنطنیہ سے مایوس ہو کر سلطان کے دربار میں حاضر ہوا کیونکہ بازنطینی شہنشاہ اس کی مانگی ہوئی اجرت ادا کرنے سے قاصر تھا، سلطان نے اس کا استقبال کیا اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ ایسی توپ بنا سکتا ہے جو بابل کی دیواروں کو بھی ریزہ ریزہ کر دے، جس پر اربیان نے جواب دیا کہ "میں ایسی توپ بنا سکتا ہوں جس کی گرج آسمان کو ہلا دے۔" سلطان نے اسے منہ مانگے وسائل فراہم کیے اور ادرنہ میں ایک عظیم فاؤنڈری قائم کی گئی جہاں پیتل اور کانسی کو پگھلا کر تاریخ کی سب سے بڑی توپ "بیسیلی کا" (Basilica) تیار کی گئی، یہ توپ اتنی بھاری تھی کہ اسے کھینچنے کے لیے 60 بیلوں اور سینکڑوں مضبوط جوانوں کی ضرورت پڑتی تھی اور جب اس کا تجرباتی فائر کیا گیا تو اس کی آواز میلوں دور تک سنی گئی اور زمین زلزلے کی طرح لرز اٹھی۔ اس توپ کے ساتھ ساتھ سلطان نے دیگر چھوٹی اور درمیانی توپوں کا ایک پورا بیڑا تیار کیا اور اپنی فوج کو جدید خطوط پر منظم کیا، جنیسری دستوں کو بہترین ہتھیار دیے گئے اور اناطولیہ اور یورپ سے ہزاروں سپاہی جمع کیے گئے جن کی تعداد 80 ہزار سے 1 لاکھ کے درمیان تھی، جبکہ دوسری طرف سمندری حملے کے لیے ایک عظیم بحری بیڑا بھی تیار کیا گیا۔ سلطان محمد کی راتوں کی نیند اڑ چکی تھی، وہ اکثر راتوں کو بھیس بدل کر اپنے سپاہیوں کے خیموں میں جاتے تاکہ ان کے جذبات جان سکیں اور نقشوں پر گھنٹوں جھکے رہتے، وہ ہر ممکنہ رکاوٹ کا حل پہلے سے سوچ لینا چاہتے تھے اور ان کی یہ تیاری صرف ایک جنگ کی تیاری نہیں تھی بلکہ ایک نئے دور کے آغاز کی نوید تھی جس میں بارود اور لوہا تاریخ کا فیصلہ کرنے والے تھے۔
قسطنطنیہ: ایک مرتا ہوا شہر اور آخری شہنشاہ
قسطنطنیہ: ایک مرتا ہوا شہر اور آخری شہنشاہ دوسری جانب قسطنطنیہ، جو کبھی دنیا کا امیر ترین اور خوبصورت ترین شہر تھا، اب اپنی پرانی عظمت کا سایہ بن چکا تھا، شہر کی آبادی کم ہو کر محض 50 ہزار رہ گئی تھی اور خزانہ خالی تھا، لیکن اس کے باوجود اس کی دیواریں اور اس کا جغرافیائی محل وقوع اسے اب بھی ایک مضبوط قلعہ بنائے ہوئے تھے۔ بازنطینی شہنشاہ قسطنطین یازدہم پیلیولوگس ایک بہادر اور محبِ وطن حکمران تھا جو جانتا تھا کہ یہ اس کی سلطنت کا آخری معرکہ ہو سکتا ہے، اس لیے اس نے مغرب سے مدد کی اپیل کی، لیکن یورپ کے عیسائی حکمران اپنے اندرونی تنازعات میں الجھے ہوئے تھے اور کیتھولک چرچ نے مدد کے لیے شرط رکھی تھی کہ آرتھوڈوکس چرچ پوپ کی اطاعت قبول کرے، جو قسطنطنیہ کے عوام اور پادریوں کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ اس مذہبی کشمکش نے شہر کو تقسیم کر رکھا تھا اور مشہور بازنطینی وزیر نو ٹاراس نے کہا تھا کہ "میں قسطنطنیہ میں ترکوں کی پگڑی دیکھنا پسند کروں گا بجائے لاطینیوں (کیتھولک) کے ہیٹ کے،" اس کے باوجود قسطنطین نے شہر کے دفاع کے لیے ہر ممکن کوشش کی، ٹوٹی ہوئی دیواروں کی مرمت کی گئی اور گولڈن ہارن (شاخِ زریں) کے دہانے پر ایک عظیم آہنی زنجیر باندھی گئی تاکہ عثمانی جہاز بندرگاہ میں داخل نہ ہو سکیں۔ شہر کے دفاع کے لیے سب سے اہم مدد جینووا سے آئی، جہاں سے ایک ماہر جنگجو جیووانی جسٹینیانی اپنے 700 بہترین سپاہیوں کے ساتھ پہنچا اور دیواروں کے دفاع کی ذمہ داری سنبھالی، یہ مٹھی بھر سپاہی سلطان کی لاکھوں کی فوج کے سامنے چیونٹی کے برابر بھی نہیں تھے لیکن ان کے پاس ایمان، دیواروں کی مضبوطی اور بقا کی جنگ لڑنے کا جذبہ تھا جو انہیں آخری دم تک لڑنے پر مجبور کر رہا تھا۔ شہر کے اندر خوف اور امید کی ملی جلی فضا تھی، گرجا گھروں میں دعائیں مانگی جا رہی تھیں اور پرانے بزرگ پیشن گوئیاں کر رہے تھے کہ شہر تب تک محفوظ ہے جب تک چاند آسمان پر ہے، لیکن باہر کھڑی عثمانی فوج اور سلطان محمد کی توپوں کا دہانہ ان تمام امیدوں کو خاک میں ملانے کے لیے تیار تھا۔
محاصرے کا آغاز اور دیواروں کی مزاحمت
محاصرے کا آغاز اور دیواروں کی مزاحمت 6 اپریل 1453 کو، جمعہ کے مبارک دن، سلطان محمد ثانی نے قسطنطنیہ کے سامنے خیمہ زن ہو کر محاصرے کا باقاعدہ آغاز کیا اور اسلامی روایات کے مطابق پہلے شہنشاہ کو پیغام بھیجا کہ اگر وہ شہر حوالے کر دے تو اس کی جان اور مال کی امان دی جائے گی اور اسے پیلوپونیس کا حاکم بنا دیا جائے گا، لیکن قسطنطین نے جواب دیا کہ "شہر دینا میرے اختیار میں نہیں، میں اور میرے لوگ لڑتے ہوئے مر جائیں گے لیکن غلامی قبول نہیں کریں گے۔" اس انکار کے بعد سلطان نے توپوں کو آگ اگلنے کا حکم دیا اور تاریخ میں پہلی بار اتنی شدت سے قلعہ بند دیواروں پر گولہ باری شروع ہوئی، "شاہی توپ" کے ہر گولے کے ساتھ دیواروں میں شگاف پڑتے اور شہر کی زمین لرز اٹھتی، لیکن رات کے اندھیرے میں بازنطینی شہری، بوڑھے، بچے اور عورتیں مل کر ان شگافوں کو پتھروں، مٹی اور لکڑی سے بھر دیتے۔ ابتدائی حملے عثمانی فوج کے لیے بہت جانی نقصان کا باعث بنے کیونکہ خندقیں گہری تھیں اور دیواروں پر موجود تیر انداز اور جسٹینیانی کے تربیت یافتہ سپاہی عثمانیوں پر یونانی آگ (Greek Fire) اور تیروں کی بارش کر رہے تھے، جس سے ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔ سلطان کی فوج نے بار بار دیواروں پر چڑھنے کی کوشش کی لیکن ہر بار انہیں پسپا ہونا پڑا، حتیٰ کہ زمین دوز سرنگیں کھودنے کی کوشش بھی بازنطینی انجینئر گرانٹ نے ناکام بنا دی، جس نے جوابی سرنگیں کھود کر عثمانی کان کنوں کو بارود یا پانی سے ہلاک کر دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب عثمانی کیمپ میں مایوسی پھیلنے لگی تھی اور وزیر اعظم خلیل پاشا نے دوبارہ صلح کی بات چیت شروع کرنے کا مشورہ دیا، لیکن سلطان محمد کی لغت میں پیچھے ہٹنے کا لفظ نہیں تھا، وہ گھوڑے پر سوار ہو کر خود فوج کا حوصلہ بڑھاتے اور توپچیوں کو زاویے تبدیل کرنے کی ہدایت کرتے، وہ جانتے تھے کہ یہ جنگ صرف طاقت سے نہیں بلکہ اعصاب سے بھی لڑی جا رہی ہے اور جیت اسی کی ہوگی جو آخر تک ڈٹا رہے گا۔
خشکی پر جہاز: عقل کو دنگ کر دینے والی چال
خشکی پر جہاز: عقل کو دنگ کر دینے والی چال محاصرے کے دوران سلطان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ گولڈن ہارن (شاخِ زریں) کی بندرگاہ تھی جو شہر کے کمزور ترین حصے کی حفاظت کرتی تھی اور جس کے دہانے پر لگی ہوئی موٹی زنجیر عثمانی بحریہ کو اندر داخل ہونے سے روک رہی تھی، اور جب عثمانیوں نے بحری حملے کی کوشش کی تو انہیں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور چار عیسائی جہاز امداد لے کر شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے، جس سے سلطان کو شدید غصہ آیا اور انہوں نے اپنے ایڈمرل کو کوڑے مارے۔ اس تعطل کو توڑنے کے لیے سلطان محمد نے ایک ایسا منصوبہ بنایا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اور جسے سن کر آج بھی عقل دنگ رہ جاتی ہے: انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگر جہاز پانی کے راستے نہیں جا سکتے تو وہ خشکی کے راستے جائیں گے۔ یہ منصوبہ ناممکن لگتا تھا کیونکہ غلطہ کی پہاڑیوں کے اوپر سے جہازوں کو گزارنا دیوانگی تھی، لیکن سلطان نے راتوں رات ہزاروں مزدوروں کو کام پر لگا دیا جنہوں نے لکڑی کے تختے بچھائے، انہیں چربی اور تیل سے چکنا کیا اور پھر 70 سے زائد جنگی جہازوں کو بیلوں اور جوانوں کی مدد سے کھینچ کر پہاڑی کے اوپر سے گزارتے ہوئے گولڈن ہارن کے پانیوں میں اتار دیا۔ یہ کام 21 اور 22 اپریل کی درمیانی شب اتنی خاموشی اور تیزی سے ہوا کہ جب صبح بازنطینی بیدار ہوئے تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کیونکہ عثمانی بیڑا اب ان کے گھر کے اندر موجود تھا اور وہ زنجیر جو ان کی محافظ تھی اب بے معنی ہو چکی تھی۔ اس حکمت عملی نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا کیونکہ اب بازنطینیوں کو اپنی فوج کا ایک بڑا حصہ سمندری دیواروں کے دفاع کے لیے منتقل کرنا پڑا جس سے خشکی والی دیواروں کا دفاع کمزور ہو گیا، اور شہر کے اندر محصورین کا مورال بری طرح ٹوٹ گیا کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ وہ ایک ایسے دشمن سے لڑ رہے ہیں جس کے لیے ناممکن کچھ بھی نہیں، اور ایک پرانی پیشن گوئی بھی یاد آنے لگی کہ "قسطنطنیہ تب گرے گا جب جہاز خشکی پر چلیں گے"۔
آخری ایام اور قدرت کے اشارے
آخری ایام اور قدرت کے اشارے مئی کا مہینہ شروع ہوا تو محاصرہ اپنے عروج پر تھا، خوراک کی قلت نے شہر میں قحط کی صورتحال پیدا کر دی تھی اور مسلسل بمباری سے لوگ ذہنی اور جسمانی طور پر ٹوٹ چکے تھے، لیکن سلطان بھی بے چین تھے کیونکہ وینس کا ایک بڑا بحری بیڑا قسطنطنیہ کی مدد کے لیے راستے میں تھا اور اگر وہ پہنچ جاتا تو محاصرہ اٹھانا پڑ سکتا تھا۔ دونوں طرف تھکاوٹ اور تناؤ انتہا پر تھا، عثمانی کیمپ میں بھی افواہیں گردش کر رہی تھیں اور کچھ سپاہی بغاوت کی باتیں کر رہے تھے، لیکن سلطان نے ایک شاندار مجلس بلائی اور اپنے کمانڈروں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فتح اب صرف چند قدم کے فاصلے پر ہے۔ اسی دوران قدرت کے کچھ ایسے اشارے نمودار ہوئے جنہوں نے بازنطینیوں کی رہی سہی امید بھی ختم کر دی: 24 مئی کو مکمل چاند گرہن ہوا اور شہر اندھیرے میں ڈوب گیا جو کہ ایک بدشگونی سمجھی گئی کیونکہ پرانی روایت تھی کہ چاند کے ہوتے ہوئے شہر نہیں گرے گا، اور اگلے دن ایک شدید دھند چھا گئی اور پھر ہاجیہ صوفیہ کے گنبد پر ایک عجیب سرخ روشنی دیکھی گئی جسے لوگوں نے روح القدس کے شہر چھوڑنے کی علامت سمجھا۔ شہر کے اندر مذہبی جلوس نکالے گئے اور مریم مقدس کی شبیہیں دیواروں پر لائی گئیں لیکن ایک شبیہ گر گئی جسے اٹھایا نہ جا سکا، ان واقعات نے سپاہیوں اور شہریوں کے دلوں میں خوف بٹھا دیا۔ دوسری طرف سلطان محمد نے 27 مئی کو اعلان کیا کہ اب فیصلہ کن حملے کا وقت آ گیا ہے، انہوں نے فوج کو تین دن آرام کرنے اور عبادت کرنے کا حکم دیا اور وعدہ کیا کہ فتح کے بعد شہر کا مال غنیمت سپاہیوں کا ہوگا، پورے کیمپ میں "اللہ اکبر" کے نعرے گونج اٹھے اور 28 مئی کی رات کو ہزاروں مشعلیں جلائی گئیں جس سے قسطنطنیہ والوں کو ایسا لگا جیسے شہر کے باہر آگ کا سمندر ہے، اور وہ سمجھ گئے کہ اگلی صبح ان کی زندگی کی آخری صبح ہو سکتی ہے۔
فتح مبین: 29 مئی کی خونی سحر
29 مئی کی خونی سحر 29 مئی 1453 کی صبح صادق کے وقت سلطان محمد ثانی نے حتمی یلغار کا حکم دیا اور ایک ساتھ زمین اور سمندر سے حملہ شروع ہوا، سب سے پہلے غیر منظم دستوں (باشی بازوق) کو آگے بھیجا گیا تاکہ وہ دشمن کو تھکا دیں، ان کے بعد اناطولیہ کے باقاعدہ دستوں نے حملہ کیا جو شدید لڑائی کے بعد پیچھے ہٹ گئے۔ جب بازنطینی سپاہی تھک چکے تھے اور انہیں لگا کہ انہوں نے حملہ پسپا کر دیا ہے، تب سلطان نے اپنا ترپ کا پتہ کھیلا اور اپنی خاص الخاص فوج "جنیسری" کو میدان میں اتارا، یہ تازہ دم اور بہترین تربیت یافتہ دستے طوفان کی طرح دیواروں کی طرف بڑھے اور ان کی یلغار اتنی شدید تھی کہ بازنطینی صفیں درہم برہم ہو گئیں۔ لڑائی کے دوران شہر کا مرکزی محافظ جیووانی جسٹینیانی شدید زخمی ہو گیا اور درد سے کراہتا ہوا میدان چھوڑ کر جانے لگا، شہنشاہ قسطنطین نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ نہ رکا، اور اس کے جاتے ہی دفاعی سپاہیوں کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ بھاگنے لگے۔ اسی افراتفری میں عثمانی سپاہیوں کو ایک چھوٹا دروازہ "کرکوپورٹا" کھلا مل گیا جسے شاید غلطی سے کھلا چھوڑ دیا گیا تھا، عثمانی دستے وہاں سے اندر داخل ہو گئے اور دیواروں پر عثمانی پرچم لہرا دیا، جسے دیکھ کر شہر میں "شہر گر گیا!" کی چیخیں گونج اٹھیں۔ شہنشاہ قسطنطین نے جب دیکھا کہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے تو اس نے اپنے شاہی لباس کو اتار پھینکا اور ایک عام سپاہی کی طرح دشمن کی صفوں میں گھس گیا اور لڑتے لڑتے شہید ہو گیا (یا غائب ہو گیا، کیونکہ اس کی لاش کبھی حتمی طور پر شناخت نہ ہو سکی)۔ عثمانی فوج شہر میں داخل ہو گئی اور سینٹ رومانوس گیٹ کے راستے فتح کا سیلاب شہر کی گلیوں میں بہہ نکلا، یہ ایک خونی صبح تھی جس نے قرونِ وسطیٰ کا خاتمہ کر دیا اور تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
تاریخ میں یادگار
استنبول کا طلوع اور نیا عالمی نظام ظہر کے وقت جب گرد و غبار تھما تو 21 سالہ فاتح سلطان محمد اپنے سفید گھوڑے پر سوار ہو کر سینٹ رومانوس گیٹ سے شہر میں داخل ہوئے، انہوں نے زمین پر اتر کر اللہ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا اور پھر سیدھے عظیم کلیسا ہاجیہ صوفیہ (آیا صوفیہ) کا رخ کیا، جہاں ہزاروں خوفزدہ شہری پناہ لیے ہوئے تھے۔ سلطان نے وہاں پہنچ کر تمام پناہ گزینوں کو امان دی اور حکم دیا کہ چرچ کو مسجد میں تبدیل کر دیا جائے، وہ خود منبر پر چڑھے اور پہلی اذان دی، جس کے ساتھ ہی قسطنطنیہ اسلامبول (اسلام کا شہر) یا استنبول بن گیا۔ سلطان نے شہر میں لوٹ مار روک دی اور اعلان کیا کہ جو لوگ شہر چھوڑ گئے ہیں وہ واپس آ سکتے ہیں، انہوں نے یونانی آرتھوڈوکس چرچ کو مذہبی آزادی دی اور ایک نئے پیٹریارک کا تقرر کیا تاکہ عیسائی آبادی کو مطمئن رکھا جا سکے، کیونکہ ان کا مقصد شہر کو تباہ کرنا نہیں بلکہ اسے اپنی نئی سلطنت کا شاندار دارالحکومت بنانا تھا۔ قسطنطنیہ کی فتح صرف ایک شہر کی فتح نہیں تھی بلکہ یہ 1100 سالہ بازنطینی سلطنت کا خاتمہ اور سلطنتِ عثمانیہ کے سپر پاور بننے کا اعلان تھا، اس فتح نے یورپ میں نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کی راہ ہموار کی کیونکہ یونانی علماء اپنی کتابیں لے کر اٹلی بھاگ گئے تھے۔ سلطان محمد ثانی، جو اب "فاتح" کہلاتے تھے، نے ثابت کر دیا کہ وہ واقعی وہی "بہترین امیر" ہیں جن کی بشارت دی گئی تھی، اور انہوں نے ایک ایسا شہر بسایا جو مشرق اور مغرب کا سنگم بنا، جہاں مسجدوں کے میناروں سے اٹھنے والی آوازیں اور بازاروں کی رونقیں آج بھی اس عظیم فتح کی گواہی دیتی ہیں جس نے دنیا کا رخ ہمیشہ کے لیے موڑ دیا۔