مقبول حسین — زندہ لاش بنائے گئے پاکستانی سپاہی کی کہانی
وہ سپاہی جو ایک دن میں نہیں، آہستہ آہستہ غائب ہوا
کوئی اعلان نہیں ہوا تھا۔ کوئی خبر نہیں چھپی تھی۔ کوئی فہرست نہیں بنی تھی۔ بس ایک دن… ایک پاکستانی سپاہی دنیا سے غائب ہو گیا۔ 1965 کی جنگ کو تاریخ آج نقشوں، تاریخوں اور معاہدوں میں یاد رکھتی ہے، مگر اصل جنگ ان کاغذوں میں نہیں لڑی گئی تھی۔ اصل جنگ ان چہروں پر لڑی گئی تھی جن کے نام کبھی مشہور نہیں ہوئے۔ مقبول حسین بھی انہی چہروں میں سے ایک تھا۔ نہ کوئی ہیرو والا تعارف، نہ کوئی خاص پس منظر۔ ایک عام سا نوجوان، جس کے ہاتھ میں بندوق تھی اور دل میں ایک سیدھا سا یقین: سرحد پیچھے نہیں ہٹتی۔ وہ جس یونٹ میں تھا، وہاں کسی نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ “واپس آؤ گے یا نہیں؟” سوال صرف یہ تھا: “کھڑے رہو گے یا نہیں؟” اور وہ کھڑا رہا۔ جب حملہ شروع ہوا تو فضا میں بارود ایسا پھیلا جیسے سانس لینا بھی جرم ہو۔ زمین کانپ رہی تھی، آسمان چیخ رہا تھا، اور انسان چھوٹے ہوتے جا رہے تھے۔ مقبول حسین نے اپنے اردگرد گرتے ساتھی دیکھے، زخمیوں کی آوازیں سنیں، مگر اس کے قدم نہیں ہلے۔ وہ جانتا تھا کہ پیچھے ہٹنے کا مطلب صرف ہار نہیں، بلکہ پہچان کا خاتمہ ہے۔ لیکن جنگ ہمیشہ بہادری کو انعام نہیں دیتی۔ ایک لمحہ آیا جب رابطہ ٹوٹ گیا۔ ایک لمحہ آیا جب آوازیں خاموش ہو گئیں۔ ایک لمحہ آیا جب دھواں چھٹا… اور وہ اکیلا تھا۔ سامنے دشمن، پیچھے لاشیں، اور درمیان میں وہ خود۔ جب اس کے ہاتھ باندھے گئے تو کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ یہ ہاتھ برسوں تک کھلیں گے نہیں۔ جب اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی تو کسی نے اندازہ نہیں لگایا تھا کہ یہ آنکھیں سورج کو ترس جائیں گی۔ اسے قیدی بنا کر لے جایا گیا، مگر اس لمحے ایک اور قید شروع ہو چکی تھی — خاموشی کی قید۔ پہلا سوال آیا: “نام؟” “مقبول حسین۔” دوسرا سوال آیا: “قومیت؟” “پاکستانی۔” یہ دوسرا جواب وہ جگہ تھی جہاں سب کچھ بدل گیا۔ کمرے کا ماحول بدل گیا۔ آوازوں کا لہجہ بدل گیا۔ سوال اب سوال نہیں رہے تھے، وہ الزام بن گئے تھے۔ “یہ جنگی قیدی نہیں، یہ مسئلہ ہے” — یہ جملہ وہیں لکھ دیا گیا۔ شروع میں تشدد محدود تھا، جیسے ہر قیدی کے ساتھ ہوتا ہے۔ مگر جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ یہ آدمی عام قیدی نہیں ہے۔ ہر مار کے بعد، ہر دھمکی کے بعد، ہر رات کے بعد، صبح وہی جملہ واپس آتا: “میں پاکستانی ہوں۔” جیل کے افسر حیران تھے۔ لوگ عام طور پر کچھ دنوں میں تھک جاتے ہیں۔ کچھ ہفتوں میں مان جاتے ہیں۔ کچھ مہینوں میں ٹوٹ جاتے ہیں۔ مگر یہاں مہینے گزر رہے تھے، اور وہ اب بھی وہیں کھڑا تھا — خاموش، ضدی، سیدھا۔ رفتہ رفتہ اس کا نام فائلوں سے ہٹنے لگا۔ وہ “قیدی نمبر” بن گیا۔ پھر صرف “وہ قیدی”۔ پھر صرف “وہ”۔ یہیں سے اس کی اصل سزا شروع ہوئی۔ اب مار صرف جسم پر نہیں پڑتی تھی، اب یہ وقت پر پڑتی تھی۔ دن لمبے کر دیے گئے۔ راتیں ختم کر دی گئیں۔ اسے ایسی کوٹھری میں رکھا گیا جہاں انسان وقت کا اندازہ کھو دیتا ہے۔ نہ دن، نہ رات، نہ آواز، نہ چہرہ۔ انسان یہاں پاگل ہو جاتا ہے۔ مگر مقبول حسین نے پاگل ہونے سے انکار کر دیا۔ وہ دیواروں کو دیکھتا تھا۔ ان پر انگلی سے لکیریں کھینچتا تھا۔ کبھی کبھی زیرِ لب کچھ کہتا تھا — شاید وہی ایک لفظ جو اس کے اندر زندہ تھا۔ پاکستان۔ ایک دن تفتیشی افسر آیا۔ اس کے ہاتھ میں کاغذ تھا، قلم تھا، اور لہجے میں عجیب سی نرمی تھی۔ کہا: “بس ایک جملہ لکھ دو، اور سب ختم۔ تم آزاد ہو جاؤ گے۔” وہ دیر تک کاغذ دیکھتا رہا۔ شاید پہلی بار اس نے واقعی سوچا۔ آزادی… سورج… کھلا آسمان۔ پھر اس نے قلم اٹھایا۔ افسر مطمئن ہو گیا۔ مگر مقبول حسین نے کاغذ پر کچھ نہیں لکھا۔ وہ اٹھا، دیوار کی طرف گیا، اور پوری طاقت سے ایک لفظ لکھ دیا: پاکستان وہ لمحہ اس کہانی کا پہلا خطرناک موڑ تھا۔ اسی لمحے یہ فیصلہ ہو گیا کہ یہ آدمی عام طریقوں سے نہیں ٹوٹے گا۔ اور جب ریاستیں یہ فیصلہ کر لیں… تو پھر انسانیت پیچھے رہ جاتی ہے۔
جب بولنا جرم بن گیا
کچھ فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں، اور ان فیصلوں کی آواز کبھی باہر نہیں آتی۔ دیوار پر لکھا ہوا ایک لفظ — پاکستان — اس دن ایک قیدی کی نہیں، ایک ریاست کی انا بن گیا تھا۔ یہ صرف انکار نہیں تھا، یہ اعلان تھا۔ اور اعلان طاقتوروں کو برداشت نہیں ہوتے۔ اگلی صبح جیل میں خاموشی غیر معمولی تھی۔ نہ چیخیں، نہ بوٹوں کی آواز، نہ گالیاں۔ یہ وہ خاموشی تھی جو طوفان سے پہلے آتی ہے۔ مقبول حسین کو کوٹھری سے نکالا گیا۔ آنکھوں پر پٹی، ہاتھوں میں زنجیر، قدموں میں لڑکھڑاہٹ۔ اسے ایسے کمرے میں لے جایا گیا جہاں دیواریں صاف تھیں، جیسے یہاں کچھ ہوتا ہی نہیں۔ سامنے چند چہرے تھے — وردی میں، پرسکون، ٹھنڈے۔ ان میں سے ایک نے آہستہ سے کہا: “آخری موقع ہے۔ بس ایک لائن لکھ دو۔” وہ خاموش رہا۔ بولنا اس کے لیے کبھی مسئلہ نہیں تھا، جھکنا تھا۔ یہاں سے تشدد بدل گیا۔ اب مقصد معلومات نہیں تھا، مقصد مثال بنانا تھا۔ دنوں تک اسے جگایا گیا، پھر دنوں تک سونے دیا گیا، پھر اچانک سب بدل دیا گیا۔ وقت کو اس کے خلاف ہتھیار بنا دیا گیا۔ انسان جب وقت کھو دیتا ہے، تو خود کو کھو دیتا ہے۔ مگر وہ اب بھی وہیں تھا۔ ایک رات، جب جیل کے راہداری میں صرف بلب کی ہلکی سی روشنی تھی، اس کے سامنے پھر کاغذ رکھا گیا۔ اس بار لہجہ نرم نہیں تھا۔ “اب نہیں لکھو گے، تو پھر کبھی لکھ نہیں سکو گے۔” وہ دیر تک کاغذ دیکھتا رہا۔ شاید پہلی بار اس کے دل میں ایک خیال آیا ہو — یہ یہاں ختم ہو سکتا ہے۔ لیکن پھر وہی ضد، وہی جڑ میں بیٹھی ہوئی شناخت، وہی ایک لفظ۔ اس نے کاغذ واپس دھکیل دیا۔ اس کے بعد جو ہوا، اس کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ کوئی تصویر نہیں، کوئی رپورٹ نہیں، کوئی فائل نہیں۔ صرف ایک نتیجہ۔ وہ جب واپس کوٹھری میں ڈالا گیا تو وہ پہلے جیسا نہیں تھا۔ وہ زندہ تھا، مگر خاموشی اب مختلف تھی۔ اب وہ بول نہیں سکتا تھا۔ زبان… جو سوالوں کا جواب دیتی ہے، جو انکار کرتی ہے، جو پہچان بنتی ہے — خاموش کر دی گئی تھی۔ یہاں سے مقبول حسین ایک قیدی نہیں رہا۔ وہ ایک خاموش پیغام بن گیا۔ جیل کے نئے قیدی اسے دیکھتے، اس کی آنکھوں میں جھانکتے، اور سمجھ جاتے کہ یہاں ضد کی کیا قیمت ہوتی ہے۔ سال گزرتے گئے۔ جیل بدلی، افسر بدلے، حکومتیں بدلیں۔ مگر ایک چیز نہیں بدلی — ایک خاموش آدمی، جو ہر دن اپنی آنکھوں سے کہتا تھا: “میں ابھی ہارا نہیں ہوں۔” پاکستان میں اس کا نام اب صرف ایک دھندلا سا اندراج تھا۔ “لاپتہ” “شاید شہید” “کوئی خبر نہیں” دنیا آگے بڑھ گئی۔ مگر ایک جیل میں وقت رک گیا تھا۔ اور پھر… ایک دن… ایک نئے افسر نے فائل کھولی۔ پرانی، گرد آلود، بھولی ہوئی۔ اس نے ایک نام پڑھا: مقبول حسین اور اس نے آہستہ سے سوال کیا: “یہ ابھی زندہ ہے؟” اسی سوال سے وہ دروازہ ہلا، جو دہائیوں سے بند تھا۔
قبر سے واپسی، اور وہ سوال جس کا جواب کسی کے پاس نہیں
کبھی کبھی تاریخ چیخ کر نہیں آتی۔ کبھی کبھی وہ آہستہ سے دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔ جب اس فائل پر دوبارہ ہاتھ پڑا تو اس میں کوئی ہیرو نہیں تھا، کوئی جنگی کارنامہ نہیں تھا، کوئی تصویر نہیں تھی۔ صرف ایک نام تھا، ایک تاریخ، اور ایک طویل خاموشی۔ مقبول حسین — جنگی قیدی، 1965۔ سوال سادہ تھا، مگر خوفناک: “اگر یہ ابھی زندہ ہوا تو؟” جیل کے اندر وہ اب ایک سایہ بن چکا تھا۔ چلتا تھا، مگر مقصد کے بغیر۔ دیکھتا تھا، مگر بول نہیں سکتا تھا۔ اس کی عمر کا اندازہ لگانا مشکل تھا، کیونکہ وقت نے اس پر سال نہیں، زخم چھوڑے تھے۔ اسے نہ یہ معلوم تھا کہ دنیا کہاں پہنچ گئی ہے، نہ یہ کہ اس کا ملک کیسا ہے۔ اس کے لیے سب کچھ ایک ہی دن میں جم گیا تھا… 1965۔ جب بتایا گیا کہ اسے وطن واپس بھیجا جا رہا ہے تو اس کے چہرے پر کوئی ردِعمل نہیں آیا۔ شاید اسے یقین ہی نہیں آیا۔ شاید امید اتنی بار ٹوٹی تھی کہ اب جڑ پکڑنے سے انکار کر چکی تھی۔ وہ قیدی جس نے دہائیوں تک جیل کی دیواروں کو دیکھا تھا، اب گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا… مگر آنکھوں میں حیرت نہیں تھی، صرف تھکن تھی۔ جب وہ سرحد پار کر کے پاکستان پہنچا تو کیمرے تھے، لوگ تھے، نعرے تھے، سوال تھے۔ مگر وہ… خاموش تھا۔ لوگ اس کی آنکھوں میں دیکھتے اور سہم جاتے۔ یہ وہ آنکھیں نہیں تھیں جو آزادی دیکھ کر چمکیں۔ یہ وہ آنکھیں تھیں جو بہت کچھ دیکھ چکی تھیں، اور اب کچھ بھی دیکھنے کی خواہش نہیں رکھتی تھیں۔ کسی نے کہا: “یہ ہمارا ہیرو ہے!” کسی نے کہا: “یہ زندہ شہید ہے!” مگر سچ یہ تھا کہ وہ ان سب لفظوں سے بہت دور جا چکا تھا۔ ہسپتال کے کمرے میں وہ لیٹا رہتا، چھت کو دیکھتا، اور کبھی کبھی آہستہ سے مسکراتا۔ شاید اسے سب کچھ ایک خواب لگتا ہو۔ یا شاید اسے یہ سوچ ستاتی ہو کہ اگر وہ چند سال پہلے آیا ہوتا، تو کیا فرق پڑتا؟ وہ واپس تو آ گیا تھا… مگر زندگی وہیں رہ گئی تھی۔ چند سال بعد، بغیر کسی شور کے، بغیر کسی اعلان کے، وہ دنیا سے چلا گیا۔ نہ کوئی آخری تقریر، نہ کوئی شکایت، نہ کوئی مطالبہ۔ بس ایک خاموش اختتام۔ اور اس کے بعد سوال رہ گئے۔ یہ سوال کہ ایک سپاہی دہائیوں تک قید میں رہا، اور ہم نے دیر سے پوچھا۔ یہ سوال کہ اگر وہ زبان سے محروم نہ ہوتا، تو وہ ہمیں کیا بتاتا؟ یہ سوال کہ کتنے اور نام ایسے ہیں جو فائلوں میں دفن ہیں؟ مقبول حسین کوئی فلمی کردار نہیں تھا۔ وہ کوئی نعرہ نہیں تھا۔ وہ ایک آئینہ تھا۔ ایسا آئینہ جو یہ دکھاتا ہے کہ جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی، کچھ جنگیں جیلوں میں لڑی جاتی ہیں، اور کچھ جنگیں خاموشی میں ہاری جاتی ہیں۔ وہ جنگ ہار گیا تھا… یا ہم ہار گئے تھے؟ کہانی یہیں ختم ہوتی ہے۔ مگر سوال… اب بھی زندہ ہے۔