ایلی کوہن — ہنستا ہوا خونی جاسوس

جس نے دمشق کے دل میں بیٹھ کر شام کو بیچ دیا

وہ شخص دمشق میں داخل ہوتا ہے

وہ شخص جب دمشق میں داخل ہوا تو کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ آدمی شہر نہیں، ریاست کے دل میں قدم رکھ رہا ہے۔ ایئرپورٹ کی روشنیاں اس کے چہرے پر پڑیں تو وہ بالکل عام سا تاجر لگ رہا تھا، نہ آنکھوں میں چالاکی، نہ چہرے پر کوئی خاص نشان، بس ایک مطمئن مسکراہٹ، جیسے یہ شہر اس کا اپنا ہو۔ پاسپورٹ پر نام تھا کامل امین ثابت، پیشہ لکھا تھا بزنس مین، اور دل کے اندر چھپا ہوا تھا ایک ایسا طوفان جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ہلا دینے والا تھا۔ وہ بیگ اٹھا کر باہر نکلا، ٹیکسی میں بیٹھا، اور شیشے سے دمشق کی سڑکوں کو ایسے دیکھنے لگا جیسے شکاری اپنے شکار کو پہلی بار دیکھتا ہے، خاموش، گہری نظر سے، ایک ایک زاویہ ذہن میں بٹھاتا ہوا۔ یہ شہر اس کے لیے نیا نہیں تھا، وہ برسوں سے اس شہر کو خوابوں میں دیکھ رہا تھا، نقشوں میں پڑھ رہا تھا، فائلوں میں کھنگال رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کون سی سڑک کہاں جاتی ہے، کون سا محلہ کس کے قبضے میں ہے، کون سا کیفے کس افسر کا اڈہ ہے۔ لیکن پھر بھی وہ ایسے دیکھ رہا تھا جیسے پہلی بار آیا ہو، کیونکہ کھیل تب ہی کامیاب ہوتا ہے جب اداکاری مکمل ہو۔ وہ ہوٹل پہنچا، کمرہ لیا، شاور لیا، آئینے میں خود کو دیکھا اور آہستہ سے کہا، اب شروع ہوتا ہے۔ اور اس جملے کے ساتھ ہی وہ ایلی کوہن نہیں رہا، وہ کامل امین ثابت بن گیا۔ اگلے ہی دن اس نے وہی کیا جو اسے سب سے بہتر آتا تھا، تعلق بنانا۔ وہ بازاروں میں گیا، تاجروں سے ملا، شام کے بارے میں بات کی، قوم پرستی کے جملے بولے، حکومت کی تعریف کی، فوج کے قصیدے پڑھے۔ لوگ متاثر ہوتے گئے۔ کوئی کہتا یہ بندہ اپنا لگتا ہے، کوئی کہتا بڑا محب وطن ہے، کوئی کہتا اسے اوپر تک لے جانا چاہیے۔ یہی وہ جملے تھے جن کا وہ انتظار کرتا تھا۔ چند ہفتوں میں وہ ان گھروں میں بیٹھنے لگا جہاں عام آدمی داخل نہیں ہو سکتا۔ قالین نرم، پردے بھاری، اور باتیں… خطرناک۔ وہ سنتا تھا کہ کون سا افسر کس سے ناراض ہے، کون سا جنرل کس کو نیچا دکھانا چاہتا ہے، کون سا وزیر کس سے ڈرتا ہے۔ وہ سب کچھ سنتا اور چہرے پر ایسا تاثر رکھتا جیسے یہ سب عام بات ہو۔ اس کی سب سے بڑی طاقت یہی تھی کہ وہ کسی کو اجنبی نہیں لگتا تھا۔ وہ ہر محفل کا حصہ بن جاتا، ہر قہقہے میں شامل ہو جاتا، ہر غم میں کندھا دے دیتا۔ اور یہی چیز لوگوں کو غافل کر دیتی ہے۔ انسان دشمن سے نہیں ڈرتا، وہ اپنے سے ڈرتا ہی نہیں۔ رفتہ رفتہ وہ فوجی افسران کا دوست بن گیا۔ شام کے مستقبل کے محافظ اس کے سامنے بیٹھ کر شراب پیتے، لطیفے سناتے، اور کبھی کبھی نشے میں وہ باتیں بھی کہہ جاتے جو فائلوں میں بند ہونی چاہئیں۔ ایک رات ایک افسر نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل ادھر سے آیا تو ہم اسے یہاں روک لیں گے، اور اس نے نقشے پر انگلی رکھ دی۔ ایلی نے سر ہلایا، مسکرایا، اور اس جگہ کو اپنے دماغ میں قید کر لیا۔ وہ جانتا تھا یہی وہ لمحے ہیں جو جنگیں جتواتے ہیں۔ وہ صرف باتیں نہیں سنتا تھا، وہ لوگوں کو بولنے پر مجبور کرتا تھا۔ وہ ایسے سوال پوچھتا جیسے بے خبری میں، ایسے جملے کہتا جیسے فخر میں، اور سامنے والا اپنا راز خود ہی کھول دیتا۔ یہ فن ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ اس کے اندر صبر تھا، مشاہدہ تھا، اور سب سے خطرناک چیز… کنٹرول۔ وہ کبھی جلدی نہیں کرتا تھا۔ اسے معلوم تھا ہر دروازہ وقت کے ساتھ کھلتا ہے۔ اس کے گھر میں پارٹیاں شروع ہوئیں۔ بڑے ہال، تیز روشنی، موسیقی، قہقہے، اور شہر کی اشرافیہ اس کے گرد۔ وزرا، افسران، جرنیل، سب اس کے مہمان۔ لوگ اسے کامیاب بزنس مین سمجھتے، کوئی کہتا بڑا دل والا ہے، کوئی کہتا ملک کا سچا خیر خواہ ہے۔ اور وہ… ہر ایک کو اپنا سمجھنے دیتا۔ وہ جانتا تھا جب آدمی کو لگتا ہے سامنے والا اپنا ہے تو وہ احتیاط چھوڑ دیتا ہے۔ یہی تو چاہیے تھا۔ ہر پارٹی کے بعد وہ اکیلا بیٹھتا، سگریٹ جلاتا، اور ذہن میں ایک ایک بات دہراتا۔ کون کیا بولا، کس نے کیا کہا، کس کے لہجے میں کیا ڈر تھا، کس کے چہرے پر کیا غرور۔ وہ صرف الفاظ نہیں سنتا تھا، وہ انسان پڑھتا تھا۔ اور انسان پڑھ لینا… سب سے خطرناک ہتھیار ہوتا ہے۔ رات کو شہر سوتا تو وہ جاگتا۔ پردے گرتے، لائٹ مدھم ہوتی، اور ریڈیو نکلتا۔ کوڈ شروع ہوتا۔ اس کی انگلیاں تیزی سے حرکت کرتیں، سگنل فضا میں جاتا، اور سرحد پار کوئی اور سانس روک کر سنتا۔ وہ جو کچھ دن میں جمع کرتا، رات میں دے دیتا۔ توپ کہاں ہے، ٹینک کہاں ہیں، فوج کہاں کمزور ہے، سب کچھ۔ اور ہر بار وہ ریڈیو بند کر کے چند لمحے خاموش بیٹھتا، جیسے اپنے ضمیر سے بات کر رہا ہو، پھر کندھے اچکاتا اور سو جاتا۔ جیسے یہ سب عام ہو۔ دن گزرتے گئے، اس کا اثر بڑھتا گیا۔ لوگ اس سے مشورہ لینے لگے۔ اس کی بات سنی جانے لگی۔ اسے اہم سمجھا جانے لگا۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جب وہ خطرناک ہو گیا۔ کیونکہ اب وہ صرف معلومات نہیں لے رہا تھا، وہ فیصلوں کو بھی موڑ رہا تھا۔ وہ کہتا یہاں فوج بڑھاؤ، وہاں کم کرو، یہاں توجہ دو، وہاں چھوڑ دو۔ اور لوگ مان لیتے تھے۔ کیونکہ وہ قابلِ اعتماد تھا۔ اور اعتماد… سب سے مہنگی چیز ہوتی ہے۔ ایک دن اسے گولان کی پہاڑیوں پر لے جایا گیا۔ فوجی تنصیبات، توپیں، مورچے، سب کچھ دکھایا گیا۔ فخر کے ساتھ۔ جیسے ماں اپنا بچہ دکھاتی ہے۔ ایک جنرل نے سینہ چوڑا کر کے کہا، یہ ہماری طاقت ہے، یہاں سے کوئی نہیں گزر سکتا۔ ایلی نے مسکرا کر سر ہلایا، دل میں کہا، سب گزرے گا۔ وہ خاموشی سے دیکھتا رہا، زاویے نوٹ کرتا رہا، فاصلے ناپتا رہا۔ اس کی آنکھیں کیمرہ تھیں، دماغ نقشہ تھا، اور دل… برف۔ اس نے مشورہ دیا کہ فوجیوں کے لیے درخت لگوا دو تاکہ سایہ ہو، گرمی کم ہو۔ سب نے تعریف کی۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ درخت بعد میں دشمن کے لیے نشان بنیں گے۔ چھوٹا سا مشورہ، بڑا نقصان۔ یہی تو اصل کھیل تھا۔ اس وقت تک شام اس کے ہاتھ میں نہیں تھا، مگر اس کی رگوں میں ضرور تھا۔ وہ جہاں چاہتا وہاں بات گھما دیتا، جہاں چاہتا وہاں خاموشی ڈال دیتا۔ اور سب یہ سمجھتے کہ یہ شخص ہمارا ہے۔ یہی سب سے بڑی غلطی تھی۔ لیکن ہر کہانی میں ایک سایہ ہوتا ہے جو پیچھے چلتا رہتا ہے۔ ایک نظر جو زیادہ دیر رک جاتی ہے۔ ایک سوال جو دل میں اٹھتا ہے۔ ایک شک جو خاموش رہتا ہے۔ ابھی وہ سامنے نہیں آیا تھا، مگر موجود تھا۔ اور جب وہ آئے گا… تو سب بدل جائے گا۔ اس رات وہ بالکونی میں کھڑا دمشق کو دیکھ رہا تھا۔ روشنیوں کا شہر، آوازوں کا ہجوم، اور دل میں سکون۔ وہ جانتا تھا وہ جیت رہا ہے۔ اس نے سگریٹ جلایا، دھواں چھوڑا، اور آہستہ سے کہا، ابھی نہیں، ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ اور اسی لمحے… کہیں دور… کوئی اس کے سگنل کو دیکھ رہا تھا۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں کھیل خطرناک ہونے والا تھا۔

Eli Cohen arriving in 1960s Damascus.
Back to Top Back to Top
Share on WhatsApp Share on WhatsApp
Share on Facebook Share on Facebook
Share on Twitter Share on Twitter