کم فیلبی جاسوس
تاریخ کا سب سے خاموش قاتل…
رات لندن پر اور آغازِ جاسوسی
رات لندن پر اتر رہی تھی اور شہر آہستہ آہستہ اپنی سانس روک رہا تھا۔ سڑکوں پر لیمپ جل رہے تھے، بارش کی ہلکی بوندیں فٹ پاتھ کو چمکا رہی تھیں اور دریائے ٹیمز کے اوپر دھند ایسی پھیل رہی تھی جیسے کسی نے جان بوجھ کر پردہ ڈال دیا ہو۔ اسی دھند کے بیچ ایک آدمی تیز قدموں سے چل رہا تھا۔ سوٹ مکمل، کوٹ درست، بال ترتیب سے جمے ہوئے، چہرے پر وہ اعتماد جو صرف ان لوگوں کے پاس ہوتا ہے جنہیں یقین ہو کہ وہ اس شہر کا حصہ ہیں، اس نظام کا حصہ ہیں، اس طاقت کا حصہ ہیں۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ اس نظام کا حصہ نہیں… وہ اس نظام کا زہر تھا۔ اس کا نام کِم فلبی تھا، اور اس رات وہ MI6 کی عمارت میں داخل ہو رہا تھا۔ محافظ نے سلام کیا، دروازہ کھلا، اور وہ اندر چلا گیا۔ فائلیں اس کی منتظر تھیں۔ راز اس کی منتظر تھے۔ زندگیاں اس کی منتظر تھیں۔ اور اسے سب معلوم تھا۔ وہ راہداری سے گزرتے ہوئے مسکرایا۔ وہ مسکراہٹ عام نہیں تھی۔ اس میں عجیب سا سکون تھا، جیسے شکاری شکار کے بہت قریب ہو۔ اس کے جوتوں کی آواز فرش پر پڑ رہی تھی، ٹک… ٹک… ٹک… اور ہر ٹک کے ساتھ کسی نہ کسی کی تقدیر لکھی جا رہی تھی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے کوٹ اتارا، کرسی کھینچی اور فائل کھولی۔ اوپر سرخ مہر لگی تھی۔ “Top Secret” اس نے نظریں دوڑائیں۔ نام۔ تاریخ۔ جگہ۔ منصوبہ۔ سب کچھ۔ اور پھر اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ کیونکہ وہ جانتا تھا… یہ فائل کل ماسکو میں ہو گی۔ کِم فلبی عام آدمی نہیں تھا۔ وہ عام انگریز نہیں تھا۔ وہ عام جاسوس بھی نہیں تھا۔ وہ اس گھر میں پیدا ہوا تھا جہاں طاقت کی باتیں ہوتی تھیں۔ اس کا باپ شاہی نظام کا آدمی تھا، عرب دنیا کا ماہر، بادشاہوں کا دوست۔ بچپن سے کِم نے طاقت کو دیکھا تھا، سونگھا تھا، محسوس کیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دنیا کہانیوں سے نہیں چلتی، سازشوں سے چلتی ہے۔ اسکول میں وہ خاموش رہتا تھا۔ زیادہ بولتا نہیں تھا۔ لیکن دیکھتا بہت تھا۔ وہ اساتذہ کو دیکھتا تھا، دوستوں کو دیکھتا تھا، جھوٹ اور سچ کے فرق کو پہچاننے کی کوشش کرتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو عام بچوں میں نہیں ہوتی۔ وہ کھیلنے نہیں آیا تھا۔ وہ سمجھنے آیا تھا۔ کیمبرج پہنچ کر اس کی دنیا بدل گئی۔ یہاں نظریات تھے، بغاوت تھی، سوال تھے، بغاوت کی خوشبو تھی۔ یہاں نوجوان چیختے تھے کہ نظام غلط ہے، سلطنتیں جھوٹ ہیں، طاقت چور ہے۔ اور کِم یہ سب سنتا تھا… اور اندر ہی اندر مسکرا رہا تھا۔ کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ یہ آگ ہے، اور آگ کو صحیح جگہ لگایا جائے تو پورا جنگل جل جاتا ہے۔ یہیں پہلی بار اس کا رابطہ ہوا۔ خاموشی سے۔ بغیر شور کے۔ بغیر وعدوں کے۔ ایک آدمی، ایک نظر، ایک جملہ: “تم دنیا بدلنا چاہتے ہو؟” اور کِم نے جواب دیا تھا: “نہیں… میں دنیا توڑنا چاہتا ہوں۔” یہ وہ لمحہ تھا جہاں ایک طالب علم مر گیا… اور ایک دشمن پیدا ہوا۔ دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی۔ یورپ جل رہا تھا۔ جرمنی پاگل ہو چکا تھا۔ اور برطانیہ کو ذہین آدمیوں کی ضرورت تھی۔ کِم فلبی بہترین امیدوار تھا۔ شائستہ، پڑھا لکھا، خاندان اچھا، نظریہ ٹھیک، چہرہ صاف۔ کسی کو شک نہیں ہوا۔ اور یہی سب سے بڑی غلطی تھی۔ MI6 کے دروازے اس کے لیے کھل گئے۔ اور اس کے ساتھ ہی مغرب کا سینہ بھی کھل گیا۔ وہ اندر بیٹھا۔ اس نے سب دیکھا۔ اس نے سب پڑھا۔ اس نے سب سمجھا۔ اور اس نے سب یاد رکھا۔ وہ کسی فائل کی فوٹو کاپی نہیں بناتا تھا۔ وہ دماغ میں نقش کر لیتا تھا۔ وہ گھر جاتا، روشنی مدھم کرتا، سگریٹ جلاتا اور لکھتا۔ کوڈ میں۔ خفیہ۔ صاف۔ اور پھر پیغام بھیج دیا جاتا۔ کہاں؟ ماسکو۔ ایک ایک نام۔ ایک ایک منصوبہ۔ ایک ایک جگہ۔ اور ادھر برطانیہ جشن منا رہا تھا کہ ہمارے پاس بہترین آدمی ہے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ ان کا بہترین آدمی ہی ان کی قبر کھود رہا ہے۔ کِم فلبی نے دوست بنائے۔ بہت قریبی دوست۔ ان کے ساتھ ہنسا، ان کے ساتھ پیا، ان کے بچوں کے نام پوچھے، ان کے گھروں میں گیا۔ اور انہی کے بارے میں رپورٹ بھیجی۔ وہ لوگ جن کے ساتھ وہ ہنسا… وہی لوگ بعد میں غائب ہو گئے۔ کوئی ماسکو میں پکڑا گیا۔ کوئی پراگ میں مارا گیا۔ کوئی ویانا میں ختم ہوا۔ اور کِم لندن میں بیٹھ کر اخبار پڑھتا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ وہ کوئی مجبور آدمی نہیں تھا۔ وہ نظریاتی سپاہی تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ تاریخ کے صحیح طرف کھڑا ہے۔ اسے یقین تھا کہ وہ سامراج کو توڑ رہا ہے۔ چاہے اس کے لیے کتنی ہی لاشیں کیوں نہ گریں۔ اور پھر ایک دن… ایک فائل آئی۔ وہ فائل اس نے کھولی… اور اس کی آنکھوں میں پہلی بار عجیب سا تناؤ آیا۔ اس فائل میں ایک نام تھا۔ وہ نام اس نے پہچان لیا۔ وہ نام اس کے اپنے دوست کا تھا۔ وہ دوست جس کے ساتھ وہ کل ہی شراب پی رہا تھا۔ اور اسی لمحے… اسے احساس ہوا… اب کھیل خطرناک ہونے والا ہے۔ اور وہیں… کہانی اصل میں شروع ہوتی ہے۔
راز کی دریافت اور پہلی قربانی
کِم فلبی اس فائل کو دیکھتا رہا۔ کمرے میں مکمل خاموشی تھی، مگر اس کے دماغ میں شور مچا ہوا تھا۔ وہ نام… وہ ایک عام نام نہیں تھا۔ وہ نام اس شخص کا تھا جس کے ساتھ وہ کل رات تک ہنسا تھا، جس کے ساتھ وہ میز پر جھکا بیٹھ کر مستقبل کے منصوبے بنا رہا تھا، جس کے ساتھ وہ خود کو محفوظ محسوس کرتا تھا۔ اور اب… وہی شخص ایک خفیہ مشن پر جا رہا تھا… ایک ایسا مشن جس کی تفصیل صرف چند لوگوں کو معلوم تھی… اور ان میں سے ایک کِم فلبی تھا۔ اس نے فائل بند کی۔ آہستہ۔ بہت آہستہ۔ اس کے چہرے پر کوئی گھبراہٹ نہیں تھی، کوئی پسینہ نہیں تھا، کوئی لرزش نہیں تھی۔ اگر کوئی دیکھتا تو کہتا: کتنا پُرسکون آدمی ہے۔ مگر اندر… اندر وہ فیصلہ ہو چکا تھا۔ دوستی یا نظریہ۔ انسان یا مشن۔ زندگی یا وفاداری۔ کِم نے کبھی دیر نہیں کی فیصلوں میں۔ وہ گھر گیا، کوٹ اتارا، کھڑکی بند کی، سگریٹ جلایا، اور میز پر جھکا۔ وہ کوڈ جانتا تھا۔ وہ طریقہ جانتا تھا۔ وہ راستہ جانتا تھا۔ اس نے وہی کیا جو وہ ہمیشہ کرتا تھا… اس نے سب لکھ دیا۔ نام۔ مقام۔ تاریخ۔ راستہ۔ اور پھر پیغام چلا گیا۔ ماسکو کی طرف۔ اس رات وہ سویا نہیں۔ وہ چھت کو گھورتا رہا۔ اسے اس دوست کی ہنسی یاد آ رہی تھی۔ اس کا ہاتھ ملانا، اس کی باتیں، اس کا اعتماد۔ مگر اس کے دل میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی۔ کیونکہ کِم فلبی دوستوں کے لیے نہیں جیتا تھا، وہ نظریے کے لیے جیتا تھا۔ اور نظریہ انسان سے بڑا ہوتا ہے… کم از کم اس کے نزدیک۔ چند دن بعد خبر آئی۔ وہ مشن فیل ہو گیا تھا۔ وہ ٹیم پکڑی گئی تھی۔ اور وہ دوست… واپس نہیں آیا تھا۔ دفتری کمرے میں ایک عجیب خاموشی چھا گئی۔ کوئی زیادہ بات نہیں کر رہا تھا۔ کچھ لوگوں کی آنکھیں سرخ تھیں۔ کچھ غصے میں تھے۔ کچھ سکتے میں تھے۔ اور کِم… کِم بالکل نارمل تھا۔ وہ کافی پی رہا تھا۔ اخبار پڑھ رہا تھا۔ اور بیچ بیچ میں ہلکا سا سر ہلا رہا تھا جیسے افسوس کر رہا ہو۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ اندر سے بالکل خاموش تھا۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ یہ پہلا خون تھا جو اس کے ہاتھوں لگا تھا… اور یہ آخری نہیں تھا۔ وقت گزرتا گیا۔ ایک کے بعد ایک مشن ناکام ہونے لگا۔ ایک کے بعد ایک ایجنٹ غائب ہونے لگا۔ برطانیہ حیران تھا۔ امریکہ پریشان تھا۔ کوئی سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ دشمن کو اتنی مکمل معلومات کیسے مل رہی ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں تھا… جب تک کہ اندر کوئی نہ ہو۔ اور یہی وہ لفظ تھا جو اب آہستہ آہستہ دیواروں میں گونجنے لگا: اندر MI6 کے راہداریوں میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ بند کمروں میں میٹنگز ہونے لگیں۔ فائلیں دوبارہ کھلنے لگیں۔ پرانے کیس نکالے جانے لگے۔ لوگوں کے چہروں کو دوبارہ دیکھا جانے لگا۔ اور پہلی بار… بہت ہلکی سی… بہت دھیمی سی… سرگوشی کِم فلبی کے کانوں تک بھی پہنچی۔ “کچھ غلط ہے…” “کسی کو سب کچھ معلوم ہے…” “کوئی ہمیں بیچ رہا ہے…” کِم نے سنا۔ اور مسکرایا۔ کیونکہ اسے معلوم تھا… شک ہمیشہ دیر سے آتا ہے۔ اس نے خود کو اور قریب کر لیا۔ زیادہ دوستانہ، زیادہ مددگار، زیادہ ہمدرد۔ وہ لوگوں کے دکھ سنتا، کندھا دیتا، تسلی دیتا۔ وہ کہتا: “ہم دشمن کو ڈھونڈ لیں گے، فکر نہ کرو۔” اور لوگ مان جاتے تھے۔ کیونکہ وہ اس پر یقین کرتے تھے۔ وہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار تھا… یقین۔ ایک دن ایک سینئر افسر اس کے پاس آیا۔ دروازہ بند کیا۔ آواز نیچی رکھی۔ اور کہا: “کِم… ہمیں لگتا ہے کہ کوئی بہت اوپر کا آدمی ہے… بہت اندر کا آدمی… جو ہمیں تباہ کر رہا ہے…” کِم نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا: “یہ ناممکن ہے… ہم سب ایک جیسے ہیں… ہم سب ملک کے لیے ہیں…” اور وہ افسر خاموش ہو گیا۔ کیونکہ کِم فلبی جھوٹ ایسے بولتا تھا جیسے سچ۔ اسی دوران اس کے پرانے دوست، میک لین اور برجس، بھی شک کے دائرے میں آ رہے تھے۔ نیٹ ورک ہلنے لگا تھا۔ دیواریں تنگ ہو رہی تھیں۔ اور کِم کو یہ سب محسوس ہو رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر یہ لوگ گرے… تو اگلا نمبر اس کا ہو سکتا ہے۔ اور اس نے پہلا بڑا قدم اٹھایا۔ اس نے اپنے ہی دوستوں کو خبردار کیا۔ خاموشی سے۔ کوڈ میں۔ خطرے کا اشارہ۔ اور ایک رات… وہ دونوں غائب ہو گئے۔ برطانیہ جاگا تو خالی بستر، خالی گھر، خالی پاسپورٹ تھے۔ اور ایک بہت بڑا سوال۔ اب شک صرف “کسی” پر نہیں تھا… اب شک “کِم کے دائرے” پر تھا۔ اس کا نام اب فائلوں میں آنے لگا۔ آہستہ۔ دبے لفظوں میں۔ بغیر الزام کے۔ بغیر اعلان کے۔ مگر آنے لگا۔ اور کِم کو پتہ تھا… یہ کھیل اب مزے کا نہیں رہا… یہ کھیل اب خطرناک ہو گیا ہے۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوا۔ خود کو دیکھا۔ اپنی آنکھوں میں۔ اور پہلی بار… بہت پہلی بار… اس نے خود سے کہا: “شاید اب بھاگنے کا وقت قریب ہے…” اور اسی لمحے… فون بجا۔ اس نے ریسیور اٹھایا۔ دوسری طرف صرف ایک جملہ تھا: “ہم تم پر نظر رکھے ہوئے ہیں…” کِم فلبی کا ہاتھ ذرا سا کانپا۔ صرف ذرا سا۔ اور وہیں… کہانی نے نیا موڑ لے لیا۔
فرار کا منصوبہ اور دھمکیاں
فون رکھ دینے کے بعد کمرے میں ایک عجیب سا سناٹا تھا۔ کِم فلبی کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ باہر لندن کی سڑکیں ویسی ہی تھیں، لوگ چل رہے تھے، گاڑیاں گزر رہی تھیں، زندگی نارمل تھی۔ مگر اس کے لیے… سب کچھ بدل چکا تھا۔ وہ جانتا تھا یہ عام دھمکی نہیں تھی۔ MI6 اس طرح فون نہیں کرتا۔ یہ کوئی دوست نہیں تھا جو مذاق کر رہا ہو۔ یہ نظام تھا… اور نظام کبھی مذاق نہیں کرتا۔ اس نے گہری سانس لی۔ چہرہ نارمل رکھا۔ کوٹ اٹھایا۔ اور دفتر نکل گیا۔ دفتری راہداری میں اس دن سب کچھ زیادہ خاموش لگ رہا تھا۔ قدموں کی آوازیں تیز محسوس ہو رہی تھیں۔ دروازوں کے بند ہونے کی آوازیں جیسے زیادہ گونج رہی ہوں۔ ہر چہرہ اسے دیکھ رہا تھا… یا شاید وہ سمجھ رہا تھا۔ یہی تو ہوتا ہے شک کا کھیل۔ آدمی خود ہی جال بننے لگتا ہے۔ اس کی میز پر ایک فائل رکھی تھی۔ اوپر لکھا تھا: “Internal Review” وہ مسکرایا۔ اندرونی جائزہ۔ یعنی شکار شروع ہو چکا تھا۔ چند ہی منٹ بعد ایک افسر آیا۔ بہت مہذب، بہت نرم، بہت شائستہ۔ “کِم… ایک چھوٹی سی بات ہے… اوپر والے آپ سے ملنا چاہتے ہیں…” اوپر والے۔ ہمیشہ یہی لفظ ہوتا ہے۔ وہ اٹھا۔ کوٹ درست کیا۔ ٹائی سیدھی کی۔ اور چل پڑا۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ جیسے اس کے اندر طوفان نہیں چل رہا۔ جیسے اس کی زندگی کا سب سے خطرناک کھیل شروع نہیں ہو چکا۔ کمرہ بند تھا۔ پردے گرے ہوئے تھے۔ میز کے پیچھے تین لوگ بیٹھے تھے۔ سب سینئر۔ سب طاقتور۔ سب وہ جن کے ہاتھوں میں اس کا مستقبل تھا۔ ایک نے مسکرا کر کہا: “کِم… تم تو ہمارے بہترین لوگوں میں سے ہو… ہم صرف چند سوال کرنا چاہتے ہیں…” کِم نے سر ہلایا۔ “ضرور… جو چاہیں…” اور سوال شروع ہو گئے۔ دوستوں کے بارے میں۔ رابطوں کے بارے میں۔ سفر کے بارے میں۔ ملاقاتوں کے بارے میں۔ ہر سوال تیر کی طرح تھا۔ اور ہر جواب… ڈھال۔ وہ جھوٹ بول رہا تھا۔ مگر ایسے جیسے سچ ہو۔ وہ ہنس رہا تھا۔ مگر ایسے جیسے فطری ہو۔ وہ حیران ہو رہا تھا۔ مگر ایسے جیسے واقعی بے خبر ہو۔ ایک لمحے کو کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ پھر ایک افسر نے جھک کر کہا: “کِم… کیا تم نے کبھی سوویت یونین سے کوئی رابطہ رکھا ہے؟” یہ وہ لمحہ تھا۔ یہی وہ سوال تھا۔ کِم نے پلک تک نہیں جھپکائی۔ نہ سانس بدلی۔ نہ آواز کانپی۔ “ہرگز نہیں… یہ الزام بھی توہین ہے…” اور کمرہ پھر خاموش ہو گیا۔ اندر بیٹھے تینوں آدمی ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ کچھ لمحے گزرے۔ پھر فائل بند ہوئی۔ اور کہا گیا: “ٹھیک ہے کِم… ابھی کے لیے کافی ہے…” ابھی کے لیے۔ یہ لفظ سب کچھ کہہ رہا تھا۔ وہ باہر نکلا تو اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ واقعی اکیلا ہے۔ اس کے دوست یا تو بھاگ چکے تھے، یا دفن ہو چکے تھے، یا مشکوک بن چکے تھے۔ اور اب… وہ خود نشانے پر تھا۔ وہ گھر گیا تو اس کی بیوی دروازے پر تھی۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سا خوف تھا۔ “آج دو آدمی آئے تھے… تمہارے بارے میں پوچھ رہے تھے…” کِم نے جوتے اتارتے ہوئے کہا: “کچھ نہیں… بس روٹین چیک…” مگر اس کے دل میں ایک ہی جملہ گونج رہا تھا: وہ دروازے تک آ چکے ہیں اسی رات اس نے ماسکو کو پیغام بھیجا۔ مختصر، صاف، خطرناک۔ “گھیرا تنگ ہو رہا ہے… پلان بی تیار رکھو…” دوسری طرف سے جواب آیا: “خاموش رہو… گھبراہٹ مت دکھاؤ… ہم دیکھ رہے ہیں…” وہ جانتا تھا یہ دیکھ رہے ہیں کا مطلب کیا ہے۔ یا تو بچاؤ… یا خاتمہ۔ اگلے دن ایک اور خبر آئی۔ ایک اور گرفتاری۔ ایک اور لیک۔ ایک اور دھماکہ۔ میڈیا میں شور مچ گیا۔ حکومت پریشان۔ ایجنسی شرمندہ۔ اور شک… اور گہرا ہو گیا۔ اب کِم کو ہر کمرے میں دیکھے جانے کا احساس ہوتا۔ ہر فون کال میں تاخیر محسوس ہوتی۔ ہر سلام میں تصنع نظر آتا۔ وہ اب شک کی دنیا میں رہ رہا تھا… اور شک میں رہنے والا آدمی یا تو ٹوٹتا ہے… یا اور خطرناک ہو جاتا ہے۔ کِم ٹوٹنے والوں میں سے نہیں تھا۔ وہ ایک رات دیر تک جاگا رہا۔ میز پر بیٹھا۔ پاسپورٹ دیکھا۔ پیسے گنے۔ راستوں کا حساب لگایا۔ ذہن میں نقشے بنائے۔ کیونکہ اب وہ جانتا تھا… یہ کھیل جلد ختم ہونے والا ہے… اور انجام یا تو قید ہے… یا فرار۔ اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔ نہ بہت زور سے… نہ بہت آہستہ… بالکل مناسب۔ اس کا دل ایک لمحے کو رکا۔ وہ اٹھا۔ دروازے کی طرف گیا۔ اور پوچھا: “کون؟” باہر سے آواز آئی: “ہم… بات کرنی ہے…” وہ جان گیا۔ یہ وہی ہیں۔ اس نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا۔ اور پہلی بار… واقعی پہلی بار… کِم فلبی کو خوف محسوس ہوا۔ اور اسی لمحے… کہانی ایک اور اندھیری گلی میں داخل ہو گئی۔
سوالات اور ذہنی جنگ
کِم نے ہینڈل گھمایا۔ دروازہ آہستہ سے کھلا۔ سامنے دو آدمی کھڑے تھے۔ کوٹ پہنے، چہرے سنجیدہ، آنکھیں سیدھی اس کی آنکھوں میں۔ نہ مسکراہٹ، نہ تعارف، نہ سلام۔ بس ایک جملہ۔ “ہم آپ سے کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں…” یہ وہ لمحہ تھا جس سے وہ مہینوں سے بھاگ رہا تھا۔ کِم ایک لمحے کو خاموش کھڑا رہا، پھر ہٹ کر راستہ دیا۔ “آئیے…” وہ اندر آئے۔ کمرے کو دیکھا۔ میز، کرسی، کتابیں، تصویریں۔ سب کچھ جیسے کسی عام آدمی کا گھر ہو۔ مگر وہ جانتے تھے… یہ عام آدمی نہیں ہے۔ ایک نے کرسی کھینچی۔ بیٹھ گیا۔ دوسرے نے کھڑے کھڑے ہی کہنا شروع کیا: “کِم فلبی… ہم جانتے ہیں کہ آپ نے کچھ لوگوں کو خبردار کیا تھا… ہم جانتے ہیں کہ معلومات باہر جا رہی ہیں… اور ہمیں لگتا ہے کہ وہ آپ کے ذریعے جا رہی ہیں…” یہ سیدھا وار تھا۔ کوئی تمہید نہیں۔ کوئی گھماؤ نہیں۔ کِم نے ہنسی دبائی۔ “یہ پاگل پن ہے…” مگر اندر… اندر وہ پوری طرح چوکس ہو چکا تھا۔ وہ سوال کرتے گئے۔ وہ جواب دیتا گیا۔ وہ گھومتے رہے۔ وہ راستہ بدلتا رہا۔ یہ ایک ذہنی جنگ تھی۔ لفظوں کی تلواریں۔ خاموشی کے خنجر۔ نظریں، وقفے، سانسیں… سب کچھ گنا جا رہا تھا۔ ایک لمحے کو ایک افسر جھکا اور آہستہ سے کہا: “کِم… ہم تمہیں پسند کرتے ہیں… اسی لیے تمہیں موقع دے رہے ہیں… سچ بول دو…” کِم نے آنکھیں اٹھائیں۔ “سچ؟ سچ یہ ہے کہ آپ غلط آدمی کے پیچھے لگے ہیں…” اور وہ لمحہ… ٹوٹ گیا۔ وہ اٹھے۔ فائل بند کی۔ اور کہا: “ہم دوبارہ آئیں گے…” دروازہ بند ہوا۔ اور کِم فلبی کرسی پر بیٹھ گیا۔ خاموش۔ سانس لیتا ہوا۔ زندہ۔ لیکن وہ جانتا تھا… یہ آخری وارننگ تھی۔ اسی رات اس نے فیصلہ کر لیا۔ اب انتظار نہیں۔ اب کھیل نہیں۔ اب سیدھا راستہ۔ فرار۔ اس نے بیوی کو دیکھا۔ وہ کچھ کہنے والی تھی، مگر اس نے ہاتھ اٹھا کر روکا۔ “مت پوچھو…” اس نے صرف اتنا کہا: “ہمیں کچھ دن کے لیے الگ رہنا ہوگا…” اس کی بیوی نے کچھ کہنا چاہا… مگر آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ سمجھ گئی تھی۔ یا شاید سمجھنے کا ڈرامہ کر رہی تھی۔ تاریخ میں اکثر عورتیں قربانی بن جاتی ہیں… مردوں کے نظریات کی۔ کِم نے ایک بیگ تیار کیا۔ چند کپڑے۔ پاسپورٹ۔ پیسے۔ اور سب سے اہم… رابطہ۔ اس نے وہ نمبر دیکھا جو صرف ایک بار استعمال ہوتا تھا۔ اور پھر جلا دیا جاتا تھا۔ اس نے فون گھمایا۔ ایک گھنٹی… دو گھنٹیاں… تین… پھر آواز آئی: “ہاں…” کِم نے صرف ایک جملہ کہا: “وقت آ گیا ہے…” دوسری طرف خاموشی ہوئی۔ پھر آہستہ آواز آئی: “ہم تیار ہیں…” فون بند ہو گیا۔ اور اسی لمحے… کِم فلبی سرکاری طور پر مفرور ہو چکا تھا… چاہے دنیا کو ابھی پتہ نہ ہو۔ اگلے دن وہ دفتر گیا۔ مسکرایا۔ کام کیا۔ فائلیں دیکھیں۔ چائے پی۔ ہنسا۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ جیسے وہ بھاگنے نہیں والا۔ جیسے وہ بے قصور ہے۔ اور یہی اس کا کمال تھا۔ شام کو وہ نکلا۔ سڑک پر چلتا رہا۔ ٹیکسی لی۔ ایک گلی میں اترا۔ دوسری گلی میں مڑا۔ تیسری میں غائب ہو گیا۔ اور وہ آدمی… جو برسوں برطانیہ کا ہیرو تھا… اچانک ہوا میں تحلیل ہو گیا۔ MI6 کو پتہ چلا تو ہلچل مچ گئی۔ فائلیں اڑنے لگیں۔ فون بجنے لگے۔ لوگ چیخنے لگے۔ “وہ غائب ہو گیا ہے!” “وہ بھاگ گیا ہے!” “ہم نے اسے کھو دیا!” اور ایک سینئر افسر نے آہستہ سے کہا: “نہیں… ہم نے اسے کبھی پکڑا ہی نہیں تھا…” ادھر کِم ایک تاریک کمرے میں بیٹھا تھا۔ سامنے ایک اجنبی۔ اس کی زبان روسی تھی۔ لہجہ سخت۔ آنکھیں سرد۔ اس نے کہا: “اب تم ہمارے ہو…” کِم نے سر ہلایا۔ اور اسی لمحے… اس کی پرانی زندگی ختم ہو گئی۔ لیکن کہانی… ابھی شروع ہوئی تھی۔ کیونکہ اب وہ صرف جاسوس نہیں تھا… اب وہ مطلوب تھا… اب وہ علامت تھا… اب وہ دھوکہ تھا… اور اب… پوری دنیا اس کے پیچھے تھی۔ اور اسی وقت… لندن میں ایک فائل کھولی گئی۔ اوپر لکھا تھا: “The Philby Case” اور نیچے سرخ سیاہی میں: “Traitor”
ماسکو کا سفر اور نیا آغاز
جہاز کے پہیے رن وے پر لگے تو ایک بھاری سی آواز گونجی۔ کِم فلبی کی آنکھیں بند تھیں۔ دل تیز دھڑک رہا تھا۔ یہ عام لینڈنگ نہیں تھی۔ یہ ایک زندگی کا اختتام اور دوسری کا آغاز تھا۔ وہ لندن چھوڑ آیا تھا۔ وہ سب چھوڑ آیا تھا۔ نام، رتبہ، عزت، دوست، بیوی… سب۔ دروازہ کھلا۔ سرد ہوا اندر آئی۔ یہ سردی صرف موسم کی نہیں تھی، یہ نظام کی سردی تھی۔ دو آدمی کھڑے تھے۔ لمبے کوٹ، سنجیدہ چہرے، آنکھوں میں جذبات نہیں۔ ایک نے صرف اتنا کہا: “خوش آمدید…” نہ نام، نہ مسکراہٹ، نہ مصافحہ۔ وہ گاڑی میں بیٹھا۔ شیشے سیاہ تھے۔ باہر کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ شہر گزر رہا تھا مگر وہ نہیں دیکھ پا رہا تھا۔ کیونکہ یہ شہر اس کا نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد گاڑی رکی۔ دروازہ کھلا۔ ایک عمارت۔ سرمئی۔ بھاری۔ بے روح۔ اندر لے جایا گیا۔ لمبی راہداری۔ بند دروازے۔ خاموشی۔ ایک کمرے میں بٹھایا گیا۔ دیواریں خالی۔ ایک میز۔ دو کرسیاں۔ ایک بلب۔ اور پھر وہ آیا۔ لمبا، سخت چہرہ، آنکھوں میں عجیب سی سرد ذہانت۔ اس نے بیٹھتے ہی کہا: “تم نے بہت کچھ دیا ہے… مگر اب تم ہمارے ہو…” یہ جملہ شکر نہیں تھا… یہ قبضہ تھا۔ کِم نے سر ہلایا۔ “میں ہمیشہ آپ کا تھا…” وہ آدمی مسکرایا۔ پہلی بار۔ “اب دیکھتے ہیں…” دن گزرنے لگے۔ پوچھ گچھ۔ سوال۔ ٹیسٹ۔ پرانے رابطے۔ پرانی ملاقاتیں۔ ہر چیز نکالی گئی۔ کِم بولتا رہا۔ وہ جانتا تھا، اب چھپانے کا فائدہ نہیں۔ وہ سب دے رہا تھا… کیونکہ اب اس کے پاس دینے کے سوا کچھ تھا ہی نہیں۔ اور ادھر… لندن میں… قیامت مچ چکی تھی۔ اخبار چیخ رہے تھے۔ “غدار!” “قوم سے دھوکہ!” “صدی کا فریب!” MI6 شرمندہ تھا۔ امریکہ غصے میں۔ اتحادی بدگمان۔ اور کِم… روس میں… ایک اجنبی۔ اسے نیا فلیٹ دیا گیا۔ نیا نام دیا گیا۔ نیا کاغذ۔ نیا ماضی۔ مگر کوئی نیا دل نہیں دیا گیا۔ رات کو وہ کھڑکی کے پاس کھڑا ہوتا۔ برف گرتی دیکھتا۔ خاموش سڑکیں۔ بے حس چہرے۔ اور اسے لندن یاد آتا۔ وہ کلب، وہ ہنسی، وہ آوازیں، وہ لوگ… جنہیں اس نے خود دفن کیا تھا۔ اور پہلی بار… بہت پہلی بار… اسے خالی پن محسوس ہوا۔ یہ وہ احساس تھا جس کے لیے اسے کبھی ٹرین نہیں کیا گیا تھا۔ ایک رات وہ نشے میں تھا۔ ووڈکا کے گلاس میز پر تھے۔ کمرہ دھواں دھواں۔ اور اس کے منہ سے نکل گیا: “کیا میں نے سب کچھ ٹھیک کیا؟” سامنے بیٹھے روسی افسر نے ٹھنڈی آواز میں کہا: “یہ سوال یہاں نہیں پوچھا جاتا…” اور وہ خاموش ہو گیا۔ دن گزرتے گئے۔ سال بدلتے گئے۔ کِم کو سرکاری اعزاز ملا۔ تعریف ہوئی۔ تقریریں ہوئیں۔ اسٹیج پر بلایا گیا۔ کہا گیا: “یہ ہے ہمارا ہیرو…” اور وہ تالیاں سنتا رہا… مگر اندر… اندر کچھ مر چکا تھا۔ وہ اپنے پرانے دوستوں کے چہرے دیکھتا تھا خواب میں۔ وہ جو مر گئے تھے، وہ جو پکڑے گئے تھے، وہ جو تباہ ہو گئے تھے۔ وہ جاگتا تو پسینے میں ہوتا۔ یہ وہ قیمت تھی… جو کوئی نہیں دیکھتا۔ ایک دن اسے ایک لفافہ ملا۔ پرانی تحریر۔ پرانا ہاتھ۔ یہ اس کی بیوی کا خط تھا۔ “تم نے ہمیں بیچ دیا… تم نے سب کچھ بیچ دیا… اور تمہیں پتہ ہے سب سے دردناک کیا ہے؟ ہمیں اب تم پر غصہ بھی نہیں آتا… ہمیں تم پر ترس آتا ہے…” اس کے ہاتھ کانپ گئے۔ کِم فلبی… جس نے حکومتوں کو ہلا دیا… ایک خط سے ہل گیا۔ وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ سر جھکا لیا۔ اور دیر تک ویسے ہی رہا۔ اسی لمحے دروازہ کھلا۔ وہی افسر۔ وہی سرد آنکھیں۔ “تمہیں ماسکو بلایا گیا ہے…” کِم نے سر اٹھایا۔ “کیوں؟” وہ مسکرایا۔ “اوپر والے ملنا چاہتے ہیں…” اوپر والے۔ یہ لفظ پھر آ گیا۔ گاڑی، راستہ، عمارت، سیڑھیاں… سب کچھ ویسا ہی تھا۔ مگر اس بار فضا میں کچھ اور تھا۔ کچھ بھاری۔ کمرہ بڑا تھا۔ کھڑکیاں اونچی۔ پردے موٹے۔ اور میز کے پیچھے… وہ۔ وہ جس کا نام نہیں لیا جاتا تھا۔ وہ جس کے لیے سب کانپتے تھے۔ اس نے کِم کو دیکھا۔ دیر تک۔ پھر آہستہ کہا: “تم نے ہمیں بہت کچھ دیا… مگر ایک چیز ابھی باقی ہے…” کِم نے پوچھا: “کیا؟” وہ جھکا۔ اور کہا: “تمہاری آخری وفاداری…” اور کِم فلبی سمجھ گیا… یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی… یہ کھیل ابھی پورا نہیں ہوا… اور اس کی قیمت ابھی باقی ہے۔ اور اسی لمحے… اسے پہلی بار احساس ہوا… کہ شاید وہ کبھی آزاد تھا ہی نہیں
زندہ ہدف اور اخلاقی چیلنجز
کمرے میں خاموشی تھی۔ اتنی گہری کہ کِم کو اپنی سانس بھی بھاری لگ رہی تھی۔ سامنے بیٹھا وہ آدمی، جس کی آنکھوں میں نہ رحم تھا نہ شک، صرف اختیار تھا۔ وہ دیر تک دیکھتا رہا، جیسے کِم کی روح کو پڑھ رہا ہو۔ پھر آہستہ بولا: “تم نے ہمیں معلومات دیں… نام دیے… راستے دیے… اب وقت آ گیا ہے کہ تم ہمیں ایک انسان دو…” کِم نے پلک جھپکائی۔ “انسان؟” وہ مسکرایا۔ “ایک ایسا انسان… جس پر دنیا اندھا اعتماد کرتی ہے…” کِم سمجھ گیا۔ یہ مشن کسی نقشے پر نہیں تھا۔ یہ کسی سرحد پر نہیں تھا۔ یہ کسی فائل میں نہیں لکھا تھا۔ یہ ایک زندہ ہدف تھا۔ وہ ہدف… اس کا پرانا دوست تھا۔ وہی جس کے ساتھ وہ لندن میں بیٹھ کر شراب پیتا تھا۔ وہی جس کے ساتھ وہ ہنسا تھا۔ وہی جس نے کبھی اس پر شک نہیں کیا تھا۔ وہی جو اب مغرب میں ایک بہت بڑے عہدے پر تھا۔ وہی جو آج بھی سمجھتا تھا کہ کِم فلبی اس کا بھائی ہے۔ کِم کی زبان خشک ہو گئی۔ وہ آدمی جھکا اور آہستہ بولا: “تم اسے واپس ہمارے پاس لاؤ گے… چاہے زندہ… چاہے ٹوٹا ہوا…” یہ حکم تھا۔ درخواست نہیں۔ انتخاب نہیں۔ کِم نے سر ہلایا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا… انکار کی یہاں قیمت موت ہوتی ہے۔ چند دن بعد وہ ایک اور جہاز میں تھا۔ جعلی پاسپورٹ۔ جعلی نام۔ جعلی مسکراہٹ۔ مگر آنکھوں میں وہی پرانا زہر۔ شہر بدلے۔ لہجے بدلے۔ چہرے بدلے۔ مگر کھیل وہی تھا۔ اس نے اس دوست کو فون کیا۔ وہی پرانا انداز۔ وہی پرانی ہنسی۔ “یار… کتنے سال ہو گئے… ملنا چاہیے…” دوسری طرف خوشی۔ حیرت۔ بے خبری۔ اور وہ ملے۔ کافی شاپ میں۔ کھڑکی کے پاس۔ ہنستے ہوئے۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ جیسے کوئی غدار سامنے نہ بیٹھا ہو۔ جیسے کوئی قاتل چائے نہ پی رہا ہو۔ وہ باتیں کرتے رہے۔ ماضی کی۔ دوستوں کی۔ دنوں کی۔ کِم دیکھتا رہا… سنتا رہا… اور اندر اندر حساب لگاتا رہا۔ کس وقت؟ کس جگہ؟ کس بہانے؟ یہ انسانی شکار تھا۔ چند ملاقاتوں بعد اس نے جال ڈالا۔ “یار… ایک چھوٹا سا کام ہے… سرکاری نہیں… بس مدد چاہیے…” دوست نے فوراً ہاں کہی۔ کیونکہ وہ کِم تھا۔ کیونکہ اس پر یقین تھا۔ کیونکہ دھوکہ کبھی چہرے پر نہیں لکھا ہوتا۔ رات۔ خالی سڑک۔ خاموش عمارت۔ وہ اندر گئے۔ اور وہ واپس نہیں آیا۔ کِم اکیلا باہر نکلا۔ چہرہ سپاٹ۔ قدم مضبوط۔ اندر… کچھ ٹوٹا تھا۔ مگر وہ رک نہیں سکتا تھا۔ وہ واپس ماسکو پہنچا۔ رپورٹ دی۔ مختصر۔ خشک۔ بے جذبہ۔ سامنے بیٹھے افسر نے سر ہلایا۔ “اچھا کام…” اچھا کام۔ دو لفظ۔ اور ایک زندگی ختم۔ اس رات کِم فلبی بہت دیر تک بیٹھا رہا۔ بغیر ہلے۔ بغیر بولے۔ بغیر سوچے۔ جیسے اندر کچھ بچا ہی نہ ہو۔ صبح اس نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ اور اسے اپنا چہرہ پہچان میں نہیں آیا۔ وہ جس کے لیے سب کچھ چھوڑا تھا… وہ جس کے لیے دوست مارے… وہ جس کے لیے ملک بیچا… اب وہی اسے خالی کر چکا تھا۔ ایک دن اسے بتایا گیا: “تم اب مکمل طور پر ہمارے ہو… کوئی پرانی زندگی باقی نہیں…” وہ مسکرایا۔ کیونکہ پرانی زندگی مر چکی تھی۔ مگر تقدیر کو ابھی اور کھیل کھیلنے تھے۔ کچھ ہفتے بعد ایک اور لفافہ آیا۔ اس بار کوئی خط نہیں تھا۔ ایک تصویر تھی۔ ایک پرانی تصویر۔ لندن کی۔ کلب کی۔ ہنستے ہوئے چہرے۔ اور بیچ میں… وہ۔ اس کے پیچھے لکھا تھا: “ہم سب کچھ جانتے ہیں…” کِم کا دل ایک لمحے کو رکا۔ یہ روسی نہیں تھے۔ یہ کوئی اور تھا۔ وہ سمجھ گیا… کھیل اب صرف ایک طرفہ نہیں رہا… کسی اور نے بھی اسے ڈھونڈ لیا تھا… اور وہ کوئی عام نہیں تھا۔ اسی رات اس کا فون بجا۔ نمبر نہیں تھا۔ صرف خاموشی۔ پھر ایک آواز: “تم نے سوچا تھا ہم بھول گئے؟” کِم سیدھا کھڑا ہو گیا۔ یہ آواز… وہ پہچانتا تھا۔ یہ لندن کی تھی۔ یہ MI6 کی تھی۔ اور اسی لمحے… کِم فلبی کو پہلی بار احساس ہوا… کہ وہ جس کھیل کو جیتا سمجھ رہا تھا… وہ دراصل کبھی ختم ہی نہیں ہوا تھا…
دو طرفہ کھیل اور آزاد خودی
فون بند ہوتے ہی کِم دیر تک وہیں کھڑا رہا۔ ہاتھ میں ریسیور، آنکھیں خالی۔ یہ ممکن نہیں تھا۔ اس نے تو سب راستے جلا دیے تھے۔ سب رابطے کاٹ دیے تھے۔ سب نشانات مٹا دیے تھے۔ پھر یہ آواز… لندن کی… MI6 کی… کیسے؟ وہ سمجھ گیا تھا: کسی نے بیچا ہے۔ یا کسی نے کبھی چھوڑا ہی نہیں تھا۔ اسی رات اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ برف گر رہی تھی۔ سڑک خالی تھی۔ مگر اسے معلوم تھا… اب وہ اکیلا نہیں ہے۔ اگلے دن اسے طلبی ملی۔ وہی سرمئی عمارت۔ وہی راہداری۔ وہی سرد چہرے۔ مگر اس بار ماحول میں سختی تھی۔ سامنے بیٹھے افسر نے بغیر تمہید کے کہا: “ہمیں پتہ ہے تم سے رابطہ ہوا ہے…” کِم نے چونکنے کا ڈرامہ کیا۔ “کس کا؟” وہ جھکا۔ “لندن کا…” خاموشی چھا گئی۔ یہ لمحہ خطرناک تھا۔ اگر اس نے سچ مانا… تو روسی اسے ختم کر دیں گے۔ اگر جھوٹ بولا… اور پکڑا گیا… تو پھر بھی انجام وہی۔ اس نے درمیانی راستہ چنا۔ “کوئی پرانا دوست ہوگا… حیرت ہوئی بس…” افسر نے آنکھیں تنگ کیں۔ “دوست… یا مالک؟” یہ لفظ… مالک… دل میں تیر بن کر لگا۔ افسر نے فائل بند کی۔ “ہم تمہیں ٹیسٹ کریں گے…” کِم سمجھ گیا۔ اب وہ صرف مشکوک نہیں تھا… اب وہ مشاہدے میں تھا۔ ہر قدم پر نظر۔ ہر کال پر کان۔ ہر ملاقات پر سایہ۔ اور ادھر… MI6 خاموش نہیں بیٹھا تھا۔ لندن میں ایک خفیہ میٹنگ ہوئی۔ بند کمرہ۔ بند پردے۔ بند فون۔ ایک افسر نے تصویر میز پر رکھی۔ کِم فلبی کی۔ اور کہا: “ہم اسے واپس چاہتے ہیں… زندہ یا خاموش…” یہ لفظ… خاموش… سب سمجھ گئے۔ پلان تیار ہوا۔ راستے بنے۔ ایجنٹس منتخب ہوئے۔ اور حکم جاری ہوا: “ماسکو کے اندر” یہ خودکشی تھی… مگر غداری کا بدلہ ہمیشہ مہنگا ہوتا ہے۔ ادھر کِم کو یہ سب محسوس ہو رہا تھا۔ وہ سڑک پر چلتا تو اسے لگتا کوئی پیچھے ہے۔ وہ بیٹھتا تو لگتا کوئی دیکھ رہا ہے۔ وہ سوتا تو لگتا کوئی سانس سن رہا ہے۔ وہ اب شک میں جی رہا تھا… اور شک پاگل کر دیتا ہے۔ ایک رات وہ بار میں بیٹھا تھا۔ گلاس سامنے۔ ووڈکا آدھی۔ دماغ بھرا ہوا۔ تبھی ایک آدمی آ کر پاس بیٹھا۔ انگریزی لہجہ۔ ہلکی مسکراہٹ۔ اور ایک جملہ: “لندن اب بھی تمہیں یاد کرتا ہے…” کِم کا دل زور سے دھڑکا۔ مگر چہرہ نارمل رکھا۔ “غلط آدمی کو پہچان لیا ہے…” وہ آدمی ہنسا۔ “نہیں… ہم نے تمہیں کبھی نہیں بھلایا…” یہ MI6 تھا۔ ماسکو کے بیچ… دشمن۔ یہ پاگل پن تھا۔ وہ دونوں خاموشی سے بیٹھے رہے۔ گلاس ٹکرائے۔ کوئی سن نہیں سکتا تھا۔ وہ آدمی جھکا اور آہستہ کہا: “واپس آ جاؤ… سب معاف… نئی زندگی… نیا نام…” کِم نے ہنسی دبائی۔ “تم مذاق کرتے ہو…” وہ سنجیدہ ہو گیا۔ “نہیں… ہم سودا کر رہے ہیں…” سودا۔ کِم کے سامنے تین راستے تھے: روس — جو اب اس پر شک کر رہا تھا MI6 — جو بدلہ چاہتا تھا اور خود — جو کہیں کا نہیں رہا تھا وہ اٹھا۔ پیسے میز پر رکھے۔ اور بس اتنا کہا: “میں سوچوں گا…” اور چلا گیا۔ لیکن وہ جانتا تھا… یہ سوچنے کا وقت نہیں… یہ بچنے کا وقت ہے۔ اسی رات اس کے گھر کے باہر ایک کار کھڑی تھی۔ انجن بند۔ لائٹس بند۔ مگر موجود۔ کِم نے پردہ ہلکا سا ہٹایا۔ دیکھا۔ دل میں ہنسی آئی۔ روس بھی دیکھ رہا ہے۔ MI6 بھی دیکھ رہا ہے۔ اور وہ… درمیان میں۔ یہ وہ مقام تھا جہاں اکثر لوگ ٹوٹ جاتے ہیں۔ چیخنے لگتے ہیں۔ مان جاتے ہیں۔ مر جاتے ہیں۔ مگر کِم فلبی… وہ ٹوٹنے والوں میں سے نہیں تھا۔ اس نے بیگ نکالا۔ پرانا کوڈ دیکھا۔ اور ایک نیا پیغام لکھا۔ ایک ہی جملہ۔ “میں دو طرفہ نہیں رہا… اب میں خود کے لیے ہوں…” اور وہ جانتا تھا… اب جو ہوگا… وہ تاریخ ہوگا… یا خون… اسی لمحے دروازے پر پھر دستک ہوئی۔ نہ بہت زور سے۔ نہ بہت آہستہ۔ بالکل مناسب۔ وہی انداز… جیسا پہلے لندن میں… کِم نے آنکھیں بند کیں۔ یہ یا تو روس ہے… یا MI6… یا موت… اور اس بار… وہ تیار تھا۔ اس نے ہینڈل پر ہاتھ رکھا… اور
پرانی دوست کی واپسی
کِم نے ہینڈل گھمایا۔ دروازہ کھلا۔ سامنے… کوئی روسی نہیں تھا… کوئی MI6 کا ایجنٹ نہیں تھا… سامنے وہ آدمی کھڑا تھا جسے وہ برسوں سے دفن سمجھ چکا تھا۔ اس کا پرانا ساتھی۔ وہ جسے اس نے “آخری وفاداری” میں بیچا تھا۔ وہ جس کے بارے میں اسے بتایا گیا تھا کہ “کام ہو گیا ہے”۔ اور وہ زندہ تھا۔ چہرہ تھکا ہوا۔ آنکھوں میں آگ۔ اور ہونٹوں پر وہ مسکراہٹ جو معاف نہیں کرتی۔ کِم ایک لمحے کو بول نہیں سکا۔ وہ آدمی اندر آیا۔ دروازہ بند کیا۔ اور آہستہ بولا: “تم نے مجھے مارا نہیں… تم نے مجھے بدتر کیا…” کِم کی زبان خشک ہو گئی۔ “تم… یہاں… کیسے…؟” وہ ہنسا۔ “کیونکہ سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا تمہیں بتایا جاتا ہے…” یہ وہ لمحہ تھا جہاں کِم کو پہلی بار احساس ہوا… کہ وہ بھی کسی کا مہرہ تھا۔ وہ آدمی بیٹھ گیا۔ “روس نے تمہیں سچ نہیں بتایا… انہوں نے مجھے توڑا… مگر میں ٹوٹا نہیں…” کِم کی آنکھوں میں پہلی بار خوف آیا۔ حقیقی خوف۔ “تو تم کیا چاہتے ہو؟” وہ جھکا۔ “انصاف…” یہ لفظ بھاری تھا۔ باہر برف گر رہی تھی۔ اندر ہوا رکی ہوئی تھی۔ اور وقت جیسے جم گیا تھا۔ وہ آدمی بولا: “تم نے مجھے دوست کہہ کر بیچا… اب میں تمہیں دشمن کہہ کر چھوڑوں گا…” کِم نے آہستہ سے کہا: “تم نہیں جانتے میں کس دباؤ میں تھا…” وہ چیخا نہیں۔ وہ غصہ نہیں ہوا۔ وہ بس مسکرایا۔ “میں جانتا ہوں… اور اسی لیے تم زیادہ قصوروار ہو…” اسی لمحے دروازہ دوبارہ کھلا۔ اب اس بار… روسی تھے۔ دو۔ سائے کی طرح۔ ہتھیار نظر نہیں آ رہے تھے… مگر موجود تھے۔ کِم سمجھ گیا… یہ جال تھا… یہ سب ایک جال تھا… روس نے اس آدمی کو زندہ رکھا… MI6 نے اس تک رسائی کی… اور اب… سب ایک جگہ تھے… تین طاقتیں… ایک کمرہ… اور درمیان میں… کِم فلبی… وہی غدار… وہی ہیرو… وہی شکار… ایک روسی افسر نے سخت آواز میں کہا: “یہ ملاقات غیر مجاز تھی…” دوسرا جھکا اور کِم کو دیکھا۔ “اور تم… بہت بول رہے ہو…” کِم نے پہلی بار چیخنے کا دل کیا۔ پہلی بار بھاگنے کا۔ پہلی بار رونے کا۔ مگر وہ چپ رہا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا… اب کوئی لفظ اسے نہیں بچا سکتا۔ وہ پرانا دوست اٹھا۔ “میں نے تمہیں مارنے کے لیے زندہ نہیں رکھا… میں نے تمہیں دیکھنے کے لیے رکھا… ٹوٹتے ہوئے…” اور وہ باہر نکل گیا۔ روس والے پیچھے پیچھے۔ دروازہ بند ہوا۔ اور کِم اکیلا رہ گیا۔ اکیلا… کمرے میں… زندگی میں… دنیا میں… وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ سر دیوار سے لگا دیا۔ اور ہنسا۔ ہاں… ہنسا… وہ ہنسی جو رونے سے بھی بدتر ہوتی ہے۔ وہ ہنسی جو تب آتی ہے جب انسان سمجھ جائے… کہ وہ سب کچھ ہار چکا ہے… اسی رات اس نے فیصلہ کیا۔ نہ روس۔ نہ MI6۔ نہ کوئی نظریہ۔ اب صرف انجام۔ اس نے میز سے قلم اٹھایا۔ ایک کاغذ نکالا۔ اور لکھنا شروع کیا۔ نام… راز… نیٹ ورک… سب کچھ… یہ اعتراف نہیں تھا… یہ انتقام تھا… وہ جانتا تھا یہ کاغذ باہر نہیں جائے گا… مگر تاریخ میں جائے گا… اور یہی اس کی آخری فتح ہوگی۔ صبح اس کا دروازہ کھلا۔ دو افسر آئے۔ خاموش۔ ایک نے کہا: “چلو…” کِم اٹھا۔ کوٹ پہنا۔ بغیر سوال۔ بغیر بحث۔ راہداری لمبی تھی۔ قدم بھاری۔ اور انجام قریب۔ وہ گاڑی میں بیٹھا۔ شیشہ اوپر ہوا۔ دنیا غائب۔ اور کِم فلبی… وہ آدمی جس نے سلطنتوں کو ہلایا… اب خود ہل رہا تھا… مگر کہانی… ابھی ختم نہیں ہوئی تھی… کیونکہ اب جو ہونا تھا… وہ سب سے خطرناک تھا
انصاف اور حقیقی خوف
گاڑی خاموشی سے چل رہی تھی۔ باہر کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ شیشے سیاہ۔ اندر ہوا بھاری۔ کِم فلبی سیدھا بیٹھا تھا۔ ہاتھ گھٹنوں پر۔ آنکھیں آگے۔ مگر ذہن پیچھے۔ وہ سب یاد کر رہا تھا۔ کیمبرج کے دن۔ وہ نظریے کی باتیں۔ وہ خواب کہ دنیا بدلی جائے گی۔ اور پھر وہ پہلا جھوٹ… پہلا نام… پہلا خون… اور اب… یہ آخری سفر… گاڑی رکی۔ دروازہ کھلا۔ سرد ہوا اندر آئی۔ اسے اتارا گیا۔ لمبی سیڑھیاں۔ نیچے۔ اور پھر ایک بڑا کمرہ۔ سامنے وہی افسر تھا۔ وہی سرد آنکھیں۔ وہی طاقت۔ “بیٹھو…” کِم بیٹھ گیا۔ افسر نے فائل کھولی۔ “ہم جانتے ہیں تم نے کیا لکھا ہے…” کِم چونکا۔ “کیا مطلب؟” وہ مسکرایا۔ “تم نے سمجھا تھا ہم نہیں دیکھ رہے؟” کِم کو پہلی بار حقیقی شکست کا احساس ہوا۔ وہ سب جو اس نے لکھا… وہ سب جو اس نے سوچا کہ راز رہے گا… وہ پہلے ہی کھل چکا تھا۔ افسر نے جھک کر کہا: “تم نے بہت نقصان کیا ہے… اور اب تم بہت خطرہ ہو…” یہ فیصلہ تھا۔ یہ سزا تھی۔ کِم نے آہستہ سے پوچھا: “تو اب؟” افسر نے نظریں ملائیں۔ “اب تم ختم ہو جاؤ گے… مگر خاموشی سے…” خاموشی سے۔ یہ وہی لفظ تھا جو MI6 نے استعمال کیا تھا۔ کِم نے ہنسی دبائی۔ “تو آخرکار… میں کسی کا نہیں رہا…” افسر نے جواب نہیں دیا۔ اسی لمحے دروازہ کھلا۔ وہ پرانا دوست اندر آیا۔ چہرہ سخت۔ آنکھیں جلتی ہوئی۔ ہاتھ کانپتے نہیں تھے… مگر روح ہل رہی تھی۔ کِم نے اسے دیکھا۔ دیر تک۔ اور آہستہ کہا: “میں نے سوچا تھا تم مر چکے ہو…” وہ بولا: “میں مر چکا تھا… تم نے مارا تھا… اب بس جسم چل رہا ہے…” کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ دو آدمی… دو پرانی زندگیاں… اور بیچ میں… ایک قبر۔ افسر پیچھے ہٹ گیا۔ یہ ذاتی تھا۔ وہ پرانا دوست آگے بڑھا۔ “تمہیں پتہ ہے سب سے تکلیف دہ کیا ہے؟ تم نے ہمیں دشمن کے ہاتھوں نہیں دیا… تم نے ہمیں دوست بن کر دیا…” کِم کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ یہ پہلی بار تھا۔ “میں… میں نے سوچا تھا میں درست کر رہا ہوں…” وہ ہنسا۔ “غدار ہمیشہ یہی کہتا ہے…” کِم نے سر جھکا لیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں وہ سب کچھ مان سکتا تھا… یا کچھ نہیں۔ وہ آہستہ سے بولا: “میں تمہیں واپس نہیں لا سکتا… مگر میں تمہارے ساتھ مر سکتا ہوں…” وہ دوست رک گیا۔ ایک لمحے کو۔ اور اسی لمحے… ایک گولی چلی۔ کمرے میں گونج۔ کِم پیچھے لڑکھڑایا۔ دیوار سے لگا۔ اور زمین پر بیٹھ گیا۔ وہ دوست ساکت کھڑا تھا۔ آنکھوں میں آنسو۔ ہاتھ کانپتا ہوا۔ اس نے فائر نہیں کیا تھا۔ روسی افسر نے کیا تھا۔ افسر بولا: “ہم جذبات نہیں رکھتے…” کِم نیچے بیٹھا تھا۔ سانس تیز۔ خون بہہ رہا تھا۔ مگر وہ مسکرا رہا تھا۔ وہ دوست چیخا: “تم نے وعدہ کیا تھا!” افسر نے ٹھنڈی آواز میں کہا: “ہم نے ملک سے وعدہ کیا تھا…” وہ دوست پیچھے ہٹا۔ ٹوٹا ہوا۔ خالی۔ کِم نے آہستہ سے کہا: “یہی انجام ہونا تھا…” افسر جھکا۔ “تمہارا نام کبھی نہیں لیا جائے گا… تمہاری قبر نہیں ہوگی… تمہاری کہانی نہیں ہوگی…” کِم نے آخری طاقت سے مسکرا کر کہا: “مگر میں تم سب کے خوابوں میں آؤں گا…” افسر نے سر ہلایا۔ اور کِم فلبی… وہ آدمی جس نے دو طاقتوں کو بیوقوف بنایا… آخرکار… نظام نے نگل لیا… اس کی آنکھیں بند ہوئیں۔ اور کہانی… دنیا کے لیے… یہیں ختم ہو گئی۔ مگر حقیقت… یہیں سے شروع ہوئی۔ کیونکہ فائلیں اب بھی موجود تھیں۔ نام اب بھی محفوظ تھے۔ راز اب بھی سانس لے رہے تھے۔ اور کہیں… کسی الماری میں… ایک فائل تھی… اوپر لکھا تھا: “Philby – Unfinished”
کھیل کا اختتام اور علامت
کمرے میں خاموشی تھی۔ گولی کی آواز کب کی مر چکی تھی مگر اس کی گونج ابھی تک دیواروں میں قید تھی۔ کِم فلبی زمین پر پڑا تھا۔ آنکھیں بند۔ چہرہ سفید۔ خون آہستہ آہستہ فرش پر پھیل رہا تھا۔ روسی افسر چند لمحے کھڑا رہا، پھر مڑا اور باہر نکل گیا۔ دروازہ بند ہوا۔ تالہ لگا۔ اور دنیا نے سمجھ لیا… کہانی ختم۔ مگر حقیقت… حقیقت کبھی دروازوں میں بند نہیں ہوتی۔ وہی رات۔ وہی عمارت۔ ایک اور راہداری۔ ایک اور کمرہ۔ اور ایک اور فائل۔ اوپر سرخ مہر تھی: “Operation Silence” ایک افسر نے دوسرے سے کہا: “یقین ہو گیا؟” دوسرے نے جواب دیا: “ہاں… دنیا یہی سمجھے گی کہ وہ مر گیا…” پہلا مسکرایا۔ “اور وہ؟” دوسرا آہستہ بولا: “وہ مرنے والوں میں سے نہیں تھا…” کمرہ بدلتا ہے۔ کِم فلبی آنکھ کھولتا ہے۔ روشنی تیز۔ سر بھاری۔ جسم ساکت۔ مگر زندہ۔ وہ ہسپتال نہیں تھا۔ جیل نہیں تھی۔ یہ کوئی اور جگہ تھی۔ بہت خاموش۔ بہت صاف۔ بہت بے رحم۔ ایک سایہ آگے آیا۔ وہی افسر۔ وہی سرد آنکھیں۔ “تم مرے نہیں ہو…” کِم نے ہونٹ ہلانے کی کوشش کی۔ آواز نہیں نکلی۔ افسر جھکا۔ “تمہیں مرنے نہیں دیا گیا… تمہیں مٹایا گیا ہے…” یہ لفظ… مٹایا… “تم اب دنیا کے لیے لاش ہو… مگر ہمارے لیے… اثاثہ…” کِم کی آنکھوں میں پہلی بار دہشت آئی۔ افسر نے کرسی کھینچی۔ بیٹھ گیا۔ “ہم نے تمہیں بچایا… کیونکہ تم بہت کچھ جانتے ہو… اور جو بہت کچھ جانتا ہو… اسے ختم نہیں کیا جاتا… اسے استعمال کیا جاتا ہے…” کِم نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ سمجھ گیا تھا۔ یہ انجام موت نہیں تھا… یہ اس سے بدتر تھا۔ دن بدلتے گئے۔ کمرے بدلتے گئے۔ لوگ بدلتے گئے۔ مگر سوال وہی رہے۔ نام۔ رابطے۔ نیٹ ورک۔ راز۔ ہر چیز نچوڑ لی گئی۔ جیسے روح کو نچوڑتے ہیں۔ وہ بولتا رہا۔ کیونکہ اب خاموشی بھی جرم تھی۔ ادھر… دنیا میں… اخبارات نے لکھا: “کِم فلبی مر گیا” تاریخ کی کتابوں میں لکھا گیا: “ایک غدار کا انجام” MI6 نے فائل بند کی۔ روس نے تمغہ رکھ دیا۔ اور دنیا نے اگلا اسکینڈل ڈھونڈ لیا۔ سب آگے بڑھ گئے۔ سوائے ایک کے۔ کِم۔ وہ اب ایک سایہ تھا۔ ایک بھوت۔ ایک نام کے بغیر آدمی۔ ایک شناخت کے بغیر انسان۔ ایک دن اسے ایک آئینہ دکھایا گیا۔ وہ دیکھ کر چونک گیا۔ یہ وہ نہیں تھا۔ داڑھی، جھریاں، خالی آنکھیں۔ وہ خود کو پہچان نہیں پایا۔ افسر بولا: “یہ تم ہو… جو تم بن چکے ہو…” کِم ہنسا۔ وہ ہنسی… جو آخر میں آتی ہے۔ “تم نے سب کچھ لے لیا… نظریہ… دوست… نام… اب کیا باقی ہے؟” افسر نے ٹھنڈی آواز میں کہا: “تم…” اور یہی سب سے بڑا عذاب تھا۔ کچھ سال بعد ایک فائل بند ہوئی۔ اوپر لکھا تھا: “Asset Decommissioned” یہ قتل نہیں تھا۔ یہ ریٹائرمنٹ نہیں تھی۔ یہ… مٹانا تھا۔ ایک رات۔ خاموش۔ سرد۔ اور مکمل۔ کمرہ خالی ہو گیا۔ اور کِم فلبی… تاریخ کے صفحوں سے بھی غائب ہو گیا۔ نہ قبر۔ نہ نشان۔ نہ دعا۔ نہ نام۔ بس ایک کہانی… جو ادھوری چھوڑ دی گئی۔ اور تم جانتے ہو سب سے خطرناک بات کیا ہے؟ آج بھی… برطانوی آرکائیوز میں… روسی فائلوں میں… ایک فولڈر ہے… جس پر لکھا ہے: “Philby – Status Unknown” اور نیچے… پنسل سے… کسی نے لکھا ہے: “Ghosts don’t die.” بھوت مرتے نہیں۔ وہ بس کہانیوں میں چھپ جاتے ہیں۔ اور کِم فلبی… وہ سب سے خطرناک بھوت تھا۔