برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا وہ انتہائی فیصلہ کن لرزہ خیز اور خون آشام موڑ جب ہندوستان کے تختِ دہلی پر لودھی سلطنت کا وہ مغرور متکبر اور انتہائی شکی مزاج حکمران سلطان ابراہیم لودھی براجمان تھا جس کی سختیوں اور بے جا ظلم و ستم نے اس کے اپنے ہی دربار کے امراء وزیروں اور جرنیلوں کو اس کا بدترین اور جانی دشمن بنا دیا تھا ابراہیم لودھی ایک ایسا کٹھور دل حکمران تھا جسے اپنے تخت کے غرور نے اس قدر اندھا کر دیا تھا کہ وہ معمولی معمولی شبہات پر اپنے ہی انتہائی وفادار افغان سرداروں کو سرِ دربار ذلیل کرتا انہیں قید خانوں میں ڈال دیتا اور انتہائی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیتا جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ پوری سلطنت کے اندر بغاوت کے خوفناک شعلے بھڑک اٹھے اور پنجاب کے طاقتور گورنر دولت خان لودھی اور میواڑ کے عظیم جنگجو راجپوت حکمران رانا سانگا نے دہلی کے اس متکبر تخت کو ہمیشہ کے لیے الٹنے اور اس ظلم کے نظام کو ختم کرنے کا ایک ایسا انتہائی خطرناک اور بھیانک منصوبہ بنایا جس نے ہندوستان کی تاریخ کا دھارا ہمیشہ کے لیے موڑ کر رکھ دیا انہوں نے ہندوستان کی سرحدوں سے بہت دور کابل کے ان سنگلاخ اور دشوار گزار پہاڑوں میں بیٹھے ہوئے ایک ایسے انتہائی منجھے ہوئے تجربہ کار اور جنگجو فرمانروا ظہیر الدین محمد بابر کو ہندوستان پر حملہ کرنے اور ابراہیم لودھی کا غرور خاک میں ملانے کا خفیہ اور تاریخی دعوت نامہ بھیج دیا جو خود وسطی ایشیا میں اپنی آبائی ریاست فرغانہ اور سمرقند کی تخت نشینی کی خونی اور طویل جنگیں ہارنے کے بعد کابل میں اپنی ایک چھوٹی لیکن انتہائی مضبوط اور فولادی ریاست قائم کر چکا تھا بابر کوئی عام حکمران یا لٹیرا نہیں تھا بلکہ وہ ایک انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ دور اندیش اور عسکری حکمتِ عملی کا بے تاج بادشاہ تھا جس کی رگوں میں ماں کی طرف سے چنگیز خان اور باپ کی طرف سے امیر تیمور جیسے دنیا کے دو سب سے بڑے اور ہیبت ناک فاتحین کا خون دوڑ رہا تھا اور اس کی عقابی نگاہیں ایک لمبے عرصے سے ہندوستان کی اس زرخیز اور سونے کی چڑیا کہلانے والی سرزمین پر جمی ہوئی تھیں جب دولت خان لودھی کا یہ دعوت نامہ بابر کے دربار میں پہنچا تو اس نے اسے اپنی زندگی کا وہ سنہری ترین اور آخری موقع سمجھا جس کا وہ برسوں سے بے صبری سے انتظار کر رہا تھا اس نے فوراً اپنے انتہائی وفادار جانثار اور جنگی مہارت میں یکتا لشکر کو ہندوستان کی طرف کوچ کرنے کا حتمی حکم دے دیا یہ کوئی عام لشکر نہیں تھا بلکہ یہ وہ مٹھی بھر جنگجو تھے جنہوں نے وسطی ایشیا کی کڑاکے دار سردیوں بھوک پیاس اور موت کو انتہائی قریب سے دیکھ رکھا تھا اور جو اپنے سردار بابر کے ایک اشارے پر آگ کے سمندر میں بھی کودنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے لیکن اس تمام تر حیرت انگیز بہادری اور جنگی مہارت کے باوجود بابر کا یہ لشکر تعداد کے لحاظ سے ابراہیم لودھی کی اس خوفناک اور عظیم الشان فوج کے سامنے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تھا تاریخی حقائق اور مستند حوالوں کے مطابق جب بابر اپنی اس مہم پر کابل سے نکلا تو اس کے ساتھ اس کے جنگجو لشکریوں خادموں اور سامان اٹھانے والوں کو ملا کر کل تعداد بمشکل بارہ ہزار کے قریب تھی جبکہ دوسری طرف دہلی کے تخت کو بچانے اور اس بیرونی حملے کو کچلنے کے لیے ابراہیم لودھی نے ہندوستان کے طول و عرض سے ایک لاکھ سے زائد انتہائی خونخوار سپاہیوں اور ایک ہزار سے زائد ان دیوہیکل اور جنگی تربیت یافتہ ہاتھیوں کا ایک ایسا مہیب اور چلتا پھرتا طوفان جمع کر لیا تھا جس کے چلنے سے زمین کانپتی تھی اور جس کے سامنے دنیا کی کوئی بھی فوج کھڑے ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی یہ تعداد کا ایک ایسا انتہائی خوفناک اور ہوش اڑا دینے والا فرق تھا کہ اگر کوئی اور عام سپہ سالار بابر کی جگہ ہوتا تو وہ ابراہیم لودھی کے اس ایک لاکھ کے ٹڈی دل لشکر اور ان پہاڑ جیسے ہاتھیوں کی خبر سن کر ہی اپنا راستہ بدل لیتا یا خوف سے پسپائی اختیار کر لیتا لیکن بابر ان بارہ ہزار دیوانوں کی قیادت کرتے ہوئے خوفزدہ ہونے کے بجائے ایک انتہائی پراسرار اور خطرناک حد تک پرسکون حالت میں تھا کیونکہ اس کے پاس محض تلواریں نیزے اور تیر کمان نہیں تھے بلکہ اس کی فوج میں کچھ ایسا موت کا سامان چھپا ہوا تھا جس سے ہندوستان کی زمین آسمان اور ابراہیم لودھی کی وہ ایک لاکھ کی فوج بالکل ناآشنا تھی اور وہ تھی عثمانی سلطنت سے خریدی گئی وہ جدید ترین اور تباہ کن ٹیکنالوجی جسے بارود کہا جاتا تھا بابر کی اس مختصر فوج کے بالکل درمیان میں اس کے دو انتہائی ماہر اور مایہ ناز توپچی استاد علی قلی اور مصطفیٰ رومی موجود تھے جو اپنے ساتھ ان بھاری اور موت اگلنے والی توپوں اور لمبی نالی والی بندوقوں کو مضبوط بیل گاڑیوں پر لاد کر ہندوستان کی اس سر زمین پر لا رہے تھے جہاں اس سے پہلے کبھی کسی نے میدانِ جنگ میں بارود کی گرج اور دھماکے کی ہیبت ناک آواز تک نہیں سنی تھی بابر کا یہ مختصر اور بارودی کارواں درہ خیبر اور دریائے سندھ کو عبور کرتا ہوا پنجاب کے میدانوں کو روندتا اور مخالفین کے چھوٹے موٹے لشکروں کو گاجر مولی کی طرح کاٹتا ہوا انتہائی تیزی اور عزم کے ساتھ دہلی کی طرف بڑھ رہا تھا اور بالاخر اپریل پندرہ سو چھبیس کے ان انتہائی گرم اور تپتے ہوئے دنوں میں تاریخ کے ان دونوں بڑے اور متضاد لشکروں کا آمنا سامنا دہلی سے محض چند میل کی دوری پر پانی پت کے اس وسیع ہموار اور خشک میدان میں ہو گیا جہاں کی پیاسی مٹی آنے والے چند دنوں میں ایک ایسا ہولناک اور بے دردی سے بہنے والا خون پینے والی تھی جس نے ہندوستان کے تخت اور قسمت کا فیصلہ آنے والی کئی صدیوں کے لیے کر دینا تھا بابر نے جب پانی پت کے میدان میں پہنچ کر سامنے حدِ نگاہ تک پھیلے ہوئے ابراہیم لودھی کے اس ایک لاکھ کے لشکر اور ان چنگھاڑتے ہوئے جنگی ہاتھیوں کی صفوں کو دیکھا تو اس نے فوراً اپنی اس مختصر سی بارہ ہزار کی فوج کو اس میدان میں خیمہ زن ہونے کا حکم دیا اور رات کے اس گہرے سناٹے میں اپنے خیمے میں اکیلے بیٹھ کر ایک ایسی حیرت انگیز بے مثال اور تاریخ کی سب سے خطرناک جنگی حکمت عملی ترتیب دینا شروع کی جس نے پانی پت کے اس میدان کو ابراہیم لودھی کی اس ایک لاکھ فوج کے لیے ایک ایسا اندھا فولادی اور بارودی جال بنا دینا تھا جس میں پھنسنے کے بعد ان کا زندہ بچ کر نکلنا بالکل ناممکن ہو گیا تھا آخر بابر نے ان جنگی ہاتھیوں کے طوفان کو روکنے کے لیے رات کے اندھیرے میں اپنے بارہ ہزار سپاہیوں سے کیا کام کروایا اور استاد علی قلی نے ان خندقوں اور بیل گاڑیوں کے پیچھے موت کا وہ کون سا بھیانک سامان چھپایا جس نے اگلی صبح میدانِ جنگ کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دینا تھا یہ وہ سنسنی خیز اور دل کی دھڑکنیں روک دینے والا موڑ ہے جہاں سے ہندوستان کی تاریخ کا وہ سب سے خونی اور عبرتناک دن شروع ہونے والا تھا۔
پانی پت کے اس خشک اور وسیع میدان میں جب اکیس اپریل پندرہ سو چھبیس کی وہ ہولناک اور تاریخی رات اتری تو ایک طرف ابراہیم لودھی کا وہ ایک لاکھ کا ٹڈی دل لشکر اور ہزاروں چنگھاڑتے ہوئے جنگی ہاتھی اپنی تعداد اور طاقت کے زعم میں بدمست سو رہے تھے اور دوسری طرف ظہیر الدین بابر کی وہ بارہ ہزار کی مختصر لیکن انتہائی منظم اور فولادی فوج جاگ کر تاریخ کی وہ سب سے حیرت انگیز اور جان لیوا خندقیں کھودنے اور موت کا وہ بچھونا بچھانے میں مصروف تھی جس نے اگلی صبح ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ کرنا تھا بابر بخوبی جانتا تھا کہ اگر اس کے بارہ ہزار سپاہی کھلے میدان میں ابراہیم لودھی کے ایک لاکھ سپاہیوں اور ان پہاڑ جیسے ہاتھیوں کے سامنے آ گئے تو وہ ہاتھی انہیں لمحوں میں اپنے پیروں تلے کچل کر رکھ دیں گے اس لیے اس جنگی عبقری نے رات کے اس گہرے سناٹے میں ایک ایسی ناقابل تسخیر دفاعی دیوار کھڑی کرنے کا حکم دیا جس کی مثال ہندوستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں ملتی اس نے اپنے دائیں بازو کو پانی پت شہر کی ان پختہ عمارتوں اور مکانوں کے ساتھ مکمل طور پر محفوظ کر لیا تاکہ دشمن کا کوئی بھی دستہ وہاں سے حملہ آور نہ ہو سکے اور اپنے بائیں بازو کی طرف جہاں میدان بالکل کھلا اور غیر محفوظ تھا وہاں اس نے راتوں رات اپنے سپاہیوں سے انتہائی گہری اور چوڑی خندقیں کھدوائیں اور ان خندقوں کو درختوں کی کٹی ہوئی شاخوں اور خاردار جھاڑیوں سے اس طرح ڈھک دیا کہ وہ دور سے بالکل ہموار زمین نظر آئے اور دشمن کے گھوڑے اور ہاتھی اس دھوکے میں آ کر سیدھے موت کے اس گڑھے میں گر جائیں لیکن بابر کی اس جنگی حکمت عملی کا سب سے خوفناک اور موت اگلنے والا حصہ اس کے لشکر کا بالکل درمیانی حصہ تھا جہاں اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ ارد گرد کے دیہاتوں سے سات سو کے قریب بیل گاڑیاں اکٹھی کریں اور ان بیل گاڑیوں کو چمڑے کی انتہائی مضبوط اور موٹی رسیوں کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح باندھ کر کھڑا کر دیں کہ وہ دشمن کے لیے لوہے کی ایک ایسی ناقابل تسخیر دیوار بن جائیں جسے توڑنا کسی بھی ہاتھی یا گھڑ سوار کے لیے بالکل ناممکن ہو جائے اور ان بیل گاڑیوں کے عین پیچھے بابر کے وہ مایہ ناز اور بے رحم توپچی استاد علی قلی اور مصطفیٰ رومی اپنی ان بھاری اور سیاہ دہانوں والی توپوں اور طویل نالیوں والی بندوقوں کو چھپا کر کھڑے تھے جنہیں اس سے پہلے ہندوستان کی مٹی نے کبھی نہیں دیکھا تھا بابر نے ان بیل گاڑیوں کی قطار کے درمیان جان بوجھ کر اتنی جگہ خالی چھوڑی تھی کہ وہاں سے اس کے اپنے سواروں کے چھوٹے اور تیز رفتار دستے اچانک نکل کر دشمن پر حملہ کر سکیں اور پھر واپس اسی دفاعی دیوار کے پیچھے چھپ کر محفوظ ہو جائیں اس حیرت انگیز جنگی حکمت عملی کو تاریخ میں تلمغہ کہا جاتا ہے جس کا مقصد دشمن کو سامنے سے الجھا کر اس کے دائیں اور بائیں پہلوؤں سے اچانک اور برق رفتاری سے حملہ کرنا ہوتا ہے جب رات کا وہ بھیانک اور طویل اندھیرا چھٹنے لگا اور پانی پت کے میدان پر اس خونی صبح کا سورج طلوع ہوا تو بابر کا وہ بارہ ہزار کا لشکر اپنی اس فولادی اور بارودی دیوار کے پیچھے انتہائی خاموشی نظم و ضبط اور صبر کے ساتھ موت کا انتظار کر رہا تھا ان کے چہروں پر ایک عجیب سی سنجیدگی اور درود و سلام کا ورد تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آج یا تو وہ ہندوستان کے تخت پر بیٹھیں گے یا پھر اس اجنبی اور بیگانی مٹی میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں گے دوسری طرف جیسے ہی سورج کی پہلی کرن نمودار ہوئی ابراہیم لودھی کے اس عظیم الشان اور متکبر لشکر کے خیموں میں نقاروں کی وہ کان پھاڑ دینے والی آوازیں گونج اٹھیں جنہوں نے زمین کے سینے کو لرزا کر رکھ دیا ایک لاکھ خونخوار افغان اور راجپوت سپاہی اپنی ننگی تلواریں اور لمبے نیزے لہراتے ہوئے اور ایک ہزار سے زائد وہ دیوہیکل اور فولادی زرہ بکتر میں لپٹے ہوئے جنگی ہاتھی جن کی سونڈوں کے ساتھ زہریلی اور بھاری تلواریں باندھی گئی تھیں ایک ایسے طوفان کی طرح آگے بڑھنے لگے جس کا مقصود بابر کے اس مٹھی بھر لشکر کو اپنے پیروں تلے کچلنا تھا ابراہیم لودھی اپنے ایک انتہائی اونچے اور شاندار ہاتھی پر سوار تکبر سے مسکرا رہا تھا کیونکہ اس کا ماننا تھا کہ یہ بارہ ہزار غیر ملکی لٹیرے اس کے ہاتھیوں کی پہلی ٹکر بھی برداشت نہیں کر پائیں گے اور ہوا میں تنکوں کی طرح اڑ جائیں گے ہاتھیوں کی چنگھاڑیں گھوڑوں کی ٹاپیں اور ایک لاکھ انسانوں کے قدموں کی دھمک جب بابر کی اس دفاعی دیوار کے قریب پہنچنے لگی تو فضا میں اڑنے والی گرد نے سورج کی روشنی کو مکمل طور پر نگل لیا اور ہر طرف ایک تاریک اور دم گھونٹ دینے والا غبار چھا گیا بابر کے سپاہی اپنی سانسیں روکے ہوئے اپنی تلواروں کے دستوں کو مضبوطی سے پکڑے ان خندقوں اور بیل گاڑیوں کے پیچھے کھڑے اس لمحے کا انتظار کر رہے تھے جب ان کا سپہ سالار انہیں وار کرنے کا حتمی اشارہ دے گا اور ابراہیم لودھی کا وہ بپھرا ہوا اور اندھا لشکر اپنی پوری طاقت اور رفتار کے ساتھ عین اسی موت کے جال کی طرف کھنچا چلا آ رہا تھا جو بابر نے رات کے اندھیرے میں ان کے لیے بچھایا تھا کیا ابراہیم لودھی کے وہ مغرور اور فولادی ہاتھی بابر کی اس بیل گاڑیوں کی دیوار کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور جب استاد علی قلی اپنی ان سیاہ توپوں کو آگ دکھائے گا تو ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار بارود کی وہ کان پھاڑ دینے والی گرج ان ایک لاکھ انسانوں اور جانوروں پر کیسی قیامت اور کیسا موت کا رقص برپا کرے گی یہ فیصلہ اب محض چند لمحوں کی دوری پر تھا اور پانی پت کی وہ پیاسی زمین اس خونی ہولی کے شروع ہونے کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی۔
پانی پت کے اس خوفناک اور غبار آلود میدان میں جب ابراہیم لودھی کا وہ ایک لاکھ کا بپھرا ہوا لشکر اور وہ ہزاروں جنگی ہاتھی جنہیں موت کی چلتی پھرتی دیواریں سمجھا جاتا تھا انتہائی تکبر اور اندھے غرور کے ساتھ ظہیر الدین بابر کی اس مٹھی بھر فوج کو روندنے کے لیے آگے بڑھے تو زمین ان کے قدموں کی دھمک سے اس طرح کانپنے لگی جیسے کوئی زلزلہ آ گیا ہو ہاتھیوں کی وہ پہلی اور انتہائی ہیبت ناک قطار جب چنگھاڑتی ہوئی بابر کی ان مضبوط اور چمڑے کی رسیوں سے بندھی ہوئی بیل گاڑیوں کے بالکل قریب پہنچی تو ان ہاتھیوں پر بیٹھے ہوئے افغان اور راجپوت سواروں نے یہ سمجھا کہ وہ محض ایک ہی زور دار ٹکر میں لکڑی کی اس معمولی سی رکاوٹ کو تنکوں کی طرح اڑا کر رکھ دیں گے لیکن ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان بیل گاڑیوں کے عین پیچھے موت کا وہ بھیانک اور بارودی طوفان ان کا انتظار کر رہا ہے جس کا تجربہ ہندوستان کی اس سرزمین نے آج تک نہیں کیا تھا بابر جو انتہائی پرسکون اور عقابی نگاہوں سے دشمن کی ہر حرکت کو دیکھ رہا تھا اس نے عین اس لمحے جب ہاتھیوں کی وہ دیوہیکل قطار ان بیل گاڑیوں سے ٹکرانے ہی والی تھی اپنا ہاتھ انتہائی تیزی سے ہوا میں بلند کیا اور اپنے لشکر کو وار کرنے کا وہ حتمی اور فیصلہ کن اشارہ دے دیا جس کا وہ سب بے صبری سے انتظار کر رہے تھے یہ اشارہ ملتے ہی بابر کے وہ مایہ ناز اور بے رحم توپچی استاد علی قلی اور مصطفیٰ رومی جو اب تک اپنی ان سیاہ اور بھاری توپوں کے دہانوں پر خاموشی سے کھڑے تھے انہوں نے فوراً دہکتے ہوئے شعلے ان توپوں کے بارود کو دکھا دیے اور اگلے ہی لمحے پانی پت کا وہ میدان ایک ایسی لرزہ خیز اور کان کے پردے پھاڑ دینے والی گرج سے گونج اٹھا جس نے زمین کے سینے کو چیر کر رکھ دیا اور آسمان پر بارود کے کالے اور گھنے دھوئیں کا ایک ایسا ہیبت ناک بادل چھا گیا جس نے سورج کی روشنی کو مکمل طور پر نگل لیا ان سینکڑوں توپوں اور لمبی نالی والی طفنگوں نے ایک ہی وقت میں آگ اور لوہے کا وہ جہنمی طوفان اگلا جس کے گولے انتہائی تیزی اور بے دردی سے سیدھے ان جنگی ہاتھیوں کے ماتھوں اور ان کے سواروں کے سینوں پر جا لگے وہ ہاتھی جو تیروں اور تلواروں کے عادی تھے انہوں نے جب اپنی زندگی میں پہلی بار بارود کی یہ کان پھاڑ دینے والی گرج سنی اور آگ کے ان بڑے بڑے گولوں کو اپنے جسموں کا گوشت چاک کرتے ہوئے محسوس کیا تو ان کے اندر ایک ایسی اندھی وحشت اور موت کا خوف پیدا ہو گیا جس نے انہیں بالکل پاگل اور بے قابو کر دیا ان ہاتھیوں نے آگے بڑھنے اور بابر کی دیوار کو توڑنے کے بجائے انتہائی بدحواسی میں چیختے اور چنگھاڑتے ہوئے پیچھے کی طرف مڑنا شروع کر دیا اور یہی وہ سب سے ہولناک اور قیامت خیز لمحہ تھا جس نے ابراہیم لودھی کے اس عظیم الشان لشکر کی قسمت کا فیصلہ ہمیشہ کے لیے کر دیا وہ ہزاروں پاگل اور زخمی ہاتھی جو اب درد اور بارود کے خوف سے اندھے ہو چکے تھے وہ کسی افغان سردار کی لگام یا حکم ماننے کو تیار نہیں تھے اور انہوں نے مڑ کر اپنی ہی اس ایک لاکھ کی فوج کو اپنے بھاری پیروں تلے انتہائی بے دردی سے کچلنا شروع کر دیا جو ان کے بالکل پیچھے کھڑی تھی ابراہیم لودھی کی صفوں میں ایک ایسی عبرتناک اور خون آشام بھگدڑ مچ گئی کہ سپاہی اپنے ہی ہاتھیوں کے پیروں تلے کچلے جانے لگے انسانوں کی چیخیں ہڈیوں کے ٹوٹنے کی آوازیں اور ہاتھیوں کی دیوانہ وار چنگھاڑیں مل کر پانی پت کے میدان کو ایک ایسے وسیع اور بھیانک مذبح خانے میں تبدیل کر چکی تھیں جہاں انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا جا رہا تھا ابراہیم لودھی جو اپنے اونچے ہاتھی پر سوار تکبر سے اس جنگ کا منظر دیکھنے آیا تھا اب اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی اپنی ہی فوج اس کے اپنے ہی جانوروں کے ہاتھوں کٹ کر گر رہی تھی لیکن بابر کا وہ جنگی اور عسکری قہر یہیں پر رکنے والا نہیں تھا جب اس نے دیکھا کہ ابراہیم لودھی کا درمیانی لشکر مکمل طور پر افراتفری اور تباہی کا شکار ہو چکا ہے تو اس نے فوراً اپنی اس حیرت انگیز اور مہلک جنگی حکمت عملی کو حرکت میں لانے کا حکم دیا جسے تلمغہ کہا جاتا تھا بابر کے وہ انتہائی تیز رفتار اور مایہ ناز گھڑ سوار دستے جو اب تک میدان کے دائیں اور بائیں پہلوؤں پر انتہائی خاموشی سے چھپے ہوئے تھے وہ اچانک آندھی اور طوفان کی طرح نکلے اور انہوں نے انتہائی تیزی سے ایک بڑا چکر کاٹ کر ابراہیم لودھی کے اس ایک لاکھ کے بکھرے ہوئے لشکر کو پیچھے سے مکمل طور پر گھیر لیا اب وہ افغان اور راجپوت سپاہی جو آگے سے اپنی ہی فوج کے پاگل ہاتھیوں اور بابر کی موت اگلتی توپوں کا نشانہ بن رہے تھے وہ پیچھے سے ان مغل گھڑ سواروں کے خطرناک اور جان لیوا تیروں کی بارش میں بری طرح پھنس چکے تھے بابر کے ان ماہر تیر اندازوں کی مہارت اس قدر غضب ناک تھی کہ ان کا کوئی بھی تیر خطا نہیں جا رہا تھا اور وہ گھوڑوں پر انتہائی تیزی سے دوڑتے ہوئے دشمن کے سینوں کو چھلنی کر رہے تھے ابراہیم لودھی کا وہ ایک لاکھ کا متکبر لشکر جو صبح کے وقت ایک ناقابل تسخیر طوفان لگ رہا تھا اب وہ چاروں طرف سے ایک ایسے موت کے شکنجے اور فولادی دائرے میں قید ہو چکا تھا جہاں سے زندہ بچ کر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا خون کی وہ ندیاں بہہ رہی تھیں کہ پانی پت کی پیاسی زمین بھی وہ خون پیتے پیتے سیراب ہو چکی تھی اور ہر طرف صرف کٹے ہوئے انسانی اعضاء لاشوں کے انبار اور تڑپتے ہوئے زخمیوں کی دلدوز آہیں سنائی دے رہی تھیں ابراہیم لودھی اپنے چند ہزار جانثاروں کے ساتھ اس خونی دائرے کے بالکل درمیان میں پھنس چکا تھا اور اس کا وہ سارا غرور اور تکبر پانی پت کی اس خون آلود خاک میں مل چکا تھا کیا ہندوستان کے تخت کا یہ مغرور وارث اپنی جان بچا کر میدان سے بھاگ نکلے گا یا پھر وہ اپنے ہی افغان سرداروں کے ساتھ اس بارودی جہنم میں اپنے انجام کو پہنچے گا اور جب سورج غروب ہوگا تو اس میدان میں کس کا راج ہوگا یہ فیصلہ کن اور آخری خونی معرکہ اب اپنے انتہائی سنسنی خیز اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا۔
پانی پت کے اس تاریک اور خون آشام میدان میں جہاں دوپہر ڈھلنے کے ساتھ ہی لاشوں کے انبار پہاڑوں کی شکل اختیار کر چکے تھے اور فضا میں پھیلی ہوئی بارود کی گھٹن اور خون کی تیز بو نے سانس لینا بھی محال کر دیا تھا وہاں ابراہیم لودھی کا وہ مغرور اور ایک لاکھ کا ٹڈی دل لشکر اب مکمل طور پر ظہیر الدین بابر کے اس ناقابل تسخیر جنگی شکنجے میں پس کر موت کے گھاٹ اتر رہا تھا بابر کی اس حیرت انگیز اور قاتلانہ تلمغہ جنگی حکمت عملی نے لودھی فوج کو چاروں طرف سے ایک ایسے فولادی دائرے میں قید کر دیا تھا جہاں سے نکلنے کی ہر کوشش مزید جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی تھی آگے سے بابر کے مایہ ناز توپچی استاد علی قلی اور مصطفیٰ رومی کی وہ سیاہ دہانوں والی توپیں مسلسل اور بے دردی سے آگ اور سیسے کا طوفان اگل رہی تھیں جس نے ہاتھیوں کو پاگل کر کے ان کی اپنی ہی فوج کو روندنے پر مجبور کر دیا تھا اور پیچھے اور پہلوؤں سے مغل گھڑ سواروں کے وہ ماہر اور چابک دست تیر انداز آندھی کی طرح دوڑتے ہوئے ان افغان اور راجپوت سپاہیوں کے سینوں کو اپنے زہریلے اور تیز رفتار تیروں سے چھلنی کر رہے تھے جو جان بچانے کے لیے اندھا دھند ادھر ادھر بھاگ رہے تھے افغان فوج کی صفوں میں نظم و ضبط نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی تھی اور وہ جرنیل اور سردار جو صبح ابراہیم لودھی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بلند و بانگ دعوے کر رہے تھے اب یا تو میدان میں کٹے پڑے تھے یا پھر اپنی جانیں بچا کر انتہائی ذلت اور رسوائی کے ساتھ میدان سے فرار ہو چکے تھے اس قیامت خیز اور مایوس کن صورتحال میں ابراہیم لودھی جو اپنے اس اونچے اور شاندار ہاتھی پر سوار تھا جس کے گرد اس کے سب سے زیادہ وفادار اور جانثار پانچ چھ ہزار شاہی محافظوں کا ایک حلقہ موجود تھا اس نے جب اپنی ہی فوج کو گاجر مولی کی طرح کٹتے اور اپنے غرور کو پانی پت کی اس خون آلود خاک میں ملتے دیکھا تو اس کے دل میں موت کا وہ سرد اور بھیانک خوف طاری ہونے کے بجائے ایک عجیب سی مایوسی اور ہٹ دھرمی پیدا ہو گئی اس کے انتہائی قریبی مشیروں اور سرداروں نے اس کے ہاتھی کے قریب آ کر اس کے گھٹنے چھو کر انتہائی منت سماجت اور گڑگڑا کر التجا کی کہ وہ اس ہارے ہوئے میدان سے اپنی جان بچا کر دہلی کی طرف نکل جائے تاکہ وہ دوبارہ فوج اکٹھی کر کے اس بیرونی حملہ آور کا مقابلہ کر سکے لیکن ابراہیم لودھی جو اپنی ہٹ دھرمی اور تکبر کے لیے پورے ہندوستان میں بدنام تھا اس نے میدان چھوڑ کر بھاگنے کی اس ذلت آمیز تجویز کو انتہائی حقارت سے ٹھکرا دیا اور اپنے ہاتھی سے نیچے اتر کر تلوار سونت لی اور اپنے ان چند ہزار بچے کھچے جانثاروں کے ساتھ بابر کے اس بارودی اور خونی شکنجے کے بالکل درمیان میں موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑنے کا وہ حتمی اور خودکش فیصلہ کر لیا جس نے اس کی قسمت پر موت کی پکی مہر ثبت کر دی وہ تلواریں لہراتے اور نعرے مارتے ہوئے اپنے ان آخری وفاداروں کے ساتھ مغل فوج کی اس آہنی دیوار کی طرف بڑھا جہاں سے موت کے گولے برس رہے تھے تلواروں سے تلواریں ٹکرانے ڈھالوں کے کٹنے اور انسانی گوشت کے چیرے جانے کی وہ بھیانک اور دل دہلا دینے والی آوازیں دوبارہ گونج اٹھیں ابراہیم لودھی اور اس کے سردار انتہائی بے جگری اور دیوانگی سے لڑے لیکن بابر کے ان منظم اور جنگی مہارت میں یکتا مغل جنگجوؤں کے سامنے ان کی یہ آخری اور مایوس کن جدوجہد ریت کی دیوار ثابت ہوئی مغل سپاہیوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور ان کی خون آشام تلواروں اور نیزوں نے ابراہیم لودھی کے ان آخری محافظوں کو بھی ایک ایک کر کے موت کی نیند سلا دیا اور پھر تاریخ کا وہ انتہائی لرزہ خیز اور عبرتناک لمحہ آیا جب ہندوستان کے تخت کا وہ متکبر اور مغرور وارث جس کے ایک اشارے پر ہزاروں گردنیں کاٹ دی جاتی تھیں بے شمار زخم کھا کر پانی پت کی اس اجنبی مٹی پر منہ کے بل گر پڑا اور اس کی آخری سانسوں کے ساتھ ہی لودھی سلطنت کا وہ پرشکوہ سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا جب شام کے سائے گہرے ہونے لگے اور توپوں کی وہ کان پھاڑ دینے والی گرج اور تلواروں کی جھنکار مکمل طور پر تھم گئی تو پانی پت کے اس وسیع میدان پر ایک ایسی بھیانک اور موت جیسی خاموشی چھا گئی جو کسی بہت بڑے طوفان کے گزر جانے کے بعد طاری ہوتی ہے میدان کا کوئی بھی ایسا حصہ نہیں تھا جہاں کٹے ہوئے انسانی اعضاء خون کے جوہڑ اور مرے ہوئے ہاتھیوں اور گھوڑوں کی لاشیں بکھری ہوئی نہ ہوں بابر اپنے گھوڑے پر سوار اس لاشوں کے سمندر کا معائنہ کرنے نکلا تو اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیم لودھی کی لاش تلاش کریں اور کچھ ہی دیر بعد لاشوں کے ایک بہت بڑے اور اونچے ڈھیر کے نیچے سے اس مغرور سلطان کی خون میں لت پت اور زخموں سے چھلنی لاش برآمد کر لی گئی اور جب اس کی کٹی ہوئی گردن کو ظہیر الدین بابر کے سامنے پیش کیا گیا تو بابر نے اس لاش کو دیکھ کر کوئی تکبر یا خوشی کا اظہار نہیں کیا بلکہ ایک فاتح کی حیثیت سے اس مقتول بادشاہ کی بہادری کی تعریف کی جس نے میدان سے بھاگنے کے بجائے مردوں کی طرح لڑتے ہوئے جان دینا قبول کیا اور اس کی لاش کو انتہائی عزت اور احترام کے ساتھ وہیں پانی پت کے میدان میں دفن کرنے کا حکم دیا اور یوں اکیس اپریل پندرہ سو چھبیس کا وہ خونی دن اپنے انجام کو پہنچا جس نے ہندوستان کی تاریخ اور تقدیر کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا اور دہلی کے تخت پر ایک ایسی عظیم الشان مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والی کئی صدیوں تک اس خطے پر پوری شان و شوکت سے حکومت کرنی تھی