طاقت اور رازوں کا جال: جیفری ایپسٹین کی کہانی
ایک شکاری کا عروج اور ابتدائی زندگی
یہ کہانی نیویارک کے ایک ایسے شخص کی ہے جس نے اپنی دولت اور تعلقات کی آڑ میں ایک ایسا نیٹ ورک بنایا جو جدید تاریخ کے سب سے بڑے اسکینڈلز میں سے ایک ثابت ہوا۔ جیفری ایڈورڈ ایپسٹین 1953 میں نیویارک کے علاقے بروکلین میں ایک عام یہودی خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین غریب تھے اور والد ایک پارک میں مالی کا کام کرتے تھے۔ جیفری بچپن ہی سے انتہائی ذہین تھا، خاص طور پر ریاضی میں اس کا دماغ کمپیوٹر کی طرح چلتا تھا، لیکن اس کی شخصیت میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ اس نے کالج میں داخلہ لیا لیکن ڈگری مکمل کیے بغیر ہی چھوڑ دیا۔ یہاں سے اس کی زندگی کا پہلا عجیب موڑ آیا۔ ایک ایسا نوجوان جس کے پاس کالج کی ڈگری نہیں تھی، اسے 1974 میں نیویارک کے انتہائی مہنگے اور اشرافیہ کے اسکول "ڈالٹن اسکول" میں ریاضی اور فزکس کا استاد رکھ لیا گیا۔ یہ اسکول امیر ترین گھرانوں کے بچوں کے لیے تھا۔ جیفری نے وہاں اپنے امیر شاگردوں کے والدین سے تعلقات بنانا شروع کیے۔ وہ جانتا تھا کہ اگر اوپر جانا ہے تو ان امیر لوگوں کی سیڑھی استعمال کرنی ہوگی۔ اسی اسکول میں ایک طالب علم کے والد، جو وال اسٹریٹ کے ایک بڑے بینک کے چیئرمین تھے، جیفری کی ذہانت سے متاثر ہوئے اور اسے اسکول سے نکال کر سیدھا شیئر مارکیٹ (وال اسٹریٹ) لے آئے۔ وال اسٹریٹ پر جیفری نے تیزی سے ترقی کی۔ وہ لوگوں کو اپنی باتوں سے متاثر کرنے کا ماہر تھا۔ وہ امیر گاہکوں کو ایسے مالی مشورے دیتا جو بظاہر بہت منافع بخش لگتے۔ 1980 تک وہ وہاں پارٹنر بن گیا، لیکن پھر اسے اچانک نوکری سے نکال دیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ اس نے کچھ غیر قانونی لین دین کیا تھا۔ یہ اس کی زندگی کا پہلا اشارہ تھا کہ وہ قوانین کی پرواہ نہیں کرتا۔ نوکری سے نکلنے کے بعد اس نے "اسٹیون ہوفن برگ" نامی شخص کے ساتھ مل کر کام شروع کیا۔ ان دونوں نے مل کر لوگوں کے ساتھ کروڑوں ڈالرز کا فراڈ کیا جسے "پونزی اسکیم" کہا جاتا ہے۔ جب یہ بھانڈا پھوٹا تو ہوفن برگ کو 20 سال قید کی سزا ہوئی، لیکن جیفری ایپسٹین، جو اس سارے کھیل کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا تھا، صاف بچ نکلا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اسے احساس ہوا کہ اگر آپ کے پاس طاقتور دوست اور دوسروں کے راز ہوں، تو قانون آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ 1980 کی دہائی کے آخر میں جیفری کی ملاقات "لیس ویکسنر" سے ہوئی، جو ایک ارب پتی کاروباری شخصیت تھے اور مشہور برانڈ "وکٹوریہ سیکرٹ" کے مالک تھے۔ ویکسنر ایک تنہا پسند آدمی تھے۔ جیفری نے ان کا اعتماد جیتا اور انہیں یقین دلایا کہ وہ ان کی دولت کو ٹیکس سے بچا سکتا ہے۔ ویکسنر اس کے جال میں ایسے پھنسے کہ انہوں نے اپنی تمام جائیداد اور مالی معاملات کا مکمل اختیار (پاور آف اٹارنی) جیفری کو دے دیا۔ اس کے بدلے میں جیفری نے کروڑوں ڈالرز ویکسنر کے اکاؤنٹس سے اپنے نام کیے۔ اسی پیسے سے اس نے نیویارک میں ایک بہت بڑی حویلی خریدی جو شہر کے سب سے مہنگے علاقے میں تھی۔ اب جیفری کے پاس بے تحاشہ دولت تھی، لیکن اسے اپنے مذموم مقاصد کے لیے ایک ساتھی کی ضرورت تھی۔ 1991 میں اس کی ملاقات برطانیہ کی ایک خاتون "گیلین میکسویل" سے ہوئی۔ گیلین ایک بدنام زمانہ میڈیا ٹائیکون کی بیٹی تھی اور خود بھی ہائی سوسائٹی کا حصہ تھی۔ اس کے پاس وہ چیز تھی جو جیفری کے پاس نہیں تھی—شاہی خاندان اور دنیا کے بااثر ترین لوگوں تک رسائی۔ گیلین میکسویل اور جیفری ایپسٹین کا تعلق صرف دوستی کا نہیں تھا بلکہ وہ اس کے جرائم میں برابر کی شریک بن گئی۔ گیلین کا کام یہ تھا کہ وہ کم عمر لڑکیوں کو ڈھونڈتی، انہیں پیسوں یا ماڈلنگ کا لالچ دیتی اور پھر انہیں جیفری کے پاس لاتی۔ چونکہ گیلین خود ایک عورت تھی، اس لیے لڑکیاں اس پر آسانی سے بھروسہ کر لیتیں اور یہ نہیں سمجھ پاتیں کہ وہ کس جال میں پھنس رہی ہیں۔ ان دونوں نے مل کر نیویارک، پام بیچ (فلوریڈا) اور نیو میکسیکو میں جائیدادیں خریدیں۔ لیکن ان کا سب سے بڑا مرکز ایک جزیرہ تھا جسے جیفری نے خریدا تھا۔ اس جزیرے کا نام "لٹل سینٹ جیمز" تھا۔ یہ جزیرہ امریکی ساحلوں سے دور تھا، جہاں جیفری اپنی مرضی کا قانون چلاتا تھا۔ یہاں دنیا کے بڑے بڑے سیاستدان، سائنسدان اور شہزادے آتے تھے۔ بظاہر یہ سب سائنس اور خیراتی کاموں کے لیے ملتے تھے، لیکن بند کمروں میں جو کچھ ہوتا تھا وہ انسانیت کی تذلیل تھی۔ جیفری نے وہاں ہر جگہ خفیہ کیمرے نصب کر رکھے تھے تاکہ اپنے طاقتور مہمانوں کی کمزور لمحات کی ویڈیوز بنا کر انہیں مستقبل میں بلیک میل کر سکے۔
دھوکے کا جال اور "سویٹ ہارٹ ڈیل"
سن 2000 کی دہائی کا آغاز ہو چکا تھا۔ جیفری ایپسٹین اب محض ایک امیر کاروباری شخصیت نہیں تھا، بلکہ ایک طاقتور ترین نیٹ ورک کا سربراہ بن چکا تھا۔ اس کا مرکزی اڈہ اب فلوریڈا کا ساحلی شہر "پام بیچ" تھا، جو امریکہ کے امیر ترین لوگوں کی رہائش گاہ مانی جاتی ہے۔ یہاں اس نے ایک عظیم الشان حویلی خریدی تھی جو ایک قلعے کی طرح محفوظ تھی۔ بظاہر یہ گھر پرسکون تھا، لیکن اس کی دیواروں کے پیچھے ایک منظم جرم جنم لے رہا تھا۔ پام بیچ میں جیفری اور اس کی ساتھی گیلین میکسویل نے لڑکیوں کو بھرتی کرنے کا ایک نیا اور خوفناک طریقہ اپنایا۔ گیلین مقامی اسکولوں، شاپنگ مالز اور تفریحی مقامات پر جاتی اور کم عمر لڑکیوں کو تلاش کرتی۔ وہ خود ایک عورت ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان لڑکیوں سے دوستی کرتی اور انہیں بتاتی کہ "میرے پاس ایک بہت امیر کلائنٹ ہے جسے مساج کی ضرورت ہے، اور وہ اس کے بدلے اچھے پیسے دے گا"۔ چونکہ گیلین کا انداز انتہائی شائستہ اور مہذب تھا، لڑکیاں اسے محفوظ سمجھتیں اور اس کے جھانسے میں آ جاتیں۔ جب کوئی لڑکی ایک بار جیفری کے گھر پہنچ جاتی، تو اسے کہا جاتا کہ اگر وہ اپنی کسی سہیلی کو بھی ساتھ لائے گی تو اسے اضافی پیسے ملیں گے۔ یہ ایک قسم کا "پرامڈ اسکیم" جیسا نظام تھا جہاں معصوم لڑکیاں انجانے میں دوسری لڑکیوں کو اس دلدل میں دھکیل رہی تھیں۔ ان میں سے اکثر لڑکیاں نابالغ تھیں اور انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ کس قسم کے جال میں پھنس چکی ہیں۔ ان سیشنز کے دوران جیفری اکثر ان کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کرتا تاکہ بوقت ضرورت انہیں یا ان کے خاندان کو بلیک میل کیا جا سکے۔ اسی دوران ایک اہم واقعہ پیش آیا جو بعد میں دنیا کے سامنے آیا۔ ورجینیا رابرٹس (جو اب ورجینیا جوفری کے نام سے جانی جاتی ہیں) اس وقت صرف 17 سال کی تھیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے کلب "مار-اے-لاگو" میں بطور اسپا اسسٹنٹ کام کرتی تھیں۔ وہیں گیلین میکسویل کی نظر ان پر پڑی اور انہیں جیفری ایپسٹین کے لیے بھرتی کر لیا گیا۔ ورجینیا کا کہنا ہے کہ انہیں جیفری نے اپنی "غلام" بنا لیا تھا اور انہیں دنیا بھر میں سفر کروایا گیا۔ ان کے مطابق، انہیں لندن لے جایا گیا جہاں زبردستی برطانوی شہزادہ اینڈریو کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ الزام بعد میں ایک بین الاقوامی سکینڈل بن گیا جس نے برطانوی شاہی خاندان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ تاہم، 2005 میں جیفری کی قسمت کا ستارہ پہلی بار گردش میں آیا۔ پام بیچ کی ایک خاتون نے پولیس کو شکایت درج کروائی کہ جیفری ایپسٹین نے اس کی 14 سالہ سوتیلی بیٹی کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ پام بیچ پولیس کے سربراہ مائیکل رائٹر نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور تحقیقات کا آغاز کیا۔ پولیس نے جب جیفری کے گھر پر چھاپہ مارا تو انہیں وہاں سے کچھ ایسی تصاویر اور ڈائریاں ملیں جو اس بات کا ثبوت تھیں کہ وہاں بڑے پیمانے پر غیر اخلاقی سرگرمیاں ہو رہی ہیں۔ پولیس کو یقین تھا کہ ان کے پاس جیفری کو لمبی قید سنانے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں۔ لیکن پھر وہ ہوا جس کی توقع کسی کو نہیں تھی۔ جیسے ہی پولیس نے جیفری کے خلاف مقدمہ مضبوط کیا، وفاقی سطح پر مداخلت شروع ہو گئی۔ ایف بی آئی (FBI) بھی اس کیس میں شامل ہو گئی، لیکن بجائے اس کے کہ جیفری کو سخت سزا دی جاتی، اس کے وکلاء نے استغاثہ (سرکاری وکلاء) کے ساتھ مل کر ایک خفیہ ڈیل کر لی۔ یہ ڈیل امریکی قانونی تاریخ کی سب سے متنازعہ ڈیلز میں سے ایک مانی جاتی ہے۔ 2008 میں ہونے والی اس ڈیل کے تحت، جیفری ایپسٹین نے وفاقی جرائم کا اعتراف کرنے کے بجائے ریاست کے چھوٹے موٹے الزامات (جیسے نابالغ لڑکی کو اکسانا) کا اعتراف کر لیا۔ بدلے میں اسے صرف 13 مہینے کی قید سنائی گئی۔ اور یہ قید بھی کوئی عام قید نہیں تھی۔ اسے ایک نجی جیل ونگ میں رکھا گیا جہاں اسے ہفتے میں 6 دن، دن کے 12 گھنٹے جیل سے باہر اپنے دفتر جانے کی اجازت تھی تاکہ وہ اپنا "کاروبار" جاری رکھ سکے۔ اسے "ورک ریلیز" کا نام دیا گیا۔ اس ڈیل کا سب سے خوفناک پہلو یہ تھا کہ اس میں ایک شرط شامل کی گئی تھی جس نے جیفری کے نامعلوم ساتھیوں کو بھی قانونی تحفظ فراہم کر دیا تھا۔ یعنی مستقبل میں کوئی بھی جیفری کے ساتھ ملوث کسی "شریک جرم" پر مقدمہ نہیں کر سکتا تھا۔ اس طرح جیفری نے نہ صرف خود کو بچایا بلکہ اپنے ان تمام طاقتور دوستوں کو بھی بچا لیا جن کے نام اس کی ڈائری میں تھے۔
جعلی نجات اور زوال
2008 میں ملنے والی برائے نام سزا نے جیفری ایپسٹین کو آزاد تو کر دیا، لیکن اس کے ماتھے پر "جنسی مجرم" (Sex Offender) کا داغ لگا دیا۔ تاہم، دولت ایک ایسی طاقت ہے جو داغوں کو بھی چھپا دیتی ہے۔ جیل سے نکلنے کے بعد جیفری نے اپنی زندگی میں بظاہر کوئی تبدیلی نہیں کی۔ وہ اب بھی نیویارک کے مین ہیٹن والے گھر میں رہتا تھا، اس کا نجی طیارہ دنیا بھر میں اڑتا تھا، اور اس کے جزیرے پر تقریبات جاری تھیں۔ حیرت انگیز طور پر، اس کے طاقتور دوستوں نے اس کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ اگرچہ کچھ سیاستدانوں نے عوامی سطح پر دوری اختیار کی، لیکن پردے کے پیچھے تعلقات برقرار رہے۔ اس نے اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا کا رخ کیا۔ اس نے ہارورڈ یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی (MIT) کو لاکھوں ڈالرز کے عطیات دیے۔ دنیا کے بڑے بڑے سائنسدان اس کے گھر ہونے والی دعوتوں میں شریک ہوتے۔ جیفری چاہتا تھا کہ لوگ اسے ایک "مفکر" اور "سائنس کا محسن" سمجھیں۔ اس نے ایک عجیب و غریب منصوبہ بھی بنایا کہ وہ اپنے ڈی این اے (DNA) کے ذریعے پوری دنیا میں اپنی نسل پھیلائے گا۔ وہ سائنسدانوں سے اکثر اس موضوع پر بحث کرتا اور جینیات (Genetics) پر تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کرتا۔ یہ سب اس لیے تھا کہ وہ خود کو ایک غیر معمولی انسان ثابت کر سکے۔ اس دوران، جیفری کی ساتھی گیلین میکسویل منظر عام سے تھوڑا پیچھے ہٹ گئی، لیکن اس کا اثر و رسوخ ختم نہیں ہوا۔ وہ اب بھی جیفری کے نیٹ ورک کا حصہ تھی اور اس کی پرانی دوست کے طور پر پہچانی جاتی تھی۔ جیفری نے اسے قانونی تحفظ دلانے کے لیے جو ڈیل کی تھی، اس کی بدولت وہ بھی کسی بھی قسم کی تفتیش سے بچی رہی۔ تاہم، خاموشی کے یہ سال اصل میں ایک طوفان سے پہلے کا سکون تھے۔ جیفری کے خلاف کئی سول (Civil) مقدمات دائر ہوئے، لیکن وہ اپنے مہنگے ترین وکلاء کی فوج اور پیسوں کے زور پر متاثرہ لڑکیوں کا منہ بند کرواتا رہا۔ وہ اکثر لاکھوں ڈالرز دے کر صلح کر لیتا اور متاثرین کو خاموش رہنے کے معاہدے (Non-Disclosure Agreements) پر دستخط کرنے پر مجبور کر دیتا۔ یہ سلسلہ کئی سال تک چلتا رہا۔ 2018 میں، میامی ہیرالڈ (Miami Herald) کی ایک صحافی، جولی کے براؤن نے ایک تحقیقاتی رپورٹنگ کا آغاز کیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ 2008 کی اس متنازعہ ڈیل کی تہہ تک جائے گی جس نے جیفری ایپسٹین کو جیل سے بچایا تھا۔ جولی نے درجنوں متاثرہ خواتین کو تلاش کیا، ان سے بات کی، اور انہیں اپنی کہانیاں سنانے پر آمادہ کیا۔ یہ خواتین اب بڑی ہو چکی تھیں اور وہ انصاف کی تلاش میں تھیں۔ جولی کے براؤن کی رپورٹنگ نے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس نے انکشاف کیا کہ جیفری ایپسٹین کے خلاف ایف بی آئی اور استغاثہ کے پاس ہزاروں صفحات کے ثبوت موجود تھے، لیکن اس کے باوجود اسے محض 13 ماہ کی قید دی گئی۔ اس رپورٹ نے اس وقت کے وفاقی وکیل الیگزینڈر اکوسٹا (Alexander Acosta) کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے، جو اب ٹرمپ انتظامیہ میں لیبر سیکرٹری بن چکے تھے۔ جیسے ہی یہ رپورٹ شائع ہوئی، "می ٹو" (Me Too) تحریک کا اثر بھی عروج پر تھا۔ دنیا بھر میں خواتین جنسی ہراسانی کے خلاف بول رہی تھیں۔ جیفری ایپسٹین کا کیس دوبارہ زندہ ہو گیا۔ نیویارک کے وفاقی استغاثہ نے فیصلہ کیا کہ اب وہ جیفری کو نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے پرانے کیسز کو دوبارہ کھولا اور نئے گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ 6 جولائی 2019 کو، جب جیفری ایپسٹین اپنے نجی طیارے سے پیرس سے واپس نیویارک پہنچا، تو اسے ہوائی اڈے پر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ایک ایسا شخص جسے "ان ٹچیبل" سمجھا جاتا تھا، جسے صدور اور شہزادوں کی پشت پناہی حاصل تھی، اب ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کے مین ہیٹن والے گھر پر ایف بی آئی نے چھاپہ مارا۔ وہاں سے انہیں سی ڈیز کا ڈھیر، ہارڈ ڈرائیوز، اور وہ بدنام زمانہ "بلیک بک" ملی جس میں دنیا کے طاقتور ترین لوگوں کے نام درج تھے۔ اس بار جیفری ایپسٹین کو ضمانت نہیں ملی۔ جج نے کہا کہ وہ معاشرے کے لیے خطرہ ہے اور اس کے پاس بھاگنے کے لامحدود وسائل ہیں۔ اسے نیویارک کے سخت ترین حراستی مرکز "میٹروپولیٹن کریکشنل سینٹر" (MCC) میں بھیج دیا گیا۔ یہ وہی جیل تھی جہاں خطرناک دہشت گردوں اور ڈرگ لارڈز کو رکھا جاتا تھا۔
جیل میں پراسرار موت
جیفری ایپسٹین کو نیویارک کے "میٹروپولیٹن کریکشنل سینٹر" (MCC) میں قید کیا گیا، جو امریکہ کی محفوظ ترین اور سخت ترین جیلوں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔ یہاں ایل چاپو (El Chapo) جیسے ڈرگ لارڈز کو رکھا گیا تھا۔ ایپسٹین کو "اسپیشل ہاؤسنگ یونٹ" میں رکھا گیا تھا تاکہ اسے عام قیدیوں سے الگ رکھا جا سکے، کیونکہ اس کی جان کو خطرہ تھا۔ جیل میں اس کے دن گنے جا رہے تھے۔ 23 جولائی 2019 کو، یعنی اس کی گرفتاری کے صرف دو ہفتے بعد، ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ایپسٹین اپنے سیل (Cell) میں نیم بےہوشی کی حالت میں پایا گیا، اس کی گردن پر نشانات تھے۔ اس وقت اس کا سیل میٹ (Cellmate) ایک سابق پولیس افسر "نکولس ٹارٹاگلیون" تھا، جو چار لوگوں کے قتل کے الزام میں قید تھا۔ ایپسٹین نے دعویٰ کیا کہ اس پر حملہ ہوا ہے، لیکن جیل انتظامیہ نے اسے خودکشی کی کوشش قرار دیا۔ اس واقعے کے فوراً بعد ایپسٹین کو "سوسائیڈ واچ" (Suicide Watch) پر ڈال دیا گیا۔ اس کا مطلب تھا کہ اسے 24 گھنٹے نگرانی میں رکھا جائے گا، اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوگی جس سے وہ خود کو نقصان پہنچا سکے، اور ہر 15 منٹ بعد گارڈز اسے چیک کریں گے۔ یہاں سے کہانی انتہائی مشکوک ہو جاتی ہے۔ خودکشی کی واضح کوشش کے باوجود، محض 6 دن بعد، 29 جولائی کو جیل کے ماہر نفسیات نے اسے سوسائیڈ واچ سے ہٹا دیا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس کی سمجھ آج تک کسی ماہر کو نہیں آئی۔ اسے واپس عام سیل میں بھیج دیا گیا، جہاں اسے ایک نئے سیل میٹ کے ساتھ رکھا جانا تھا۔ پھر 9 اگست کی رات آئی۔ یہ وہ رات تھی جب بہت سے عجیب و غریب اتفاقات ایک ساتھ ہوئے۔ سب سے پہلے، ایپسٹین کے سیل میٹ کو شام کے وقت وہاں سے ہٹا دیا گیا، اور ایپسٹین اس رات سیل میں بالکل اکیلا رہ گیا۔ جیل کے قواعد کے مطابق اسے اکیلا نہیں چھوڑا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا ہوا۔ دوسرا، اس رات ڈیوٹی پر موجود دو گارڈز، جن کا کام ہر 30 منٹ بعد ایپسٹین کو چیک کرنا تھا، وہ اپنی ڈیوٹی کے دوران مبینہ طور پر سو گئے اور انٹرنیٹ پر براؤزنگ کرتے رہے۔ انہوں نے بعد میں لاگ بک (Log Book) میں جھوٹا اندراج کیا کہ انہوں نے ایپسٹین کو چیک کیا ہے۔ تیسرا اور سب سے اہم، اس مخصوص سیل کے سامنے لگے دو کیمرے اس رات اچانک خراب ہو گئے یا انہوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ 10 اگست کی صبح، تقریباً 6:30 بجے، گارڈز نے جیفری ایپسٹین کو اس کے سیل میں مردہ پایا۔ اس نے بظاہر بیڈ شیٹ (چادر) کا پھندہ بنا کر خودکشی کر لی تھی۔ سرکاری طور پر میڈیکل ایگزامینر نے اسے "پھانسی سے خودکشی" قرار دیا۔ لیکن اس موت نے فوراً شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ ایپسٹین کے بھائی نے ایک مشہور پرائیویٹ پیتھالوجسٹ، ڈاکٹر مائیکل بیڈن (Dr. Michael Baden) کی خدمات حاصل کیں تاکہ وہ پوسٹ مارٹم کا جائزہ لے سکیں۔ ڈاکٹر بیڈن نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایپسٹین کی گردن کی ہڈی (Hyoid Bone) تین جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر بیڈن کے مطابق، ہڈی کا اس طرح ٹوٹنا خودکشی میں بہت کم ہوتا ہے، بلکہ یہ "گلا گھونٹنے" (Strangulation) کی نشانی زیادہ لگتی ہے۔ اس موت کی ٹائمنگ بھی بہت اہم تھی۔ ایپسٹین کے ٹرائل (Trial) شروع ہونے میں کچھ ہی مہینے باقی تھے۔ اگر وہ زندہ رہتا اور عدالت میں گواہی دیتا، تو وہ دنیا کے کئی طاقتور ترین صدور، شہزادوں اور ارب پتیوں کے نام لے سکتا تھا۔ اس کی موت کے ساتھ ہی اس کے خلاف چلنے والا فوجداری مقدمہ (Criminal Case) ختم ہو گیا، کیونکہ ملزم مر چکا تھا۔ عوام اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔ جملہ "Epstein Didn't Kill Himself" (ایپسٹین نے خودکشی نہیں کی) دنیا کا سب سے مشہور میم (Meme) اور نعرہ بن گیا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ اسے خاموش کروایا گیا ہے تاکہ طاقتور لوگوں کے راز کبھی باہر نہ آ سکیں۔ اگرچہ سرکاری تفتیش نے قتل کے امکان کو مسترد کر دیا، لیکن جیل انتظامیہ کی غفلت، کیمروں کا خراب ہونا، اور سوسائیڈ واچ کا ہٹایا جانا—یہ سب ایسے سوالات تھے جن کا تسلی بخش جواب آج تک نہیں مل سکا۔
انجام اور ایپسٹین فائلز
جیفری ایپسٹین کی پراسرار موت نے دنیا بھر میں سازشوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیا، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر اب اس کے "شیطانی نصف" یعنی گیلین میکسویل (Ghislaine Maxwell) پر تھی۔ ایپسٹین کے مرنے کے بعد ایف بی آئی جانتی تھی کہ اگر کوئی زندہ ہے جو اس پوری سلطنت کے راز جانتا ہے، تو وہ صرف گیلین ہے۔ جولائی 2020 میں، ایف بی آئی نے نیو ہیمپشائر (New Hampshire) کے جنگلات میں چھپے ایک خفیہ گھر پر چھاپہ مارا اور گیلین میکسویل کو گرفتار کر لیا۔ اس نے اپنی شناخت چھپانے کی پوری کوشش کی تھی، لیکن وہ قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکی۔ اس پر وہی الزامات عائد کیے گئے جو ایپسٹین پر تھے: نابالغ لڑکیوں کی سمگلنگ اور جنسی استحصال میں مدد۔ اس کا ٹرائل (Trial) نیویارک میں شروع ہوا، اور دنیا نے پہلی بار وہ خوفناک تفصیلات سنیں جو اب تک صرف افواہیں تھیں۔ عدالت میں کئی بہادر خواتین نے گواہی دی کہ کیسے گیلین ان کی "بڑی بہن" بن کر ان کا اعتماد حاصل کرتی تھی اور پھر انہیں ایپسٹین کے حوالے کر دیتی تھی۔ گیلین کے وکلاء نے دفاع میں کہا کہ وہ ایپسٹین کی "ملازم" تھی اور اسے قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، لیکن جیوری نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔ دسمبر 2021 میں، گیلین میکسویل کو مجرم قرار دیا گیا اور بعد ازاں اسے 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ فیصلہ انصاف کی ایک بہت بڑی جیت تھی، کیونکہ یہ ثابت ہو گیا کہ دولت اور طاقت ہمیشہ قانون کو نہیں خرید سکتیں۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ جنوری 2024 میں، نیویارک کی ایک عدالت نے برسوں پرانی اس قانونی جنگ کا فیصلہ سنایا جو ورجینیا جوفری نے لڑی تھی۔ عدالت نے حکم دیا کہ "ایپسٹین فائلز" (Epstein Files) کو عوام کے لیے کھول دیا جائے۔ یہ وہ ہزاروں صفحات تھے جن میں ان تمام لوگوں کے نام درج تھے جو ایپسٹین کے مقدمات میں کسی نہ کسی حوالے سے ذکر ہوئے تھے۔ جیسے ہی یہ فائلیں منظر عام پر آئیں، دنیا بھر کا میڈیا ان پر ٹوٹ پڑا۔ ان فائلوں میں 150 سے زائد نام شامل تھے۔ ان میں سابق امریکی صدور بل کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ، برطانوی شہزادہ اینڈریو، مشہور سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ، جادوگر ڈیوڈ کاپرفیلڈ، اور مائیکل جیکسن جیسے ناموں کا ذکر تھا۔ تاہم، یہ بات نوٹ کرنا بہت ضروری ہے کہ نام آنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یہ سب لوگ جرائم میں ملوث تھے۔ ان میں سے کئی صرف گواہ تھے، یا وہ لوگ تھے جنہوں نے ایپسٹین کے جہاز میں سفر کیا تھا، یا جن کا ذکر کسی ای میل میں آیا تھا۔ لیکن ان دستاویزات نے یہ ثابت کر دیا کہ ایپسٹین کا حلقہ احباب کتنا وسیع اور طاقتور تھا۔ ان فائلوں نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا جو آج بھی جواب طلب ہیں: ایپسٹین کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا تھا؟ اس کی دولت کا اصل ذریعہ کبھی واضح نہیں ہو سکا۔ اس کے گھر سے ملنے والی ان ویڈیوز کا کیا بنا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں طاقتور لوگوں کو غیر اخلاقی حالت میں ریکارڈ کیا گیا تھا؟ کیا ایپسٹین کسی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی (جیسے موساد یا سی آئی اے) کے لیے کام کرتا تھا؟ یہ نظریہ اس لیے تقویت پکڑتا ہے کیونکہ اس کے پاس ایسے لوگوں کے راز تھے جو عالمی سیاست کو کنٹرول کرتے ہیں۔ آج، جیفری ایپسٹین کی دولت ضبط ہو چکی ہے، اس کا جزیرہ "لٹل سینٹ جیمز" بک چکا ہے اور وہاں موجود عمارتیں مسمار کی جا رہی ہیں، اور گیلین میکسویل جیل میں اپنی سزا کاٹ رہی ہے۔ لیکن ان متاثرہ لڑکیوں (جو اب خواتین ہیں) کے زخم کبھی نہیں بھریں گے۔ ان کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل گئیں۔ یہ کہانی ہمیں طاقت، ہوس، اور بدعنوانی کا وہ چہرہ دکھاتی ہے جو اکثر چھپا رہتا ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ چاہے انسان کتنا ہی امیر اور طاقتور کیوں نہ ہو جائے، سچائی اور انصاف کا راستہ کبھی نہ کبھی اسے ڈھونڈ ہی لیتا ہے۔ جیفری ایپسٹین شاید قبر میں اپنے راز لے گیا ہو، لیکن اس کے جرائم کی بازگشت دنیا کو ہمیشہ سنائی دیتی رہے گی۔