صحرا کا سفید شیطان: لارنس آف عریبیہ اور امتِ مسلمہ کی پیٹھ میں خنجر

سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف سازش اور خلافت کا خوف

تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو کچھ چہرے ایسے نظر آتے ہیں جو بظاہر مسکراہٹ اور دوستی کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھے، مگر ان کی آستینوں میں وہ زہر آلود خنجر چھپے تھے جنہوں نے امتِ مسلمہ کی پیٹھ میں ایسے وار کیے جن کے زخم آج ایک صدی گزرنے کے بعد بھی تازہ ہیں۔ ان زخموں سے رستا ہوا لہو آج بھی فلسطین، شام، عراق اور حجاز کی گلیوں میں دکھائی دیتا ہے۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سا لمحہ تھا جب ہماری تقدیر پلٹ گئی؟ وہ کون سی گھڑی تھی جب بھائی نے بھائی کا گلا کاٹنے کا فیصلہ کر لیا؟ اور وہ کون سا انسان تھا جس نے مسلمانوں کے اتحاد کی دیوار میں پہلی دراڑ ڈالی؟ یہ کہانی کسی افسانوی کردار کی نہیں، بلکہ ایک ایسے حقیقی شیطان کی ہے جس نے صحرا کی تپتی دھوپ میں مسلمانوں کا لباس پہن کر، ان کی زبان بول کر، اور ان کے ساتھ سجدے کر کے انہیں اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ دنیا اسے "لارنس آف عریبیہ" کے نام سے جانتی ہے، لیکن تاریخ اسے اس کے اصلی نام "تھامس ایڈورڈ لارنس" اور اس کے کام "عظیم غداری" سے پہچانتی ہے۔ یہ شخص تن تنہا ایک پوری سلطنت کو گرانے کا سبب کیسے بنا؟ اس کے ذہن میں کیا چل رہا تھا جب وہ مدینہ جانے والی ٹرینوں کے نیچے بارود بچھا رہا تھا؟ آئیے تاریخ کے اس تاریک ترین باب میں اترتے ہیں جہاں ریت کا ہر ذرہ سازش کی گواہی دے رہا ہے۔ یہ بیسویں صدی کا آغاز تھا اور سلطنتِ عثمانیہ، جو تین براعظموں پر پھیلی ہوئی مسلمانوں کی آخری امید اور ڈھال تھی، اب اپنے آخری سانس لے رہی تھی۔ مغرب کی طاقتیں، خاص طور پر برطانیہ اور فرانس، گدھوں کی طرح اس عظیم سلطنت کے گرنے کا انتظار کر رہی تھیں تاکہ وہ اس کے جسم کو نوچ کر آپس میں بانٹ سکیں۔ لیکن ان کے راستے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ تھی۔ وہ رکاوٹ عثمانی فوج نہیں تھی، بلکہ وہ "نظریہ" تھا جس نے کروڑوں مسلمانوں کو جوڑ رکھا تھا، اور وہ نظریہ تھا "خلافت"۔ انگریز جانتے تھے کہ جب تک مکہ اور مدینہ کے رہنے والے، اور عرب کے قبائل استنبول کے خلیفہ کو اپنا امیر مانتے رہیں گے، تب تک کوئی بھی یورپی طاقت مشرقِ وسطیٰ پر قبضہ نہیں کر سکتی۔ انہیں جنگ کے میدان میں ترکوں کو ہرانا مشکل لگ رہا تھا، اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو باہر سے مارنے کے بجائے اندر سے لڑایا جائے۔ اس شیطانی مشن کے لیے انہیں ایک ایسے مہرے کی ضرورت تھی جو دکھنے میں تو انگریز ہو، لیکن اس کی روح میں عربیت بسی ہو، جو قرآن کی آیات بھی سنا سکے اور صحرا کے مشکل ترین راستوں کو بھی جانتا ہو۔ برطانوی انٹیلی جنس نے اپنی فائلوں کو کھنگالا اور ان کی نظر ایک نوجوان آثارِ قدیمہ کے ماہر (Archaeologist) پر پڑی جو شام اور عراق کے کھنڈرات میں سالوں سے بھٹک رہا تھا۔ یہ لارنس تھا۔

T.E. Lawrence wearing traditional Arab white robes and agal in the desert

دھوکے کا جال: عرب قوم پرستی اور جھوٹے وعدے

لارنس کوئی عام فوجی افسر نہیں تھا۔ وہ ایک عجیب و غریب نفسیات کا مالک انسان تھا جسے تکلیف سہنے اور صحرا کی تنہائی میں رہنے کا جنون تھا۔ جنگِ عظیم اول چھڑ چکی تھی۔ انگریزوں نے لارنس کو قاہرہ کے انٹیلی جنس بیورو میں بلایا اور اسے ایک ایسا مشن دیا جو بظاہر ناممکن تھا۔ اسے کہا گیا کہ وہ عرب کے ریگستانوں میں جائے، وہاں کے بدو سرداروں کو تلاش کرے، اور ان کے دلوں میں ترکوں (عثمانیوں) کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائے۔ اسے کہا گیا کہ وہ مسلمانوں کے مقدس ترین جذبات کو استعمال کر کے انہیں یہ باور کرائے کہ ان کی اصل دشمن عثمانی حکومت ہے، نہ کہ انگریز۔ یہ ایک خطرناک جوا تھا، کیونکہ اگر عربوں کو ذرا سا بھی شک گزر جاتا کہ یہ انگریز ان کے دین کا دشمن ہے، تو وہ وہیں اس کا سر قلم کر دیتے۔ لیکن لارنس نے یہ چیلنج قبول کیا۔ وہ عربوں جیسا لباس پہنتا، سر پر کوفیہ اور اگال سجاتا، اور اپنی جلد کو دھوپ میں جلا کر اتنا سیاہ کر لیا تھا کہ دور سے کوئی پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ ایک سفید فام برطانوی ہے۔ وہ اپنی کمر سے خنجر باندھتا اور اونٹوں پر سفر کرتا ہوا حجاز کے ان علاقوں میں پہنچ گیا جہاں صدیوں سے کسی یورپی کے قدم نہیں پڑے تھے۔ اس کا سب سے بڑا ہتھیار "پیسہ" اور "قوم پرستی" تھا۔ وہ جانتا تھا کہ عرب قبائل اپنی آزادی اور انا کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اس نے شریف مکہ، حسین بن علی اور ان کے بیٹوں، خاص طور پر شہزادہ فیصل سے رابطہ کیا۔ لارنس نے ان کے سامنے ایک خوبصورت خواب رکھا۔ اس نے ان سے کہا کہ "تم جو نبی کریم ﷺ کی اولاد ہو، تم ان ترکوں کے غلام کیوں ہو جو تمہاری زبان بھی نہیں بولتے؟ خلافت کا حق تو عربوں کا ہے، ترکوں نے تو اس پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اگر تم ہمارا ساتھ دو، تو جنگ کے بعد ہم تمہیں ایک عظیم عرب سلطنت (Greater Arabia) بنا کر دیں گے جو دمشق سے لے کر یمن تک پھیلی ہو گی۔" یہ وہ جھوٹ تھا جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ سادہ لوح عرب سردار، جو انگریزوں کی چالوں سے ناواقف تھے، اس کے جال میں پھنس گئے۔ لارنس ان کے ساتھ بیٹھ کر کھجوریں کھاتا، قہوہ پیتا اور قرآن کی وہ آیات کوٹ کرتا جن میں آزادی اور جہاد کا ذکر ہے، لیکن وہ ان آیات کا رخ مسلمانوں ہی کے خلاف موڑ دیتا۔ اس نے عربوں کو یقین دلا دیا کہ ترکوں کو قتل کرنا ہی اصل جہاد ہے۔

T.E Lawrence is talk to local people
s

حجاز ریلوے کی تباہی اور خفیہ معاہدے

پھر وہ وقت آیا جب لارنس نے اپنی سازش کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا۔ اس نے عرب بدوؤں کو اکٹھا کیا، انہیں انگریزی سونے کے سکے (Sovereigns) بانٹے اور انہیں جدید رائفلیں چلانا سکھائیں۔ اس کا پہلا ہدف "حجاز ریلوے" تھی۔ یہ وہ ریلوے لائن تھی جسے دنیا بھر کے مسلمانوں نے اپنے پیٹ کاٹ کر دیے گئے چندے سے تعمیر کیا تھا تاکہ حجاج کرام آسانی سے دمشق سے مدینہ پہنچ سکیں۔ یہ ریلوے لائن مسلمانوں کے اتحاد کی سب سے بڑی علامت تھی۔ لارنس نے عربوں کو سکھایا کہ اس لائن کو کیسے اڑانا ہے۔ ذرا تصور کریں، رات کا اندھیرا ہے، صحرا میں خاموشی ہے، اور ایک ٹرین جس میں ترک فوجی اور عام مسافر سوار ہیں، مدینہ کی طرف جا رہی ہے۔ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے۔ ریت کے طوفان کے ساتھ ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اتر جاتی ہیں۔ چیخ و پکار مچ جاتی ہے۔ لارنس ایک ٹیلے کے پیچھے چھپا یہ سب دیکھ رہا ہوتا ہے۔ جیسے ہی زخمی ترک فوجی ٹرین سے باہر نکلتے، لارنس کے اشارے پر عرب بدو "اللہ اکبر" کا نعرہ لگا کر اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں پر ٹوٹ پڑتے۔ لارنس اپنی کتاب "دانائی کے سات ستون" (Seven Pillars of Wisdom) میں بڑی بےشرمی اور سفاکی سے ان لمحات کا ذکر کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ اسے ٹرینوں کو اڑانے میں ایک عجیب سا لطف آتا تھا۔ وہ بیان کرتا ہے کہ کس طرح دھماکے کے بعد لوہے کے مڑے ہوئے ٹکڑے اور انسانی اعضاء ہوا میں بکھر جاتے تھے۔ وہ عربوں کی نفسیات سے کھیل رہا تھا۔ جب کبھی بدو لڑنے سے گھبراتے یا پیچھے ہٹنے لگتے، لارنس ان کی غیرت کو للکارتا۔ وہ خود بارود لے کر سب سے آگے جاتا تاکہ انہیں دکھا سکے کہ ایک انگریز ان کے لیے جان کی بازی لگا رہا ہے۔ آہستہ آہستہ عربوں نے اسے اپنا "نجات دہندہ" اور "سلطان" ماننا شروع کر دیا۔ انہیں خبر ہی نہیں تھی کہ وہ جس شخص کے پیچھے چل رہے ہیں، وہ انہیں آزادی کی طرف نہیں بلکہ غلامی کی ایک نئی اور بدترین دلدل کی طرف لے جا رہا ہے۔ لارنس کی جیب میں ہر وقت ایک چھوٹی سی ڈائری ہوتی تھی جس میں وہ اپنے انٹیلی جنس افسران کے لیے نوٹس لکھتا تھا، اور اسی جیب میں ایک اور کاغذ بھی تھا جس کا علم شہزادہ فیصل کو نہیں تھا۔ وہ کاغذ "سائیکس پیکوٹ معاہدہ" (Sykes-Picot Agreement) کا مسودہ تھا، جس میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ جنگ جیتنے کے بعد عربوں کو کچھ نہیں ملے گا، بلکہ ان علاقوں کو آپس میں کیک کی طرح بانٹ لیا جائے گا۔

Historical depiction of the destruction and explosion of the Hejaz Railway in the Arabian desert

عقبہ، طفاس کا قتلِ عام اور انسانیت کی موت

لیکن لارنس کی منافقت کی انتہا ابھی باقی تھی۔ وہ صرف جنگی مہرہ نہیں تھا، وہ ایک نفسیاتی قاتل بھی تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر عربوں نے ایک بار ترکوں کو مکمل شکست دے دی اور دمشق پر قبضہ کر لیا، تو پھر انہیں کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے وہ جنگ کو لمبا کھینچتا رہا۔ وہ چاہتا تھا کہ عرب اور ترک آپس میں لڑ لڑ کر اتنے کمزور ہو جائیں کہ آخر میں جب برطانوی فوج آئے تو کوئی مزاحمت کرنے والا نہ بچے اور وہ آسانی سے یروشلم اور بغداد پر قبضہ کر لیں۔ اس نے عقبہ (Aqaba) کی بندرگاہ پر حملے کا منصوبہ بنایا۔ عقبہ ترکوں کا ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس کی توپوں کا رخ سمندر کی طرف تھا، جہاں سے برطانوی بحریہ کے حملے کا خطرہ تھا۔ ترکوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی خشکی کے راستے، "نیفود" (Nefud) کے جان لیوا ریگستان کو عبور کر کے ان کی پشت پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس ریگستان کو پار کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا، وہاں سانپوں اور بچھوؤں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ لیکن لارنس نے عربوں کو اس دیوانگی پر آمادہ کیا۔ یہ سفر جہنم سے گزرنے جیسا تھا۔ پانی ختم ہو چکا تھا، اونٹ مر رہے تھے، اور گرمی اتنی شدید تھی کہ انسان کا دماغ پگھل جائے۔ لیکن لارنس کا جنون اسے آگے بڑھاتا رہا۔ راستے میں ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس نے لارنس کے کردار کی درندگی کو پوری طرح بے نقاب کر دیا۔ سفر کے دوران دو عرب قبیلوں کے درمیان پرانی دشمنی کی وجہ سے جھگڑا ہو گیا اور ایک شخص قتل ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ یہ جھگڑا پوری فوج میں پھوٹ ڈال دیتا اور مشن ناکام ہو جاتا، لارنس نے مداخلت کی۔ اس نے کہا کہ انصاف وہ خود کرے گا۔ اس نے قاتل کو ریت پر گھٹنوں کے بل بٹھایا، اپنی بندوق نکالی، اور انتہائی سرد مہری سے اس کے سر میں گولی مار دی۔ یہ پہلا موقع تھا جب لارنس نے اپنے ہاتھوں سے کسی عرب کا خون بہایا تھا، اور اس لمحے اسے احساس ہوا کہ اب ان لوگوں پر اس کا کنٹرول مکمل ہے۔ وہ اب ان کا صرف مشیر نہیں، بلکہ ان کا حاکم بن چکا تھا۔ اس خون نے بدوؤں پر ایسی ہیبت طاری کی کہ وہ اس کے ہر حکم پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے لگے۔ جب یہ لشکر، بھوکا پیاسا اور گرد سے اٹا ہوا، عقبہ کے پیچھے نمودار ہوا تو ترک فوجیوں کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ موت اس سمت سے آئے گی۔ ایک خوفناک جنگ ہوئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے عقبہ پر باغیوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس فتح نے لارنس کو راتوں رات ہیرو بنا دیا۔ اب وہ صرف ایک جاسوس نہیں تھا، بلکہ "لارنس آف عریبیہ" بن چکا تھا۔ لیکن اس فتح کے جشن کے پیچھے ایک ہولناک حقیقت چھپی تھی۔ عقبہ کی فتح نے یروشلم کا دروازہ کھول دیا تھا۔ لارنس نے اپنے ہاتھوں سے مسلمانوں کے قبلہ اول کو کفار کے حوالے کرنے کا راستہ ہموار کر دیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے، اور اسے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔ وہ تو بس اس لمحے کا انتظار کر رہا تھا جب وہ دمشق میں فاتح بن کر داخل ہو۔ دمشق کا راستہ اب صاف نظر آ رہا تھا، لیکن اس راستے پر چلنے والوں کے دلوں میں جو آگ لگی تھی، وہ جہنم کی آگ سے کم نہ تھی۔ عقبہ کی فتح کے بعد لارنس کا قد کاٹھ عربوں میں اتنا بڑھ چکا تھا کہ وہ اسے دیوتا ماننے لگے تھے، مگر انہیں خبر نہیں تھی کہ یہ شخص اندر سے ٹوٹ چکا ہے اور اب اس کے اندر کا انسان مر چکا ہے، صرف ایک درندہ باقی ہے۔ 1918 کا سال شروع ہو چکا تھا اور جنگ اپنے آخری اور خونی مرحلے میں داخل ہو گئی تھی۔ لارنس اب صرف جاسوس نہیں رہا تھا، وہ موت کا سوداگر بن چکا تھا۔ اس کے دماغ میں ایک ہی جنون سوار تھا کہ کسی طرح دمشق میں فاتح بن کر داخل ہونا ہے، چاہے اس کے لیے اسے انسانیت کی ہر حد ہی کیوں نہ پھلانگنی پڑے۔ اور پھر وہ دن آیا جسے تاریخ "طفاس کا قتلِ عام" (Massacre at Tafas) کے نام سے یاد کرتی ہے۔ یہ وہ دن تھا جب لارنس نے جنگی اصول، اخلاقیات اور رحم کے تمام جذبات کو اپنے پیروں تلے روند دیا۔ ستمبر کے مہینے میں ترک فوج کا ایک بڑا دستہ پسپائی اختیار کرتے ہوئے "طفاس" نامی ایک چھوٹے سے گاؤں سے گزرا۔ جنگ کی افراتفری میں وہاں کچھ ایسا ہوا جس نے لارنس اور اس کے عرب ساتھیوں کو پاگل کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ترکوں نے گاؤں میں کچھ لوگوں کو قتل کیا، اور جب لارنس وہاں پہنچا اور اس نے لاشیں دیکھیں، تو اس کا دماغ ماؤف ہو گیا۔ اس وقت اس کے ساتھ عربوں کا ایک خونخوار سردار "طلال" بھی تھا، جس کا تعلق اسی گاؤں سے تھا۔ طلال نے جب اپنے گاؤں کی بربادی دیکھی تو وہ حواس کھو بیٹھا اور اکیلا ہی گھوڑا دوڑا کر ترک فوج کے ہجوم میں گھس گیا اور لڑتے لڑتے مارا گیا۔ طلال کی موت نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ لارنس، جو پہلے ہی نفسیاتی دباؤ کا شکار تھا، اس لمحے مکمل طور پر وحشی بن گیا۔ اس نے اپنی زندگی کا سب سے بھیانک حکم جاری کیا، ایک ایسا حکم جو آج بھی جنگی جرائم کی تاریخ میں سیاہ الفاظ میں لکھا جاتا ہے۔ اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور چلا کر کہا: "کوئی قیدی زندہ نہ بچے! (No Prisoners)"۔ اس نے کہا کہ آج بہترین ترک وہ ہے جو مردہ ہے۔ اس کے بعد جو ہوا، وہ جنگ نہیں تھی، وہ قصائی خانہ تھا۔ عرب بدو، جو پہلے ہی انتقام کی آگ میں جل رہے تھے، ترکوں پر بھوکے بھیڑیوں کی طرح ٹوٹ پڑے۔ ترک فوجی، جو تھکے ہوئے تھے اور ہتھیار ڈالنا چاہتے تھے، انہوں نے سفید جھنڈے لہرائے، ہاتھ اٹھائے، رحم کی بھیک مانگی، لیکن لارنس کے حکم پر ان سب کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ جو زخمی زمین پر تڑپ رہے تھے، انہیں نیزوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ لارنس اپنی ڈائری میں خود اعتراف کرتا ہے کہ اس نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ سنگینوں سے کام لو۔ وہ لکھتا ہے کہ "ہم نے پاگلوں کی طرح قتل کیے، یہاں تک کہ صحرا کی ریت خون سے سرخ ہو گئی۔" اس دن دو ہزار سے زائد ترک فوجی اور عام لوگ مارے گئے۔ یہ فتح نہیں تھی، یہ انسانیت کی موت تھی۔ لارنس نے اس دن عربوں کے دل سے "رحم" کا مادہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اور انہیں خون کا ایسا چسکا لگایا کہ وہ درندے بن گئے۔

Battle of Aqaba and the aftermath of the massacre at Tafas during the Arab Revolt

دمشق میں تاریخی غداری اور قدرت کا انتقام

خون کی اس ہولی کے بعد، راستہ مکمل طور پر صاف تھا۔ اکتوبر 1918 میں، وہ لمحہ آن پہنچا جس کا خواب لارنس برسوں سے دیکھ رہا تھا۔ دمشق! تاریخ کا وہ قدیم شہر جو صدیوں سے سلطنتِ عثمانیہ کا تاج تھا۔ عرب دستے نعرے لگاتے ہوئے دمشق میں داخل ہوئے۔ گلیاں گونج اٹھیں، لوگ گھروں سے نکل آئے، عورتوں نے چھتوں سے پھول نچھاور کیے۔ انہیں لگ رہا تھا کہ آزادی کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔ شہزادہ فیصل، جو شریف مکہ کے بیٹے تھے، ایک فاتح کی طرح شہر میں داخل ہوئے۔ انہیں یقین تھا کہ اب وہ ایک عظیم عرب سلطنت کے بادشاہ بنیں گے جیسا کہ لارنس نے وعدہ کیا تھا۔ ہر طرف خوشی تھی، جشن تھا، لیکن اس جشن کے بیچوں بیچ ایک شخص خاموش کھڑا تھا۔ وہ لارنس تھا۔ اس کے چہرے پر فتح کی خوشی نہیں تھی، بلکہ ایک عجیب سی پراسرار مسکراہٹ تھی، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ خوشی صرف چند گھنٹوں کی مہمان ہے۔ وہ جانتا تھا کہ اس نے ان لوگوں کو جس "آزادی" کے خواب دکھائے ہیں، وہ درحقیقت ایک "سنہرا پنجرہ" ہے۔ اور پھر... وہ دھماکہ ہوا جس کی گونج گولیوں سے زیادہ تھی، لیکن یہ دھماکہ کسی بم کا نہیں تھا، بلکہ "حقیقت" کا تھا۔ برطانوی فوج کا کمانڈر ان چیف، جنرل ایلن بی (General Allenby) دمشق پہنچا۔ وکٹوریہ ہوٹل میں ایک تاریخی ملاقات ہوئی۔ ایک طرف شہزادہ فیصل بیٹھے تھے جو خود کو عربوں کا بادشاہ سمجھ رہے تھے، اور دوسری طرف جنرل ایلن بی تھا جس کے ہاتھ میں طاقت تھی۔ اور ان دونوں کے درمیان کھڑا تھا لارنس... بطور مترجم (Translator)۔ جنرل ایلن بی نے اپنی سخت آواز میں بات شروع کی اور وہ الفاظ کہے جنہوں نے عربوں کے خواب چکنا چور کر دیے۔ اس نے کہا: "مسٹر فیصل! برطانیہ آپ کی خدمات کا معترف ہے، لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ فرانسیسی حکومت کے ساتھ ہمارے معاہدے (سائیکس پیکوٹ) کے تحت، شام کا یہ علاقہ فرانس کے کنٹرول میں جائے گا، اور فلسطین برطانیہ کے پاس رہے گا، اور آپ... آپ کی حکومت صرف ایک محدود علاقے تک ہوگی، وہ بھی اتحادیوں کی نگرانی میں۔" فیصل کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے حیرت اور غصے سے لارنس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ہزاروں سوال تھے۔ "لارنس! تم نے تو کہا تھا کہ ہم آزاد ہوں گے؟ تم نے تو کہا تھا کہ دمشق ہمارا ہے؟ تم نے تو کہا تھا کہ انگریز ہمارے دوست ہیں؟" لیکن لارنس نے نظریں جھکا لیں۔ وہ اس وقت ایک مجرم کی طرح کھڑا تھا۔ اس نے فیصل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت نہیں کی۔ عرب سرداروں نے اپنی تلواروں پر ہاتھ رکھ لیے، کمرے میں سناٹا چھا گیا، لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ وہ اپنا خون بہا چکے تھے، وہ اپنے ترک بھائیوں کو قتل کر چکے تھے، اور اب بدلے میں انہیں کیا ملا تھا؟ صرف غلامی کی تبدیلی۔ ترکوں کی جگہ اب انگریز اور فرانسیسی ان کے آقا تھے۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی دھوکہ دہی تھی۔ لارنس نے جس "عرب نیشنلزم" کا بیج بویا تھا، اس کا پھل کڑوا نکلا۔ اس دھوکے نے عربوں کے دلوں میں مغرب کے خلاف ایسی نفرت پیدا کی جو آج تک ختم نہیں ہوئی۔ لارنس کا مشن مکمل ہو چکا تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی تھی، خلیفہ کی طاقت ختم ہو چکی تھی، اور تیل کے کنوؤں پر اب برطانیہ کا قبضہ تھا۔ وہ دمشق سے ایسے نکلا جیسے کوئی چور رات کی تاریکی میں نکلتا ہے۔ وہ واپس انگلینڈ چلا گیا، لیکن کیا وہ سکون پا سکا؟ نہیں! قدرت کا انتقام بڑا عجیب ہوتا ہے۔ وہ شخص جس نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا، جس نے بھائی کو بھائی سے لڑایا، وہ خود اپنے اندر کے سکون سے محروم ہو گیا۔ برطانیہ واپس جا کر اس نے اپنا نام بدل لیا، وہ چھپتا پھرتا تھا، اسے اپنی شہرت سے نفرت ہو گئی تھی۔ اسے راتوں کو نیند نہیں آتی تھی، طفاس کے مقتولین کی چیخیں اور دمشق میں فیصل کی وہ حیرت زدہ نگاہیں اسے سونے نہیں دیتی تھیں۔ وہ "لارنس آف عریبیہ" سے "ٹی ای شا" (T.E. Shaw) بن گیا، ایک عام سپاہی کی طرح ایئر فورس میں بھرتی ہو گیا تاکہ کوئی اسے پہچان نہ سکے۔ وہ چاہتا تھا کہ دنیا اسے بھول جائے، لیکن اس کے کیے ہوئے گناہ اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ وہ اپنی موٹر سائیکل پر دیوانوں کی طرح تیز رفتاری سے سفر کرتا، گویا کسی چیز سے بھاگ رہا ہو۔ اور پھر... قدرت نے اپنا آخری فیصلہ سنایا۔ 13 مئی 1935 کی ایک صبح، وہ اپنی "برو سپیریئر" (Brough Superior) موٹر سائیکل پر جا رہا تھا۔ سڑک خالی تھی، لیکن اچانک سامنے دو سائیکل سوار بچے آ گئے۔ انہیں بچانے کی کوشش میں اس کی موٹر سائیکل بے قابو ہوئی اور وہ سر کے بل سڑک پر گرا۔ وہ شخص جو ہزاروں گولیوں اور بم دھماکوں سے بچ گیا تھا، وہ شخص جس نے بڑی بڑی سلطنتیں گرا دی تھیں، آج ایک معمولی سڑک حادثے میں بے بس پڑا تھا۔ چھ دن تک وہ کومہ میں رہا۔ نہ بول سکا، نہ دیکھ سکا، نہ حرکت کر سکا۔ وہ دماغ جس نے دنیا کے نقشے بدل دیے تھے، اب مفلوج ہو چکا تھا۔ 19 مئی 1935 کو اس کی موت واقع ہوئی۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس کا دماغ بری طرح کچلا گیا تھا۔ کیا یہ مکافاتِ عمل نہیں تھا؟ جس نے امتِ مسلمہ کے اتحاد کے "دماغ" (خلافت) کو کچلا تھا، قدرت نے اس کا اپنا دماغ کچل دیا۔ اس کی موت کے ساتھ اس کی کہانی تو ختم ہو گئی، لیکن اس نے جو آگ لگائی تھی، وہ آج بھی فلسطین میں جل رہی ہے۔ آج جب ہم غزہ کو ملبے کا ڈھیر دیکھتے ہیں، جب ہم شام کو کھنڈر بنا دیکھتے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس بربادی کی بنیاد رکھنے والا ہاتھ اسی "سفید فام شیطان" کا تھا جس نے ہماری صفوں میں گھس کر ہمیں تقسیم کیا۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جب مسلمان اپنوں کا ساتھ چھوڑ کر غیروں کے وعدوں پر اعتبار کرتے ہیں، تو انجام ہمیشہ "دمشق کی غداری" جیسا ہوتا ہے۔ لارنس مر گیا، لیکن اس کے جیسے کردار آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں، بس چہرے بدلے ہوئے ہیں۔ پہچانیے ان چہروں کو، قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے!

General Allenby meeting Prince Faisal in Damascus and Lawrence of Arabia's motorcycle crash