وسطی ایشیا کی ان برف پوش اور فلک بوس پہاڑیوں کے دامن میں چھپی ہوئی وادی فرغانہ کی وہ انتہائی خوبصورت لیکن سنگلاخ اور دشوار گزار سرزمین جہاں قدرت نے اپنے تمام تر رنگ بکھیر رکھے تھے وہیں تاریخ کے ایک ایسے عظیم الشان اور ہیبت ناک طوفان نے جنم لیا جس نے آگے چل کر ہندوستان کے تخت و تاج کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دینا تھا یہ چودہ سو تراسی کا وہ سرد اور تاریخی سال تھا جب فرغانہ کے حکمران عمر شیخ مرزا کے گھر ایک ایسا بچہ پیدا ہوا جس کی رگوں میں دنیا کے دو سب سے بڑے اور خونخوار فاتحین کا خون ایک ساتھ دوڑ رہا تھا اس بچے کے باپ کا تعلق امیر تیمور کے عظیم الشان خاندان سے تھا جبکہ اس کی ماں قتل و غارت کی علامت سمجھے جانے والے چنگیز خان کے خاندان سے تعلق رکھتی تھی اس بچے کا نام ظہیر الدین محمد رکھا گیا لیکن اس کی غیر معمولی بہادری، پھرتی اور طاقت کی وجہ سے اسے بچپن ہی سے بابر یعنی ببر شیر پکارا جانے لگا عمر شیخ مرزا ایک انتہائی بہادر لیکن عجیب و غریب خصلتوں کا مالک حکمران تھا جسے تلواروں اور جنگوں سے زیادہ اپنے پالتو کبوتروں سے عشق تھا اور اس نے اپنے دارالحکومت اخسی کے ایک انتہائی اونچے اور خطرناک پہاڑی قلعے کی فصیل کے بالکل کنارے پر لکڑی کا ایک شاندار کبوتر خانہ بنوا رکھا تھا جہاں وہ گھنٹوں اپنے کبوتروں کی اڑان اور ان کے کرتب دیکھا کرتا تھا بابر ابھی محض گیارہ سال کا ایک معصوم لیکن انتہائی ذہین بچہ تھا جو تلوار بازی اور گھڑ سواری کے ابتدائی گر سیکھ رہا تھا کہ اچانک چودہ سو چورانوے کی ایک انتہائی منحوس اور کالی دوپہر کو تاریخ نے ایک ایسا بھیانک اور لرزہ خیز پلٹا کھایا جس نے اس گیارہ سالہ بچے کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسے خونی اور تاریک طوفان میں دھکیل دیا جہاں قدم قدم پر موت اس کا انتظار کر رہی تھی عمر شیخ مرزا اپنے اس اونچے کبوتر خانے میں کھڑا اپنے پسندیدہ کبوتروں کو دانا ڈال رہا تھا کہ اچانک اس لکڑی کی عمارت کی بوسیدہ بنیادیں ایک انتہائی خوفناک اور کان پھاڑ دینے والی آواز کے ساتھ چرچرا کر ٹوٹ گئیں اور فرغانہ کا وہ طاقتور حکمران ان کبوتروں کے ساتھ ہی اس گہری کھائی کے نوکیلے پتھروں سے ٹکرا کر انتہائی دردناک موت کا شکار ہو گیا اور بابر کے اپنے ہی سگے چچاؤں اور ماموؤں نے فرغانہ کے تخت پر قبضہ کرنے اور اس گیارہ سالہ بچے کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے اپنی خون آشام فوجوں کا رخ اخسی کے اس قلعے کی طرف موڑ دیا جہاں بابر تنہا رہ گیا تھا۔
گیارہ سالہ یتیم شہزادے کی بقا کی وہ لرزہ خیز جنگ شروع ہوتی ہے جس نے اسے فولاد بنا دیا جب اخسی کے اس منحوس کبوتر خانے کے گرنے اور عمر شیخ مرزا کی اس اچانک اور بھیانک موت کی خبر وادی فرغانہ کے دارالحکومت اندیجان کے اس پرشکوہ قلعے میں پہنچی تو وہاں کہرام مچ گیا اور اس ننھے شہزادے ظہیر الدین محمد بابر کو فوراً محل کے اندرونی اور سب سے محفوظ حصے میں چھپا دیا گیا کیونکہ اس کی جان کو سب سے بڑا اور خونخوار خطرہ کسی اور سے نہیں بلکہ اس کے اپنے ہی سگے چچا سلطان احمد مرزا اور سگے ماموں سلطان محمود خان سے تھا جو سمرقند اور تاشقند کے انتہائی طاقتور اور ظالم حکمران تھے جیسے ہی انہیں اپنے بھائی کی موت اور ایک گیارہ سالہ کمزور بچے کے تخت نشین ہونے کی خبر ملی تو انہوں نے ذرا بھی وقت ضائع کیے بغیر اپنی ان دیوہیکل اور وحشی فوجوں کو دو مختلف اطراف سے فرغانہ کو روندنے اور اس معصوم بچے کا سر کاٹنے کے لیے روانہ کر دیا لیکن بابر کی خوش قسمتی یہ تھی کہ اس کے باپ کے چند انتہائی مخلص جانثار اور وفادار سردار جن میں قاسم بیگ اور علی دوست جیسے مایہ ناز اور فولادی جنگجو شامل تھے انہوں نے اپنے اس ننھے آقا کو تنہا چھوڑنے کے بجائے اندیجان کے قلعے کے دروازے بند کر دیے اور جب دریائے قبا کے اس خطرناک اور دلدلی پل کو پار کرتے ہوئے سلطان احمد مرزا کی فوج کے گھوڑوں اور اونٹوں میں ایک ایسی پراسرار اور خوفناک وبا پھیل گئی جس نے ہزاروں جانوروں کو چند ہی دنوں میں تڑپا تڑپا کر موت کے گھاٹ اتار دیا تو اس غیبی آسمانی آفت نے دشمن کو مجبور کر دیا کہ وہ انتہائی ذلت اور رسوائی کے ساتھ ایک امن معاہدہ کرنے پر مجبور ہو جائے اور بابر کی اس معجزاتی فتح کے بعد جب اس کے اپنے ہی وزیر حسن یعقوب نے اسے رات کے اندھیرے میں قتل کرنے کی سازش کی تو بابر کی بہادر دادی احسان دولت بیگم نے اسے بروقت ناکام بنا دیا اور وہ غدار اپنی ہی فوج کے ایک بھٹکے ہوئے تیر سے عبرتناک موت کا شکار ہو گیا۔
اندیجان کے اس خاموش اور تاریک قلعے کی ان سرد راتوں میں جب گیارہ سالہ ظہیر الدین محمد بابر اپنے نرم بستر پر گہری نیند سو رہا تھا تو اسے اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ جس وزیر حسن یعقوب پر اس نے اپنی جان اور تخت کا سب سے زیادہ بھروسہ کیا ہے وہی آستین کا سانپ اب رات کے اس گھپ اندھیرے میں اس کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنے اور اس کا سر قلم کرنے کا وہ انتہائی لرزہ خیز اور غلیظ منصوبہ مکمل کر چکا ہے جس کے بعد اس کے چھوٹے بھائی جہانگیر مرزا کو کٹھ پتلی حکمران بنا کر پورے فرغانہ پر قبضہ کیا جا سکے لیکن بابر کی اس تاریک اور موت کے سائے میں ڈوبی ہوئی رات میں اس کی نجات کا فرشتہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کی اپنی ہی انتہائی عقل مند دور اندیش اور فولادی اعصاب کی مالک دادی احسان دولت بیگم ثابت ہوئی جو چنگیز خان کے خاندان کی وہ انتہائی تجربہ کار اور شاطر خاتون تھی جس کی عقابی نگاہوں اور محل کے اندر پھیلے ہوئے اس کے خفیہ جاسوسوں سے کوئی بھی سازش چھپی نہیں رہ سکتی تھی جب احسان دولت بیگم کو اپنے پوتے کے خلاف اس انتہائی خوفناک اور خونی غداری کی بھنک پڑی تو اس نے ذرا بھی وقت ضائع کیے بغیر محل کے ان چند انتہائی جانثار اور وفادار سرداروں کو اپنے خفیہ کمرے میں طلب کر لیا اور رات کے اسی پہر ایک ایسا انتہائی برق رفتار اور حیران کن جوابی حملہ کرنے کا وہ فولادی منصوبہ ترتیب دیا جس نے اس غدار حسن یعقوب کے طوطے اڑا کر رکھ دیے صبح کا سورج نکلنے سے پہلے ہی حسن یعقوب کو یہ لرزہ خیز خبر ملی کہ اس کی سازش پکڑی گئی ہے اور وہ موت کے خوف سے اس قدر بدحواس اور پاگل ہو گیا کہ وہ فرغانہ کا تخت چھوڑ کر ان سنگلاخ اور تاریک پہاڑوں کی طرف بھاگ نکلا جہاں رات کے اندھیرے میں ہونے والی ایک چھوٹی سی جھڑپ کے دوران اس کے اپنے ہی ایک سپاہی کا بھٹکا ہوا زہریلا تیر اس غدار کو جا لگا اور وہ تڑپ تڑپ کر انتہائی ذلت آمیز موت کا شکار ہو گیا اس غدار کے اس عبرتناک اور شرمناک انجام کے بعد بابر نے اپنی اس انتہائی بہادر اور عقلمند دادی کی سرپرستی میں فرغانہ کے تخت پر اپنا کنٹرول مکمل طور پر مضبوط کر لیا اور وہ گیارہ سالہ کمزور سا بچہ اب وقت کی بھٹی میں تپ کر ایک ایسا فولادی اور انتہائی نڈر جوان بننے لگا تھا جس کی تلوار کی کاٹ اور گھڑ سواری کی مہارت کے قصے پوری وادی میں گونجنے لگے تھے۔
وسطی ایشیا کے اس انتہائی سرد اور خون جما دینے والے موسم میں جب چودہ سالہ ظہیر الدین محمد بابر اپنی اس مٹھی بھر لیکن انتہائی جانثار اور فولادی فوج کو لے کر فرغانہ کی ان برفانی وادیوں سے نکلا تو اس کی عقابی نگاہوں کے سامنے صرف اور صرف امیر تیمور کا وہ خوابوں کا شہر سمرقند گھوم رہا تھا جس کی اونچی اور ناقابل تسخیر فصیلوں کے پیچھے بے پناہ دولت اور صدیوں پرانی تاریخ دفن تھی سمرقند اس وقت بابر کے ایک کزن بایسنقر مرزا کے قبضے میں تھا جو ایک نااہل لیکن انتہائی ضدی حکمران تھا اور اس نے شہر کے تمام دروازے بند کر کے محاصرے کی وہ طویل اور صبر آزما جنگ شروع کر دی جس نے دونوں طرف کی فوجوں کو موت اور بھوک کے انتہائی لرزہ خیز دہانے پر لا کھڑا کیا بابر نے سمرقند کے گرد اپنا وہ آہنی اور فولادی گھیرا اس قدر تنگ کر دیا کہ شہر کے اندر خوراک کا ایک دانہ تک جانا محال ہو گیا اور یہ محاصرہ پورے سات مہینوں تک جاری رہا جس کے دوران سردی کی شدت اس قدر بھیانک ہو چکی تھی کہ بابر کے سپاہیوں کے خیمے برف سے ڈھک گئے تھے اور ان کے گھوڑے بھوک سے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے تھے لیکن اس چودہ سالہ نوجوان ببر شیر کے فولادی اعصاب اور اس کے ناقابل تسخیر ارادوں میں ذرہ برابر بھی لغزش نہیں آئی دوسری طرف شہر کے اندر بایسنقر مرزا کی حالت اس قدر غیر اور مایوس کن ہو چکی تھی کہ عوام بھوک سے پاگل ہو کر کتے اور بلیاں کھانے پر مجبور ہو گئے تھے اور جب بایسنقر نے اپنی موت اور تخت کا چھن جانا بالکل یقینی دیکھا تو اس نے اس وحشی اور خونخوار ازبک سردار محمد شیبانی خان کو مدد کے لیے بلا لیا لیکن شیبانی خان نے جب بابر کی اس حیران کن اور فولادی جنگی تیاری کو دیکھا تو اس نے بایسنقر مرزا کو اس کے حال پر چھوڑ کر واپس اپنے خیموں کی طرف مڑ گیا اور بایسنقر رات کے اسی گہرے سناٹے میں سمرقند کا وہ عظیم الشان تخت چھوڑ کر چند ساتھیوں کے ساتھ ایک گیدڑ کی طرح شہر سے فرار ہو گیا اور یوں پندرہ سالہ بابر نے اپنے آباؤ اجداد کے اس خوابوں کے شہر سمرقند میں ایک عظیم فاتح کی حیثیت سے اپنے قدم رکھے اور امیر تیمور کے اس پرشکوہ تخت پر براجمان ہو کر اپنی زندگی کی سب سے بڑی اور شاندار کامیابی حاصل کی۔
وسطی ایشیا کے ان انتہائی سنگلاخ اور بے رحم برف پوش پہاڑوں میں جب پندرہ سالہ ظہیر الدین محمد بابر اپنے تخت اور تاج سے محروم ہو کر ایک عام اور بے گھر در بدر مسافر کی طرح بھٹک رہا تھا تو وہ پندرہ سو ستانوے اور اٹھانوے کی وہ انتہائی ہولناک اور خون جما دینے والی سردیاں تھیں جن کا ذکر اس عظیم فاتح نے اپنی سوانح حیات تزک بابری میں انتہائی خون رلا دینے والے اور دردناک الفاظ میں کیا ہے وہ ببر شیر جو چند دن پہلے تک سمرقند کے اس عظیم الشان اور سونے چاندی سے سجے ہوئے محل میں امیر تیمور کے تخت پر جلوہ افروز تھا آج اس کی حالت اس قدر مفلوک الحال اور عبرتناک ہو چکی تھی کہ اس کے ساتھ بمشکل دو سو سے تین سو انتہائی خستہ حال اور بھوکے سپاہی باقی رہ گئے تھے جن کے پاس نہ تو پہننے کے لیے گرم کپڑے تھے اور نہ ہی پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے روٹی کا کوئی ٹکڑا ان کی حالت اس قدر ابتر ہو چکی تھی کہ بابر کو خود اپنے پاؤں سے برف میں راستہ بنانا پڑتا تھا اور جب بھوک برداشت سے باہر ہو جاتی تو وہ اپنے ہی ان انتہائی قیمتی اور پیارے جنگی گھوڑوں کو ذبح کرنے پر مجبور ہو جاتے بابر نے اپنی اس انتہائی بے بسی اور موت جیسی دربدری کے دوران اپنی انا اور غرور کو مار کر تاشقند میں بیٹھے ہوئے اپنے سگے ماموں سلطان محمود خان کے دربار میں پناہ مانگنے کا وہ انتہائی کڑوا اور ذلت آمیز فیصلہ کیا لیکن سلطان محمود خان نے اپنے اس بے گھر اور یتیم بھانجے کو پناہ تو دے دی لیکن اسے کسی بھی قسم کی کوئی فوجی امداد دینے سے صاف انکار کر دیا اور بابر کو تاشقند کی ان گلیوں میں ایک انتہائی گمنام اور ذلت آمیز زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا یہ بابر کی زندگی کے وہ دو طویل اور انتہائی تاریک سال تھے لیکن وہ ببر شیر اندر ہی اندر ایک ایسے انتہائی خطرناک اور لرزہ خیز انتقام کی آگ میں جل رہا تھا جو کسی بھی وقت پھٹ کر پورے وسطی ایشیا کو راکھ کر دینے والی تھی۔
رات کے اس انتہائی گہرے اور ہیبت ناک سناٹے میں جب سمرقند کے اس عظیم الشان اور سوئے ہوئے شہر پر موت جیسی تاریکی چھائی ہوئی تھی اور شیبانی خان کے وہ خونخوار ازبک پہرے دار اپنے تکبر اور طاقت کے نشے میں فصیلوں پر اونگھ رہے تھے تو سترہ سالہ ظہیر الدین محمد بابر اور اس کے ان دو سو چالیس موت سے بے نیاز اور سرفروش جانثاروں نے شہر کی اس انتہائی اونچی اور ناقابل تسخیر فصیل کے اس تاریک ترین حصے کا انتخاب کیا جسے غارِ عاشقاں کہا جاتا تھا جہاں سے پرندے کا گزرنا بھی محال سمجھا جاتا تھا بابر جو خود اس خودکش اور ناممکن مہم کی قیادت کر رہا تھا اس نے انتہائی خاموشی اور عقابی پھرتی کے ساتھ کمندیں اور لکڑی کی سیڑھیاں اس آہنی دیوار پر ڈالنے کا اشارہ کیا اور اس کے ستر سے اسی انتہائی مایہ ناز اور چابک دست جنگجو اندھیرے میں چمگادڑوں کی طرح ان دیواروں پر چڑھنے لگے جیسے ہی بابر کے یہ مٹھی بھر جنگجو فصیل کے اوپر پہنچے تو انہوں نے ان سوئے ہوئے اور غافل ازبک پہرے داروں کو سنبھلنے اور چیخنے کا ذرہ برابر بھی موقع دیے بغیر انتہائی بے دردی اور خاموشی سے موت کے گھاٹ اتار دیا اور سیدھے فیروزہ دروازے کی طرف بجلی کی تیزی سے جھپٹے دروازہ کھلتے ہی بابر اپنے ان دو سو چالیس دیوانوں کے ساتھ سمرقند کی ان تاریک گلیوں میں ایک ایسے خون آشام طوفان کی طرح داخل ہوا جس کی گونج نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا سمرقند کے وہ مظلوم شہری جو شیبانی خان کے مظالم اور لوٹ مار سے تنگ آ چکے تھے وہ ڈنڈے کلہاڑیاں اور جو کچھ ان کے ہاتھ لگا وہ لے کر اپنے گھروں سے نکل آئے اور شیبانی خان جو اپنے نرم بستر پر گہری نیند سو رہا تھا وہ بدحواسی میں اپنی بچی کھچی فوج اکٹھا کرنے میں ناکام رہا اور وہ رات کے اسی گھپ اندھیرے میں سمرقند کا وہ پرشکوہ تخت چھوڑ کر ایک انتہائی ذلت آمیز گیدڑ کی طرح فرار ہو گیا اور وہ سترہ سالہ ببر شیر ایک بار پھر امیر تیمور کے اس عظیم الشان تخت پر ایک فاتح کی حیثیت سے جلوہ افروز ہو گیا۔
سمرقند کے اس پرشکوہ اور عظیم الشان تخت پر محض سترہ سال کی عمر میں ایک ناممکن اور معجزاتی رات کے حملے کے ذریعے دوبارہ قابض ہونے کے بعد ظہیر الدین محمد بابر ابھی اپنی اس تاریخی فتح کا جشن پوری طرح منا بھی نہیں پایا تھا کہ محمد شیبانی خان نے وسطی ایشیا کے کونے کونے سے اپنے ان وحشی خونخوار اور دیوہیکل ازبک جنگجوؤں کا ایک ایسا ٹڈی دل اور ناقابل تسخیر طوفان اکٹھا کر لیا تھا جس کا واحد مقصد اس سترہ سالہ شہزادے کی کھال کھینچنا تھا بابر کے مایہ ناز اور تجربہ کار سرداروں نے اسے بار بار یہ انتہائی قیمتی مشورہ دیا کہ وہ سمرقند کی ان اونچی اور ناقابل عبور فصیلوں کے پیچھے رہ کر محاصرے کا انتظار کرے لیکن اس سترہ سالہ نوجوان کے خون میں فتح کا وہ اندھا اور متکبرانہ نشہ دوڑ رہا تھا جس نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا اور اس نے ان تمام انتہائی دانشمندانہ مشوروں کو ٹھکرا کر دریائے کوہک کے کنارے سرِ پل کے اس وسیع اور کھلے میدان میں شیبانی خان کے اس دیوہیکل اور وحشی لشکر سے ٹکرانے کا وہ خودکش اور لرزہ خیز فیصلہ کر لیا شیبانی خان نے اپنی فوج کو اسی مشہور تلمغہ جنگی چال کی صورت میں ترتیب دیا اور جب بابر کے بہادر لیکن تعداد میں انتہائی کم سپاہیوں نے ازبکوں کے درمیانی لشکر پر ایک انتہائی زور دار اور دیوانہ وار حملہ کیا تو ازبکوں کا وہ درمیانی دستہ جان بوجھ کر پیچھے ہٹنے لگا اور بابر کی فوج فتح کے جھوٹے زعم میں اندھا دھند ان کے پیچھے دوڑتی ہوئی اس فولادی اور خونی شکنجے کے بالکل درمیان میں آ پھنسی اور عین اسی لمحے شیبانی خان کے ان انتہائی تیز رفتار گھڑ سواروں نے دائیں اور بائیں پہلوؤں سے بابر کی پوری فوج کو پیچھے سے مکمل طور پر گھیر لیا اور بابر کے آدھے سے زیادہ انتہائی مایہ ناز سردار اس خونی خاک میں مل گئے اور وہ خود صرف چند درجن سواروں کے ساتھ گھوڑا دوڑاتا ہوا سمرقند کے قلعے میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا سرِ پل کی اس تباہ کن اور خون آشام شکست نے بابر کی کمر توڑ کر رکھ دی۔
سرِ پل کے اس انتہائی خونی اور تاریک میدان میں اپنی زندگی کی سب سے بھیانک اور عبرتناک شکست کھانے کے بعد جب سترہ سالہ ظہیر الدین محمد بابر اپنے چند سو زخمی اور بدحواس سپاہیوں کے ساتھ سمرقند کی ان اونچی اور ناقابل عبور فصیلوں کے پیچھے پناہ لینے پر مجبور ہوا تو محمد شیبانی خان کا وہ وحشی اور خونخوار ازبک طوفان سمرقند کے گرد اپنا وہ موت کا فولادی اور آہنی گھیرا اس قدر تنگ کر دیا کہ شہر کے اندر خوراک کا ایک دانہ یا پرندے کا ایک پر تک جانا محال ہو گیا اور یہ محاصرہ پورے چھ ماہ تک جاری رہا جس نے سمرقند کے اس عظیم الشان اور امیر ترین شہر کو ایک ایسے زندہ قبرستان اور وحشت ناک کھنڈر میں تبدیل کر دیا سمرقند کے معزز شہری اب گلیوں میں گھومنے والے کتوں اور بلیوں کا کچا گوشت نوچ نوچ کر کھانے پر مجبور ہو گئے اور پھر وہ انتہائی دلدوز اور رلا دینے والا کڑوا لمحہ آیا جب شیبانی خان نے یہ مکروہ شرط رکھی کہ اگر بابر اپنی اس محبوب بہن خانزادہ بیگم کا نکاح مجھ سے کر دے تو میں بابر اور اس کی بچی کھچی فوج کو سمرقند سے زندہ سلامت نکلنے کا راستہ دے دوں گا اس انتہائی دلدوز اذیت ناک اور رلا دینے والے کڑوے گھونٹ کو پینے کا تصور بھی بابر جیسے غیرت مند جنگجو کے لیے موت سے ہزار درجے بدتر تھا لیکن خانزادہ بیگم نے اپنی پوری زندگی اپنی عزت اور اپنی جوانی کو اپنے بھائی کی بقا اور اس کے مستقبل کے لیے قربان کرنے کا وہ لرزہ خیز اور تاریخ کا سب سے بڑا خودکش فیصلہ کر لیا اور پندرہ سو ایک کی وہ تاریک سرد اور انتہائی غلیظ رات آئی جب بابر سمرقند کا وہ پرشکوہ تخت اور اپنی بہن کو چھوڑ کر انتہائی ذلت رسوائی اور آنکھوں میں خون کے آنسو لیے ایک بار پھر ان سنگلاخ اور نامعلوم پہاڑوں کی طرف نکل پڑا۔
سمرقند کی اس تاریک اور ماتم خیز رات کی سرد اور بے رحم خاموشی میں جب ظہیر الدین محمد بابر اپنی سب سے پیاری اور عظیم بہن خانزادہ بیگم کو اس بوڑھے اور خونخوار ازبک درندے محمد شیبانی خان کے خیمے میں ایک انتہائی کڑوے اور روح فرسا سودے کے تحت چھوڑ کر اپنے چند گنے چنے خستہ حال اور زخمی جانثاروں کے ساتھ شہر کے خفیہ دروازے سے باہر نکلا تو اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اس کے رخساروں پر جم رہے تھے پندرہ سو ایک سے لے کر پندرہ سو چار عیسوی تک کے یہ وہ تین انتہائی تاریک طویل اور دل دہلا دینے والے سال تھے جب بابر نے دکخت اور خوجند کے ان سرد ترین اور گمنام غاروں میں اپنے گنے چنے دو سو یا تین سو بھوکے اور ننگے پاؤں سپاہیوں کے ساتھ وہ دربدری کی راتیں کاٹیں جن کا ذکر اس نے اپنی مشہور زمانہ سوانح حیات تزک بابری میں انتہائی خون رلا دینے والے الفاظ میں کیا ہے اس عظیم شہزادے کے پاس پہننے کے لیے ایک ہی جوڑا رہ گیا تھا جو جگہ جگہ سے پھٹ چکا تھا اور اس کے پاؤں ان تیز اور نوکیلے پتھروں پر چل چل کر اس قدر چھلنی ہو چکے تھے کہ ان سے رسنے والا خون برف کو سرخ کر دیتا تھا جب بھوک کی شدت برداشت سے باہر ہو جاتی تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جنگلی گھاس اور پیڑوں کے پتے چبانے پر مجبور ہو جاتا لیکن اس تمام تر ذلت کسمپرسی اور موت کی آنکھ مچولی کے باوجود اس نوجوان کے فولادی اعصاب اور اس کی رگوں میں دوڑنے والا وہ چنگیزی اور تیموری خون اسے ہار ماننے کی ذرہ برابر بھی اجازت نہیں دے رہا تھا اور جب اسے یہ دل چیر دینے والی خبر ملی کہ شیبانی خان نے اب پورے وسطی ایشیا پر اپنا وحشیانہ راج قائم کر لیا ہے اور امیر تیمور کے خاندان کے ہر شہزادے کا سر کاٹ دیا گیا ہے تو اس نے اکیس سال کی عمر میں اپنی اس پھٹے پرانے کپڑوں والی بھوکی اور مٹھی بھر فوج کو اکٹھا کیا اور وسطی ایشیا کی سرزمین کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر ہندوکش کے ان فلک بوس انتہائی سرد اور موت اگلنے والے برفانی پہاڑوں کو عبور کر کے کابل کی طرف ہجرت کرنے کا وہ لرزہ خیز حکم دے دیا۔
ہندوکش کے ان انتہائی بے رحم موت اگلنے والے اور ہڈیوں کا گودا جما دینے والے برفانی طوفانوں کو چیر کر جب اکیس سالہ ظہیر الدین محمد بابر اپنے ان چند سو بھوکے پیاسے خستہ حال اور ننگے پاؤں جانثاروں کے ساتھ کابل کے ان سرسبز اور زرخیز میدانوں میں اترا تو اس کے جسم پر بھلے ہی پھٹے پرانے اور خون آلود کپڑے تھے لیکن اس کی عقابی آنکھوں میں وہ خوفناک چنگیزی اور تیموری چمک تھی جو کسی بھی تخت کو جلا کر راکھ کر سکتی تھی کابل کا وہ انتہائی مضبوط اور فلک بوس قلعہ بالا حصار اس وقت مقیم ارغون نامی ایک انتہائی متکبر شاطر اور طاقتور غاصب حکمران کے قبضے میں تھا جس نے امیر تیمور کے خاندان سے ہی یہ تخت چھینا تھا مقیم ارغون نے جب قلعے کی بلندی سے بابر کے اس انتہائی مختصر اور فقیروں جیسے دکھنے والے کارواں کو کابل کی طرف بڑھتے دیکھا تو اس کے ہونٹوں پر ایک انتہائی حقارت آمیز اور مغرور مسکراہٹ پھیل گئی لیکن بابر نے کابل کے گرد و نواح میں بسنے والے ان مقامی اور جنگجو قبائل کو انتہائی شاندار اور پرجوش خطوط بھیجے اور ان کے دلوں میں ایک ایسی اندھی عقیدت اور بغاوت کی آگ بھڑکا دی کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں اپنے ہتھیار اٹھائے بابر کے خستہ حال لشکر کے ساتھ آ کر ملنے لگے اور مقیم ارغون کے وہ مغرور ہراول دستے جو قلعے سے باہر نکل کر مغلوں کا مذاق اڑانے آئے تھے بابر کے ان فاقہ کش لیکن فولادی جنگجوؤں نے پلک جھپکتے ہی اس بے دردی اور خونخوار طریقے سے ذبح کیا کہ ان کی کٹی ہوئی لاشوں کو دیکھ کر قلعے کے اندر موجود ارغون فوج کی رگوں میں خون جم گیا اور پندرہ سو چار عیسوی کی اس خنک اور تاریخی صبح کو مقیم ارغون کانپتا ہوا کابل کے اس ناقابل تسخیر قلعے کی چابیاں لے کر اس اکیس سالہ نوجوان ظہیر الدین محمد بابر کے قدموں میں گر پڑا اور بابر نے اسے معاف کر دیا اور یوں وہ بے گھر یتیم شہزادہ آج کابل کے اس پرشکوہ تخت پر ایک عظیم بادشاہ کی حیثیت سے جلوہ افروز ہو چکا تھا۔
کابل کے اس انتہائی خوبصورت اور زرخیز تخت پر قبضہ کرنے کے بعد جب ظہیر الدین محمد بابر نے اپنی سلطنت کی بنیادوں کو مضبوط کرنا شروع کیا اور وہ دربدری کے ان بھیانک سالوں کو بھول کر ایک عظیم الشان سلطنت کے خواب بننے لگا تو تقدیر نے ایک بار پھر اس کے خیمے میں غداری کا وہ انتہائی زہریلا اور خون آشام خنجر گھونپنے کی تیاری کر لی پندرہ سو چھ عیسوی میں شیبانی خان کا وہ وحشی اور خونخوار ازبک طوفان خراسان اور ہرات کی طرف بڑھ رہا تھا تو بابر نے امیر تیمور کے خاندان کو بچانے کے لیے کابل سے ہرات کی طرف ایک طویل اور کٹھن سفر کا لرزہ خیز فیصلہ کیا جس نے پیچھے کابل میں تخت کی ہوس میں اندھے بیٹھے ہوئے ان غداروں کو وہ سنہرا موقع فراہم کر دیا جس کی وہ گھات لگائے بیٹھے تھے بابر نے کابل کا دفاع اپنے انتہائی قریبی اور بھروسہ مند رشتہ داروں اور مغل سرداروں کے حوالے کیا تھا لیکن جیسے ہی بابر ہرات کے ان سرد میدانوں میں الجھا ان نمک حرام اور احسان فراموش سرداروں نے کابل کے اس محفوظ قلعے میں ایک انتہائی خوفناک اور خونی بغاوت کا علم بلند کر دیا اور بابر کے ایک کزن مرزا خان کو تخت پر بٹھا کر کابل پر مکمل قبضہ کر لیا بابر نے انتہائی مجبوری میں ہندوکش کے ان انتہائی خطرناک اور موت اگلنے والے برفانی پہاڑوں کو پار کرنے کا ناممکن فیصلہ کیا اور وہ خود گھوڑے سے اترا اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں سے برف کو ہٹاتا ہوا ان کے لیے راستہ بنانے لگا اور ہفتوں کی اس ہولناک اور جان لیوا برفانی مسافت کے بعد بابر کے بپھرے ہوئے جانثاروں نے کابل کی گلیوں میں طوفان کی طرح حملہ کیا اور بابر نے اپنی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے غدار رشتہ داروں کو بھی زندہ سلامت جانے دیا اور کابل پر ایک بار پھر اپنا پرشکوہ راج قائم کر لیا۔
ہندوکش کی ان خونی اور ہڈیوں کو گلا دینے والی برفوں کو چیر کر جب ظہیر الدین محمد بابر رات کے اس انتہائی تاریک اور گہرے سناٹے میں کابل کی سرحدوں میں داخل ہوا تو اس کے ان چند سو برف سے جمے ہوئے اور تھکاوٹ سے نڈھال جانثاروں کی آنکھوں میں انتقام کی وہ وحشت ناک آگ بھڑک رہی تھی جب دونوں فوجیں کابل کے میدان میں آمنے سامنے ہوئیں تو اچانک بابر نے اپنی میان سے وہ چمکتی ہوئی اور پیاسی تلوار نکالی اور اپنی پوری فوج کو پیچھے رکنے کا حکم دیتے ہوئے اکیلا اپنا گھوڑا دوڑا کر میدان کے بالکل درمیان میں جا کھڑا ہوا اور اپنے دشمنوں کو تن بہ تن اور اکیلے مقابلے کی وہ انتہائی خوفناک اور موت کی للکار دی جس نے غداروں کی پوری فوج کے دلوں میں ہیبت اور سناٹا طاری کر دیا اور تاریخ کے اوراق اس انتہائی ناقابل یقین اور معجزاتی سچ کی گواہی دیتے ہیں کہ اس نوجوان پادشاہ نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اکیلے اور تن تنہا ان پانچوں دیوہیکل خونخوار پہلوانوں کو اپنی اس خونی تلوار سے اس بے دردی اور ہیبت ناک طریقے سے موت کے گھاٹ اتارا کہ ان کی کٹی ہوئی لاشوں اور اڑتے ہوئے خون کے فواروں کو دیکھ کر عبدالرزاق مرزا کی اس پوری دیوہیکل فوج کے حواس باختہ ہو گئے اور وہ اپنے ہتھیار پھینک کر چیختے چلاتے اور اپنی جانیں بچاتے ہوئے میدان سے ایک ایسی ذلت آمیز بھگدڑ کی صورت میں فرار ہوئے جس نے کابل کی اس زمین پر ان کی ہمیشہ کے لیے ناک کٹوا دی عبدالرزاق مرزا کو زنجیروں میں جکڑ کر بابر کے قدموں میں لا پھینکا گیا لیکن بابر نے تخت کے اس غاصب کو بھی معاف کر دیا اور کابل پر ایک بار پھر اپنا وہ پرشکوہ اور ناقابل تسخیر راج قائم کر لیا۔
کابل کے اس انتہائی خوبصورت اور زرخیز دارالحکومت پر جب پندرہ سو سات عیسوی کے اس انتہائی تاریک اور خوفناک سال کا سایہ پڑا تو ظہیر الدین محمد بابر جس نے ابھی بادشاہوں کے بادشاہ یعنی پادشاہ کا وہ عظیم الشان اور پرشکوہ لقب اختیار کیا تھا اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی اور ہولناک حقیقت کا سامنا کرنا پڑا محمد شیبانی خان کا وہ ناقابل تسخیر اور وحشی ازبک طوفان اب موت کا وہ بھیانک قہر بن کر کابل کی طرف بڑھ رہا تھا جس کا مقابلہ کرنا بابر کی اس مختصر اور تھکی ہوئی فوج کے لیے بالکل ناممکن تھا اس لیے بابر نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر پہلی بار ہندوستان کی ان پراسرار گرم اور انجان سرحدوں کی طرف قدم بڑھایا لیکن پندرہ سو دس عیسوی میں جب کابل کے محلات میں سکون کی ہوائیں چل رہی تھیں تو اچانک ایک قاصد وہ انتہائی لرزہ خیز روح کو جھنجھوڑ دینے والی خبر لے کر بابر کے دربار میں داخل ہوا وہ محمد شیبانی خان جو دنیا کا سب سے ظالم وحشی اور خونخوار درندہ تھا جس نے ہرات اور سمرقند کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور جس کے ڈر سے بابر ہندوستان کی طرف بھاگنے پر مجبور ہوا تھا آج اس ناقابل تسخیر شیبانی خان کا غرور مرو کے اس خونی اور تاریک میدان میں ایران کے ابھرتے ہوئے طاقتور صفوی بادشاہ شاہ اسماعیل کے ہاتھوں مٹی میں مل چکا تھا شاہ اسماعیل نے اس درندے کو ایک چار دیواری میں گھیر کر اس بے دردی سے ذبح کیا تھا کہ شیبانی خان کی لاش بوٹی بوٹی ہو چکی تھی اور شاہ اسماعیل نے اس کے کٹے ہوئے سر کی کھوپڑی پر سونا چڑھا کر اسے اپنے شراب پینے کا پیالہ بنا لیا تھا یہ خبر سنتے ہی بابر کے دل میں سمرقند اور اپنے آبائی تخت کی وہ پرانی اور جنونی آگ ایک بار پھر بھڑک اٹھی کیونکہ اس کا سب سے بڑا اور موت اگلنے والا دشمن اب اس دنیا سے ذلت کے ساتھ مٹ چکا تھا۔
کابل کے ان محفوظ اور پرشکوہ محلات کو چھوڑ کر جب ظہیر الدین محمد بابر پندرہ سو گیارہ عیسوی میں ایک بار پھر اپنے آباؤ اجداد کے اس خوابوں کے شہر سمرقند کی طرف ایک بپھرے ہوئے طوفان کی طرح بڑھا تو اس کے دل میں امیر تیمور کے اس عظیم الشان تخت کو واپس چھیننے کی وہ جنونی آگ بھڑک رہی تھی لیکن تاریخ کے ان تاریک اور خونی اوراق میں بابر کے اس تیسرے اور آخری سمرقندی سفر کو اس کی زندگی کا سب سے کڑوا ذلت آمیز اور روح کو چھلنی کر دینے والا سودا کہا جاتا ہے کیونکہ شیبانی خان کو جس طاقتور ایرانی بادشاہ شاہ اسماعیل صفوی نے مرو کے اس ہولناک میدان میں ذبح کر کے اس کی کھوپڑی کا پیالہ بنایا تھا اب وہی شاہ اسماعیل بابر کے لیے ایک ایسا نیا اور انتہائی خطرناک اتحادی بن چکا تھا جس نے سمرقند کا تخت تو بابر کی جھولی میں ڈال دیا لیکن اس کے بدلے میں ایک ایسی شرمناک اور ناقابل برداشت شرط رکھ دی کہ بابر اور اس کی پوری فوج کو وہ مخصوص ایرانی لباس اور وہ سرخ رنگ کی قزلباش ٹوپی پہننی پڑے گی بابر جو سمرقند کے تخت کے لیے اس قدر اندھا اور دیوانہ ہو چکا تھا اس نے انتہائی مجبوری اور بے بسی کے عالم میں وہ سرخ ٹوپی پہن کر جب سمرقند کی ان تاریخی گلیوں میں ایک فاتح کی حیثیت سے قدم رکھا تو وہ عوام جو کبھی اس کم سن شہزادے کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے نکل آئے تھے آج اپنے بادشاہ کو اس اجنبی لباس میں دیکھ کر اس قدر غضب ناک اور مایوس ہوئے کہ ان کی محبت ایک اندھی اور زہریلی نفرت میں بدل گئی اور یہ نفرت اس وقت ایک انتہائی ہولناک اور قیامت خیز خونی طوفان میں تبدیل ہو گئی جب ازبک عبیداللہ خان کی قیادت میں ایک نئے اور اس سے بھی زیادہ خونخوار دیوہیکل لشکر کے ساتھ سمرقند کی سرحدوں پر امڈ آئے اور بابر کو ایک بار پھر سمرقند کا تخت چھوڑ کر کابل کی طرف بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔
کابل کے تخت پر بوجھل قدموں سے بیٹھ کر جب بابر نے مشرق کی طرف دیکھا تو اب اسے وسطی ایشیا کی ان غدار برفوں کے بجائے ہندوستان کی وہ انتہائی پراسرار گرم اور سونے چاندی سے لدی ہوئی سرزمین پکار رہی تھی جہاں دولت کے پہاڑ اور ہاتھیوں کے لشکر اس کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے غجدوان کے اس حد سے زیادہ تاریک اور عبرتناک میدان میں اپنے آباؤ اجداد کے عظیم الشان سمرقندی تخت کو ہمیشہ کے لیے کھو دینے کے بعد بابر نے اپنی ان عقابی اور خون آشام نگاہوں کا رخ مشرق کی ان انتہائی پراسرار گرم اور سونے چاندی سے لدی ہوئی ہندوستانی سرحدوں کی طرح موڑنے کا وہ حتمی اور لرزہ خیز فیصلہ کر لیا جس نے دہلی کے تخت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دینی تھیں پندرہ سو انیس عیسوی کی وہ انتہائی ہولناک اور قیامت خیز سردیاں تھیں جب بابر نے کابل سے اپنا وہ مٹھی بھر لیکن فولادی لشکر تیار کیا اور درہ خیبر کی ان خطرناک اور دشوار گزار پہاڑیوں کو چیرتا ہوا باجوڑ کے اس مضبوط ترین اور ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے قلعے کے بالکل سامنے آ کر خیمہ زن ہو گیا اور بابر نے سلطنت عثمانیہ کے مایہ ناز استادوں کی مدد سے اپنے لشکر میں وہ موت اگلنے والا کالا بارود اور وہ بھاری توپیں شامل کر لی تھیں جنہیں ہندوستان اور ان افغان قبائل نے آج تک خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا اور جو تاریخ کا دھارا ہمیشہ کے لیے موڑ دینے والی تھیں۔
غجدوان کے اس حد سے زیادہ تاریک اور عبرتناک میدان میں اپنے آباؤ اجداد کے عظیم الشان سمرقندی تخت کو ہمیشہ کے لیے کھو دینے کے بعد جب ظہیر الدین محمد بابر انتہائی ٹوٹے ہوئے دل اور زخمی انا کے ساتھ کابل کے ان محفوظ محلات میں واپس لوٹا تو اس کی رگوں میں دوڑنے والا وہ چنگیزی اور تیموری جنگجو خون اسے کسی بھی صورت چین سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا پندرہ سو انیس عیسوی کی وہ انتہائی ہولناک اور قیامت خیز سردیاں تھیں جب بابر نے کابل سے اپنا وہ مٹھی بھر لیکن فولادی لشکر تیار کیا اور باجوڑ کے وہ انتہائی جنگجو سرکش اور موت سے نہ ڈرنے والے افغان قبائل جنہیں اپنی طاقت اور قلعے کی اونچی فصیلوں پر اس قدر غرور تھا کہ انہوں نے بابر کی اطاعت قبول کرنے اور ہتھیار ڈالنے کا شاہی پیغام انتہائی حقارت اور تکبر سے ٹھکرا دیا جب بابر نے باجوڑ کے قلعے پر حملے کا وہ کان پھاڑ دینے والا بگل بجایا تو اس کے توپچیوں نے اپنی ان لمبی نالیوں والی بندوقوں اور کالی توپوں کے دہانے قلعے کی ان مضبوط فصیلوں کی طرف سیدھے کر دیے باجوڑ کے وہ جنگجو جو فصیلوں پر کھڑے مغلوں کا مذاق اڑا رہے تھے جب انہوں نے پہلی بار ان بندوقوں اور توپوں سے نکلنے والے وہ سیسے کے گرم گولے اپنے سینوں اور ماتھوں کو چیرتے ہوئے دیکھا تو باجوڑ کے اس غرور میں ڈوبے ہوئے لشکر میں ایک ایسی عبرتناک اور حواس باختہ بھگدڑ مچ گئی کہ وہ چیختے چلاتے ہوئے قلعے کے اندر بھاگنے لگے بابر کے سپاہیوں نے اس خوفناک بارودی طوفان کی آڑ میں قلعے کی ان موٹی دیواروں کو توڑ ڈالا اور کابل کے وہ بپھرے ہوئے خونخوار بھیڑیے باجوڑ کی ان تنگ گلیوں میں ایک ایسے خونی قہر کی طرح داخل ہوئے جس نے پورے علاقے کے قبائل کے خون جما دیے اور وہ کانپتے ہوئے بابر کی اطاعت قبول کرنے پر مجبور ہو گئے۔
باجوڑ کے اس ناقابل تسخیر قلعے کی اینٹ سے اینٹ بجانے اور بارود کے اس لرزہ خیز قہر کے بعد جب ظہیر الدین محمد بابر نے دریائے سندھ کے ان بپھرے ہوئے اور طوفانی پانیوں کو عبور کر کے ہندوستان کی اس پراسرار اور سرسبز سرزمین پر اپنا پہلا باقاعدہ قدم رکھا تو بھیرہ اور خوشاب کے وہ وسیع میدان اس کم سن ببر شیر کے گھوڑوں کی ٹاپوں تلے لرز اٹھے بابر نے بھیرہ کے ان مقامی حاکموں پر کوئی خونریزی کرنے کے بجائے ایک انتہائی شاطرانہ سیاسی چال چلی اور ملا مرشد کو ایک ایسا دھمکی آمیز اور خونخوار خط دے کر دہلی کے اس مغرور اور متکبر بادشاہ ابراہیم لودھی کی طرف روانہ کیا جس میں یہ کھلی اور لرزہ خیز للکار لکھی تھی کہ پنجاب اور ہندوستان کے وہ تمام علاقے جو کبھی تیموری سلطنت کا حصہ تھے وہ فوراً بابر کے حوالے کر دیے جائیں ورنہ کابل کی یہ بارودی اور موت اگلنے والی توپیں دہلی کے تخت کو راکھ کا ڈھیر بنا دیں گی لیکن اس سفیر کو دہلی کے ان دیوہیکل محلات تک پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں ایک ایسے انتہائی مکار شاطر اور زہریلے افغان گورنر دولت خان لودھی نے لاہور کے دروازوں پر ہی روک لیا اور ہندوستان کی وہ جھلسا دینے والی اور موت اگلنے والی گرمیاں اور وہ لو کے طوفان شروع ہو گئے جن کے بارے میں ان مغلوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا اور ان کے جسموں پر وہ خوفناک اور پراسرار وبائیں پھوٹ پڑیں جنہوں نے بابر کے ان مایہ ناز سپاہیوں کو تڑپا تڑپا کر موت کے گھاٹ اتارنا شروع کر دیا اور بابر کو ایک بار پھر ہندوستان کی اس سونے کی چڑیا کو ادھورا چھوڑ کر کابل کی طرف واپس بھاگنا پڑا۔
کابل کے ان سرد اور برفانی پہاڑوں میں جب ظہیر الدین محمد بابر ہندوستان کی اس ادھوری مہم اور بھیرہ سے اپنی اس انتہائی ذلت آمیز اور کڑوی پسپائی کا غم بھلا کر ایک بار پھر اپنی فوج اور بارود کو طاقتور بنانے میں دن رات ایک کر رہا تھا تو تقدیر دہلی کے ان پرشکوہ اور دیوہیکل محلات میں ایک ایسی انتہائی غلیظ بھیانک اور خون آشام سازش کے تانے بانے بن رہی تھی دہلی کے تخت پر بیٹھا ہوا وہ انتہائی مغرور متکبر اور ظالم بادشاہ ابراہیم لودھی جس نے اپنے ہی انتہائی مایہ ناز تجربہ کار اور وفادار افغان سرداروں کو کیڑوں مکوڑوں کی طرح کچلنا اور ذبح کرنا شروع کر دیا تھا ابراہیم لودھی کی اس اندھی اور سفاکانہ طاقت کا سب سے بڑا نشانہ پنجاب کا وہ انتہائی شاطر طاقتور اور خود مختار گورنر دولت خان لودھی بننے والا تھا اس بوڑھے گورنر نے اپنی جان اور تخت کو بچانے کے لیے تاریخ کی وہ سب سے بڑی اور حیرت انگیز غداری کا وہ لرزہ خیز فیصلہ کر لیا جس نے ہندوستان کا دھارا موڑ دیا اس نے اپنے بیٹے دلاور خان اور لودھی خاندان کے ایک اور باغی سردار عالم خان کو ایک انتہائی خفیہ اور سنہری دعوت نامہ دے کر کابل کی طرف اس ببر شیر ظہیر الدین محمد بابر کے دربار میں روانہ کر دیا جس کے بارود اور توپوں کی گرج کے قصے پورے ہندوستان میں پھیل چکے تھے اور بابر نے فوراً اپنے ان مایہ ناز توپچیوں استاد علی قلی اور مصطفیٰ رومی کو اپنی ان کالی اور موت اگلنے والی توپوں کو نکالنے اور اپنے ان ہزاروں فولادی اور خون کے پیاسے جنگجوؤں کو تیار ہونے کا وہ فلک شگاف اور کان پھاڑ دینے والا حکم دے دیا جس نے کابل کے پہاڑوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
کابل کے ان فلک بوس اور برفانی پہاڑوں سے جب پندرہ سو چوبیس عیسوی میں ظہیر الدین محمد بابر کا وہ موت اگلنے والا بارودی اور انتہائی غضب ناک لشکر ہندوستان کے ان سرسبز میدانوں کی طرف ایک بپھرے ہوئے طوفان کی طرح بڑھا تو دولت خان لودھی جو بابر کو ابراہیم لودھی کے خلاف ایک کرائے کے قاتل کے طور پر بلایا تھا اپنا پنجاب کا تخت واپس لینے کی ہوس رکھتا تھا لیکن بابر نے اسے صرف جالندھر دے کر اس کی انا کو کچل دیا اور وہ مکار گورنر پہاڑیوں میں جا چھپا اور پھر ذلت کے ساتھ ہتھیار ڈال دیے کابل کے پادشاہ نے پنجاب کو اپنے فولادی شکنجے میں جکڑنے کے بعد دہلی کی طرف اپنے ان خونخوار اور موت سے نہ ڈرنے والے جانثاروں کے ساتھ وہ لرزہ خیز پیش قدمی شروع کی جس کا انجام اکیس اپریل پندرہ سو چھبیس کو پانی پت کے اس تاریک اور خون آشام میدان میں ابراہیم لودھی کے ایک لاکھ کے ٹڈی دل لشکر اور ان دیوہیکل ہاتھیوں کی اس عبرتناک اور دل دہلا دینے والی تباہی کی صورت میں نکلا بابر کی ان آگ اگلنے والی توپوں اور بندوقوں نے جو کچھ کیا وہ تاریخ کا وہ انتہائی حیران کن اور لرزہ خیز باب ہے جس نے ابراہیم لودھی کا کٹا ہوا سر اور اس کا وہ مغرور تخت اس کم سن شہزادے کے قدموں میں ڈال دیا جو کبھی غاروں میں در در کی ٹھوکریں کھاتا تھا اور یوں ہندوستان میں اس عظیم الشان مغلیہ سلطنت کا وہ پرشکوہ سورج طلوع ہوا جس نے صدیوں تک اس خطے پر راج کرنا تھا لیکن بابر کا یہ تخت ابھی پھولوں کی سیج نہیں تھا کیونکہ پندرہ سو ستائیس میں راجستھان کے ان تپتے ہوئے صحراؤں سے ایک ایسا انتہائی وحشی مہیب اور ناقابل شکست راجپوت طوفان رانا سانگا کی قیادت میں دہلی کی طرف بڑھ رہا تھا۔
پانی پت کی اس خونی فتح کے فوراً بعد پندرہ سو ستائیس میں راجستھان کے ان تپتے ہوئے صحراؤں سے ایک ایسا انتہائی وحشی مہیب اور ناقابل شکست راجپوت طوفان رانا سانگا کی قیادت میں دہلی کی طرف بڑھا جس نے بابر کے ان مایہ ناز اور خونخوار مغل سرداروں کے دلوں میں بھی موت کی وہ اندھی ہیبت بٹھا دی رانا سانگا کوئی عام انسان نہیں تھا بلکہ وہ ایک ایسا دیوہیکل اور بے رحم جنگجو تھا جس کا ایک بازو کٹ چکا تھا ایک آنکھ پھوٹ چکی تھی اور جس کے جسم پر تلواروں اور نیزوں کے اسی سے زیادہ گہرے زخم تھے بابر کی فوج اس قدر خوفزدہ اور بدحواس ہو چکی تھی کہ وہ لڑنے کے بجائے واپس کابل بھاگنے کی منتیں کرنے لگی لیکن اس فیصلہ کن اور قیامت خیز لمحے میں بابر نے اپنی زندگی کا وہ سب سے حیرت انگیز اور رونگٹے کھڑے کر دینے والا قدم اٹھایا اس نے اپنے خیمے سے شراب کے تمام انتہائی قیمتی سونے اور چاندی کے پیالے منگوائے اور اپنی پوری فوج کے سامنے انہیں زمین پر پٹخ کر چکنا چور کر دیا اور ہمیشہ کے لیے شراب سے توبہ کرتے ہوئے ایک ایسا فلک شگاف اور خون کو کھولا دینے والا خطبہ دیا جس نے خانوہ کے میدان میں رانا سانگا کے ناقابل شکست راجپوتوں کی لاشوں کے پہاڑ کھڑے کر دیے اور رانا سانگا زخمی ہو کر انتہائی ذلت کے ساتھ میدان سے فرار ہونے پر مجبور ہو گیا خانوہ کی اس لرزہ خیز فتح نے ہندوستان پر بابر کی گرفت کو لوہے کی طرح مضبوط کر دیا اور پندرہ سو تیس عیسوی میں جب بابر کا سب سے لاڈلا اور جانشین بیٹا ہمایوں ایک ایسی انتہائی پراسرار اور جان لیوا بیماری کا شکار ہو گیا تو اس عظیم اور بے بس باپ نے اپنے بیٹے کے بستر کے گرد تین بار چکر کاٹتے ہوئے آسمان کی طرف منہ کر کے انتہائی دردناک آواز میں اپنے پروردگار سے دعا مانگی کہ اس کے بیٹے کی بیماری اور اس کی موت اس کے جسم میں منتقل کر دی جائے اور تاریخ کے اوراق اس انتہائی دلدوز اور معجزاتی سچ کی گواہی دیتے ہیں کہ بابر کی اس دعا کے بعد ہمایوں بستر سے صحت یاب ہو کر اٹھنے لگا اور وہ عظیم فاتح ظہیر الدین محمد بابر جس نے تلواروں اور توپوں کے سائے میں اپنی پوری زندگی گزاری تھی وہ اسی بیماری کا شکار ہو کر محض سینتالیس سال کی عمر میں ہندوستان کے اس پرشکوہ تخت پر اپنے بیٹے کو بٹھا کر پندرہ سو تیس کی ان سردیوں میں ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو گیا اور یوں ایک یتیم اور دربدر شہزادے سے لے کر ہندوستان کے سب سے بڑے اور طاقتور پادشاہ بننے تک کی یہ انتہائی خون آشام سنسنی خیز اور عظیم الشان داستان اپنے اختتام کو پہنچی جس نے تاریخ کے صفحات پر وہ انمٹ اور فولادی نقوش چھوڑے جو قیامت تک مٹائے نہیں جا سکتے۔