Mughal History · 1483–1530

داستانِ بابر: برفانی موت، بارود کا قہر اور مغلیہ سلطنت کا خون آشام آغاز

90 منٹ · 2026 · Hidden History Zone
0 / 20 sections read
0%
باب ١

کبوتر خانے کا خونی حادثہ اور یتیم شہزادہ

Fergana Valley
Valley of Fergana — birthplace of an empire, 1483

وسطی ایشیا کی ان برف پوش اور فلک بوس پہاڑیوں کے دامن میں چھپی ہوئی وادی فرغانہ کی وہ انتہائی خوبصورت لیکن سنگلاخ اور دشوار گزار سرزمین جہاں قدرت نے اپنے تمام تر رنگ بکھیر رکھے تھے وہیں تاریخ کے ایک ایسے عظیم الشان اور ہیبت ناک طوفان نے جنم لیا جس نے آگے چل کر ہندوستان کے تخت و تاج کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دینا تھا یہ چودہ سو تراسی کا وہ سرد اور تاریخی سال تھا جب فرغانہ کے حکمران عمر شیخ مرزا کے گھر ایک ایسا بچہ پیدا ہوا جس کی رگوں میں دنیا کے دو سب سے بڑے اور خونخوار فاتحین کا خون ایک ساتھ دوڑ رہا تھا اس بچے کے باپ کا تعلق امیر تیمور کے عظیم الشان خاندان سے تھا جبکہ اس کی ماں قتل و غارت کی علامت سمجھے جانے والے چنگیز خان کے خاندان سے تعلق رکھتی تھی اس بچے کا نام ظہیر الدین محمد رکھا گیا لیکن اس کی غیر معمولی بہادری، پھرتی اور طاقت کی وجہ سے اسے بچپن ہی سے بابر یعنی ببر شیر پکارا جانے لگا عمر شیخ مرزا ایک انتہائی بہادر لیکن عجیب و غریب خصلتوں کا مالک حکمران تھا جسے تلواروں اور جنگوں سے زیادہ اپنے پالتو کبوتروں سے عشق تھا اور اس نے اپنے دارالحکومت اخسی کے ایک انتہائی اونچے اور خطرناک پہاڑی قلعے کی فصیل کے بالکل کنارے پر لکڑی کا ایک شاندار کبوتر خانہ بنوا رکھا تھا جہاں وہ گھنٹوں اپنے کبوتروں کی اڑان اور ان کے کرتب دیکھا کرتا تھا بابر ابھی محض گیارہ سال کا ایک معصوم لیکن انتہائی ذہین بچہ تھا جو تلوار بازی اور گھڑ سواری کے ابتدائی گر سیکھ رہا تھا کہ اچانک چودہ سو چورانوے کی ایک انتہائی منحوس اور کالی دوپہر کو تاریخ نے ایک ایسا بھیانک اور لرزہ خیز پلٹا کھایا جس نے اس گیارہ سالہ بچے کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسے خونی اور تاریک طوفان میں دھکیل دیا جہاں قدم قدم پر موت اس کا انتظار کر رہی تھی عمر شیخ مرزا اپنے اس اونچے کبوتر خانے میں کھڑا اپنے پسندیدہ کبوتروں کو دانا ڈال رہا تھا کہ اچانک اس لکڑی کی عمارت کی بوسیدہ بنیادیں ایک انتہائی خوفناک اور کان پھاڑ دینے والی آواز کے ساتھ چرچرا کر ٹوٹ گئیں اور فرغانہ کا وہ طاقتور حکمران ان کبوتروں کے ساتھ ہی اس گہری کھائی کے نوکیلے پتھروں سے ٹکرا کر انتہائی دردناک موت کا شکار ہو گیا اور بابر کے اپنے ہی سگے چچاؤں اور ماموؤں نے فرغانہ کے تخت پر قبضہ کرنے اور اس گیارہ سالہ بچے کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے اپنی خون آشام فوجوں کا رخ اخسی کے اس قلعے کی طرف موڑ دیا جہاں بابر تنہا رہ گیا تھا۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ٢

غیبی مدد اور اندیجان کا موت کا محاصرہ

Andijan fortress Fergana
Andijan fortress where the orphan prince made his first stand

گیارہ سالہ یتیم شہزادے کی بقا کی وہ لرزہ خیز جنگ شروع ہوتی ہے جس نے اسے فولاد بنا دیا جب اخسی کے اس منحوس کبوتر خانے کے گرنے اور عمر شیخ مرزا کی اس اچانک اور بھیانک موت کی خبر وادی فرغانہ کے دارالحکومت اندیجان کے اس پرشکوہ قلعے میں پہنچی تو وہاں کہرام مچ گیا اور اس ننھے شہزادے ظہیر الدین محمد بابر کو فوراً محل کے اندرونی اور سب سے محفوظ حصے میں چھپا دیا گیا کیونکہ اس کی جان کو سب سے بڑا اور خونخوار خطرہ کسی اور سے نہیں بلکہ اس کے اپنے ہی سگے چچا سلطان احمد مرزا اور سگے ماموں سلطان محمود خان سے تھا جو سمرقند اور تاشقند کے انتہائی طاقتور اور ظالم حکمران تھے جیسے ہی انہیں اپنے بھائی کی موت اور ایک گیارہ سالہ کمزور بچے کے تخت نشین ہونے کی خبر ملی تو انہوں نے ذرا بھی وقت ضائع کیے بغیر اپنی ان دیوہیکل اور وحشی فوجوں کو دو مختلف اطراف سے فرغانہ کو روندنے اور اس معصوم بچے کا سر کاٹنے کے لیے روانہ کر دیا لیکن بابر کی خوش قسمتی یہ تھی کہ اس کے باپ کے چند انتہائی مخلص جانثار اور وفادار سردار جن میں قاسم بیگ اور علی دوست جیسے مایہ ناز اور فولادی جنگجو شامل تھے انہوں نے اپنے اس ننھے آقا کو تنہا چھوڑنے کے بجائے اندیجان کے قلعے کے دروازے بند کر دیے اور جب دریائے قبا کے اس خطرناک اور دلدلی پل کو پار کرتے ہوئے سلطان احمد مرزا کی فوج کے گھوڑوں اور اونٹوں میں ایک ایسی پراسرار اور خوفناک وبا پھیل گئی جس نے ہزاروں جانوروں کو چند ہی دنوں میں تڑپا تڑپا کر موت کے گھاٹ اتار دیا تو اس غیبی آسمانی آفت نے دشمن کو مجبور کر دیا کہ وہ انتہائی ذلت اور رسوائی کے ساتھ ایک امن معاہدہ کرنے پر مجبور ہو جائے اور بابر کی اس معجزاتی فتح کے بعد جب اس کے اپنے ہی وزیر حسن یعقوب نے اسے رات کے اندھیرے میں قتل کرنے کی سازش کی تو بابر کی بہادر دادی احسان دولت بیگم نے اسے بروقت ناکام بنا دیا اور وہ غدار اپنی ہی فوج کے ایک بھٹکے ہوئے تیر سے عبرتناک موت کا شکار ہو گیا۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ٣

دادی کی عقلمندی اور غدار حسن یعقوب کا انجام

Ihsan Daulat Begum court
The iron grandmother — Ihsan Daulat Begum saves Babur's throne

اندیجان کے اس خاموش اور تاریک قلعے کی ان سرد راتوں میں جب گیارہ سالہ ظہیر الدین محمد بابر اپنے نرم بستر پر گہری نیند سو رہا تھا تو اسے اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ جس وزیر حسن یعقوب پر اس نے اپنی جان اور تخت کا سب سے زیادہ بھروسہ کیا ہے وہی آستین کا سانپ اب رات کے اس گھپ اندھیرے میں اس کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنے اور اس کا سر قلم کرنے کا وہ انتہائی لرزہ خیز اور غلیظ منصوبہ مکمل کر چکا ہے جس کے بعد اس کے چھوٹے بھائی جہانگیر مرزا کو کٹھ پتلی حکمران بنا کر پورے فرغانہ پر قبضہ کیا جا سکے لیکن بابر کی اس تاریک اور موت کے سائے میں ڈوبی ہوئی رات میں اس کی نجات کا فرشتہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کی اپنی ہی انتہائی عقل مند دور اندیش اور فولادی اعصاب کی مالک دادی احسان دولت بیگم ثابت ہوئی جو چنگیز خان کے خاندان کی وہ انتہائی تجربہ کار اور شاطر خاتون تھی جس کی عقابی نگاہوں اور محل کے اندر پھیلے ہوئے اس کے خفیہ جاسوسوں سے کوئی بھی سازش چھپی نہیں رہ سکتی تھی جب احسان دولت بیگم کو اپنے پوتے کے خلاف اس انتہائی خوفناک اور خونی غداری کی بھنک پڑی تو اس نے ذرا بھی وقت ضائع کیے بغیر محل کے ان چند انتہائی جانثار اور وفادار سرداروں کو اپنے خفیہ کمرے میں طلب کر لیا اور رات کے اسی پہر ایک ایسا انتہائی برق رفتار اور حیران کن جوابی حملہ کرنے کا وہ فولادی منصوبہ ترتیب دیا جس نے اس غدار حسن یعقوب کے طوطے اڑا کر رکھ دیے صبح کا سورج نکلنے سے پہلے ہی حسن یعقوب کو یہ لرزہ خیز خبر ملی کہ اس کی سازش پکڑی گئی ہے اور وہ موت کے خوف سے اس قدر بدحواس اور پاگل ہو گیا کہ وہ فرغانہ کا تخت چھوڑ کر ان سنگلاخ اور تاریک پہاڑوں کی طرف بھاگ نکلا جہاں رات کے اندھیرے میں ہونے والی ایک چھوٹی سی جھڑپ کے دوران اس کے اپنے ہی ایک سپاہی کا بھٹکا ہوا زہریلا تیر اس غدار کو جا لگا اور وہ تڑپ تڑپ کر انتہائی ذلت آمیز موت کا شکار ہو گیا اس غدار کے اس عبرتناک اور شرمناک انجام کے بعد بابر نے اپنی اس انتہائی بہادر اور عقلمند دادی کی سرپرستی میں فرغانہ کے تخت پر اپنا کنٹرول مکمل طور پر مضبوط کر لیا اور وہ گیارہ سالہ کمزور سا بچہ اب وقت کی بھٹی میں تپ کر ایک ایسا فولادی اور انتہائی نڈر جوان بننے لگا تھا جس کی تلوار کی کاٹ اور گھڑ سواری کی مہارت کے قصے پوری وادی میں گونجنے لگے تھے۔

~4 min
✦ ✦ ✦
باب ٤

سمرقند کا سات ماہ طویل محاصرہ اور برفانی موت

Samarkand city Timur
Samarkand — the dream city Babur besieged for seven months

وسطی ایشیا کے اس انتہائی سرد اور خون جما دینے والے موسم میں جب چودہ سالہ ظہیر الدین محمد بابر اپنی اس مٹھی بھر لیکن انتہائی جانثار اور فولادی فوج کو لے کر فرغانہ کی ان برفانی وادیوں سے نکلا تو اس کی عقابی نگاہوں کے سامنے صرف اور صرف امیر تیمور کا وہ خوابوں کا شہر سمرقند گھوم رہا تھا جس کی اونچی اور ناقابل تسخیر فصیلوں کے پیچھے بے پناہ دولت اور صدیوں پرانی تاریخ دفن تھی سمرقند اس وقت بابر کے ایک کزن بایسنقر مرزا کے قبضے میں تھا جو ایک نااہل لیکن انتہائی ضدی حکمران تھا اور اس نے شہر کے تمام دروازے بند کر کے محاصرے کی وہ طویل اور صبر آزما جنگ شروع کر دی جس نے دونوں طرف کی فوجوں کو موت اور بھوک کے انتہائی لرزہ خیز دہانے پر لا کھڑا کیا بابر نے سمرقند کے گرد اپنا وہ آہنی اور فولادی گھیرا اس قدر تنگ کر دیا کہ شہر کے اندر خوراک کا ایک دانہ تک جانا محال ہو گیا اور یہ محاصرہ پورے سات مہینوں تک جاری رہا جس کے دوران سردی کی شدت اس قدر بھیانک ہو چکی تھی کہ بابر کے سپاہیوں کے خیمے برف سے ڈھک گئے تھے اور ان کے گھوڑے بھوک سے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے تھے لیکن اس چودہ سالہ نوجوان ببر شیر کے فولادی اعصاب اور اس کے ناقابل تسخیر ارادوں میں ذرہ برابر بھی لغزش نہیں آئی دوسری طرف شہر کے اندر بایسنقر مرزا کی حالت اس قدر غیر اور مایوس کن ہو چکی تھی کہ عوام بھوک سے پاگل ہو کر کتے اور بلیاں کھانے پر مجبور ہو گئے تھے اور جب بایسنقر نے اپنی موت اور تخت کا چھن جانا بالکل یقینی دیکھا تو اس نے اس وحشی اور خونخوار ازبک سردار محمد شیبانی خان کو مدد کے لیے بلا لیا لیکن شیبانی خان نے جب بابر کی اس حیران کن اور فولادی جنگی تیاری کو دیکھا تو اس نے بایسنقر مرزا کو اس کے حال پر چھوڑ کر واپس اپنے خیموں کی طرف مڑ گیا اور بایسنقر رات کے اسی گہرے سناٹے میں سمرقند کا وہ عظیم الشان تخت چھوڑ کر چند ساتھیوں کے ساتھ ایک گیدڑ کی طرح شہر سے فرار ہو گیا اور یوں پندرہ سالہ بابر نے اپنے آباؤ اجداد کے اس خوابوں کے شہر سمرقند میں ایک عظیم فاتح کی حیثیت سے اپنے قدم رکھے اور امیر تیمور کے اس پرشکوہ تخت پر براجمان ہو کر اپنی زندگی کی سب سے بڑی اور شاندار کامیابی حاصل کی۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ٥

خوجند کے غاروں میں دربدری اور بھوک کا رقص

Babur wandering snow mountains
Babur in the frozen mountains — wandering with 200 starving soldiers

وسطی ایشیا کے ان انتہائی سنگلاخ اور بے رحم برف پوش پہاڑوں میں جب پندرہ سالہ ظہیر الدین محمد بابر اپنے تخت اور تاج سے محروم ہو کر ایک عام اور بے گھر در بدر مسافر کی طرح بھٹک رہا تھا تو وہ پندرہ سو ستانوے اور اٹھانوے کی وہ انتہائی ہولناک اور خون جما دینے والی سردیاں تھیں جن کا ذکر اس عظیم فاتح نے اپنی سوانح حیات تزک بابری میں انتہائی خون رلا دینے والے اور دردناک الفاظ میں کیا ہے وہ ببر شیر جو چند دن پہلے تک سمرقند کے اس عظیم الشان اور سونے چاندی سے سجے ہوئے محل میں امیر تیمور کے تخت پر جلوہ افروز تھا آج اس کی حالت اس قدر مفلوک الحال اور عبرتناک ہو چکی تھی کہ اس کے ساتھ بمشکل دو سو سے تین سو انتہائی خستہ حال اور بھوکے سپاہی باقی رہ گئے تھے جن کے پاس نہ تو پہننے کے لیے گرم کپڑے تھے اور نہ ہی پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے روٹی کا کوئی ٹکڑا ان کی حالت اس قدر ابتر ہو چکی تھی کہ بابر کو خود اپنے پاؤں سے برف میں راستہ بنانا پڑتا تھا اور جب بھوک برداشت سے باہر ہو جاتی تو وہ اپنے ہی ان انتہائی قیمتی اور پیارے جنگی گھوڑوں کو ذبح کرنے پر مجبور ہو جاتے بابر نے اپنی اس انتہائی بے بسی اور موت جیسی دربدری کے دوران اپنی انا اور غرور کو مار کر تاشقند میں بیٹھے ہوئے اپنے سگے ماموں سلطان محمود خان کے دربار میں پناہ مانگنے کا وہ انتہائی کڑوا اور ذلت آمیز فیصلہ کیا لیکن سلطان محمود خان نے اپنے اس بے گھر اور یتیم بھانجے کو پناہ تو دے دی لیکن اسے کسی بھی قسم کی کوئی فوجی امداد دینے سے صاف انکار کر دیا اور بابر کو تاشقند کی ان گلیوں میں ایک انتہائی گمنام اور ذلت آمیز زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا یہ بابر کی زندگی کے وہ دو طویل اور انتہائی تاریک سال تھے لیکن وہ ببر شیر اندر ہی اندر ایک ایسے انتہائی خطرناک اور لرزہ خیز انتقام کی آگ میں جل رہا تھا جو کسی بھی وقت پھٹ کر پورے وسطی ایشیا کو راکھ کر دینے والی تھی۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ٦

رات کے اندھیرے میں سمرقند پر ناممکن حملہ

Samarkand night attack walls
The impossible night raid — 240 warriors scale Samarkand's walls

رات کے اس انتہائی گہرے اور ہیبت ناک سناٹے میں جب سمرقند کے اس عظیم الشان اور سوئے ہوئے شہر پر موت جیسی تاریکی چھائی ہوئی تھی اور شیبانی خان کے وہ خونخوار ازبک پہرے دار اپنے تکبر اور طاقت کے نشے میں فصیلوں پر اونگھ رہے تھے تو سترہ سالہ ظہیر الدین محمد بابر اور اس کے ان دو سو چالیس موت سے بے نیاز اور سرفروش جانثاروں نے شہر کی اس انتہائی اونچی اور ناقابل تسخیر فصیل کے اس تاریک ترین حصے کا انتخاب کیا جسے غارِ عاشقاں کہا جاتا تھا جہاں سے پرندے کا گزرنا بھی محال سمجھا جاتا تھا بابر جو خود اس خودکش اور ناممکن مہم کی قیادت کر رہا تھا اس نے انتہائی خاموشی اور عقابی پھرتی کے ساتھ کمندیں اور لکڑی کی سیڑھیاں اس آہنی دیوار پر ڈالنے کا اشارہ کیا اور اس کے ستر سے اسی انتہائی مایہ ناز اور چابک دست جنگجو اندھیرے میں چمگادڑوں کی طرح ان دیواروں پر چڑھنے لگے جیسے ہی بابر کے یہ مٹھی بھر جنگجو فصیل کے اوپر پہنچے تو انہوں نے ان سوئے ہوئے اور غافل ازبک پہرے داروں کو سنبھلنے اور چیخنے کا ذرہ برابر بھی موقع دیے بغیر انتہائی بے دردی اور خاموشی سے موت کے گھاٹ اتار دیا اور سیدھے فیروزہ دروازے کی طرف بجلی کی تیزی سے جھپٹے دروازہ کھلتے ہی بابر اپنے ان دو سو چالیس دیوانوں کے ساتھ سمرقند کی ان تاریک گلیوں میں ایک ایسے خون آشام طوفان کی طرح داخل ہوا جس کی گونج نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا سمرقند کے وہ مظلوم شہری جو شیبانی خان کے مظالم اور لوٹ مار سے تنگ آ چکے تھے وہ ڈنڈے کلہاڑیاں اور جو کچھ ان کے ہاتھ لگا وہ لے کر اپنے گھروں سے نکل آئے اور شیبانی خان جو اپنے نرم بستر پر گہری نیند سو رہا تھا وہ بدحواسی میں اپنی بچی کھچی فوج اکٹھا کرنے میں ناکام رہا اور وہ رات کے اسی گھپ اندھیرے میں سمرقند کا وہ پرشکوہ تخت چھوڑ کر ایک انتہائی ذلت آمیز گیدڑ کی طرح فرار ہو گیا اور وہ سترہ سالہ ببر شیر ایک بار پھر امیر تیمور کے اس عظیم الشان تخت پر ایک فاتح کی حیثیت سے جلوہ افروز ہو گیا۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ٧

سرِ پل کا خونی معرکہ اور ازبکوں کی خونی چال

Battle Sar-e-Pol Uzbek army
Sar-e-Pol disaster — the tulugma trap that broke Babur's army

سمرقند کے اس پرشکوہ اور عظیم الشان تخت پر محض سترہ سال کی عمر میں ایک ناممکن اور معجزاتی رات کے حملے کے ذریعے دوبارہ قابض ہونے کے بعد ظہیر الدین محمد بابر ابھی اپنی اس تاریخی فتح کا جشن پوری طرح منا بھی نہیں پایا تھا کہ محمد شیبانی خان نے وسطی ایشیا کے کونے کونے سے اپنے ان وحشی خونخوار اور دیوہیکل ازبک جنگجوؤں کا ایک ایسا ٹڈی دل اور ناقابل تسخیر طوفان اکٹھا کر لیا تھا جس کا واحد مقصد اس سترہ سالہ شہزادے کی کھال کھینچنا تھا بابر کے مایہ ناز اور تجربہ کار سرداروں نے اسے بار بار یہ انتہائی قیمتی مشورہ دیا کہ وہ سمرقند کی ان اونچی اور ناقابل عبور فصیلوں کے پیچھے رہ کر محاصرے کا انتظار کرے لیکن اس سترہ سالہ نوجوان کے خون میں فتح کا وہ اندھا اور متکبرانہ نشہ دوڑ رہا تھا جس نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا اور اس نے ان تمام انتہائی دانشمندانہ مشوروں کو ٹھکرا کر دریائے کوہک کے کنارے سرِ پل کے اس وسیع اور کھلے میدان میں شیبانی خان کے اس دیوہیکل اور وحشی لشکر سے ٹکرانے کا وہ خودکش اور لرزہ خیز فیصلہ کر لیا شیبانی خان نے اپنی فوج کو اسی مشہور تلمغہ جنگی چال کی صورت میں ترتیب دیا اور جب بابر کے بہادر لیکن تعداد میں انتہائی کم سپاہیوں نے ازبکوں کے درمیانی لشکر پر ایک انتہائی زور دار اور دیوانہ وار حملہ کیا تو ازبکوں کا وہ درمیانی دستہ جان بوجھ کر پیچھے ہٹنے لگا اور بابر کی فوج فتح کے جھوٹے زعم میں اندھا دھند ان کے پیچھے دوڑتی ہوئی اس فولادی اور خونی شکنجے کے بالکل درمیان میں آ پھنسی اور عین اسی لمحے شیبانی خان کے ان انتہائی تیز رفتار گھڑ سواروں نے دائیں اور بائیں پہلوؤں سے بابر کی پوری فوج کو پیچھے سے مکمل طور پر گھیر لیا اور بابر کے آدھے سے زیادہ انتہائی مایہ ناز سردار اس خونی خاک میں مل گئے اور وہ خود صرف چند درجن سواروں کے ساتھ گھوڑا دوڑاتا ہوا سمرقند کے قلعے میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا سرِ پل کی اس تباہ کن اور خون آشام شکست نے بابر کی کمر توڑ کر رکھ دی۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ٨

سمرقند کا ماتم اور خانزادہ بیگم کی عظیم قربانی

Khanzada Begum sacrifice
Khanzada Begum — whose sacrifice saved the Timurid bloodline

سرِ پل کے اس انتہائی خونی اور تاریک میدان میں اپنی زندگی کی سب سے بھیانک اور عبرتناک شکست کھانے کے بعد جب سترہ سالہ ظہیر الدین محمد بابر اپنے چند سو زخمی اور بدحواس سپاہیوں کے ساتھ سمرقند کی ان اونچی اور ناقابل عبور فصیلوں کے پیچھے پناہ لینے پر مجبور ہوا تو محمد شیبانی خان کا وہ وحشی اور خونخوار ازبک طوفان سمرقند کے گرد اپنا وہ موت کا فولادی اور آہنی گھیرا اس قدر تنگ کر دیا کہ شہر کے اندر خوراک کا ایک دانہ یا پرندے کا ایک پر تک جانا محال ہو گیا اور یہ محاصرہ پورے چھ ماہ تک جاری رہا جس نے سمرقند کے اس عظیم الشان اور امیر ترین شہر کو ایک ایسے زندہ قبرستان اور وحشت ناک کھنڈر میں تبدیل کر دیا سمرقند کے معزز شہری اب گلیوں میں گھومنے والے کتوں اور بلیوں کا کچا گوشت نوچ نوچ کر کھانے پر مجبور ہو گئے اور پھر وہ انتہائی دلدوز اور رلا دینے والا کڑوا لمحہ آیا جب شیبانی خان نے یہ مکروہ شرط رکھی کہ اگر بابر اپنی اس محبوب بہن خانزادہ بیگم کا نکاح مجھ سے کر دے تو میں بابر اور اس کی بچی کھچی فوج کو سمرقند سے زندہ سلامت نکلنے کا راستہ دے دوں گا اس انتہائی دلدوز اذیت ناک اور رلا دینے والے کڑوے گھونٹ کو پینے کا تصور بھی بابر جیسے غیرت مند جنگجو کے لیے موت سے ہزار درجے بدتر تھا لیکن خانزادہ بیگم نے اپنی پوری زندگی اپنی عزت اور اپنی جوانی کو اپنے بھائی کی بقا اور اس کے مستقبل کے لیے قربان کرنے کا وہ لرزہ خیز اور تاریخ کا سب سے بڑا خودکش فیصلہ کر لیا اور پندرہ سو ایک کی وہ تاریک سرد اور انتہائی غلیظ رات آئی جب بابر سمرقند کا وہ پرشکوہ تخت اور اپنی بہن کو چھوڑ کر انتہائی ذلت رسوائی اور آنکھوں میں خون کے آنسو لیے ایک بار پھر ان سنگلاخ اور نامعلوم پہاڑوں کی طرف نکل پڑا۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ٩

ہندوکش کے برفانی طوفان اور کابل کا سفر

Baburnama manuscript caves
Pages of the Baburnama — written in the dark caves of Khujand

سمرقند کی اس تاریک اور ماتم خیز رات کی سرد اور بے رحم خاموشی میں جب ظہیر الدین محمد بابر اپنی سب سے پیاری اور عظیم بہن خانزادہ بیگم کو اس بوڑھے اور خونخوار ازبک درندے محمد شیبانی خان کے خیمے میں ایک انتہائی کڑوے اور روح فرسا سودے کے تحت چھوڑ کر اپنے چند گنے چنے خستہ حال اور زخمی جانثاروں کے ساتھ شہر کے خفیہ دروازے سے باہر نکلا تو اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اس کے رخساروں پر جم رہے تھے پندرہ سو ایک سے لے کر پندرہ سو چار عیسوی تک کے یہ وہ تین انتہائی تاریک طویل اور دل دہلا دینے والے سال تھے جب بابر نے دکخت اور خوجند کے ان سرد ترین اور گمنام غاروں میں اپنے گنے چنے دو سو یا تین سو بھوکے اور ننگے پاؤں سپاہیوں کے ساتھ وہ دربدری کی راتیں کاٹیں جن کا ذکر اس نے اپنی مشہور زمانہ سوانح حیات تزک بابری میں انتہائی خون رلا دینے والے الفاظ میں کیا ہے اس عظیم شہزادے کے پاس پہننے کے لیے ایک ہی جوڑا رہ گیا تھا جو جگہ جگہ سے پھٹ چکا تھا اور اس کے پاؤں ان تیز اور نوکیلے پتھروں پر چل چل کر اس قدر چھلنی ہو چکے تھے کہ ان سے رسنے والا خون برف کو سرخ کر دیتا تھا جب بھوک کی شدت برداشت سے باہر ہو جاتی تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جنگلی گھاس اور پیڑوں کے پتے چبانے پر مجبور ہو جاتا لیکن اس تمام تر ذلت کسمپرسی اور موت کی آنکھ مچولی کے باوجود اس نوجوان کے فولادی اعصاب اور اس کی رگوں میں دوڑنے والا وہ چنگیزی اور تیموری خون اسے ہار ماننے کی ذرہ برابر بھی اجازت نہیں دے رہا تھا اور جب اسے یہ دل چیر دینے والی خبر ملی کہ شیبانی خان نے اب پورے وسطی ایشیا پر اپنا وحشیانہ راج قائم کر لیا ہے اور امیر تیمور کے خاندان کے ہر شہزادے کا سر کاٹ دیا گیا ہے تو اس نے اکیس سال کی عمر میں اپنی اس پھٹے پرانے کپڑوں والی بھوکی اور مٹھی بھر فوج کو اکٹھا کیا اور وسطی ایشیا کی سرزمین کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر ہندوکش کے ان فلک بوس انتہائی سرد اور موت اگلنے والے برفانی پہاڑوں کو عبور کر کے کابل کی طرف ہجرت کرنے کا وہ لرزہ خیز حکم دے دیا۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ١٠

کابل کی معجزاتی فتح اور مقیم ارغون کا غرور خاک میں

Kabul Bala Hissar fortress
Bala Hissar fortress, Kabul — Babur's new throne, 1504

ہندوکش کے ان انتہائی بے رحم موت اگلنے والے اور ہڈیوں کا گودا جما دینے والے برفانی طوفانوں کو چیر کر جب اکیس سالہ ظہیر الدین محمد بابر اپنے ان چند سو بھوکے پیاسے خستہ حال اور ننگے پاؤں جانثاروں کے ساتھ کابل کے ان سرسبز اور زرخیز میدانوں میں اترا تو اس کے جسم پر بھلے ہی پھٹے پرانے اور خون آلود کپڑے تھے لیکن اس کی عقابی آنکھوں میں وہ خوفناک چنگیزی اور تیموری چمک تھی جو کسی بھی تخت کو جلا کر راکھ کر سکتی تھی کابل کا وہ انتہائی مضبوط اور فلک بوس قلعہ بالا حصار اس وقت مقیم ارغون نامی ایک انتہائی متکبر شاطر اور طاقتور غاصب حکمران کے قبضے میں تھا جس نے امیر تیمور کے خاندان سے ہی یہ تخت چھینا تھا مقیم ارغون نے جب قلعے کی بلندی سے بابر کے اس انتہائی مختصر اور فقیروں جیسے دکھنے والے کارواں کو کابل کی طرف بڑھتے دیکھا تو اس کے ہونٹوں پر ایک انتہائی حقارت آمیز اور مغرور مسکراہٹ پھیل گئی لیکن بابر نے کابل کے گرد و نواح میں بسنے والے ان مقامی اور جنگجو قبائل کو انتہائی شاندار اور پرجوش خطوط بھیجے اور ان کے دلوں میں ایک ایسی اندھی عقیدت اور بغاوت کی آگ بھڑکا دی کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں اپنے ہتھیار اٹھائے بابر کے خستہ حال لشکر کے ساتھ آ کر ملنے لگے اور مقیم ارغون کے وہ مغرور ہراول دستے جو قلعے سے باہر نکل کر مغلوں کا مذاق اڑانے آئے تھے بابر کے ان فاقہ کش لیکن فولادی جنگجوؤں نے پلک جھپکتے ہی اس بے دردی اور خونخوار طریقے سے ذبح کیا کہ ان کی کٹی ہوئی لاشوں کو دیکھ کر قلعے کے اندر موجود ارغون فوج کی رگوں میں خون جم گیا اور پندرہ سو چار عیسوی کی اس خنک اور تاریخی صبح کو مقیم ارغون کانپتا ہوا کابل کے اس ناقابل تسخیر قلعے کی چابیاں لے کر اس اکیس سالہ نوجوان ظہیر الدین محمد بابر کے قدموں میں گر پڑا اور بابر نے اسے معاف کر دیا اور یوں وہ بے گھر یتیم شہزادہ آج کابل کے اس پرشکوہ تخت پر ایک عظیم بادشاہ کی حیثیت سے جلوہ افروز ہو چکا تھا۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ١١

ہرات کا سفر اور اپنوں کی پیٹھ میں چھرا

Kabul palace betrayal Mughal
Betrayal in Kabul — even kinsmen turned against the young king

کابل کے اس انتہائی خوبصورت اور زرخیز تخت پر قبضہ کرنے کے بعد جب ظہیر الدین محمد بابر نے اپنی سلطنت کی بنیادوں کو مضبوط کرنا شروع کیا اور وہ دربدری کے ان بھیانک سالوں کو بھول کر ایک عظیم الشان سلطنت کے خواب بننے لگا تو تقدیر نے ایک بار پھر اس کے خیمے میں غداری کا وہ انتہائی زہریلا اور خون آشام خنجر گھونپنے کی تیاری کر لی پندرہ سو چھ عیسوی میں شیبانی خان کا وہ وحشی اور خونخوار ازبک طوفان خراسان اور ہرات کی طرف بڑھ رہا تھا تو بابر نے امیر تیمور کے خاندان کو بچانے کے لیے کابل سے ہرات کی طرف ایک طویل اور کٹھن سفر کا لرزہ خیز فیصلہ کیا جس نے پیچھے کابل میں تخت کی ہوس میں اندھے بیٹھے ہوئے ان غداروں کو وہ سنہرا موقع فراہم کر دیا جس کی وہ گھات لگائے بیٹھے تھے بابر نے کابل کا دفاع اپنے انتہائی قریبی اور بھروسہ مند رشتہ داروں اور مغل سرداروں کے حوالے کیا تھا لیکن جیسے ہی بابر ہرات کے ان سرد میدانوں میں الجھا ان نمک حرام اور احسان فراموش سرداروں نے کابل کے اس محفوظ قلعے میں ایک انتہائی خوفناک اور خونی بغاوت کا علم بلند کر دیا اور بابر کے ایک کزن مرزا خان کو تخت پر بٹھا کر کابل پر مکمل قبضہ کر لیا بابر نے انتہائی مجبوری میں ہندوکش کے ان انتہائی خطرناک اور موت اگلنے والے برفانی پہاڑوں کو پار کرنے کا ناممکن فیصلہ کیا اور وہ خود گھوڑے سے اترا اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں سے برف کو ہٹاتا ہوا ان کے لیے راستہ بنانے لگا اور ہفتوں کی اس ہولناک اور جان لیوا برفانی مسافت کے بعد بابر کے بپھرے ہوئے جانثاروں نے کابل کی گلیوں میں طوفان کی طرح حملہ کیا اور بابر نے اپنی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے غدار رشتہ داروں کو بھی زندہ سلامت جانے دیا اور کابل پر ایک بار پھر اپنا پرشکوہ راج قائم کر لیا۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ١٢

غدار خالو کا انجام اور پادشاہ کا اعلان

Babur single combat sword
Babur challenges five champions alone — a feat etched in history

ہندوکش کی ان خونی اور ہڈیوں کو گلا دینے والی برفوں کو چیر کر جب ظہیر الدین محمد بابر رات کے اس انتہائی تاریک اور گہرے سناٹے میں کابل کی سرحدوں میں داخل ہوا تو اس کے ان چند سو برف سے جمے ہوئے اور تھکاوٹ سے نڈھال جانثاروں کی آنکھوں میں انتقام کی وہ وحشت ناک آگ بھڑک رہی تھی جب دونوں فوجیں کابل کے میدان میں آمنے سامنے ہوئیں تو اچانک بابر نے اپنی میان سے وہ چمکتی ہوئی اور پیاسی تلوار نکالی اور اپنی پوری فوج کو پیچھے رکنے کا حکم دیتے ہوئے اکیلا اپنا گھوڑا دوڑا کر میدان کے بالکل درمیان میں جا کھڑا ہوا اور اپنے دشمنوں کو تن بہ تن اور اکیلے مقابلے کی وہ انتہائی خوفناک اور موت کی للکار دی جس نے غداروں کی پوری فوج کے دلوں میں ہیبت اور سناٹا طاری کر دیا اور تاریخ کے اوراق اس انتہائی ناقابل یقین اور معجزاتی سچ کی گواہی دیتے ہیں کہ اس نوجوان پادشاہ نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اکیلے اور تن تنہا ان پانچوں دیوہیکل خونخوار پہلوانوں کو اپنی اس خونی تلوار سے اس بے دردی اور ہیبت ناک طریقے سے موت کے گھاٹ اتارا کہ ان کی کٹی ہوئی لاشوں اور اڑتے ہوئے خون کے فواروں کو دیکھ کر عبدالرزاق مرزا کی اس پوری دیوہیکل فوج کے حواس باختہ ہو گئے اور وہ اپنے ہتھیار پھینک کر چیختے چلاتے اور اپنی جانیں بچاتے ہوئے میدان سے ایک ایسی ذلت آمیز بھگدڑ کی صورت میں فرار ہوئے جس نے کابل کی اس زمین پر ان کی ہمیشہ کے لیے ناک کٹوا دی عبدالرزاق مرزا کو زنجیروں میں جکڑ کر بابر کے قدموں میں لا پھینکا گیا لیکن بابر نے تخت کے اس غاصب کو بھی معاف کر دیا اور کابل پر ایک بار پھر اپنا وہ پرشکوہ اور ناقابل تسخیر راج قائم کر لیا۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ١٣

ہندوستان کی طرف پہلا قدم اور کابل میں نئی بغاوت

Shaibani Khan death Merv
The death of Shaibani Khan at Merv — his skull became Shah Ismail's goblet

کابل کے اس انتہائی خوبصورت اور زرخیز دارالحکومت پر جب پندرہ سو سات عیسوی کے اس انتہائی تاریک اور خوفناک سال کا سایہ پڑا تو ظہیر الدین محمد بابر جس نے ابھی بادشاہوں کے بادشاہ یعنی پادشاہ کا وہ عظیم الشان اور پرشکوہ لقب اختیار کیا تھا اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی اور ہولناک حقیقت کا سامنا کرنا پڑا محمد شیبانی خان کا وہ ناقابل تسخیر اور وحشی ازبک طوفان اب موت کا وہ بھیانک قہر بن کر کابل کی طرف بڑھ رہا تھا جس کا مقابلہ کرنا بابر کی اس مختصر اور تھکی ہوئی فوج کے لیے بالکل ناممکن تھا اس لیے بابر نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر پہلی بار ہندوستان کی ان پراسرار گرم اور انجان سرحدوں کی طرف قدم بڑھایا لیکن پندرہ سو دس عیسوی میں جب کابل کے محلات میں سکون کی ہوائیں چل رہی تھیں تو اچانک ایک قاصد وہ انتہائی لرزہ خیز روح کو جھنجھوڑ دینے والی خبر لے کر بابر کے دربار میں داخل ہوا وہ محمد شیبانی خان جو دنیا کا سب سے ظالم وحشی اور خونخوار درندہ تھا جس نے ہرات اور سمرقند کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور جس کے ڈر سے بابر ہندوستان کی طرف بھاگنے پر مجبور ہوا تھا آج اس ناقابل تسخیر شیبانی خان کا غرور مرو کے اس خونی اور تاریک میدان میں ایران کے ابھرتے ہوئے طاقتور صفوی بادشاہ شاہ اسماعیل کے ہاتھوں مٹی میں مل چکا تھا شاہ اسماعیل نے اس درندے کو ایک چار دیواری میں گھیر کر اس بے دردی سے ذبح کیا تھا کہ شیبانی خان کی لاش بوٹی بوٹی ہو چکی تھی اور شاہ اسماعیل نے اس کے کٹے ہوئے سر کی کھوپڑی پر سونا چڑھا کر اسے اپنے شراب پینے کا پیالہ بنا لیا تھا یہ خبر سنتے ہی بابر کے دل میں سمرقند اور اپنے آبائی تخت کی وہ پرانی اور جنونی آگ ایک بار پھر بھڑک اٹھی کیونکہ اس کا سب سے بڑا اور موت اگلنے والا دشمن اب اس دنیا سے ذلت کے ساتھ مٹ چکا تھا۔

~4 min
✦ ✦ ✦
باب ١٤

اکیلا ببر شیر اور پانچ پہلوانوں کا تن بہ تن مقابلہ

Qizilbash red cap Safavid
The red Qizilbash cap — the humiliating price of Samarkand's throne

کابل کے ان محفوظ اور پرشکوہ محلات کو چھوڑ کر جب ظہیر الدین محمد بابر پندرہ سو گیارہ عیسوی میں ایک بار پھر اپنے آباؤ اجداد کے اس خوابوں کے شہر سمرقند کی طرف ایک بپھرے ہوئے طوفان کی طرح بڑھا تو اس کے دل میں امیر تیمور کے اس عظیم الشان تخت کو واپس چھیننے کی وہ جنونی آگ بھڑک رہی تھی لیکن تاریخ کے ان تاریک اور خونی اوراق میں بابر کے اس تیسرے اور آخری سمرقندی سفر کو اس کی زندگی کا سب سے کڑوا ذلت آمیز اور روح کو چھلنی کر دینے والا سودا کہا جاتا ہے کیونکہ شیبانی خان کو جس طاقتور ایرانی بادشاہ شاہ اسماعیل صفوی نے مرو کے اس ہولناک میدان میں ذبح کر کے اس کی کھوپڑی کا پیالہ بنایا تھا اب وہی شاہ اسماعیل بابر کے لیے ایک ایسا نیا اور انتہائی خطرناک اتحادی بن چکا تھا جس نے سمرقند کا تخت تو بابر کی جھولی میں ڈال دیا لیکن اس کے بدلے میں ایک ایسی شرمناک اور ناقابل برداشت شرط رکھ دی کہ بابر اور اس کی پوری فوج کو وہ مخصوص ایرانی لباس اور وہ سرخ رنگ کی قزلباش ٹوپی پہننی پڑے گی بابر جو سمرقند کے تخت کے لیے اس قدر اندھا اور دیوانہ ہو چکا تھا اس نے انتہائی مجبوری اور بے بسی کے عالم میں وہ سرخ ٹوپی پہن کر جب سمرقند کی ان تاریخی گلیوں میں ایک فاتح کی حیثیت سے قدم رکھا تو وہ عوام جو کبھی اس کم سن شہزادے کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے نکل آئے تھے آج اپنے بادشاہ کو اس اجنبی لباس میں دیکھ کر اس قدر غضب ناک اور مایوس ہوئے کہ ان کی محبت ایک اندھی اور زہریلی نفرت میں بدل گئی اور یہ نفرت اس وقت ایک انتہائی ہولناک اور قیامت خیز خونی طوفان میں تبدیل ہو گئی جب ازبک عبیداللہ خان کی قیادت میں ایک نئے اور اس سے بھی زیادہ خونخوار دیوہیکل لشکر کے ساتھ سمرقند کی سرحدوں پر امڈ آئے اور بابر کو ایک بار پھر سمرقند کا تخت چھوڑ کر کابل کی طرف بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ١٥

سمرقند کا کڑوا سودا اور غجدوان کی عبرتناک شکست

Ghajdawan battle defeat
Ghajdawan — the catastrophic field where Samarkand was lost forever

کابل کے تخت پر بوجھل قدموں سے بیٹھ کر جب بابر نے مشرق کی طرف دیکھا تو اب اسے وسطی ایشیا کی ان غدار برفوں کے بجائے ہندوستان کی وہ انتہائی پراسرار گرم اور سونے چاندی سے لدی ہوئی سرزمین پکار رہی تھی جہاں دولت کے پہاڑ اور ہاتھیوں کے لشکر اس کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے غجدوان کے اس حد سے زیادہ تاریک اور عبرتناک میدان میں اپنے آباؤ اجداد کے عظیم الشان سمرقندی تخت کو ہمیشہ کے لیے کھو دینے کے بعد بابر نے اپنی ان عقابی اور خون آشام نگاہوں کا رخ مشرق کی ان انتہائی پراسرار گرم اور سونے چاندی سے لدی ہوئی ہندوستانی سرحدوں کی طرح موڑنے کا وہ حتمی اور لرزہ خیز فیصلہ کر لیا جس نے دہلی کے تخت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دینی تھیں پندرہ سو انیس عیسوی کی وہ انتہائی ہولناک اور قیامت خیز سردیاں تھیں جب بابر نے کابل سے اپنا وہ مٹھی بھر لیکن فولادی لشکر تیار کیا اور درہ خیبر کی ان خطرناک اور دشوار گزار پہاڑیوں کو چیرتا ہوا باجوڑ کے اس مضبوط ترین اور ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے قلعے کے بالکل سامنے آ کر خیمہ زن ہو گیا اور بابر نے سلطنت عثمانیہ کے مایہ ناز استادوں کی مدد سے اپنے لشکر میں وہ موت اگلنے والا کالا بارود اور وہ بھاری توپیں شامل کر لی تھیں جنہیں ہندوستان اور ان افغان قبائل نے آج تک خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا اور جو تاریخ کا دھارا ہمیشہ کے لیے موڑ دینے والی تھیں۔

~4 min
✦ ✦ ✦
باب ١٦

باجوڑ کے قلعے پر بارود اور توپوں کا پہلا قہر

Bajaur fortress cannon attack
Bajaur fortress — the first terrifying test of Mughal gunpowder

غجدوان کے اس حد سے زیادہ تاریک اور عبرتناک میدان میں اپنے آباؤ اجداد کے عظیم الشان سمرقندی تخت کو ہمیشہ کے لیے کھو دینے کے بعد جب ظہیر الدین محمد بابر انتہائی ٹوٹے ہوئے دل اور زخمی انا کے ساتھ کابل کے ان محفوظ محلات میں واپس لوٹا تو اس کی رگوں میں دوڑنے والا وہ چنگیزی اور تیموری جنگجو خون اسے کسی بھی صورت چین سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا پندرہ سو انیس عیسوی کی وہ انتہائی ہولناک اور قیامت خیز سردیاں تھیں جب بابر نے کابل سے اپنا وہ مٹھی بھر لیکن فولادی لشکر تیار کیا اور باجوڑ کے وہ انتہائی جنگجو سرکش اور موت سے نہ ڈرنے والے افغان قبائل جنہیں اپنی طاقت اور قلعے کی اونچی فصیلوں پر اس قدر غرور تھا کہ انہوں نے بابر کی اطاعت قبول کرنے اور ہتھیار ڈالنے کا شاہی پیغام انتہائی حقارت اور تکبر سے ٹھکرا دیا جب بابر نے باجوڑ کے قلعے پر حملے کا وہ کان پھاڑ دینے والا بگل بجایا تو اس کے توپچیوں نے اپنی ان لمبی نالیوں والی بندوقوں اور کالی توپوں کے دہانے قلعے کی ان مضبوط فصیلوں کی طرف سیدھے کر دیے باجوڑ کے وہ جنگجو جو فصیلوں پر کھڑے مغلوں کا مذاق اڑا رہے تھے جب انہوں نے پہلی بار ان بندوقوں اور توپوں سے نکلنے والے وہ سیسے کے گرم گولے اپنے سینوں اور ماتھوں کو چیرتے ہوئے دیکھا تو باجوڑ کے اس غرور میں ڈوبے ہوئے لشکر میں ایک ایسی عبرتناک اور حواس باختہ بھگدڑ مچ گئی کہ وہ چیختے چلاتے ہوئے قلعے کے اندر بھاگنے لگے بابر کے سپاہیوں نے اس خوفناک بارودی طوفان کی آڑ میں قلعے کی ان موٹی دیواروں کو توڑ ڈالا اور کابل کے وہ بپھرے ہوئے خونخوار بھیڑیے باجوڑ کی ان تنگ گلیوں میں ایک ایسے خونی قہر کی طرح داخل ہوئے جس نے پورے علاقے کے قبائل کے خون جما دیے اور وہ کانپتے ہوئے بابر کی اطاعت قبول کرنے پر مجبور ہو گئے۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ١٧

ہندوستان کی گرمی، موت کا عذاب اور پسپائی

Indus River Babur Hindustan
Crossing the Indus — Babur's first real step onto Indian soil

باجوڑ کے اس ناقابل تسخیر قلعے کی اینٹ سے اینٹ بجانے اور بارود کے اس لرزہ خیز قہر کے بعد جب ظہیر الدین محمد بابر نے دریائے سندھ کے ان بپھرے ہوئے اور طوفانی پانیوں کو عبور کر کے ہندوستان کی اس پراسرار اور سرسبز سرزمین پر اپنا پہلا باقاعدہ قدم رکھا تو بھیرہ اور خوشاب کے وہ وسیع میدان اس کم سن ببر شیر کے گھوڑوں کی ٹاپوں تلے لرز اٹھے بابر نے بھیرہ کے ان مقامی حاکموں پر کوئی خونریزی کرنے کے بجائے ایک انتہائی شاطرانہ سیاسی چال چلی اور ملا مرشد کو ایک ایسا دھمکی آمیز اور خونخوار خط دے کر دہلی کے اس مغرور اور متکبر بادشاہ ابراہیم لودھی کی طرف روانہ کیا جس میں یہ کھلی اور لرزہ خیز للکار لکھی تھی کہ پنجاب اور ہندوستان کے وہ تمام علاقے جو کبھی تیموری سلطنت کا حصہ تھے وہ فوراً بابر کے حوالے کر دیے جائیں ورنہ کابل کی یہ بارودی اور موت اگلنے والی توپیں دہلی کے تخت کو راکھ کا ڈھیر بنا دیں گی لیکن اس سفیر کو دہلی کے ان دیوہیکل محلات تک پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں ایک ایسے انتہائی مکار شاطر اور زہریلے افغان گورنر دولت خان لودھی نے لاہور کے دروازوں پر ہی روک لیا اور ہندوستان کی وہ جھلسا دینے والی اور موت اگلنے والی گرمیاں اور وہ لو کے طوفان شروع ہو گئے جن کے بارے میں ان مغلوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا اور ان کے جسموں پر وہ خوفناک اور پراسرار وبائیں پھوٹ پڑیں جنہوں نے بابر کے ان مایہ ناز سپاہیوں کو تڑپا تڑپا کر موت کے گھاٹ اتارنا شروع کر دیا اور بابر کو ایک بار پھر ہندوستان کی اس سونے کی چڑیا کو ادھورا چھوڑ کر کابل کی طرف واپس بھاگنا پڑا۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ١٨

دولت خان لودھی کی غداری اور دعوتِ ہند

Daulat Khan Lodi Lahore
Daulat Khan's treacherous invitation that opened the gates of Hindustan

کابل کے ان سرد اور برفانی پہاڑوں میں جب ظہیر الدین محمد بابر ہندوستان کی اس ادھوری مہم اور بھیرہ سے اپنی اس انتہائی ذلت آمیز اور کڑوی پسپائی کا غم بھلا کر ایک بار پھر اپنی فوج اور بارود کو طاقتور بنانے میں دن رات ایک کر رہا تھا تو تقدیر دہلی کے ان پرشکوہ اور دیوہیکل محلات میں ایک ایسی انتہائی غلیظ بھیانک اور خون آشام سازش کے تانے بانے بن رہی تھی دہلی کے تخت پر بیٹھا ہوا وہ انتہائی مغرور متکبر اور ظالم بادشاہ ابراہیم لودھی جس نے اپنے ہی انتہائی مایہ ناز تجربہ کار اور وفادار افغان سرداروں کو کیڑوں مکوڑوں کی طرح کچلنا اور ذبح کرنا شروع کر دیا تھا ابراہیم لودھی کی اس اندھی اور سفاکانہ طاقت کا سب سے بڑا نشانہ پنجاب کا وہ انتہائی شاطر طاقتور اور خود مختار گورنر دولت خان لودھی بننے والا تھا اس بوڑھے گورنر نے اپنی جان اور تخت کو بچانے کے لیے تاریخ کی وہ سب سے بڑی اور حیرت انگیز غداری کا وہ لرزہ خیز فیصلہ کر لیا جس نے ہندوستان کا دھارا موڑ دیا اس نے اپنے بیٹے دلاور خان اور لودھی خاندان کے ایک اور باغی سردار عالم خان کو ایک انتہائی خفیہ اور سنہری دعوت نامہ دے کر کابل کی طرف اس ببر شیر ظہیر الدین محمد بابر کے دربار میں روانہ کر دیا جس کے بارود اور توپوں کی گرج کے قصے پورے ہندوستان میں پھیل چکے تھے اور بابر نے فوراً اپنے ان مایہ ناز توپچیوں استاد علی قلی اور مصطفیٰ رومی کو اپنی ان کالی اور موت اگلنے والی توپوں کو نکالنے اور اپنے ان ہزاروں فولادی اور خون کے پیاسے جنگجوؤں کو تیار ہونے کا وہ فلک شگاف اور کان پھاڑ دینے والا حکم دے دیا جس نے کابل کے پہاڑوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ١٩

لاہور پر توپوں کی گھن گرج اور افغانوں کی بھگدڑ

Battle of Panipat 1526 Mughal
Panipat, April 21, 1526 — the cannons that shattered Ibrahim Lodi's throne

کابل کے ان فلک بوس اور برفانی پہاڑوں سے جب پندرہ سو چوبیس عیسوی میں ظہیر الدین محمد بابر کا وہ موت اگلنے والا بارودی اور انتہائی غضب ناک لشکر ہندوستان کے ان سرسبز میدانوں کی طرف ایک بپھرے ہوئے طوفان کی طرح بڑھا تو دولت خان لودھی جو بابر کو ابراہیم لودھی کے خلاف ایک کرائے کے قاتل کے طور پر بلایا تھا اپنا پنجاب کا تخت واپس لینے کی ہوس رکھتا تھا لیکن بابر نے اسے صرف جالندھر دے کر اس کی انا کو کچل دیا اور وہ مکار گورنر پہاڑیوں میں جا چھپا اور پھر ذلت کے ساتھ ہتھیار ڈال دیے کابل کے پادشاہ نے پنجاب کو اپنے فولادی شکنجے میں جکڑنے کے بعد دہلی کی طرف اپنے ان خونخوار اور موت سے نہ ڈرنے والے جانثاروں کے ساتھ وہ لرزہ خیز پیش قدمی شروع کی جس کا انجام اکیس اپریل پندرہ سو چھبیس کو پانی پت کے اس تاریک اور خون آشام میدان میں ابراہیم لودھی کے ایک لاکھ کے ٹڈی دل لشکر اور ان دیوہیکل ہاتھیوں کی اس عبرتناک اور دل دہلا دینے والی تباہی کی صورت میں نکلا بابر کی ان آگ اگلنے والی توپوں اور بندوقوں نے جو کچھ کیا وہ تاریخ کا وہ انتہائی حیران کن اور لرزہ خیز باب ہے جس نے ابراہیم لودھی کا کٹا ہوا سر اور اس کا وہ مغرور تخت اس کم سن شہزادے کے قدموں میں ڈال دیا جو کبھی غاروں میں در در کی ٹھوکریں کھاتا تھا اور یوں ہندوستان میں اس عظیم الشان مغلیہ سلطنت کا وہ پرشکوہ سورج طلوع ہوا جس نے صدیوں تک اس خطے پر راج کرنا تھا لیکن بابر کا یہ تخت ابھی پھولوں کی سیج نہیں تھا کیونکہ پندرہ سو ستائیس میں راجستھان کے ان تپتے ہوئے صحراؤں سے ایک ایسا انتہائی وحشی مہیب اور ناقابل شکست راجپوت طوفان رانا سانگا کی قیادت میں دہلی کی طرف بڑھ رہا تھا۔

~5 min
✦ ✦ ✦
باب ٢٠

خانوہ کا میدان، شراب سے توبہ اور ایک پادشاہ کی آخری دعا

Battle Khanwa Rana Sanga Babur
Khanwa 1527 — Babur's vow of abstinence and Rana Sanga's final defeat

پانی پت کی اس خونی فتح کے فوراً بعد پندرہ سو ستائیس میں راجستھان کے ان تپتے ہوئے صحراؤں سے ایک ایسا انتہائی وحشی مہیب اور ناقابل شکست راجپوت طوفان رانا سانگا کی قیادت میں دہلی کی طرف بڑھا جس نے بابر کے ان مایہ ناز اور خونخوار مغل سرداروں کے دلوں میں بھی موت کی وہ اندھی ہیبت بٹھا دی رانا سانگا کوئی عام انسان نہیں تھا بلکہ وہ ایک ایسا دیوہیکل اور بے رحم جنگجو تھا جس کا ایک بازو کٹ چکا تھا ایک آنکھ پھوٹ چکی تھی اور جس کے جسم پر تلواروں اور نیزوں کے اسی سے زیادہ گہرے زخم تھے بابر کی فوج اس قدر خوفزدہ اور بدحواس ہو چکی تھی کہ وہ لڑنے کے بجائے واپس کابل بھاگنے کی منتیں کرنے لگی لیکن اس فیصلہ کن اور قیامت خیز لمحے میں بابر نے اپنی زندگی کا وہ سب سے حیرت انگیز اور رونگٹے کھڑے کر دینے والا قدم اٹھایا اس نے اپنے خیمے سے شراب کے تمام انتہائی قیمتی سونے اور چاندی کے پیالے منگوائے اور اپنی پوری فوج کے سامنے انہیں زمین پر پٹخ کر چکنا چور کر دیا اور ہمیشہ کے لیے شراب سے توبہ کرتے ہوئے ایک ایسا فلک شگاف اور خون کو کھولا دینے والا خطبہ دیا جس نے خانوہ کے میدان میں رانا سانگا کے ناقابل شکست راجپوتوں کی لاشوں کے پہاڑ کھڑے کر دیے اور رانا سانگا زخمی ہو کر انتہائی ذلت کے ساتھ میدان سے فرار ہونے پر مجبور ہو گیا خانوہ کی اس لرزہ خیز فتح نے ہندوستان پر بابر کی گرفت کو لوہے کی طرح مضبوط کر دیا اور پندرہ سو تیس عیسوی میں جب بابر کا سب سے لاڈلا اور جانشین بیٹا ہمایوں ایک ایسی انتہائی پراسرار اور جان لیوا بیماری کا شکار ہو گیا تو اس عظیم اور بے بس باپ نے اپنے بیٹے کے بستر کے گرد تین بار چکر کاٹتے ہوئے آسمان کی طرف منہ کر کے انتہائی دردناک آواز میں اپنے پروردگار سے دعا مانگی کہ اس کے بیٹے کی بیماری اور اس کی موت اس کے جسم میں منتقل کر دی جائے اور تاریخ کے اوراق اس انتہائی دلدوز اور معجزاتی سچ کی گواہی دیتے ہیں کہ بابر کی اس دعا کے بعد ہمایوں بستر سے صحت یاب ہو کر اٹھنے لگا اور وہ عظیم فاتح ظہیر الدین محمد بابر جس نے تلواروں اور توپوں کے سائے میں اپنی پوری زندگی گزاری تھی وہ اسی بیماری کا شکار ہو کر محض سینتالیس سال کی عمر میں ہندوستان کے اس پرشکوہ تخت پر اپنے بیٹے کو بٹھا کر پندرہ سو تیس کی ان سردیوں میں ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو گیا اور یوں ایک یتیم اور دربدر شہزادے سے لے کر ہندوستان کے سب سے بڑے اور طاقتور پادشاہ بننے تک کی یہ انتہائی خون آشام سنسنی خیز اور عظیم الشان داستان اپنے اختتام کو پہنچی جس نے تاریخ کے صفحات پر وہ انمٹ اور فولادی نقوش چھوڑے جو قیامت تک مٹائے نہیں جا سکتے۔

~6 min
s