Islamic History · 1530-1556

داستانِ ہمایوں: ہیروں جڑا تاج، اپنوں کی غداری اور گنگا کی خونی لہریں!

25 منٹ · April 06, 2026 · Hidden History Zone
0 / 5 sections read
0%
باب ١

بابر کی وصیت اور سگے بھائیوں کی غداری

Humayun wearing the crown
Humayun ascends the troubled Mughal throne

آگرہ کے ان پرشکوہ لیکن سازشوں سے بھرے محلات میں دسمبر 1530ء کی وہ سرد اور ماتم خیز راتیں مغلیہ سلطنت کی تاریخ کا ایک انتہائی نازک موڑ تھیں۔ ہندوستان کے پہلے مغل شہنشاہ، ظہیر الدین محمد بابر کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو چکی تھیں۔ تختِ دہلی پر اب ایک بائیس سالہ نوجوان شہزادے، نصیر الدین محمد ہمایوں کی تاج پوشی کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ ہمایوں کے سر پر رکھا جانے والا وہ کوہِ نور ہیروں سے جڑا تاج بظاہر تو بہت چمکدار تھا، لیکن حقیقت میں یہ تاج سازشوں، غداریوں اور موت کے ان نوکیلے کانٹوں سے بھرا ہوا تھا جس نے اس نوجوان بادشاہ کی پوری زندگی کو ایک لرزہ خیز اور عبرتناک دربدری کے طوفان میں جھونک دینا تھا۔ ہمایوں اپنے عظیم باپ کی طرح انتہائی بہادر، پڑھا لکھا اور جنگی فنون میں ماہر تو ضرور تھا، لیکن اس کے دل میں وہ سفاکیت، بے رحمی اور چنگیزی خونخواری موجود نہیں تھی جو اس وقت ہندوستان کے اس بپھرے ہوئے اور سرکش تخت کو سنبھالنے کے لیے حد سے زیادہ ضروری تھی۔ بابر نے مرتے وقت اپنے اس لاڈلے بیٹے سے وصیت کی تھی کہ: "میرے مرنے کے بعد اپنے بھائیوں کی کسی بھی غداری کے بدلے میں ان پر کبھی تلوار مت اٹھانا۔" ہمایوں نے یہ جذباتی وعدہ تو کر لیا، لیکن اسے ذرہ برابر گمان نہ تھا کہ اس کے اپنے سگے بھائی—کامران مرزا، عسکری، اور ہندال—اقتدار کی ہوس میں اندھے ہو کر اس کی پیٹھ میں وہ انتہائی غلیظ خنجر اتارنے والے ہیں جو مغلوں کی جڑیں کھوکھلی کر دے گا۔ کابل اور قندھار کے قلعوں پر بیٹھا ہوا اس کا انتہائی شاطر اور مغرور سوتیلا بھائی کامران مرزا، دہلی کے تخت کے خواب دیکھ رہا تھا۔ کامران نے ہمایوں کی نرم دلی کا مکروہ فائدہ اٹھاتے ہوئے پنجاب پر اچانک دھاوا بول دیا اور ہمایوں نے تلوار اٹھانے کے بجائے اسے پورا پنجاب تحفے میں دے دیا۔ یہ ہمایوں کی زندگی کی وہ سب سے بڑی، ہولناک اور تاریخی جنگی غلطی تھی جس نے اس کے دائیں بازو کو ہمیشہ کے لیے کاٹ کر رکھ دیا۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ٢

گجرات کی مہم اور چمپانیر کا ناممکن حملہ

Humayun attacks the fort of Champaner
Humayun's daring night assault on Champaner

پنجاب کو گنوانے کے بعد ہمایوں کے لیے سانس لینے کی مہلت بھی نہیں بچی تھی۔ جنوب میں گجرات کا تخت ایک ایسے متکبر اور جنگجو حکمران، بہادر شاہ کے پاس تھا، جس نے مالوہ اور راجپوتانہ کے بڑے بڑے قلعوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ بہادر شاہ کو پرتگالیوں کی کالی اور موت اگلنے والی توپوں، اور اپنے بے پناہ خزانوں پر اس قدر غرور تھا کہ وہ ہمایوں کو محض ایک کمزور لڑکا سمجھتا تھا۔ اس مغرور گجراتی بادشاہ نے چتور کے ناقابلِ تسخیر قلعے پر ایک قیامت خیز حملہ کر دیا۔ چتور کی بے بس راجپوت 'رانی کرماوتی' نے اس موت کے لمحے میں ہمایوں کو اپنا بھائی مان کر مدد کی وہ رلا دینے والی اپیل کی جس نے اس ببر شیر کے بیٹے کا خون کھولا کر رکھ دیا۔ ہمایوں آگرہ سے اپنی بپھری ہوئی مغل فوج لے کر ایک طوفان کی طرح نکلا۔ منڈسور کے تاریک میدان میں دونوں فوجوں کا آمنا سامنا ہوا۔ ہمایوں نے بہادر شاہ کی فوج کا ایک ایسا اندھا اور فولادی محاصرہ کر لیا جس نے گجراتیوں کی رسد اور خوراک مکمل طور پر کاٹ دی۔ کیمپ میں بھوک کا وہ لرزہ خیز رقص شروع ہوا کہ ہاتھی اور گھوڑے پاگل ہو کر اپنے ہی خیموں کو روندنے لگے۔ بہادر شاہ موت کے خوف سے کانپتا ہوا اپنی توپوں اور خزانوں کو لاوارث چھوڑ کر رات کے اندھیرے میں گیدڑ کی طرح مانڈو کی طرف فرار ہو گیا۔ ہمایوں کی عسکری عبقریت کا عروج چمپانیر کے قلعے پر نظر آیا، جو آسمان سے باتیں کرتی ایک عمودی چٹان پر واقع تھا۔ رات کے گہرے سناٹے میں، ہمایوں نے خود اپنے چند درجن مایہ ناز جانثاروں کے ساتھ مل کر اس چٹان میں لوہے کی میخیں گاڑیں اور عقابی پھرتی سے قلعے کے اندر داخل ہو کر ایک ایسا قیامت خیز حملہ کیا کہ دشمن کے ہوش اڑ گئے۔ وہاں سے ہمایوں کو گجرات کا وہ دیوہیکل اور بے پناہ خزانہ ملا جسے دیکھ کر مغلوں کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ٣

افیون کی مدہوشی اور شیر شاہ کا خونی جال

Sher Shah Suri prepares his trap
Sher Shah Suri silently lays a deadly trap in Bengal

چمپانیر کی اس عظیم الشان فتح کے بعد یہی وہ انتہائی بھیانک اور تباہ کن موڑ تھا جہاں تقدیر نے اس نوجوان بادشاہ کی زندگی میں ایک زہریلا زوال لکھ دیا تھا۔ ہمایوں، جو اس بے تحاشا دولت اور عظیم الشان فتح کے نشے میں مکمل طور پر غرق ہو چکا تھا، اس نے گجرات اور مالوہ کے ان پرشکوہ محلات میں افیون، شراب اور عیش و عشرت کی وہ طویل محفلیں سجا لیں جنہوں نے اسے آنے والے ہولناک طوفان سے بالکل غافل کر دیا۔ ادھر مشرق کی ان تاریک اور گھنی وادیوں میں، وہ مکار افغان لومڑ شیر شاہ سوری خاموشی سے ایک ناقابلِ تسخیر اژدھے کا روپ دھار چکا تھا۔ اس نے ہمایوں کی اس غفلت اور مدہوشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، بنگال اور بہار کے تمام راستوں پر اپنا فولادی قبضہ جما لیا تھا۔ جب ہمایوں کی آنکھ اس زہریلی مدہوشی سے کھلی، تو اس نے بدحواسی میں اپنی تھکی ہوئی فوج کو لے کر بنگال کی طرف اس اندھے سفر کا آغاز کیا جو اسے سیدھا شیر شاہ کے بچھائے ہوئے موت کے جال میں لے جانے والا تھا۔ شیر شاہ سوری، جو ایک جنگی عبقری تھا، اس نے ہمایوں کو روکنے کے بجائے انتہائی خاموشی سے بنگال کا دارالحکومت 'گوڑ' بالکل خالی کر دیا اور خود بہار کی محفوظ پہاڑیوں میں جا چھپا۔ ہمایوں جب بنگال میں داخل ہوا تو وہ ایک بار پھر اس فتح کے جھوٹے زعم میں اندھا ہو گیا اور مہینوں تک جشن منانے کا وہ احمقانہ فیصلہ کیا جس کا شیر شاہ بے صبری سے انتظار کر رہا تھا۔ اور پھر بنگال میں مون سون کی وہ قیامت خیز بارشیں شروع ہو گئیں، جنہوں نے راستوں کو دلدل میں تبدیل کر دیا۔ مغل فوج میں مچھروں اور پراسرار بیماریوں کی ایسی ہولناک وبائیں پھوٹ پڑیں جنہوں نے ہمایوں کے مایہ ناز سپاہیوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح تڑپا تڑپا کر مارنا شروع کر دیا۔ جب ہمایوں نے آگرہ کی طرف واپس بھاگنے کا حکم دیا، تو بہت دیر ہو چکی تھی۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ٤

چوسا کی خونی رات اور ایک سقے کا معجزہ

Humayun drowning in the Ganges
Humayun saved by Nizam the water-carrier at Chausa

شیر شاہ سوری نے واپسی کے تمام راستے مکمل طور پر کاٹ دیے تھے۔ چوسا کے اس تاریک اور موت اگلتے ہوئے میدان میں، گنگا اور کرمناسا ندی کے درمیان اس افغان درندے نے ہمایوں کی اس بیمار اور تھکی ہوئی فوج کا وہ فولادی محاصرہ کر لیا جس نے مغلوں کی رگوں میں خون جما دیا۔ شیر شاہ نے انتہائی مکاری سے امن کے جھوٹے پیغامات بھیج کر مغلوں کو غافل کر دیا۔ اور پھر 26 جون 1539ء کی وہ انتہائی کالی اور خون آشام رات آئی، جب مغل فوج اپنے خیموں میں گہری نیند سو رہی تھی۔ اچانک شیر شاہ سوری کے ان وحشی اور خونخوار افغانوں نے تین اطراف سے وہ لرزہ خیز رات کا حملہ کر دیا جس نے چوسا کے میدان کو بھڑکتے ہوئے جہنم میں تبدیل کر دیا۔ افغانوں نے سوتے ہوئے مغل سپاہیوں کو اس بے دردی اور سفاکی سے ذبح کیا کہ ان کی چیخوں سے آسمان بھی لرز اٹھا۔ ہمایوں، جو اس اچانک موت کے طوفان سے بالکل بے خبر تھا، انتہائی بدحواسی میں اپنے خیمے سے نکلا۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کی عظیم الشان فوج گاجر مولی کی طرح کٹ رہی ہے اور شیر شاہ کے بپھرے ہوئے بھیڑیے اس کا سر کاٹنے کے لیے بڑھ رہے ہیں، تو اس پادشاہ نے اپنی جان بچانے کے لیے دیوانہ وار اپنے گھوڑے سمیت گنگا کی ان بپھری ہوئی اور طوفانی لہروں میں چھلانگ لگا دی۔ گھوڑا اس تیز بہاؤ کا مقابلہ نہ کر سکا اور ڈوب گیا، اور وہ ہمایوں جس کے سر پر ہندوستان کا ہیروں جڑا تاج تھا، موت کے جبڑے میں غوطے کھانے لگا۔ عین اسی دلدوز لمحے، 'نظام' نامی ایک انتہائی غریب اور معمولی سقہ (پانی بھرنے والا)، اس نے اپنی جان پر کھیل کر اپنا وہ ہوا سے بھرا ہوا چمڑے کا مشکیزہ ہمایوں کی طرف پھینک دیا، جس کے سہارے یہ مغل پادشاہ بمشکل کنارے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ چوسا کی اس حد سے زیادہ عبرتناک شکست نے ہمایوں کا سارا غرور اور اس کی آدھی سلطنت خاک میں ملا دی تھی۔ یہیں سے مغل سلطنت کی تاریخ کی سب سے تاریک دربدری کا آغاز ہوا جس نے ہمایوں کو ایران کے صحراؤں تک بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ٥

راجستھان کی جلتی ریت، ایران کی دربدری اور ایک پادشاہ کی واپسی

The tragic death of Emperor Humayun
Humayun reclaims the throne, only to meet a tragic end

چوسا کے عبرتناک میدان کی وہ خونی رات ابھی ہمایوں کے ذہن سے مٹی بھی نہیں تھی کہ تقدیر نے اسے قنوج کے تاریک میدان میں شیر شاہ سوری کے سامنے ایک بار پھر لا کھڑا کیا۔ قنوج میں بارود بھیگ جانے اور غدار بھائیوں کی پیٹھ میں گھونپے گئے خنجروں کی وجہ سے مغل فوج کو وہ عبرتناک اور ذلت آمیز شکست ہوئی جس نے ہمایوں کو ہندوستان کے تخت سے ہمیشہ کے لیے بے دخل کر دیا۔ شیر شاہ سوری اب ہندوستان کا بلاشرکت غیرے شہنشاہ بن چکا تھا اور اس کے خونخوار درندے ہمایوں کا سر کاٹنے کے لیے اس کے پیچھے لگ چکے تھے۔ ہمایوں، جو کبھی ہندوستان کے خزانوں کا مالک تھا، اب در بدر کی ٹھوکریں کھاتا ہوا راجستھان اور سندھ کے ان موت اگلتے اور تپتے ہوئے صحراؤں میں داخل ہو چکا تھا۔ یہ اس مغل پادشاہ کی زندگی کا سب سے بھیانک اور دل چیر دینے والا دور تھا۔ سورج آگ برسا رہا تھا، ریت کے بھڑکتے ہوئے طوفان ان کے چہروں کو جھلسا رہے تھے، اور پینے کے لیے پانی کا ایک قطرہ تک موجود نہیں تھا۔ پیاس کی شدت اس قدر جان لیوا ہو چکی تھی کہ مغل سپاہیوں کے گلے سوکھ کر کانٹا بن گئے اور وہ اپنے ہی گھوڑوں کی رگیں کاٹ کر ان کا خون پینے پر مجبور ہو گئے۔ اسی موت اور وحشت کے سائے میں، ہمایوں کی حاملہ بیوی حمیدہ بانو بیگم کے ہاں بچے کی ولادت کا وقت قریب آ گیا۔ مالدیو جیسے راجپوت راجاؤں نے شیر شاہ کے خوف سے پناہ دینے سے انکار کر دیا، لیکن عین اس قیامت خیز لمحے میں عمرکوٹ کے ایک رحم دل ہندو حکمران رانا پرشاد نے ہمایوں کو اپنے گمنام قلعے میں پناہ دی۔ اور پھر 1542ء کی اس تاریک لیکن معجزاتی رات کو اس قلعے میں ایک ایسے بچے نے جنم لیا جس کی تقدیر میں ہندوستان کا سب سے عظیم شہنشاہ بننا لکھا تھا—جلال الدین محمد اکبر۔ ہمایوں کے پاس اس خوشی کے موقع پر بانٹنے کے لیے سونے کا ایک سکہ تک نہیں تھا۔ اس نے ایک چھوٹی سی کستوری کی پوٹلی توڑی اور اس کی خوشبو اپنے خستہ حال سرداروں میں بانٹتے ہوئے رو کر دعا کی کہ میرے اس بیٹے کا نام پوری دنیا میں اس کستوری کی خوشبو کی طرح پھیلے گا۔ لیکن شیر شاہ کے شکاریوں اور غدار بھائی کامران کے خوف سے اسے عمرکوٹ بھی چھوڑنا پڑا۔ کامران کے سفاک قیدیوں کے خونی شکنجے سے بچنے کے لیے ہمایوں کو اپنے اس ننھے اور معصوم بچے اکبر کو کیمپ میں لاوارث چھوڑ کر، ایک گیدڑ کی طرح گھوڑے دوڑا کر ایران کی نامعلوم سرحدوں کی طرف ذلت آمیز فرار اختیار کرنا پڑا۔ سندھ اور بلوچستان کے صحراؤں کو چیر کر جب یہ مفلوک الحال مغل پادشاہ ایران کے پرشکوہ دربار میں شاہ طہماسپ صفوی کے سامنے اپنی جان اور سلطنت کی بھیک مانگنے پہنچا، تو شاہِ ایران نے اس کی بے بسی کا سفاکانہ فائدہ اٹھایا۔ ہمایوں کو اپنی انا کا گلا گھونٹ کر ایران کی مخصوص سرخ قزلباش ٹوپی پہننے، اپنے عقائد میں نرمی لانے، اور قندھار کا عظیم قلعہ فتح کر کے ایران کے حوالے کرنے کی وہ شرمناک شرط ماننی پڑی جس نے اس کی روح کو چھلنی کر دیا۔ لیکن اس ذلت کے بدلے شاہ طہماسپ نے اسے بارہ ہزار خونخوار ایرانی سواروں اور بارود کا وہ بپھرا ہوا لشکر دیا جسے لے کر ہمایوں واپس قندھار اور کابل کی طرف مڑا۔ جب ہمایوں کی کالی توپوں نے کابل کے ناقابل تسخیر قلعے پر آگ برسائی، تو کامران مرزا نے تاریخ کی سب سے غلیظ اور خون جما دینے والی حرکت کی۔ اس درندے نے ہمایوں کے ننھے بیٹے اکبر کو قلعے کی اسی فصیل پر لا کر لٹکا دیا جہاں ہمایوں کے گولے برس رہے تھے، تاکہ باپ اپنے ہی ہاتھوں بیٹے کے چیتھڑے اڑا دے۔ یہ منظر دیکھ کر ہمایوں کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی اور اس نے توپیں خاموش کروا دیں۔ لیکن اس کی رگوں میں دوڑنے والا انتقام کا لاوا اب پھٹ چکا تھا۔ جب کابل فتح ہوا اور غدار کامران کو بیڑیوں میں جکڑ کر ہمایوں کے قدموں میں پھینکا گیا، تو باپ کے آخری وعدے کی لاج رکھتے ہوئے ہمایوں نے اس کا سر تو نہیں کاٹا، لیکن اس کی دونوں آنکھوں میں لیموں کا تیزاب ڈال کر اور گرم سلائیاں پھیر کر اسے ہمیشہ کے لیے اندھا کرنے کا وہ بھیانک حکم دے دیا جس کے بعد کامران کی فلک شگاف چیخوں نے کابل کی دیواریں ہلا دیں۔ پندرہ سال کی اس طویل اور کٹھن دربدری کے بعد، جب ہندوستان سے شیر شاہ سوری کے بارود میں جل کر خاک ہونے کی خبر آئی، تو ہمایوں نے اپنے مایہ ناز سردار بیرم خان اور نوجوان بیٹے اکبر کے ساتھ مل کر درہ خیبر کو چیرتے ہوئے ہندوستان پر قیامت خیز دھاوا بول دیا۔ سرہند کے میدان میں سکندر شاہ سوری کے ایک لاکھ کے ٹڈی دل لشکر کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر، ہمایوں بالآخر ایک بپھرے ہوئے فاتح کی حیثیت سے دہلی کے تخت پر دوبارہ براجمان ہوا۔ مغل سلطنت کا سورج دوبارہ طلوع ہو چکا تھا۔ لیکن تقدیر کو اس تھکے ہارے پادشاہ کے ساتھ ایک آخری پراسرار اور دل چیر دینے والا کھیل کھیلنا تھا۔ تخت پر بیٹھے ابھی چھ ماہ ہی گزرے تھے کہ جنوری 1556ء کی ایک شام، ہمایوں دین پناہ قلعے میں اپنے کتب خانے 'شیر منڈل' کی چھت پر کھڑا تھا۔ اچانک مغرب کی اذان گونجی۔ احترام میں بیٹھتے ہوئے اس کا پاؤں اپنے ہی لمبے شاہی لباس میں اس بری طرح الجھا کہ وہ خطرناک اور نوکیلی پتھریلی سیڑھیوں سے عبرتناک انداز میں لڑھکتا ہوا نیچے گرا۔ اس کے سر کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں، اور در در کی ٹھوکریں کھانے والا یہ کم نصیب مغل پادشاہ موت کی آغوش میں چلا گیا، اور اپنے پیچھے ایک ایسی انمٹ داستان چھوڑ گیا جسے تاریخ آج بھی رو کر بیان کرتی ہے۔

~5 min