اندلس — آگ سے عروج تک، اور زوال سے سبق تک
سیکشن 1: آگ سے لکھی گئی تاریخ کی ابتدا
ایک پہاڑ، ایک تپتا ہوا سمندر اور چند کشتیاں جنہیں ساحل پر پہنچتے ہی آگ لگا دی گئی! یہ کسی جنون کی کہانی نہیں بلکہ اس عظیم تاریخ کا نقطۂ آغاز تھا جس نے یورپ کی تقدیر بدل دی۔ آج کا اسپین، جسے دنیا فٹ بال اور سیاحت کے لیے جانتی ہے، کبھی “اندلس” کے نام سے تہذیب، علم اور ایمان کا مرکز تھا۔ یہ وہ سرزمین تھی جہاں آٹھ صدیوں تک اذانوں کی گونج رہی اور جہاں سے اٹھنے والی علمی روشنی نے پوری دنیا کو منور کیا۔
سیکشن 2: طارق بن زیاد اور ناقابلِ واپسی فیصلہ
سن 711 میں افریقہ کے ساحل پر ایک نوجوان سپہ سالار، طارق بن زیاد، اپنی مختصر فوج کے ساتھ کھڑا تھا۔ سامنے دشمن کا سمندر اور پیچھے بے رحم موجیں۔ اسی لمحے اس نے تاریخ کا وہ فیصلہ کیا جس نے جنگی اصول بدل دیے۔ تمام کشتیاں جلا دی گئیں اور سپاہیوں سے کہا گیا: “اب واپسی نہیں، یا فتح یا شہادت۔” یہی آگ مسلمانوں کے حوصلوں میں بھڑکی اور راڈرک کی ظالم حکومت ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا اسپین مسلمانوں کے زیرِ اثر آ گیا۔
سیکشن 3: اندلس — علم، رواداری اور تہذیب کا عروج
یہ تو صرف آغاز تھا۔ آنے والے صدیوں میں اندلس جنت کا عملی نمونہ بن گیا۔ جب یورپ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا تھا، قرطبہ کی گلیاں رات کو چراغوں سے روشن ہوتی تھیں۔ لائبریریوں میں لاکھوں کتابیں، یونیورسٹیاں علم کا مرکز اور معاشرہ رواداری کی مثال تھا۔ عبدالرحمٰن الداخل جیسے حکمرانوں کے دور میں مسلمان، عیسائی اور یہودی ایک ساتھ رہتے تھے۔ طب، ریاضی، فلکیات اور فنِ تعمیر نے یہیں سے جدید دنیا کی بنیاد رکھی۔
سیکشن 4: زوال کی کہانی — جب دشمن اندر پیدا ہوا
تاریخ کا کڑوا سچ یہی ہے کہ عروج کے بعد غرور آتا ہے۔ اندلس کا زوال بیرونی دشمن سے نہیں بلکہ اندرونی غداری سے ہوا۔ مسلمان حکمران آپس میں بٹ گئے، بھائی بھائی کے خلاف کھڑا ہو گیا۔ وقتی فائدے کے لیے دشمنوں سے معاہدے کیے گئے۔ یوسف بن تاشفین جیسے مجاہد آئے، مگر اندر لگی آگ بہت گہری تھی۔ ایک ایک کر کے شہر چھن گئے، حتیٰ کہ آخر میں صرف غرناطہ باقی رہ گیا۔
سیکشن 5: غرناطہ کا سقوط اور ہمیشہ کا پیغام
1492 میں وہ لمحہ آیا جب غرناطہ کا آخری حکمران ابو عبداللہ شہر کی چابیاں دشمن کے حوالے کر کے رخصت ہوا۔ پہاڑی موڑ پر اس نے آخری بار اپنے شہر کو دیکھا تو آنکھیں نم ہو گئیں۔ تب اس کی ماں نے وہ جملہ کہا جو تاریخ میں ہمیشہ گونجتا رہے گا: “جس چیز کی حفاظت تم مردوں کی طرح نہ کر سکے، اب اس کے لیے عورتوں کی طرح کیوں روتے ہو؟” اندلس کا سورج ڈوب گیا، مگر اس کی روشنی آج بھی ہمیں یہ سبق دیتی ہے: عروج اتحاد میں ہے اور زوال غداری میں۔