غرور، بارود اور اپنوں کا خون: جنگِ چالدران کی وہ بھیانک حقیقت جو تاریخ میں چھپائی گئی!
معرکہ چالدران: جب عثمانی توپوں نے صفوی غرور خاک میں ملا دیا
تاریخ کے سینے میں دفن رازوں کو جب کریدا جاتا ہے تو کچھ حقائق اتنے تلخ اور خونریز نکلتے ہیں کہ پڑھنے والے کا دل دہل جاتا ہے اور یہ کہانی اس وقت کی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین پر دو ایسے طوفان ٹکرانے والے تھے جن کی بنیاد زمین یا دولت کی ہوس پر نہیں بلکہ خالصتاً عقائد اور نظریات کے انتہائی کٹر اور خونی تصادم پر رکھی گئی تھی ایک طرف سلطنتِ عثمانیہ کا مہیب اور طاقتور حکمران سلطان سلیم اول تھا جو راسخ العقیدہ سنی نظریات کا سب سے بڑا علمبردار اور خود کو صحیح العقیدہ مسلمانوں کا محافظ سمجھتا تھا اور دوسری طرف ایران کی نوزائیدہ مگر انتہائی پرجوش صفوی سلطنت کا بانی شاہ اسماعیل تھا جس نے ایران میں اپنے مخصوص عقائد کو طاقت کے زور پر نافذ کیا تھا اور اس کی فوج جسے قزلباش کہا جاتا تھا کیونکہ وہ سرخ رنگ کی خاص ٹوپیاں پہنتے تھے اپنے عقائد میں روایتی مسلک سے کہیں زیادہ آگے بڑھ کر باطنی اور غالی نظریات کی حدوں کو چھو رہے تھے یہ قزلباش شاہ اسماعیل کو محض اپنا بادشاہ یا حکمران نہیں بلکہ اپنا مرشدِ کامل، ایک معصوم رہنما اور ایک ایسی مقدس روحانی ہستی مانتے تھے جس کے اندر ان کے باطل عقیدے کے مطابق ایک خاص الٰہی نور موجود تھا اور اسی اندھے باطنی عقیدے کے نشے اور جنون میں یہ قزلباش فوجی میدانِ جنگ میں لوہے کی زرہ یا ڈھال پہننا اپنے مرشد کی روحانی طاقت پر بے یقینی اور توہین سمجھتے تھے وہ دیوانہ وار ننگے دھڑ تلواریں لے کر دشمن کی صفوں میں کود جاتے تھے کیونکہ ان کا پختہ یقین تھا کہ ان کے پیر و مرشد کی روحانی نگاہ انہیں ہر ہتھیار سے بچا لے گی جب سلطان سلیم اول تخت نشین ہوا تو اس کے علما نے اسے خبردار کیا کہ سلطنتِ عثمانیہ کی مشرقی سرحدوں پر صفویوں کے یہ باطنی نظریات انتہائی تیزی سے پھیل رہے ہیں اور اناطولیہ کے کئی قبائل عثمانی حکمرانی سے بغاوت کر کے شاہ اسماعیل کو اپنا روحانی پیشوا تسلیم کر چکے ہیں سلطان سلیم بخوبی جانتا تھا کہ یہ بغاوت محض سیاسی نہیں بلکہ ایک خطرناک نظریاتی کینسر ہے جو اس کی سلطنت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دے گا اس لیے اس طوفان کو روکنے کے لیے سلطان سلیم نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کی بازگشت آج تک تاریخ کے دالانوں میں سنائی دیتی ہے اس نے اپنے ملک کے طول و عرض میں صفوی حامیوں کا بے دردی سے صفایا کیا اور ہزاروں باغیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور پھر ایک عظیم الشان لشکر تیار کر کے مشرق کی جانب ایران کو فتح کرنے اور اس نظریاتی فتنے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے ارادے سے کوچ کرنے کا حکم دے دیا یہ سفر کوئی عام یا آسان سفر نہیں تھا قسطنطنیہ سے نکل کر ایران کی سرحدوں تک کا یہ طویل اور کٹھن راستہ اونچے اور سنگلاخ پہاڑوں، خشک اور تپتے ہوئے ریگستانوں اور دشوار گزار گھاٹیوں پر مشتمل تھا جہاں پانی اور خوراک کی شدید کمی تھی شاہ اسماعیل بخوبی جانتا تھا کہ عثمانی لشکر تعداد اور بارودی ہتھیاروں میں اس سے کہیں زیادہ ہے اس لیے اس نے براہِ راست مقابلے کے بجائے ایک انتہائی ظالمانہ جنگی حکمت عملی اپنائی اس نے اپنے ہی علاقوں کے تمام کنوؤں میں زہر ملا دیا کھیتوں اور فصلوں کو آگ لگا دی اور بستیوں کو مکمل طور پر ویران کر دیا تاکہ جب عثمانی فوج ان علاقوں سے گزرے تو انہیں نہ پینے کو پانی کی ایک بوند ملے اور نہ جانوروں کے چارے یا انسانوں کے کھانے کو کچھ حاصل ہو سکے بھوک، پیاس اور مسلسل سفر کی تھکاوٹ نے عثمانی لشکر کو نڈھال کر دیا فوج کے اندر بغاوت کے سائے منڈلانے لگے اور وہ ینی چری جو سلطان سلیم کی سب سے وفادار اور شاہی فوج سمجھی جاتی تھی اس نے بھی مزید آگے بڑھنے سے انکار کر دیا اور اپنے خیموں کے باہر خنجر اور تلواریں گاڑ کر باقاعدہ احتجاج شروع کر دیا یہ وہ نازک لمحہ تھا جہاں کوئی بھی عام حکمران حوصلہ ہار دیتا لیکن سلطان سلیم اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر سیدھا ان باغی سپاہیوں کے ہجوم کے عین درمیان پہنچ گیا اور اپنی شمشیرِ بے نیام ہوا میں لہرا کر انتہائی گرجدار اور ہیبت ناک آواز میں بولا کہ جو ڈرپوک اور بزدل ہیں وہ اپنی عورتوں کے پاس واپس چلے جائیں میں یہاں سے واپس مڑنے نہیں آیا اور میں تنہا ہی دشمن کا مقابلہ کروں گا سلطان کے ان کاٹ دار الفاظ نے فوج کے اندر سوئی ہوئی غیرت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور یوں یہ موت کا کارواں تمام تر مصیبتوں کو چیرتا ہوا بالآخر چوبیس اگست کی شام کو چالدران کے وسیع اور ہموار میدان میں جا پہنچا جہاں سامنے شاہ اسماعیل کی قزلباش فوج پہلے سے خیمہ زن تھی فضا میں ایک عجیب سی اور دم گھونٹ دینے والی خاموشی چھائی ہوئی تھی جو کسی بہت بڑے اور خونریز طوفان کا پیش خیمہ تھی ایک طرف قزلباشوں کا اندھا روحانی جنون اور اعلیٰ نسل کے گھوڑوں کی ٹاپیں تھیں اور دوسری طرف عثمانیوں کی وہ خوفناک، بھاری اور سیاہ دہانے والی توپیں تھیں جنہیں مضبوط لوہے کی زنجیروں سے ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیا گیا تھا تاکہ دشمن کا کوئی بھی گھڑ سوار دستہ انہیں چیر کر آگے نہ بڑھ سکے اور ان توپوں کے عین پیچھے ینی چری کے نشانہ باز اپنی بندوقیں تانے کھڑے تھے سورج غروب ہو رہا تھا اور تلواریں نیاموں سے باہر آ چکی تھیں شاہ اسماعیل کو اس کے دانا مشیروں نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوراً حملہ کرنے کا مشورہ دیا کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ عثمانی توپیں رات کے اندھیرے میں اپنا نشانہ کھو بیٹھیں گی لیکن اپنے باطنی عقائد اور روحانی طاقت کے نشے میں ڈوبے ہوئے شاہ اسماعیل نے کمال تکبر سے یہ کہہ کر اس شاندار مشورے کو ٹھکرا دیا کہ میں کوئی چور یا ڈاکو نہیں ہوں جو رات کے اندھیرے میں چھپ کر وار کروں میں دن کی روشن روشنی میں دشمن کو خاک میں ملاؤں گا اور پھر پچیس اگست کی وہ صبح طلوع ہوئی جس نے مسلمانوں کی تاریخ کا دھارا ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دینا تھا عثمانی توپچی اپنی توپوں کے دھانوں پر آگ کی چنگاریاں لیے کھڑے تھے اور بالکل سامنے قزلباش سواروں نے اپنے گھوڑوں کی لگامیں کھینچ لی تھیں کیا شاہ اسماعیل کی ننگے دھڑ لڑنے والی دیوانی فوج ان آگ اور موت اگلتی توپوں کا مقابلہ کر پائے گی اور جب عقائد کے یہ دو بپھرے ہوئے سمندر آپس میں پوری قوت سے ٹکرائیں گے تو چالدران کی اس بدقسمت زمین پر قیامت کا کون سا لرزہ خیز منظر برپا ہوگا یہ فیصلہ بس اب کچھ ہی لمحوں کی دوری پر تھا اور موت کا وہ رقص شروع ہونے والا تھا جس کی گونج صدیوں تک سنائی دینی تھی۔
عقائد کا خونی تصادم: سلطان سلیم اول اور شاہ اسماعیل کی فیصلہ کن جنگ
پچیس اگست کی وہ خونی اور غبار آلود صبح جب چالدران کے میدان پر طلوع ہوئی تو ہوا میں ایک عجیب سی موت کی بو رچی ہوئی تھی اور دونوں عظیم الشان لشکروں کے درمیان وہ خوفناک خاموشی چھا گئی جو کسی بہت بڑے طوفان کے پھٹنے سے بالکل پہلے ہوتی ہے سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی شاہ اسماعیل کی قزلباش فوج کے خیموں سے نعروں کی وہ گرجدار اور ہیبت ناک آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں جنہوں نے پہاڑوں کو بھی لرزا کر رکھ دیا سرخ ٹوپیاں پہنے ہوئے یہ ہزاروں دیوانے گھڑ سوار اپنے مرشد شاہ اسماعیل کی ایک جھلک دیکھنے اور اس کے نام پر کٹ مرنے کے لیے بے تاب تھے ان کے چہروں پر موت کا کوئی خوف نہیں تھا بلکہ ایک عجیب سا روحانی جنون طاری تھا جس نے ان کی عقلوں کو اندھا کر دیا تھا وہ لوہے کی زرہ بکتر اور بھاری ڈھالوں کو بزدلی کی علامت سمجھ کر اتار پھینک چکے تھے اور ان کے ننگے سینے دشمن کی تلواروں کا استقبال کرنے کے لیے تیار تھے دوسری جانب عثمانی لشکر انتہائی منظم اور فولادی نظم و ضبط کے ساتھ صف آرا تھا سلطان سلیم اول اپنے عظیم الشان خیمے کے باہر ایک اونچے ٹیلے پر اپنے سیاہ اور طاقتور گھوڑے پر سوار تھا اور اس کی عقابی نگاہیں میدان جنگ کا کمال باریک بینی سے جائزہ لے رہی تھیں اس کی دائیں اور بائیں جانب عثمانی گھڑ سوار اور پیادہ دستے کھڑے تھے جبکہ بالکل درمیان میں لوہے کی موٹی اور ناقابل تسخیر زنجیروں سے بندھی ہوئی وہ سینکڑوں سیاہ توپیں موجود تھیں جن کے دہانے موت اگلنے کے لیے بے تاب تھے اور ان توپوں کی اوٹ میں ینی چری کے مایہ ناز اور بے رحم نشانہ باز اپنی بھاری بندوقیں تانے اس لمحے کا انتظار کر رہے تھے جب ان کا خلیفہ انہیں فائر کا حکم دے گا اچانک شاہ اسماعیل نے اپنی چمکتی ہوئی شمشیر ہوا میں بلند کی اور اپنے خاص اور انتہائی جنگجو دستے کے ساتھ عثمانی لشکر کے دائیں بازو پر ایک ایسا قیامت خیز اور برق رفتار حملہ کیا کہ عثمانی صفوں میں بھونچال آ گیا قزلباش گھڑ سوار آندھی اور طوفان کی طرح آئے اور ان کی تلواریں عثمانی سپاہیوں کے گوشت اور ہڈیوں کو اس بے دردی سے کاٹنے لگیں کہ چشم زدن میں میدان جنگ خون سے لال ہو گیا قزلباشوں کی رفتار اتنی تیز اور ان کا حملہ اتنا اچانک اور سفاکانہ تھا کہ عثمانی گھڑ سواروں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا اور وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے شاہ اسماعیل خود سب سے آگے تھا اور اس کی تلوار بجلی کی طرح چمک رہی تھی وہ تن تنہا درجنوں عثمانی سپاہیوں کو موت کے گھاٹ اتار چکا تھا اور اس کی یہ دیوانہ وار بہادری دیکھ کر اس کے قزلباش سپاہیوں کا جنون مزید بڑھ گیا انہیں لگ رہا تھا کہ ان کے باطنی عقیدے کے مطابق ان کے مرشد کی روحانی طاقت واقعی انہیں ہر ہتھیار سے بچا رہی ہے اور وہ آج عثمانی لشکر کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیں گے اسی اثناء میں قزلباشوں کے ایک دوسرے بڑے دستے نے عثمانی لشکر کے بائیں بازو پر حسن پاشا کی قیادت میں لڑنے والے دستوں پر ایک انتہائی ہولناک ہلہ بول دیا حسن پاشا جو عثمانیوں کا ایک انتہائی بہادر اور مایہ ناز جرنیل تھا اس نے اپنے سپاہیوں کو ثابت قدم رہنے کا حکم دیا لیکن قزلباشوں کا سیلاب اتنا خون آشام اور شدید تھا کہ عثمانی صفیں ٹوٹنے لگیں تلواروں کے ٹکرانے کی کان پھاڑ دینے والی آوازیں زخمیوں کی دلدوز چیخیں اور کٹے ہوئے اعضا کا منظر اتنا خوفناک تھا کہ بڑے بڑے بہادروں کے دل دہل گئے قزلباش جانوروں کی طرح لڑ رہے تھے اور ان کی سرخ ٹوپیاں خون سے مزید سرخ ہو چکی تھیں انہوں نے حسن پاشا کے دستوں کو گھیرا ڈال لیا اور ایک انتہائی خونریز معرکے کے بعد حسن پاشا اور اس کے ہزاروں عثمانی سپاہی کٹ کر گر گئے بائیں بازو کی اس عبرتناک تباہی اور دائیں بازو کے مسلسل پیچھے ہٹنے کی خبر جب سلطان سلیم اول تک پہنچی تو اس کے چہرے پر ذرا بھی خوف یا پریشانی کے آثار نمودار نہیں ہوئے بلکہ اس کے ہونٹوں پر ایک انتہائی پراسرار اور سرد مسکراہٹ ابھر آئی کیونکہ قزلباش اپنے اندھے غرور اور روحانی جنون میں وہ سب سے بڑی اور مہلک غلطی کر چکے تھے جس کا سلطان سلیم صبح سے انتظار کر رہا تھا قزلباش عثمانی لشکر کے دائیں اور بائیں بازو کو دھکیلتے ہوئے بالکل اس درمیانی حصے کی طرف کھنچے چلے آ رہے تھے جہاں موت کا وہ فولادی جال بچھا ہوا تھا جس کا انہیں اندازہ تک نہیں تھا عثمانی فوج جان بوجھ کر پیچھے ہٹ رہی تھی اور قزلباش فتح کے نشے میں چور ان کا پیچھا کرتے ہوئے عین ان سیاہ دہانے والی توپوں کے سامنے آ چکے تھے جو لوہے کی مضبوط زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھیں اچانک سلطان سلیم نے اپنا ہاتھ بلند کیا اور میدان جنگ میں بگل کی ایک تیز اور دل دہلا دینے والی آواز گونجی یہ پیچھے ہٹنے والے عثمانی دستوں کے لیے ایک مخصوص اشارہ تھا آواز سنتے ہی عثمانی سپاہی تیزی سے دائیں اور بائیں جانب ہٹ گئے اور قزلباشوں کے سامنے کا میدان بالکل صاف ہو گیا جہاں اب ان کے اور ان سینکڑوں بھیانک توپوں کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں تھی شاہ اسماعیل کے گھوڑے کی رفتار کچھ لمحوں کے لیے دھیمی ہوئی اور اس کی نظر ان کالی اور لمبی نالیوں پر پڑی جن کے پیچھے کھڑے عثمانی توپچی اپنے ہاتھوں میں جلتے ہوئے شعلے پکڑے مسکرا رہے تھے اس سے پہلے کہ شاہ اسماعیل یا اس کے کسی قزلباش سپاہی کو کچھ سمجھ آتا سلطان سلیم نے اپنی تلوار پوری قوت سے نیچے گرائی اور توپچیوں نے وہ دہکتے ہوئے شعلے توپوں کے بارود کو دکھا دیے اگلے ہی لمحے چالدران کا وہ میدان ایک ایسی خوفناک اور کان کے پردے پھاڑ دینے والی گرج سے لرز اٹھا کہ جیسے آسمان پھٹ گیا ہو اور زمین شق ہو گئی ہو ان سینکڑوں توپوں نے ایک ہی وقت میں آگ اور سیسے کا وہ جہنمی طوفان اگلا جس نے قزلباشوں کے روحانی اور باطنی عقائد کے غبارے سے ایک ہی سیکنڈ میں ہوا نکال دی کیا بارود کا یہ اندھا اور بے رحم طوفان شاہ اسماعیل کو زندہ چھوڑے گا اور جب توپوں کا یہ کالا دھواں چھٹے گا تو قزلباشوں کے ننگے سینوں اور گوشت کے لوتھڑوں کا کیا بھیانک انجام ہونے والا تھا یہ وہ لمحہ تھا جہاں سے تاریخ کا وہ سب سے خونی اور عبرتناک باب شروع ہونے والا تھا جس کی دہشت سے آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
چالدران کا میدان: باطنی جنون کے زوال اور عثمانی ہیبت کی داستان
چالدران کے میدان میں جب سینکڑوں عثمانی توپوں نے بیک وقت آگ اور لوہے کا وہ جہنمی طوفان اگلا تو زمین اس طرح کانپ اٹھی جیسے قیامت صغریٰ برپا ہو گئی ہو اور آسمان پر بارود کے کالے اور گھنے دھوئیں نے سورج کی روشنی کو مکمل طور پر نگل لیا ان سیاہ دہانوں سے نکلنے والے بھاری اور گرم گولوں نے قزلباشوں کی ان صفوں کو سیکنڈوں میں چیتھڑوں میں تبدیل کر دیا جو کچھ لمحے پہلے فتح کے غرور اور اپنے باطنی عقائد کے نشے میں بدمست عثمانی فوج کو روندتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے وہ گھڑ سوار جو ننگے دھڑ اور بغیر کسی لوہے کی زرہ کے اپنے مرشد کی روحانی طاقت پر اندھا یقین کیے ہوئے موت کے منہ میں کود پڑے تھے اب ان کے جسموں کے ٹکڑے ہوا میں اڑ رہے تھے اور اعلیٰ نسل کے وہ شاندار گھوڑے جن پر انہیں بڑا ناز تھا اب بارود کی اس خوفناک گرج سے بدک کر اپنے ہی سواروں کو کچل رہے تھے توپوں کی اس پہلی ہیبت ناک اور تباہ کن گولہ باری نے قزلباشوں کے اس روحانی سحر اور طلسم کو پاش پاش کر دیا جس نے انہیں یہ جھوٹی تسلی دے رکھی تھی کہ کوئی دنیاوی ہتھیار انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا توپوں کے گرم گولے انسانی گوشت اور ہڈیوں کو اس بے دردی سے جلا اور کاٹ رہے تھے کہ میدانِ جنگ میں کٹے ہوئے بازوؤں، اڑتے ہوئے سروں اور خون کے فواروں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا مگر عثمانیوں کا یہ خونی اور بارودی قہر یہیں رکنے والا نہیں تھا توپوں کی اس پہلی اور لرزہ خیز گرج کے فوراً بعد جب دھوئیں کا بادل ذرا سا چھٹا تو قزلباشوں نے اپنے سامنے موت کا ایک اور بھیانک روپ دیکھا لوہے کی ان بھاری زنجیروں سے بندھی توپوں کے عین پیچھے کھڑے ینی چری کے مایہ ناز اور بے رحم نشانہ بازوں نے اپنی طویل اور بھاری بندوقوں کی نالیاں سیدھی کیں اور ایک انتہائی منظم اور صف بستہ انداز میں فائر کھول دیا اب توپوں کے بڑے گولوں کے ساتھ ساتھ سیسے کی ان ہزاروں گرم گولیوں کی بارش شروع ہو گئی جو بارش کے قطروں کی طرح قزلباشوں کے سینوں اور ان کے گھوڑوں کو چھلنی کر رہی تھیں چالدران کا وہ وسیع میدان جو صبح کے وقت ایک جنگ گاہ لگ رہا تھا اب ایک انتہائی ہولناک اور وسیع مذبح خانے کا منظر پیش کر رہا تھا جہاں انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بے دردی سے ذبح کیا جا رہا تھا ینی چری کے ان نشانہ بازوں کی مہارت اس قدر غضب ناک تھی کہ ان کی کوئی گولی خطا نہیں جا رہی تھی اور وہ ایک قطار فائر کر کے پیچھے ہٹتی تو دوسری قطار فوراً آگے آ کر بندوقوں کے منہ کھول دیتی جس سے موت کا یہ سلسلہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں رک رہا تھا شاہ اسماعیل جو کچھ دیر پہلے اپنی چمکتی شمشیر کے ساتھ عثمانی لشکر کے دائیں بازو کو چیرتا ہوا آگے بڑھا تھا اب اس بارودی جہنم کے عین وسط میں بری طرح پھنس چکا تھا اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے وہ مخلص اور دیوانے قزلباش سپاہی جو اسے خدا کا سایہ مانتے تھے گاجر مولی کی طرح کٹ کر گر رہے تھے اور ان کی لاشوں کے پہاڑ لگ رہے تھے شاہ اسماعیل نے اپنی بکھرتی اور کٹتی ہوئی فوج کو دوبارہ منظم کرنے کے لیے دیوانہ وار نعرے لگائے اور اپنے گھوڑے کو موت کے اس طوفان میں دائیں بائیں دوڑایا تاکہ وہ اپنے سپاہیوں کا حوصلہ بڑھا سکے لیکن توپوں کی کان پھاڑ دینے والی گرج اور بندوقوں کی مسلسل تڑتڑاہٹ میں اس کی آواز کسی کو سنائی نہیں دے رہی تھی وہ خون میں لت پت تھا اور اس کا وہ غرور جس نے اسے رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے سے روکا تھا اب چالدران کی اس خون آلود مٹی میں مل چکا تھا اس نے اپنی پوری طاقت جمع کی اور بچے کھچے قزلباش سواروں کے ایک دستے کے ساتھ عثمانی توپوں کی طرف ایک انتہائی مایوس کن اور خودکش حملہ کرنے کی کوشش کی تاکہ کسی طرح ان زنجیروں کو کاٹ کر توپوں کا منہ بند کیا جا سکے لیکن سلطان سلیم اول جو اس ساری تباہی کا انتہائی سرد مہری اور ایک ظالمانہ سکون کے ساتھ اپنے اونچے ٹیلے سے معائنہ کر رہا تھا اس نے اپنے مخصوص گھڑ سوار دستوں کو بائیں اور دائیں جانب سے آگے بڑھ کر قزلباشوں کا مکمل محاصرہ کرنے کا حتمی اشارہ کر دیا عثمانی گھڑ سوار اور پیادہ دستے جو اب تک پیچھے ہٹ کر قزلباشوں کو جال میں پھنسا رہے تھے اب پوری قوت سے پلٹے اور انہوں نے قزلباشوں کو چاروں طرف سے ایک فولادی دائرے میں گھیر لیا تلواروں، نیزوں اور گرزوں کی وہ ہولناک جھنکار دوبارہ شروع ہو گئی لیکن اس بار قزلباشوں کے دلوں میں فتح کا یقین نہیں بلکہ موت کی دہشت طاری تھی شاہ اسماعیل اپنے چند جانثاروں کے ساتھ اس خونی دائرے کے بالکل درمیان میں تنہا اور بے بس رہ گیا تھا اس کے دائیں بازو پر ایک شدید زخم آ چکا تھا اور اس کا گھوڑا بھی گولیوں کا نشانہ بن کر بری طرح لڑکھڑا رہا تھا عثمانی سپاہی چاروں طرف سے بھوکے بھیڑیوں کی طرح اس پر پل پڑے تھے اور ان کی خون آشام تلواریں ایران کے اس مبینہ دیوتا کو خاک میں ملانے کے لیے بے تاب تھیں کیا شاہ اسماعیل اس موت کے شکنجے سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو سکے گا یا سلطنتِ عثمانیہ کی یہ بارودی طاقت صفوی سلطنت کے بانی کو اس کی پہلی ہی بڑی جنگ میں موت کی نیند سلا دے گی اور جب جنگ کا آخری سورج غروب ہوگا تو چالدران کے اس میدان میں کس کی لاشیں بے گور و کفن پڑی ہوں گی یہ ایک ایسا سنسنی خیز اور دل دہلا دینے والا لمحہ تھا جس پر تاریخ کی سانسیں رکی ہوئی تھیں۔
تاریخ کا رخ موڑنے والی جنگ: جب شاہ اسماعیل کو ذلت آمیز فرار اختیار کرنا پڑا
چالدران کے اس خون آشام اور بارود کی بو سے لتھڑے ہوئے میدان میں جب شاہ اسماعیل اپنے چند جانثاروں کے ساتھ عثمانی فوج کے اس فولادی اور جان لیوا گھیرے میں بری طرح پھنس گیا تو اس کا وہ سارا روحانی غرور اور غالی دعوے ان توپوں کی گرج اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں کہیں غائب ہو چکے تھے اور اب وہ ایک عام اور بے بس انسان کی طرح اپنی جان بچانے کے لیے موت کے اس شکنجے میں ہاتھ پیر مار رہا تھا اس کا دایاں بازو شدید زخمی تھا اور خون کی دھاریں اس کے شاہی لباس کو سرخ کر رہی تھیں جبکہ اس کا وہ شاندار گھوڑا جس پر بیٹھ کر وہ صبح انتہائی تکبر سے مسکرا رہا تھا اب گولیوں اور خنجروں کے زخم کھا کر بری طرح لڑکھڑا رہا تھا اور کسی بھی لمحے زمین پر گرنے والا تھا چاروں طرف سے عثمانی سپاہی بھوکے بھیڑیوں کی طرح اس پر پل پڑے تھے اور ان کی خون آشام تلواریں ایران کے اس دیوتا کو خاک میں ملانے کے لیے بے تاب تھیں عثمانی گھڑ سواروں کا ایک دستہ انتہائی تیزی سے اس کے بالکل قریب پہنچ گیا اور ایک قوی ہیکل عثمانی سپاہی نے اپنا بھاری گرز شاہ اسماعیل کے سر پر مارنے کے لیے ہوا میں بلند کیا یہ وہ لمحہ تھا جب صفوی سلطنت کے بانی کی موت بالکل یقینی ہو چکی تھی اور تاریخ کی سانسیں جیسے رک گئی تھیں لیکن عین اسی لمحے جب موت کا وہ گرز اس کے سر پر گرنے ہی والا تھا شاہ اسماعیل کا ایک انتہائی وفادار اور دیوانہ قزلباش سپاہی جس کا نام مرزا علی تھا وہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر درمیان میں کود پڑا اور اس نے وہ ہولناک وار اپنے سینے پر روک لیا مرزا علی شکل و صورت اور لباس میں ہو بہو شاہ اسماعیل جیسا لگتا تھا اور اس نے زخم کھا کر گرتے گرتے انتہائی بلند آواز میں یہ نعرہ لگایا کہ میں شاہ اسماعیل ہوں مجھے گرفتار کر لو اس کی اس دیوانہ وار قربانی اور اس نعرے نے عثمانی سپاہیوں کو چند لمحوں کے لیے شدید دھوکے میں ڈال دیا اور ان کی پوری توجہ اس گرتے ہوئے مرزا علی کی طرف ہو گئی اور انہوں نے اسے اصلی شاہ سمجھ کر چاروں طرف سے گھیر لیا یہ وہ واحد اور سنہری موقع تھا جس نے شاہ اسماعیل کی جان بچا لی اس کے باقی ماندہ جانثاروں نے انتہائی پھرتی سے ایک تازہ دم اور تیز رفتار گھوڑا اس کے قریب کیا اور اسے سہارا دے کر اس پر سوار کر دیا شاہ اسماعیل جس کی آنکھوں میں اب فتح کے بجائے موت کی وحشت اور شکست کا خوف ناچ رہا تھا اس نے اپنے ہی ان ہزاروں وفادار قزلباشوں کو اسی بارودی جہنم اور کٹتی ہوئی لاشوں کے درمیان بے یار و مددگار چھوڑا جو اسے اپنا مرشد اور خدا مانتے تھے اور اس نے اپنے گھوڑے کی لگامیں موڑ کر میدان جنگ سے انتہائی ذلت آمیز فرار اختیار کر لیا وہ اتنی بدحواسی اور تیزی سے بھاگا کہ اس نے ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اپنے شاہی خیمے اپنی پوری سلطنت کا خزانہ اور یہاں تک کہ اپنی پیاری بیویوں کو بھی اسی میدان میں عثمانیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ گیا شاہ اسماعیل کے اس طرح بزدلی سے میدان چھوڑ کر بھاگ جانے کی خبر جب باقی لڑنے والے قزلباشوں تک پہنچی تو ان کے رہے سہے حوصلے بھی جواب دے گئے ان کا وہ باطنی اور غالی عقیدہ جس کے تحت وہ یہ مانتے تھے کہ ان کا مرشد جنگ کے میدان میں انہیں تنہا نہیں چھوڑے گا اور کوئی ہتھیار اس کا بال بیکا نہیں کر سکتا وہ عقیدہ آج چالدران کی مٹی میں ان کے اپنے ہی خون کے ساتھ لتھڑ کر ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا تھا ان دیوانوں کو اب پوری طرح احساس ہو رہا تھا کہ وہ ایک عام انسان کو کس طرح خدا کے درجے پر بٹھا بیٹھے تھے اور اب وہ بغیر کسی رہنما کے ان بے رحم عثمانی توپوں اور ینی چری کے نشانہ بازوں کے سامنے کٹنے کے لیے بالکل اکیلے رہ گئے تھے عثمانی فوج نے جب دیکھا کہ دشمن کا سپہ سالار ہی پیٹھ دکھا کر بھاگ نکلا ہے تو ان کے حملوں میں مزید شدت اور درندگی آ گئی انہوں نے میدان کو چاروں طرف سے مکمل طور پر بند کر دیا اور پھر جو قتل عام شروع ہوا اس نے انسانیت کی روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا کوئی قزلباش زندہ نہیں بچا ہزاروں کی تعداد میں وہ سرخ ٹوپیاں پہننے والے جو صبح غرور اور تکبر سے آئے تھے اب شام کے ڈھلتے سائے میں لاشوں کے انبار میں تبدیل ہو چکے تھے جب سورج نے اپنی آخری کرنیں سمیٹیں تو چالدران کا وہ ہموار میدان ایک مکمل قبرستان کا منظر پیش کر رہا تھا جہاں ہر طرف صرف خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں اور کٹے ہوئے انسانی اعضاء بکھرے پڑے تھے سلطان سلیم اول اپنے سیاہ گھوڑے پر سوار اس لاشوں کے سمندر کے درمیان سے گزرتا ہوا صفویوں کے اس شاہی کیمپ تک پہنچ گیا جسے شاہ اسماعیل اپنی جان بچانے کے لیے اپنے پیچھے چھوڑ گیا تھا سلطان سلیم کی عقابی نگاہوں میں اس عظیم الشان فتح کا کوئی تکبر نہیں تھا بلکہ ایک سرد اور پراسرار خاموشی تھی اس نے جب شاہ اسماعیل کے خیمے کے اندر قدم رکھا تو وہاں جو کچھ موجود تھا اس نے عثمانی لشکر کی آنکھیں خیرہ کر دیں کیونکہ وہاں صرف بے پناہ سونا اور ہیرے جواہرات ہی نہیں تھے بلکہ کچھ ایسا بھی تھا جس نے اس جنگ کے انجام کو ایک نیا اور انتہائی شرمناک موڑ دے دیا تھا کیا تھا اس شاہی خیمے میں اور شاہ اسماعیل کی ان چھوڑی ہوئی بیویوں کا سلطان سلیم نے کیا انجام کیا اور اس ایک جنگ نے کیسے صدیوں تک کے لیے مسلمانوں کی تاریخ بدل کر رکھ دی
خون، بارود اور تکبر: جنگ چالدران کے چھپے ہوئے حقائق
سلطان سلیم اول جب اپنے کالی رنگت والے قوی ہیکل گھوڑے پر سوار لاشوں اور خون کے ان تاریک اور لرزہ خیز سمندروں کو عبور کرتا ہوا شاہ اسماعیل کے اس عظیم الشان اور شاہی خیمے کے دروازے پر پہنچا تو اس کے چہرے پر فتح کا کوئی غرور یا تکبر نہیں تھا بلکہ ایک انتہائی سرد اور پراسرار خاموشی چھائی ہوئی تھی اس نے جب خیمے کے اندر قدم رکھا تو وہاں موجود مناظر نے پوری عثمانی قیادت کی آنکھیں خیرہ کر دیں کیونکہ وہاں صرف سونے چاندی کے ڈھیر ہیرے جواہرات اور ریشم کے بیش قیمت غلاف ہی نہیں بکھرے پڑے تھے بلکہ کچھ ایسا بھی تھا جس نے اس خونریز جنگ کے انجام کو ایک انتہائی شرمناک اور ذلت آمیز موڑ دے دیا تھا وہ شاہ اسماعیل جو چند گھنٹے پہلے تک خود کو ایک الہامی طاقت اور ناقابلِ تسخیر مرشدِ کامل سمجھتا تھا وہ موت کے خوف اور توپوں کی گرج سے اس قدر بدحواس ہو کر میدان سے بھاگا تھا کہ اس نے اپنی پیاری اور چہیتی بیویوں تک کو اسی خیمے میں عثمانیوں کے رحم و کرم پر لاوارث چھوڑ دیا تھا جن میں اس کی سب سے خاص اور چہیتی بیوی تاجلو خانم بھی شامل تھی جو اب خوف سے لرزتی ہوئی فاتح عثمانی فوج کے سامنے قیدی بن چکی تھی یہ تاریخ کا وہ تلخ اور کڑوا ترین سچ ہے جسے صفوی تاریخ دانوں نے ہمیشہ چھپانے کی کوشش کی کہ ایک ایسا حکمران جس کے نام پر ہزاروں قزلباشوں نے ننگے دھڑ کٹ کر اپنی جانیں دے دیں وہ اپنی جان بچانے کے لیے اپنی عزت اور ناموس تک میدانِ جنگ میں چھوڑ کر فرار ہو گیا سلطان سلیم اول نے کمالِ بے نیازی اور سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاہ اسماعیل کے خیمے کے تمام خزانوں کو مالِ غنیمت کے طور پر ضبط کر لیا اور اس کی بیوی تاجلو خانم اور دیگر خواتین کو انتہائی سخت پہرے میں قسطنطنیہ بھیج دیا جہاں بعد میں سلطان نے انتہائی تحقیر اور ذلت کے طور پر تاجلو خانم کا نکاح اپنے ایک عثمانی قاضی اور جرنیل سے کروا دیا تاکہ شاہ اسماعیل کے اس جھوٹے اور غالی غرور کو ہمیشہ کے لیے خاک میں ملا دیا جائے جو خود کو خدا کا سایہ سمجھتا تھا اس شرمناک فرار اور ذلت آمیز شکست کے بعد شاہ اسماعیل کی وہ ساری روحانی ہیبت اور طلسم ٹوٹ کر بکھر گیا جو اس نے اپنے اندھے پیروکاروں کے ذہنوں میں قائم کر رکھا تھا وہ شاہ اسماعیل جو اس جنگ سے پہلے کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوا تھا اور جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ہنستا مسکراتا اور انتہائی پراعتماد رہتا تھا اس جنگِ چالدران کے بعد تاریخ کے پنوں میں اس نے دوبارہ کبھی مسکرانے کی زحمت نہیں کی وہ اس قدر شدید ذہنی اور نفسیاتی صدمے اور شرمندگی کا شکار ہو گیا تھا کہ اس نے خود کو اپنے محل میں قید کر لیا اور شراب نوشی اور گہرے دکھ کے اندھیروں میں ڈوب گیا اس نے چالدران کے اس خونی دن کے بعد اپنی زندگی میں دوبارہ کبھی کسی فوج کی قیادت نہیں کی اور نہ ہی کسی میدانِ جنگ کا رخ کیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ عثمانی توپوں نے صرف اس کی فوج کو نہیں بلکہ اس کے اس جھوٹے الہامی دعوے کو بھی ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے دوسری طرف سلطان سلیم اول نے چالدران کی اس عظیم الشان فتح کے بعد تبریز پر بھی قبضہ کر لیا اور صفویوں کی کمر اس طرح توڑ دی کہ وہ آنے والی کئی دہائیوں تک عثمانیوں کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہ رہے اس جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا بلکہ مسلمانوں کی تاریخ میں ایک ایسی لکیر کھینچ دی جو آج تک مٹائی نہیں جا سکی اسی جنگ نے ہمیشہ کے لیے یہ فیصلہ کر دیا کہ اناطولیہ یعنی موجودہ ترکی اور اس کے آس پاس کے علاقے راسخ العقیدہ سنی مسلمانوں اور عثمانی خلافت کے زیرِ اثر رہیں گے جبکہ صفویوں کے غالی اور شیعی عقائد صرف ایران کی سرحدوں تک ہی محدود ہو کر رہ جائیں گے اگر اس دن سلطان سلیم اول اپنی توپوں اور بارود کے ساتھ شاہ اسماعیل کا راستہ نہ روکتا تو تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ صفویوں کا یہ طوفان پورے اناطولیہ اور مشرقِ وسطیٰ کو نگل جاتا اور آج اسلامی دنیا کا نقشہ اور عقائد کچھ اور ہی ہوتے چالدران کا وہ میدان آج بھی اس بات کا گواہ ہے کہ جب عقائد کا اندھا اور غالی جنون زمینی اور جدید جنگی حقیقتوں سے ٹکراتا ہے تو اس کا انجام کتنا بھیانک اور عبرتناک ہوتا ہے اور یوں پچیس اگست پندرہ سو چودہ کا وہ خونی دن تاریخ کے سینے پر ایک ایسے ناسور کی طرح نقش ہو گیا جس کی ٹیسیں آج بھی محسوس کی جا سکتی ہیں اور جہاں اپنوں کے خون سے لکھی گئی یہ داستان ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئی