کم فیلبی جاسوس
تاریخ کا سب سے خاموش قاتل…

رات لندن پر اور آغازِ جاسوسی

رات لندن پر اتر رہی تھی اور شہر آہستہ آہستہ اپنی سانس روک رہا تھا۔ سڑکوں پر لیمپ جل رہے تھے، بارش کی ہلکی بوندیں فٹ پاتھ کو چمکا رہی تھیں اور دریائے ٹیمز کے اوپر دھند ایسی پھیل رہی تھی جیسے کسی نے جان بوجھ کر پردہ ڈال دیا ہو۔ اسی دھند کے بیچ ایک آدمی تیز قدموں سے چل رہا تھا۔ سوٹ مکمل، کوٹ درست، بال ترتیب سے جمے ہوئے، چہرے پر وہ اعتماد جو صرف ان لوگوں کے پاس ہوتا ہے جنہیں یقین ہو کہ وہ اس شہر کا حصہ ہیں، اس نظام کا حصہ ہیں، اس طاقت کا حصہ ہیں۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ اس نظام کا حصہ نہیں… وہ اس نظام کا زہر تھا۔ اس کا نام کِم فلبی تھا، اور اس رات وہ MI6 کی عمارت میں داخل ہو رہا تھا۔ محافظ نے سلام کیا، دروازہ کھلا، اور وہ اندر چلا گیا۔ فائلیں اس کی منتظر تھیں۔ راز اس کی منتظر تھے۔ زندگیاں اس کی منتظر تھیں۔ اور اسے سب معلوم تھا۔ وہ راہداری سے گزرتے ہوئے مسکرایا۔ وہ مسکراہٹ عام نہیں تھی۔ اس میں عجیب سا سکون تھا، جیسے شکاری شکار کے بہت قریب ہو۔ اس کے جوتوں کی آواز فرش پر پڑ رہی تھی، ٹک… ٹک… ٹک… اور ہر ٹک کے ساتھ کسی نہ کسی کی تقدیر لکھی جا رہی تھی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے کوٹ اتارا، کرسی کھینچی اور فائل کھولی۔ اوپر سرخ مہر لگی تھی۔ “Top Secret” اس نے نظریں دوڑائیں۔ نام۔ تاریخ۔ جگہ۔ منصوبہ۔ سب کچھ۔ اور پھر اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ کیونکہ وہ جانتا تھا… یہ فائل کل ماسکو میں ہو گی۔ کِم فلبی عام آدمی نہیں تھا۔ وہ عام انگریز نہیں تھا۔ وہ عام جاسوس بھی نہیں تھا۔ وہ اس گھر میں پیدا ہوا تھا جہاں طاقت کی باتیں ہوتی تھیں۔ اس کا باپ شاہی نظام کا آدمی تھا، عرب دنیا کا ماہر، بادشاہوں کا دوست۔ بچپن سے کِم نے طاقت کو دیکھا تھا، سونگھا تھا، محسوس کیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دنیا کہانیوں سے نہیں چلتی، سازشوں سے چلتی ہے۔ اسکول میں وہ خاموش رہتا تھا۔ زیادہ بولتا نہیں تھا۔ لیکن دیکھتا بہت تھا۔ وہ اساتذہ کو دیکھتا تھا، دوستوں کو دیکھتا تھا، جھوٹ اور سچ کے فرق کو پہچاننے کی کوشش کرتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو عام بچوں میں نہیں ہوتی۔ وہ کھیلنے نہیں آیا تھا۔ وہ سمجھنے آیا تھا۔ کیمبرج پہنچ کر اس کی دنیا بدل گئی۔ یہاں نظریات تھے، بغاوت تھی، سوال تھے، بغاوت کی خوشبو تھی۔ یہاں نوجوان چیختے تھے کہ نظام غلط ہے، سلطنتیں جھوٹ ہیں، طاقت چور ہے۔ اور کِم یہ سب سنتا تھا… اور اندر ہی اندر مسکرا رہا تھا۔ کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ یہ آگ ہے، اور آگ کو صحیح جگہ لگایا جائے تو پورا جنگل جل جاتا ہے۔ یہیں پہلی بار اس کا رابطہ ہوا۔ خاموشی سے۔ بغیر شور کے۔ بغیر وعدوں کے۔ ایک آدمی، ایک نظر، ایک جملہ: “تم دنیا بدلنا چاہتے ہو؟” اور کِم نے جواب دیا تھا: “نہیں… میں دنیا توڑنا چاہتا ہوں۔” یہ وہ لمحہ تھا جہاں ایک طالب علم مر گیا… اور ایک دشمن پیدا ہوا۔ دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی۔ یورپ جل رہا تھا۔ جرمنی پاگل ہو چکا تھا۔ اور برطانیہ کو ذہین آدمیوں کی ضرورت تھی۔ کِم فلبی بہترین امیدوار تھا۔ شائستہ، پڑھا لکھا، خاندان اچھا، نظریہ ٹھیک، چہرہ صاف۔ کسی کو شک نہیں ہوا۔ اور یہی سب سے بڑی غلطی تھی۔ MI6 کے دروازے اس کے لیے کھل گئے۔ اور اس کے ساتھ ہی مغرب کا سینہ بھی کھل گیا۔ وہ اندر بیٹھا۔ اس نے سب دیکھا۔ اس نے سب پڑھا۔ اس نے سب سمجھا۔ اور اس نے سب یاد رکھا۔ وہ کسی فائل کی فوٹو کاپی نہیں بناتا تھا۔ وہ دماغ میں نقش کر لیتا تھا۔ وہ گھر جاتا، روشنی مدھم کرتا، سگریٹ جلاتا اور لکھتا۔ کوڈ میں۔ خفیہ۔ صاف۔ اور پھر پیغام بھیج دیا جاتا۔ کہاں؟ ماسکو۔ ایک ایک نام۔ ایک ایک منصوبہ۔ ایک ایک جگہ۔ اور ادھر برطانیہ جشن منا رہا تھا کہ ہمارے پاس بہترین آدمی ہے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ ان کا بہترین آدمی ہی ان کی قبر کھود رہا ہے۔ کِم فلبی نے دوست بنائے۔ بہت قریبی دوست۔ ان کے ساتھ ہنسا، ان کے ساتھ پیا، ان کے بچوں کے نام پوچھے، ان کے گھروں میں گیا۔ اور انہی کے بارے میں رپورٹ بھیجی۔ وہ لوگ جن کے ساتھ وہ ہنسا… وہی لوگ بعد میں غائب ہو گئے۔ کوئی ماسکو میں پکڑا گیا۔ کوئی پراگ میں مارا گیا۔ کوئی ویانا میں ختم ہوا۔ اور کِم لندن میں بیٹھ کر اخبار پڑھتا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ وہ کوئی مجبور آدمی نہیں تھا۔ وہ نظریاتی سپاہی تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ تاریخ کے صحیح طرف کھڑا ہے۔ اسے یقین تھا کہ وہ سامراج کو توڑ رہا ہے۔ چاہے اس کے لیے کتنی ہی لاشیں کیوں نہ گریں۔ اور پھر ایک دن… ایک فائل آئی۔ وہ فائل اس نے کھولی… اور اس کی آنکھوں میں پہلی بار عجیب سا تناؤ آیا۔ اس فائل میں ایک نام تھا۔ وہ نام اس نے پہچان لیا۔ وہ نام اس کے اپنے دوست کا تھا۔ وہ دوست جس کے ساتھ وہ کل ہی شراب پی رہا تھا۔ اور اسی لمحے… اسے احساس ہوا… اب کھیل خطرناک ہونے والا ہے۔ اور وہیں… کہانی اصل میں شروع ہوتی ہے۔

Kim Philbyimage1
Up Back to Top
WhatsApp Share on WhatsApp Facebook Share on Facebook Twitter Share on Twitter