تاریخ کے سینے پر ثبت وہ سیاہ اور المناک ترین باب جس نے چھ سو سالہ عظیم الشان عثمانی خلافت کے پرخچے اڑا دیے ایک ایسی خونچکاں اور دل چیر دینے والی داستان ہے جس کا آغاز ان غداروں اور اپنوں کی آستین کے سانپوں سے ہوتا ہے جنہوں نے اس عظیم سلطنت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا وہ سلطنت جس کی سرحدیں تین براعظموں تک پھیلی ہوئی تھیں اور جس کے حکمرانوں کے نام سے یورپ کے بڑے بڑے بادشاہ تھرتھر کانپتے تھے وہ اب اپنے ہی دارالحکومت میں غیروں کے رحم و کرم پر آ چکی تھی پہلی جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں اور اپنوں کی غداریوں کے بعد جب سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے کیے جا رہے تھے تو قسطنطنیہ کے وہ خوبصورت اور نیلگوں پانی جن پر کبھی عثمانی بحریہ کی ہیبت ناک کشتیاں تیرتی تھیں وہاں اب برطانوی، فرانسیسی اور اطالوی افواج کے مہیب اور سیاہ جنگی جہازوں نے اپنے لنگر ڈال دیے تھے اور ان جہازوں کی توپوں کا رخ سیدھا مسلمانوں کے خلیفہ کے شاہی محل کی طرف تھا خلیفہ وحید الدین جو دنیا بھر کے مسلمانوں کا روحانی اور سیاسی پیشوا تھا اپنے ہی محل کی کھڑکی سے ان قابض فوجوں کو دیکھ کر خون کے آنسو رو رہا تھا اس کے پاس نہ تو کوئی فوج بچی تھی اور نہ ہی کوئی اختیار وہ محض ایک قیدی بن کر رہ گیا تھا جسے یورپی طاقتیں اپنے اشاروں پر نچا رہی تھیں قسطنطنیہ کی سڑکوں پر غیر ملکی فوجی بوٹوں کی دھمک مسلمانوں کی غیرت کو کچل رہی تھی اور وہ عظیم شہر جسے سلطان محمد فاتح نے اپنا خون دے کر فتح کیا تھا آج بے بسی کی تصویر بنا ہوا تھا چاروں طرف مایوسی اور موت کا سناٹا چھایا ہوا تھا کیونکہ دشمنوں نے ایک ایسا ذلت آمیز معاہدہ مسلط کر دیا تھا جس کے تحت مسلمانوں کے مقدس مقامات اور عرب علاقوں کو آپس میں بانٹ لیا گیا تھا اور خلافت کو بچانے کی تمام امیدیں دم توڑ چکی تھیں لیکن عین اسی وقت جب قسطنطنیہ کے محلوں میں موت کی خاموشی تھی اور خلیفہ غیر ملکی طاقتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو چکا تھا تو اناطولیہ کے سنگلاخ اور دور دراز پہاڑوں میں ایک نئی اور پراسرار بغاوت جنم لے رہی تھی اور یہ بغاوت کسی اور نے نہیں بلکہ خلافت عثمانیہ کے ہی ایک انتہائی ہوشیار اور منجھے ہوئے جرنیل مصطفی کمال نے شروع کی تھی جس نے یورپی طاقتوں کی غلامی قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا اور کٹے پھٹے ترک فوجیوں اور عام کسانوں کو ایک نئے جھنڈے تلے جمع کرنا شروع کر دیا تھا اب صورتحال یہ بن چکی تھی کہ ایک طرف قسطنطنیہ میں بیٹھا ہوا بے بس اور مجبور خلیفہ تھا جس کے سر پر دشمنوں کی تلوار لٹک رہی تھی اور دوسری طرف انقرہ کے میدانوں میں ابھرتی ہوئی وہ نئی قوم پرست طاقت تھی جو ملک کو غیروں کے قبضے سے تو آزاد کروانا چاہتی تھی لیکن ان کے دلوں میں صدیوں پرانی خلافت کے لیے کوئی احترام یا عقیدت باقی نہیں رہی تھی بلکہ وہ اس فرسودہ ہو چکی خلافت کو ہی مسلمانوں کی تمام تباہیوں، پسماندگی اور ذلتوں کی اصل جڑ سمجھنے لگے تھے یہ وہ نازک اور خوفناک موڑ تھا جہاں مسلمانوں کی صدیوں پرانی تاریخ ایک ایسے ہولناک انجام کی طرف تیزی سے بڑھ رہی تھی جس کا تصور کر کے بھی روح کانپ اٹھتی ہے سلطنت کے اندرونی غدار اور بیرونی دشمن سب مل کر اس طاق کو گرانے کی تیاری کر رہے تھے جس نے صدیوں تک امت کو جوڑ کر رکھا تھا کیا دشمن قسطنطنیہ سے خلیفہ کا نام و نشان ہمیشہ کے لیے مٹا دیں گے یا پھر انقرہ سے اٹھنے والا یہ نیا قوم پرست طوفان خود اس چھ سو سالہ خلافت کی جڑوں کو اکھاڑ کر ایک ایسا لادین اور مغربی نظام قائم کرے گا جس میں مسلمانوں کے خلیفہ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی یہ فیصلہ اب بس کچھ ہی وقت کی دوری پر تھا اور سازشوں کے وہ کالے بادل جو عثمانی محل کے اوپر منڈلا رہے تھے وہ بہت جلد ایک ایسا خونی اور شرمناک قہر بن کر برسنے والے تھے جس کی گونج اور جس کے زخم پوری اسلامی دنیا کے دل کو آج تک چیر کر رکھ دیتے ہیں۔
انقرہ کے ان گرد آلود اور تپتے ہوئے میدانوں میں جب مصطفی کمال کی قیادت میں ایک نئی قوم پرست حکومت نے جنم لیا تو قسطنطنیہ کے شاہی محلوں میں بیٹھے ہوئے خلیفہ اور اس کے حواریوں کی نیندیں حرام ہو گئیں کیونکہ یہ بغاوت محض غیر ملکی قابضین کے خلاف نہیں تھی بلکہ اس کا ایک رخ براہ راست اس چھ سو سالہ بوسیدہ تخت کی طرف بھی تھا جس پر بیٹھا ہوا خلیفہ اب صرف ایک کٹھ پتلی بن کر رہ گیا تھا جسے برطانوی اور فرانسیسی طاقتیں اپنی انگلیوں پر نچا رہی تھیں مصطفی کمال اور اس کے ساتھیوں نے پورے اناطولیہ میں ایک آگ لگا دی تھی اور ان کی کٹی پھٹی لیکن انتہائی غیرت مند اور جاں بکف فوج نے دشمنوں کو ایک ایسی عبرتناک اور ذلت آمیز شکست دی کہ ان کے غرور خاک میں مل گئے اور وہ جدید ہتھیاروں سے لیس غیر ملکی فوجیں اپنی جانیں بچا کر سمندروں کی طرف بھاگنے لگیں اس عظیم الشان اور ناقابل یقین فتح کے بعد جب انقرہ کی اس نئی ابھرتی ہوئی طاقت نے پورے ملک پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا تو یورپی طاقتوں نے ایک انتہائی مکروہ اور زہریلی سیاسی چال چلی انہوں نے امن مذاکرات کے لیے قسطنطنیہ کے خلیفہ اور انقرہ کی قوم پرست حکومت دونوں کو ایک ساتھ مدعو کر لیا تاکہ ان دونوں کو آپس میں لڑوا کر ترکی کو ایک بار پھر خانہ جنگی کی اس خونی آگ میں جھونک دیا جائے جس سے وہ بمشکل نکلا تھا لیکن مصطفی کمال جو ایک انتہائی شاطر اور دور اندیش جرنیل تھا اس نے دشمنوں کی اس سازش کو ان کے اپنے ہی گلے کا طوق بنا دیا اس نے فوراً انقرہ کی عظیم قومی اسمبلی کا ایک ہنگامی اجلاس بلایا اور اس اجلاس میں ایک ایسی گرجدار اور تاریخی تقریر کی جس نے صدیوں پرانی سلطنت عثمانیہ کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی اس نے انتہائی سخت اور کاٹ دار الفاظ میں کہا کہ جس خلیفہ اور جس سلطنت نے غیروں کی غلامی قبول کر کے اپنے ہی ملک کا سودا کر لیا ہو اسے اب اس ملک پر حکمرانی کا کوئی حق نہیں ہے اور اس نے اسی لمحے ایک قانون پاس کروا کر خلافت اور سلطنت کو ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے الگ کر دیا اور سلطنت کے مکمل خاتمے کا وہ ہولناک اعلان کر دیا جس کی گونج سن کر قسطنطنیہ کے محلوں کے در و دیوار لرز اٹھے یہ یکم نومبر انیس سو بائیس کا وہ تاریک اور انتہائی دلدوز دن تھا جب عثمانی خاندان سے ان کی وہ سیاسی اور ملکی طاقت ہمیشہ کے لیے چھین لی گئی جس پر وہ چھ صدیوں سے فخر کرتے آ رہے تھے یہ خبر যখন قسطنطنیہ پہنچی تو سلطان وحید الدین پر جیسے موت کی ہیبت طاری ہو گئی اسے اپنا انجام انتہائی بھیانک نظر آنے لگا کیونکہ انقرہ کی فاتح فوج اب کسی بھی وقت قسطنطنیہ میں داخل ہو کر اسے غداری کے جرم میں پھانسی کے تختے پر لٹکا سکتی تھی وہ خلیفہ جس کے آباؤ اجداد نے آدھی دنیا پر اپنی ہیبتناک تلواروں سے حکومت کی تھی آج وہ اس قدر بے بس، تنہا اور خوفزدہ تھا کہ اس نے اپنی جان بچانے کے لیے وہ شرمناک اور دل چیر دینے والا راستہ چنا جس نے مسلمانوں کے سر شرم سے جھکا دیے اس نے انتہائی خفیہ طور پر برطانوی قابض فوج کے کمانڈر کو ایک خط لکھا جس میں اس نے پناہ کی بھیک مانگی اور سترہ نومبر کی ایک تاریک اور انتہائی سرد صبح جب قسطنطنیہ کے شہری ابھی گہری نیند سو رہے تھے چھ سو سالہ عظیم عثمانی سلطنت کا یہ آخری سلطان ایک چور کی طرح اپنے ہی محل کے پچھلے دروازے سے نکلا اور ایک برطانوی جنگی بحری جہاز میں بیٹھ کر ہمیشہ کے لیے اپنے ملک اور اپنے تخت کو چھوڑ کر فرار ہو گیا اس شرمناک فرار نے پوری اسلامی دنیا کے دلوں کو چھلنی کر دیا اور انقرہ کی حکومت نے فوراً اس کے بھتیجے عبدالمجید ثانی کو نیا خلیفہ تو مقرر کر دیا لیکن اس نئے خلیفہ کے پاس نہ کوئی سلطنت تھی نہ کوئی فوج اور نہ ہی کوئی سیاسی طاقت وہ محض ایک کٹھ پتلی اور نمائشی خلیفہ تھا جسے صرف جمعہ کی نماز پڑھانے اور مذہبی تقریبات تک محدود کر دیا گیا تھا نیا خلیفہ عبدالمجید ثانی ایک انتہائی پڑھا لکھا فنون لطیفہ کا دلدادہ اور نرم دل انسان تھا جو اب ایک ایسے محل میں قید تھا جس کی دیواریں اسے ہر روز اس کی بے بسی اور ذلت کا احساس دلاتی تھیں لیکن انقرہ کے ان قوم پرستوں کے دلوں میں ابھی عثمانی خاندان کے خلاف بغض اور نفرت کی وہ آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی اور مصطفی کمال کے ذہن میں ایک اور ایسا انتہائی خوفناک اور لرزہ خیز منصوبہ پک رہا تھا جس کا ہدف اب یہ بے ضرر اور نمائشی خلیفہ بھی نہیں بلکہ خود وہ مقدس ادارہ تھا جسے خلافت کہا جاتا تھا اور جس کے نام پر دنیا بھر کے مسلمان اپنی جانیں نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتے تھے خلیفہ عبدالمجید ثانی ابھی اس دھوکے میں تھا کہ شاید اس کی یہ نمائشی حیثیت برقرار رہے گی لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ انقرہ کی وہ تلوار اب پوری قوت سے اس کی طرف بڑھ رہی ہے اور ایک ایسا طوفان آنے والا ہے جو اسے اور اس کے پورے خاندان کو ایک ایسی اندھیری رات میں تنہا چھوڑ دے گا جہاں ان کے پاس نہ سر چھپانے کو چھت ہوگی اور نہ ہی جیب میں ایک روٹی خریدنے کے پیسے کیا مصطفی کمال اس بچی کھچی اور آخری روحانی خلافت کا بھی گلا گھونٹ دے گا اور خلیفہ عبدالمجید کے ساتھ محل کے ان بند دروازوں کے پیچھے کیا بھیانک سلوک ہونے والا تھا یہ وہ دردناک اور سنسنی خیز لمحہ تھا جس نے تاریخ کے رخ کو ایک ایسے اندھے کنویں کی طرف موڑ دیا جس میں گرنے کے بعد مسلمان آج تک اپنا کھویا ہوا وقار تلاش کر رہے ہیں۔
قسطنطنیہ کے اس پرشکوہ اور خاموش دولماباغچہ محل کی ان اونچی اور سنگمرمر کی دیواروں کے پیچھے جہاں کبھی عثمانی سلطانوں کا جاہ و جلال گونجتا تھا اب ایک انتہائی خوفناک اور موت جیسی خاموشی چھائی ہوئی تھی نیا خلیفہ عبدالمجید ثانی جو سیاست سے کوسوں دور صرف ایک روحانی پیشوا اور فنون لطیفہ کا شیدائی تھا وہ اب اس عالیشان قید خانے میں اپنی بچی کھچی عزت اور مسلمانوں کے اس مقدس ترین عہدے کی بقا کی آخری جنگ لڑ رہا تھا انقرہ میں بیٹھی ہوئی مصطفی کمال کی نئی اور طاقتور قوم پرست حکومت نے انتیس اکتوبر انیس سو تیئس کو جب باقاعدہ طور پر ترک جمہوریہ کا اعلان کیا تو خلافت کے اس ہزاروں سال پرانے درخت کی جڑیں مکمل طور پر کٹ چکی تھیں اور خلیفہ کی حیثیت ایک ایسے پرندے کی سی ہو گئی تھی جس کے پر کاٹ کر اسے سونے کے پنجرے میں بند کر دیا گیا ہو لیکن خلیفہ عبدالمجید ثانی کے دل میں ابھی بھی یہ معصوم سی امید باقی تھی کہ شاید اسلامی دنیا کی عقیدت اور محبت اسے اس طوفان سے بچا لے گی وہ جمعہ کی نماز کے لیے جب اپنے محل سے شاہی بگھی میں سوار ہو کر نکلتا تو قسطنطنیہ کے عوام اور دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمانوں کے وفود اس کی ایک جھلک دیکھنے اور اس کے ہاتھ چومنے کے لیے ٹوٹ پڑتے خلیفہ کا یہ عوامی اور روحانی رعب انقرہ کے ان نئے حکمرانوں کی آنکھوں میں بری طرح کھٹکنے لگا تھا مصطفی کمال اور اس کے ساتھیوں کو یہ خوف کھائے جا رہا تھا کہ جب تک یہ خلیفہ اور خلافت کا یہ نام نہاد ادارہ ترکی کی سرزمین پر موجود ہے تب تک پرانی عثمانی سلطنت کے حامی اور مذہبی حلقے کسی بھی وقت ان کی اس نئی لادین جمہوریہ کے خلاف بغاوت کا علم بلند کر سکتے ہیں وہ اس ادارے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے صرف ایک بہانے کی تلاش میں تھے اور یہ بہانہ انہیں اس وقت پلیٹ میں رکھ کر مل گیا جب ہندوستان کے دو بڑے مسلمان رہنماؤں آغا خان اور امیر علی نے انقرہ کی حکومت کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے ترک حکومت سے یہ اپیل کی کہ وہ خلیفہ عبدالمجید ثانی کی عزت اور خلافت کے اس مقدس ادارے کا احترام قائم رکھیں یہ خط دراصل مسلمانوں کی ایک انتہائی مخلصانہ اور درد بھری فریاد تھی لیکن انقرہ کی حکومت نے اسے اپنے اندرونی معاملات میں کھلی اور خطرناک مداخلت اور بغاوت کی ایک بہت بڑی سازش قرار دے کر پورے ملک میں ایک ایسا طوفان کھڑا کر دیا جس نے خلیفہ کے گرد گھیرا مکمل طور پر تنگ کر دیا مصطفی کمال نے فوراً پریس اور اپنی اسمبلی کے ذریعے خلیفہ کے خلاف ایک انتہائی زہریلی اور نفرت انگیز مہم کا آغاز کر دیا جس میں خلافت کو ایک کینسر ایک غیر ملکی سازش اور ترک قوم کی ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنا کر پیش کیا جانے لگا دولماباغچہ محل کا بجٹ مکمل طور پر کاٹ دیا گیا اور خلیفہ کے ذاتی محافظوں اور خادموں کی تنخواہیں روک دی گئیں یہاں تک کہ خلیفہ عبدالمجید ثانی کو اپنے ہی محل میں سردی سے بچنے کے لیے لکڑیاں تک خریدنے کے پیسے نہیں دیے جاتے تھے اور وہ عالم اسلام کا عظیم خلیفہ اپنے ہی کمرے میں سردی سے ٹھٹھرنے پر مجبور ہو گیا تھا اس پر محل سے باہر نکلنے اور غیر ملکی سفیروں یا مسلمانوں کے وفود سے ملنے پر بھی کڑی پابندی لگا دی گئی تھی یہ وہ وقت تھا جب خلیفہ کو یقین ہو گیا کہ اب انقرہ کی وہ خون آشام تلوار اس کی گردن تک پہنچ چکی ہے اور وہ طوفان جسے وہ ایک عرصے سے محسوس کر رہا تھا اب اس کے دروازے کو توڑنے والا ہے انقرہ کی قومی اسمبلی میں خلافت کے مکمل خاتمے اور پورے عثمانی خاندان کو ترکی سے ہمیشہ کے لیے جلاوطن کرنے کا وہ کالا قانون تیار کیا جا رہا تھا جس پر بحث کرتے ہوئے کئی قوم پرست اراکین نے انتہائی گستاخانہ اور توہین آمیز زبان استعمال کی اور یہ مطالبہ کیا کہ اس خاندان کا نام و نشان اس مٹی سے ہمیشہ کے لیے مٹا دیا جائے مارچ انیس سو چوبیس کے وہ ابتدائی دن تاریخ کے وہ تاریک ترین دن تھے جب قسطنطنیہ کے آسمان پر اداسی کے کالے بادل چھائے ہوئے تھے اور خلیفہ عبدالمجید ثانی راتوں کو جاگ کر اپنے رب کے حضور سجدے میں گر کر اس امت کی بقا اور اپنے خاندان کی عزت کی دعائیں مانگ رہا تھا لیکن انقرہ کے حکمران اپنا حتمی فیصلہ کر چکے تھے اور انہوں نے اس چھ سو سالہ عظیم سلطنت کے آخری چراغ کو ہمیشہ کے لیے بجھانے اور خلیفہ کو اس کے آبائی وطن سے ذلیل کر کے نکالنے کا وہ ہولناک حکم نامہ جاری کر دیا تھا جس پر عمل درآمد کے لیے استنبول کے گورنر کو رات کے اندھیرے میں خلیفہ کے محل کی طرف بھیجا جا رہا تھا کیا وہ رات خلیفہ عبدالمجید ثانی اور اس کے اہل خانہ کے لیے کیسی قیامت خیز رات ثابت ہوگی جب انہیں اچانک آدھی رات کو بندوقوں کے سائے میں ان کے اپنے ہی محل سے نکال کر نامعلوم اندھیروں کی طرف دھکیل دیا جائے گا اور جب ان کی جیبوں میں سفر کرنے کے لیے چند سکے تک نہیں ہوں گے یہ وہ المناک اور رلا دینے والا لمحہ تھا جس نے امت مسلمہ کے دلوں کو ایک ایسا گہرا گھاؤ دیا جس سے آج تک خون رس رہا ہے۔
تین مارچ انیس سو چوبیس کی وہ سیاہ اور تاریک ترین رات جب قسطنطنیہ کے آسمان پر ستارے بھی جیسے منہ چھپائے بیٹھے تھے اور سمندر کی ٹھنڈی لہریں دولماباغچہ محل کی سنگمرمر کی اونچی دیواروں سے ٹکرا کر ایک عجیب سی ماتمی دھن بجا رہی تھیں تو عین اسی وقت انقرہ کی قومی اسمبلی میں خلافت کے مکمل خاتمے اور پورے عثمانی خاندان کی ذلت آمیز جلاوطنی کا وہ کالا اور ظالمانہ قانون منظور ہو چکا تھا جس پر عمل درآمد کے لیے استنبول کے گورنر اور پولیس کے اعلیٰ افسران کو رات کے اسی پہر بندوقوں اور مسلح دستوں کے ساتھ خلیفہ کے محل کی طرف روانہ کر دیا گیا تھا خلیفہ عبدالمجید ثانی جو اپنی عظیم الشان لائبریری میں بیٹھے قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول تھے اور اس آنے والے طوفان سے بالکل بے خبر اپنے رب کے حضور امت کی سلامتی اور اپنے خاندان کی عزت کی دعائیں مانگ رہے تھے کہ اچانک محل کے بھاری اور آہنی دروازوں پر فوجی بوٹوں کی دھمک اور رائفلوں کے دستوں کی خوفناک ضربوں نے رات کے اس پرسکون اور اداس سناٹے کو چیر کر رکھ دیا محل کے مٹھی بھر محافظوں کو طاقت کے زور پر ہٹا کر پولیس کے مسلح دستے سیدھے خلیفہ کے ذاتی کمرے تک پہنچ گئے اور استنبول کے گورنر نے انتہائی رعونت بے دردی اور تکبر سے دروازہ کھول کر اس چھ سو سالہ عظیم سلطنت کے آخری روحانی پیشوا کے سامنے انقرہ کی حکومت کا وہ دلدوز فیصلہ پڑھ کر سنایا جس میں لکھا تھا کہ خلافت کا مقدس ادارہ آج سے ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے اور خلیفہ سمیت پورے عثمانی خاندان کے ہر چھوٹے بڑے فرد کو کل صبح کا سورج نکلنے سے پہلے اس ملک کی سرحدوں سے باہر نکلنا ہوگا اور اگر انہوں نے ذرا بھی مزاحمت کی تو انہیں طاقت کے زور پر جانوروں کی طرح گھسیٹ کر نکالا جائے گا یہ روح فرسا حکم نامہ سننا تھا کہ محل کے اندر قیامت صغریٰ برپا ہو گئی خلیفہ جو اپنی شرافت اور حلم کے لیے پوری دنیا میں مشہور تھے انہوں نے انتہائی وقار اور صبر کے ساتھ اس کڑوے گھونٹ کو پیا لیکن جب یہ خبر محل کے زنان خانے اور چھوٹے شہزادوں تک پہنچی تو وہاں آہ و بکا اور چیخ و پکار کا وہ لرزہ خیز طوفان اٹھا جس نے آسمان کا دل بھی دہلا دیا ہوگا وہ شہزادیاں جو سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھاتی تھیں اور مخمل کے بستروں پر سوتی تھیں اب انہیں رات کے اس اندھیرے میں بندوق کی نوک پر صرف چند گھنٹوں کی مہلت دی گئی تھی کہ وہ اپنے کپڑے اور ضروری سامان باندھ لیں سخت گیر پولیس والے ان کے سروں پر کھڑے تھے اور انہیں محل کا کوئی بھی قیمتی سامان ہیرے جواہرات یا سونے کے زیورات ساتھ لے جانے کی سختی سے ممانعت کر دی گئی تھی عثمانی خاندان کی ان معزز اور پردہ دار خواتین کو جنہوں نے کبھی محل کی چار دیواری سے باہر قدم نہیں رکھا تھا اب انہیں ان کی اپنی ہی چھت سے بے دخل کیا رہا تھا خلیفہ عبدالمجید نے اپنے آباؤ اجداد کی تصویروں اور اس عظیم الشان محل کی دیواروں کو آخری بار انتہائی حسرت اور دکھ بھری نگاہوں سے دیکھا اور پھر اپنے اہل خانہ کو لے کر انتہائی خاموشی سے بوجھل قدموں کے ساتھ باہر نکل آئے جہاں محل کے احاطے میں ان کے لیے فوجی گاڑیاں کھڑی تھیں انقرہ کی حکومت کو یہ شدید خوف تھا کہ اگر خلیفہ کو استنبول کے مرکزی ریلوے مقام سے روانہ کیا گیا تو عوام کا ہجوم ان کی محبت میں رو پڑے گا اور شاید کوئی بہت بڑی بغاوت کھڑی ہو جائے اس لیے انتہائی مکاری اور خاموشی کے ساتھ رات کے پچھلے پہر ان گاڑیوں کو استنبول سے دور چاتالجا کے ویران سنسان اور تاریک ریلوے مقام کی طرف موڑ دیا گیا راستے میں وہ خلیفہ جس کے نام کا خطبہ پوری دنیا کے مسلمان اپنے جمعہ کی نماز میں انتہائی عقیدت سے پڑھتے تھے وہ آج اپنی ہی سرزمین پر ایک مجرم اور قیدی کی طرح سفر کر رہا تھا جب وہ چاتالجا کے مقام پر پہنچے تو وہاں یورپ جانے والی ریل گاڑی ان کا انتظار کر رہی تھی رات کی اس شدید خنکی اور سرد ہوا میں خلیفہ اور اس کے خاندان کو گاڑی سے اتارا گیا اور انتہائی بے دردی سے انہیں ریل گاڑی کے ڈبوں میں دھکیل دیا گیا ترک حکومت کے افسران نے ان کے ہاتھ میں صرف دو ہزار پاؤنڈ کی ایک انتہائی حقیر سی رقم تھمائی جو اس قدر بڑے شاہی خاندان کے سفر اور مستقبل کی زندگی کے لیے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر تھی اور ساتھ ہی ان کے سفری دستاویزات پر یہ مہر لگا دی گئی کہ اب وہ زندگی بھر ترکی کی سرزمین پر قدم نہیں رکھ سکیں گے خلیفہ عبدالمجید ثانی نے ریل گاڑی کی کھڑکی سے اپنی اس مٹی اور اس ملک کو آخری بار دیکھا جس پر ان کے آباؤ اجداد نے چھ صدیاں پوری شان و شوکت سے حکومت کی تھی اور پھر ریل گاڑی کے پہیے حرکت میں آئے اور ایک بھیانک اور دل چیر دینے والی سیٹی کی آواز کے ساتھ وہ گاڑی اس آخری خلیفہ کو اندھیروں اور نامعلوم منزلوں کی طرف لے کر چل پڑی وہ خاندان جس نے دنیا کو عروج کے بامِ تک پہنچایا تھا آج وہ غیروں کے ملک میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے بھیک مانگنے اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا تھا کیا سوئٹزرلینڈ کے ان برفیلے اور بے رحم پہاڑوں میں خلیفہ عبدالمجید اور اس کی بیٹیوں کے ساتھ کیسا دلدوز سلوک ہوا اور پیرس کی سڑکوں پر عثمانی شہزادوں نے کس طرح بھوک سے تڑپ کر جانیں دیں یہ وہ آخری اور سب سے المناک حصہ ہے جس کے بعد اس عظیم خلافت کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو جائے گا۔
چاتالجا کے اس سنسان اور تاریک ریلوے مقام سے جب وہ ریل گاڑی چھ سو سالہ عظیم عثمانی خلافت کے آخری تاجدار خلیفہ عبدالمجید ثانی اور ان کے اہل خانہ کو لے کر یورپ کی ان نامعلوم اور تاریک منزلوں کی طرف روانہ ہوئی تو اس گاڑی کے پہیوں کی ہر آواز کے ساتھ صدیوں پرانی اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو رہا تھا اور وہ خلیفہ جس کے دربار میں کبھی دنیا کے بڑے بڑے سفیر اور بادشاہ سر جھکا کر کھڑے ہوتے تھے آج وہ ایک عام اور بے بس مسافر کی طرح اس گاڑی کے ایک تنگ ڈبے میں سردی سے ٹھٹھر رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں اپنے آبائی وطن سے بچھڑنے کا وہ گہرا دکھ اور آنسو تھے جو کبھی خشک نہیں ہونے والے تھے چند دنوں کے اس طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد جب یہ ریل گاڑی سوئٹزرلینڈ کے ان برفیلے اور یخ بستہ پہاڑوں کے درمیان پہنچی تو ان جلاوطن شاہی مہمانوں کو ایک مقامی مسافر خانے میں ٹھہرایا گیا لیکن انقرہ کی ظالم حکومت نے ان کے ہاتھ میں سفر کے لیے جو انتہائی حقیر اور قلیل رقم تھمائی تھی وہ اس مہنگے اور غیر ملکی شہر میں محض چند دنوں کے اندر ہی ختم ہو گئی اور عثمانی خاندان کے وہ چشم و چراغ اور وہ نازک شہزادیاں جنہوں نے کبھی ریشم اور مخمل کے سوا کسی لباس کو ہاتھ نہیں لگایا تھا اور جن کے دسترخوانوں پر درجنوں اقسام کے شاہی کھانے چنے جاتے تھے اب وہ ایک ایک روٹی اور پانی کے گھونٹ کے لیے محتاج ہو گئے تھے خلیفہ عبدالمجید ثانی کے پاس اپنے ہی خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے کوئی پیسہ نہیں بچا تھا اور نوبت یہاں تک آ پہنچی تھی کہ اس مسافر خانے کے مالکان نے انہیں کرایہ ادا نہ کرنے کی صورت میں باہر سڑک پر نکالنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دی تھیں یہ وہ المناک اور دردناک وقت تھا جب دنیا کے مسلمانوں کے روحانی پیشوا کو اپنی سفید پوشی اور عزت کا بھرم رکھنا مشکل ہو گیا تھا اور اگر ہندوستان کی ریاست حیدرآباد دکن کے حکمران نظام میر عثمان علی خان اس مشکل وقت میں آگے نہ آتے اور خلیفہ کے لیے ایک باقاعدہ ماہانہ وظیفہ مقرر نہ کرتے تو شاید خلافتِ عثمانیہ کا یہ آخری چراغ اسی مسافر خانے کی سردیوں میں بھوک اور افلاس سے دم توڑ دیتا نظام حیدرآباد کی اس مالی امداد کے بعد خلیفہ اور ان کا خاندان فرانس کے دارالحکومت پیرس اور پھر ساحلی شہر نیس کی طرف ہجرت کر گئے لیکن عثمانی خاندان کے دیگر شہزادوں اور افراد کا جو انجام ہوا وہ تاریخ کا وہ خون رلا دینے والا سچ ہے جسے سن کر آج بھی کلیجہ پھٹ جاتا ہے انقرہ کی حکومت نے عثمانی خاندان کے سینکڑوں مردوں عورتوں اور بچوں کو ایک ہی رات میں ملک بدر کیا تھا اور ان میں سے اکثریت کے پاس نہ تو کوئی ہنر تھا اور نہ ہی کوئی مال و اسباب جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ شہزادے جن کے ناموں کے ساتھ عظمت اور جلال کے لقب لگائے جاتے تھے وہ پیرس اور دیگر یورپی شہروں کی سڑکوں پر ٹیکسیاں چلانے، مسافر خانوں میں جھوٹے برتن دھونے، قبرستانوں میں چوکیداری کرنے اور کوڑا اٹھانے پر مجبور ہو گئے کئی عثمانی شہزادے اور شہزادیاں تو صرف اس لیے گمنامی کی موت مر گئے کیونکہ ان کے پاس دوائی خریدنے یا پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے لیے کوئی پیسہ نہیں تھا اور ان کی لاشیں غیروں کی زمین پر بے گور و کفن پڑی رہیں خلیفہ عبدالمجید ثانی نے اپنی باقی ماندہ زندگی پیرس کے ایک انتہائی سادہ سے مکان میں گزاری اور ان کی سب سے بڑی خواہش اور آخری حسرت یہ تھی کہ جب ان کی موت کا وقت آئے تو ان کی لاش کو ان کے آبائی وطن استنبول لے جایا جائے اور انہیں ان کے عظیم آباؤ اجداد سلطان محمد فاتح اور سلطان سلیم اول کے قدموں میں دفن کیا جائے لیکن اگست انیس سو چوالیس میں جب دوسری جنگ عظیم کے ان خوفناک دنوں میں پیرس کے اندر اس آخری خلیفہ نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی تو ترکی کی اس وقت کی سیکولر اور ظالم حکومت نے انتہائی بے دردی، رعونت اور سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خلیفہ کی میت کو ترکی کی سرزمین پر لانے اور وہاں دفن کرنے سے صاف اور دو ٹوک انکار کر دیا یہ کیسی قیامت اور کیسی بے بسی تھی کہ وہ خلیفہ جس کے آباؤ اجداد نے اس ملک کے چپے چپے کو اپنے خون سے سینچا تھا آج اس کی لاش کو اس ملک میں دو گز زمین بھی نصیب نہیں ہو رہی تھی خلیفہ کی میت کو ایک انتہائی تکلیف دہ اور اذیت ناک انتظار کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں پیرس کی ایک مقامی مسجد کے ایک چھوٹے سے کمرے میں امانتاً رکھ دیا گیا جہاں ان کی بیٹی شہزادی در شہوار نے ترکی کی حکومت سے مسلسل دس سال تک اپنے والد کی میت کی تدفین کے لیے التجائیں کیں لیکن جب ان کے پتھر دل نہیں پسیجے تو بالآخر انیس سو چون میں اس چھ سو سالہ عظیم الشان سلطنت کے اس آخری اور مظلوم ترین خلیفہ کی میت کو سعودی عرب لے جایا گیا اور مدینہ منورہ کے مقدس قبرستان جنت البقیع میں دفن کیا گیا جہاں آج بھی اس عظیم خلافت کا یہ آخری تاجدار اپنی مٹی سے دور غیروں کی زمین پر ابدی نیند سو رہا ہے اور یوں ایک ایسی خلافت کا وہ انتہائی دردناک، خاموش اور رلا دینے والا اختتام ہوا جس نے کبھی پوری دنیا کو اپنے قدموں میں جھکنے پر مجبور کر دیا تھا اور جس کے خاتمے کے بعد امت مسلمہ آج تک ایک ایسے یتیم بچے کی طرح بھٹک رہی ہے جس کا کوئی سرپرست اور کوئی رہنما باقی نہ بچا ہو اور یہ وہ پوشیدہ اور تلخ ترین تاریخ ہے جو مسلمانوں کے ہر باشعور فرد کے دل پر ہمیشہ ایک گہرے اور رستے ہوئے زخم کی طرح زندہ رہے گی۔