اورنگزیب عالمگیر — مظلوم یا ظالم؟

تاریخ کے پیچ و خم میں — اورنگزیب کی ابتدا

تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جنہیں پڑھتے وقت انسان غیر جانبدار نہیں رہ پاتا۔ یا تو عقیدت آنکھوں پر پردہ ڈال دیتی ہے، یا نفرت عقل کو مفلوج کر دیتی ہے۔ اورنگزیب عالمگیر بھی انہی ناموں میں سے ایک ہے۔ ایک ایسا بادشاہ جسے کوئی اسلام کا محافظ کہتا ہے، تو کوئی اسے برصغیر کی تہذیب کا قاتل۔ کوئی اس کے سجدوں کو دلیل بناتا ہے، تو کوئی اس کے حکموں سے ٹپکتے خون کو۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اورنگزیب کون تھا، مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس کی پوری کہانی سننا ہی نہیں چاہتے۔ اورنگزیب کی کہانی کسی تخت سے شروع نہیں ہوتی، یہ ایک ایسے گھر سے شروع ہوتی ہے جہاں اقتدار وراثت نہیں، جنگ کے بعد ملتا تھا۔ مغل خاندان میں باپ بیٹے کو گلے نہیں لگاتا تھا، بھائی بھائی کی آنکھوں میں خنجر تلاش کرتا تھا۔ شاہ جہاں کا دربار سونے چاندی سے نہیں، خوف سے چمکتا تھا۔ اور اسی دربار میں ایک خاموش، کم گو، عبادت گزار شہزادہ پل رہا تھا — جسے بعد میں تاریخ “عالمگیر” کے نام سے جانے گی۔ اورنگزیب بچپن سے ہی باقی شہزادوں جیسا نہیں تھا۔ دارا شکوہ فلسفے میں کھویا رہتا، شجاع عیش و عشرت میں، مراد شراب اور شکار میں۔ اورنگزیب؟ وہ قرآن پڑھتا، فقہ سیکھتا، اور خاموشی سے سب کو دیکھتا۔ یہی خاموشی بعد میں اس کی سب سے خطرناک طاقت بنی۔ وہ بولتا کم تھا، لیکن جب فیصلہ کرتا تھا تو پیچھے نہیں ہٹتا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب مغل سلطنت اپنی وسعت کے عروج پر تھی، مگر اندر سے کھوکھلی ہو چکی تھی۔ شاہ جہاں بیمار پڑا، اور جیسے ہی کمزوری ظاہر ہوئی، بھائیوں کے درمیان وہی ہوا جو مغل تاریخ کا مستقل مزاج تھا — جنگ۔ دارا شکوہ، جو باپ کا لاڈلا تھا، خود کو فطری وارث سمجھتا تھا۔ اورنگزیب نے خود کو اللہ کی مرضی کا آلہ سمجھا۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں سے تاریخ اور اخلاقیات ایک دوسرے سے الگ ہونا شروع ہوئیں۔ جنگِ جانشینی صرف تخت کی جنگ نہیں تھی، یہ نظریات کی جنگ تھی۔ دارا شکوہ تصوف، مذہبی ہم آہنگی اور فلسفے کا نمائندہ تھا۔ اورنگزیب شریعت، نظم، اور سخت ریاستی کنٹرول کا۔ سوال یہ نہیں تھا کہ کون جیتے گا، سوال یہ تھا کہ برصغیر کا مستقبل کس راستے پر جائے گا۔ دارا شکوہ ہارا۔ عبرتناک طریقے سے۔ اورنگزیب نے اسے صرف شکست نہیں دی، اسے تاریخ کے حاشیے پر دھکیل دیا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے الزام لگتا ہے کہ اورنگزیب نے رحم کو سیاست پر قربان کر دیا۔ لیکن کیا وہ واقعی انتخاب کر رہا تھا؟ یا مغل سیاست میں رحم پہلے ہی مر چکا تھا؟ تخت پر بیٹھتے ہی اورنگزیب کو ایک ایسی سلطنت ملی جو بظاہر مضبوط تھی، مگر اندر سے بغاوتوں، قرضوں اور بدانتظامی کا شکار تھی۔ اس نے سب سے پہلے وہ کیا جو کوئی مقبول بادشاہ نہیں کرتا — اس نے جشن منانے کے بجائے حساب مانگا۔ اس نے شاہی خرچ کم کیا، موسیقی پر پابندیاں لگائیں، دربار کی رنگینی ختم کی۔ یہی وہ فیصلے تھے جنہوں نے اسے عوام کے ایک طبقے میں “ظالم” بنا دیا۔ مگر اصل تنازع تب شروع ہوا جب مذہب ریاست کا ہتھیار بن گیا۔ جزیہ کا نفاذ، مندروں کی مسماری، اور سخت مذہبی پالیسیاں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب محض تعصب تھا؟ یا ایک ایسے بادشاہ کی کوشش جو بکھرتی ہوئی سلطنت کو ایک نظریے کے تحت جوڑنا چاہتا تھا؟ تاریخ یہاں خاموش نہیں، لیکن سچ سیدھا بھی نہیں۔ اورنگزیب کے دور میں سلطنت پھیلی، مگر سکون ختم ہو گیا۔ دکن کی جنگیں، مراٹھوں کا عروج، سکھوں کی مزاحمت — ہر طرف آگ تھی۔ اورنگزیب ہر آگ پر خود پہنچا، بوڑھا ہو کر بھی، بیمار ہو کر بھی۔ اس نے تخت کو دہلی میں نہیں، میدانِ جنگ میں رکھا۔ یہی چیز اسے باقی مغل بادشاہوں سے مختلف بناتی ہے — اور شاید خطرناک بھی۔ یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے: کیا اورنگزیب نے سلطنت کو بچایا، یا اسے اتنا نچوڑ دیا کہ مرنے کے بعد سب بکھر گیا؟ اس نے اپنے لیے مقبرہ نہیں بنوایا۔ اس نے کہا، “میرے گناہ بہت ہیں، سادہ قبر کافی ہے۔” یہ عاجزی تھی؟ یا تاریخ کے فیصلے کا خوف؟ کیونکہ اورنگزیب جانتا تھا کہ تلوار سے زیادہ خطرناک چیز — وقت ہوتا ہے۔ اور وقت ابھی فیصلہ سنانے والا نہیں تھا۔ کیونکہ اصل سوال ابھی باقی ہے: اگر اورنگزیب واقعی ظالم تھا، تو اس کے بعد آنے والے بادشاہ سلطنت کیوں نہ بچا سکے؟ اور اگر وہ مظلوم تھا، تو تاریخ نے اس کے خلاف اتنا شور کیوں مچایا؟ یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ یہاں سے اصل تنازع شروع ہوتا ہے۔

Aurangzeb-Alamgir1

مذہب، طاقت، اور نفرت کی جڑیں

اورنگزیب عالمگیر کے نام کے ساتھ سب سے پہلا لفظ جو جوڑا جاتا ہے، وہ ہے “مذہبی شدت پسند”۔ یہ الزام اتنی بار دہرایا گیا ہے کہ اب اسے سوال ہی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ فیصلہ مان لیا گیا ہے۔ مگر تاریخ عدالت نہیں ہوتی جہاں ایک ہی گواہ کافی ہو۔ تاریخ میں ہر الزام کے پیچھے نیت، حالات اور سیاست چھپی ہوتی ہے۔ اورنگزیب کے مذہبی فیصلے بھی ایسے ہی تھے — سادہ نہیں، سیدھے نہیں، اور ہرگز معصوم نہیں۔ جزیہ۔ بس یہی ایک لفظ ہے جس پر اورنگزیب کو صدیوں سے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے غیر مسلموں پر ٹیکس لگا کر تعصب کی بنیاد رکھی، مگر سوال یہ ہے کہ کیا جزیہ اورنگزیب کی ایجاد تھی؟ نہیں۔ یہ اس سے پہلے بھی مغلوں کے نظام میں موجود تھا، اکبر نے اسے ہٹایا، اورنگزیب نے بحال کیا۔ فرق یہ تھا کہ اکبر مذہبی ہم آہنگی کی علامت بننا چاہتا تھا، اورنگزیب ریاستی نظم کی۔ اورنگزیب کے نزدیک ریاست کوئی روحانی تجربہ نہیں تھی، بلکہ ایک سخت، بے رحم مشین تھی جسے چلانے کے لیے اصول چاہیے تھے۔ وہ مذہب کو روحانیت نہیں، قانون سمجھتا تھا۔ اسی لیے اس نے فقہِ عالمگیری لکھی، قاضیوں کو مضبوط کیا، اور ریاستی فیصلوں کو شریعت کے ساتھ جوڑ دیا۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ وہ مذہبی تھا، مسئلہ یہ تھا کہ وہ مذہب کو طاقت کے ساتھ ملا رہا تھا۔ مندروں کی مسماری۔ یہ الزام اور بھی بھاری ہے، اور یہاں دفاع کرنا آسان نہیں۔ تاریخ کے ریکارڈ بتاتے ہیں کہ اورنگزیب کے دور میں کئی مندر گرائے گئے، لیکن یہ بھی ریکارڈ ہے کہ اس نے کئی مندروں کو جاگیریں بھی دیں۔ تو پھر سوال یہ بنتا ہے کہ وہ کیا کر رہا تھا؟ جواب تلخ ہے: وہ عبادت گاہوں کو عقیدے کی بنیاد پر نہیں، سیاسی بغاوت کی علامت کے طور پر دیکھ رہا تھا۔ جہاں اسے بغاوت کی بو آئی، وہاں اس نے مذہب نہیں دیکھا۔ مگر عوام نے یہ باریک فرق کبھی نہیں سمجھا۔ عوام نے صرف اتنا دیکھا کہ ایک مسلمان بادشاہ ان کی عبادت گاہ گرا رہا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں اورنگزیب تاریخ میں ولن بنتا ہے۔ کیونکہ بادشاہ کا کام صرف نیت نہیں، اثر بھی ہوتا ہے۔ اور اس کے فیصلوں کے اثرات زہریلے تھے۔ اسی دور میں مراٹھے اٹھے۔ شیواجی، ایک باغی نہیں، ایک علامت بن گیا۔ ہندو شناخت کی، علاقائی آزادی کی، اور مغل اقتدار کے خلاف نفرت کی۔ اورنگزیب نے اسے صرف سیاسی دشمن سمجھا، مگر وہ اس سے کہیں زیادہ بن چکا تھا۔ اورنگزیب نے دکن میں اپنی زندگی کے قیمتی سال جھونک دیے۔ جنگ پر جنگ، خون پر خون۔ سلطنت پھیلتی گئی، مگر دل ٹوٹتے گئے۔ سکھوں کا معاملہ اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ گرو تیغ بہادر کی پھانسی نے اورنگزیب کو تاریخ میں ایک اور سیاہ دھبہ دیا۔ سوال یہ ہے: کیا یہ مذہبی قتل تھا؟ یا سیاسی بغاوت کا انجام؟ مغل ریکارڈ اسے بغاوت کہتا ہے، سکھ روایت اسے شہادت کہتی ہے۔ سچ شاید دونوں کے بیچ کہیں دفن ہے۔ مگر تاریخ جذبات سے لکھی جاتی ہے، اور یہاں جذبات اورنگزیب کے خلاف گئے۔ اورنگزیب کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ محبوب بننا ہی نہیں چاہتا تھا۔ وہ خود کو جواب دہ سمجھتا تھا، عوام کے سامنے نہیں، خدا کے سامنے۔ یہی سوچ اسے خطرناک بناتی ہے۔ کیونکہ جب کوئی حکمران خود کو صرف خدا کے سامنے جواب دہ سمجھے، تو انسانوں کی چیخیں اسے کم سنائی دیتی ہیں۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ اورنگزیب نے ذاتی زندگی میں وہ سب چھوڑ دیا جو اس سے پہلے کے مغل بادشاہوں کی پہچان تھا۔ شراب، رقص، عیش و عشرت — سب ختم۔ وہ اپنے خرچ قرآن لکھ کر پورا کرتا تھا۔ اس نے شاہی خزانے کو ذاتی زندگی پر نہیں لگایا۔ یہ تضاد ہے: ایک طرف سخت گیر بادشاہ، دوسری طرف زاہد انسان۔ سوال یہ ہے: کیا ایک نیک انسان، ایک ظالم حکمران ہو سکتا ہے؟ اورنگزیب کے دور میں سلطنت اپنی سب سے بڑی جغرافیائی حد تک پہنچی، مگر معاشی طور پر کمزور ہو گئی۔ جنگیں خزانہ کھا گئیں۔ فوج تھک گئی۔ عوام بوجھ تلے دب گئے۔ اور اورنگزیب… وہ بڑھاپے میں بھی تلوار اٹھائے رہا۔ اس نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کہ سلطنت اندر سے کیا بن رہی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ سرگوشی کرتی ہے: شاید اورنگزیب نے سلطنت کو دشمنوں سے بچا لیا، مگر اسے اپنے آپ سے نہیں بچا سکا۔

Aurangzeb-Alamgir2

خطوط، پچھتاوا، اور بادشاہ کی تنہائی

جب طاقت اپنے عروج پر ہوتی ہے تو انسان خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگتا ہے۔ مگر تاریخ میں ہر طاقت کا ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ اورنگزیب کے لیے یہ لمحہ اس کے آخری سال تھے۔ وہ سال جب اس کے اردگرد سلطنت تو تھی، مگر انسان نہیں تھے۔ وہ سال جب فتوحات کی آوازیں خاموش ہو چکی تھیں، اور صرف اس کے اپنے خیالات بولتے تھے۔ اورنگزیب بوڑھا ہو چکا تھا۔ دکن کی جنگوں نے اس کا جسم نہیں، اس کی روح تھکا دی تھی۔ خیموں میں گزرنے والی راتیں، دور تک پھیلی ہوئی فوج، اور ہر صبح ایک نئی بغاوت کی خبر۔ وہ بادشاہ جو کبھی دہلی کے تخت پر بیٹھا تھا، اب مٹی پر سوتا تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب اس نے وہ خطوط لکھے جو تاریخ میں اس کا سب سے سچا اعتراف سمجھے جاتے ہیں۔ ان خطوط میں کوئی فتح نہیں، کوئی غرور نہیں۔ صرف خوف ہے۔ وہ اپنے بیٹوں کو لکھتا ہے کہ وہ ناکام رہا، کہ اس نے سلطنت کو کمزور چھوڑا۔ وہ اپنے اعمال پر شرمندگی ظاہر کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ وہ خدا کے سامنے خالی ہاتھ جا رہا ہے۔ یہ الفاظ کسی فاتح کے نہیں، کسی ٹوٹے ہوئے انسان کے ہیں۔ یہاں ایک سوال ابھرتا ہے: کیا یہ پچھتاوا سچا تھا؟ یا صرف بڑھاپے کی کمزوری؟ اورنگزیب کے ناقدین کہتے ہیں کہ یہ آنسو بہت دیر سے بہے۔ کہ جن ہاتھوں نے فیصلے کیے، وہ اب خود کو بے گناہ ثابت نہیں کر سکتے۔ مگر تاریخ صرف سزا دینے کے لیے نہیں ہوتی، سمجھنے کے لیے بھی ہوتی ہے۔ اور یہاں ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ اورنگزیب واحد مغل بادشاہ تھا جس نے اپنے اعمال کا بوجھ لفظوں میں قبول کیا۔ مگر اس کی تنہائی کی اصل وجہ اس کے بیٹے تھے۔ وہی بیٹے جن کے لیے اس نے سلطنت بچانے کی کوشش کی، وہی اس کے خلاف صف آرا تھے۔ اورنگزیب نے اپنے باپ کے ساتھ وہی کیا تھا جو مغل روایت تھی، اور اس کے بیٹوں نے اس کے ساتھ بھی وہی کیا۔ اقتدار نے محبت کی جگہ لے لی تھی۔ یہی مغل خاندان کا سب سے بڑا المیہ تھا۔ اورنگزیب کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ اس نے ایک ایسی سلطنت بنائی ہے جو صرف اس کے دم سے کھڑی ہے۔ اس کے بغیر، سب کچھ بکھر جائے گا۔ اور یہی ہوا۔ مگر وہ زندہ تھا تو یہ منظر نہیں دیکھ سکا۔ وہ صرف اندازہ لگا سکتا تھا — اور یہ اندازہ ہی اس کی سب سے بڑی سزا تھا۔ اسی دوران دکن میں جنگ جاری رہی۔ مراٹھے کمزور نہیں ہو رہے تھے، بلکہ اور مضبوط ہو رہے تھے۔ اورنگزیب ہر نئی بغاوت کو دبانے نکلتا، مگر ہر دبائی گئی چنگاری آگ بن کر لوٹتی۔ یہ وہ جنگ تھی جس کا کوئی اختتام نہیں تھا۔ اور شاید یہی جنگ تھی جس نے مغل سلطنت کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔ اورنگزیب کی زندگی کا سب سے بڑا تضاد یہی تھا: وہ ذاتی طور پر سادہ، زاہد اور محتاط تھا، مگر ریاستی سطح پر سخت، بے رحم اور ضدی۔ یہ تضاد تاریخ کو الجھا دیتا ہے۔ کیونکہ ہم عموماً انسان کو ایک رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں — یا مکمل نیک، یا مکمل بد۔ اورنگزیب ان دونوں خانوں میں فٹ نہیں ہوتا۔ وہ ایک ایسا حکمران تھا جس نے اپنی نیت کو پاک سمجھا، مگر اپنے فیصلوں کے نتائج کو کم سمجھا۔ جب اس کی موت قریب آئی تو اس نے اپنے لیے کوئی شان و شوکت نہیں چاہی۔ اس نے کہا کہ اس کی لاش عام قبر میں دفن کی جائے، بغیر مقبرے کے، بغیر نشانی کے۔ یہ فیصلہ عاجزی تھا یا خود احتسابی؟ شاید دونوں۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اصل فیصلہ قبر کے بعد ہونا ہے، تاریخ کے ہاتھ میں۔ اورنگزیب مر گیا، مگر اس کے سوال زندہ رہ گئے۔

Aurangzeb-Alamgir3

ایک موت، اور سلطنت کا زوال

ایک موت، اور ایک سلطنت کا ٹوٹنا 1707 کی ایک خاموش صبح۔ دکن کی زمین پر نہ کوئی توپ چلی، نہ کوئی علم لہرایا۔ صرف ایک خبر پھیلی: اورنگزیب مر گیا ہے۔ کوئی جشن نہیں، کوئی ماتم نہیں۔ جیسے سب جانتے تھے کہ یہ انجام ناگزیر تھا۔ مگر کسی نے یہ اندازہ نہیں لگایا تھا کہ اس موت کے بعد مغل سلطنت سانس لینا بھی بھول جائے گی۔ اورنگزیب کے جنازے کے ساتھ ہی وہ رسی ٹوٹ گئی جس سے ایک بہت بڑی سلطنت بندھی ہوئی تھی۔ وہ رسی قانون نہیں تھی، ادارے نہیں تھے، نظام نہیں تھا — وہ صرف ایک انسان کی ضد، محنت اور خوف پر مبنی تھی۔ اور جب وہ انسان گیا، تو سب کچھ بکھرنے لگا۔ دہلی میں تخت خالی نہیں رہا، مگر تخت کی حیثیت ختم ہو گئی۔ اورنگزیب کے بیٹے ایک دوسرے کے خلاف کھڑے تھے، بالکل ویسے ہی جیسے وہ خود اپنے باپ کے خلاف کھڑا ہوا تھا۔ مگر ایک فرق تھا: اورنگزیب کے بعد آنے والے شہزادوں میں نہ اس جیسی سختی تھی، نہ برداشت، نہ وہ خوف جس سے پورا برصغیر کانپتا تھا۔ سلطنت کے کونے کونے میں طاقت کے خلا نے جنم لیا۔ وہ صوبے جو اورنگزیب کے زندہ ہوتے خاموش تھے، اب خود کو آزاد سمجھنے لگے۔ بنگال، اودھ، دکن — سب اپنی اپنی ریاستیں بننے لگیں۔ مغل شہنشاہ اب حکم دیتا تھا، مگر حکم مانا نہیں جاتا تھا۔ یہاں ایک تلخ سچ سامنے آتا ہے: اورنگزیب نے سلطنت کو جوڑے رکھا، مگر مضبوط نہیں بنایا۔ اس کی پالیسیوں نے وقتی استحکام تو دیا، مگر مستقبل کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔ اس نے مذہب کو ریاست کے ساتھ جوڑ کر اختلاف کو ختم کرنا چاہا، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ اختلاف نے بغاوت کی شکل اختیار کر لی۔ مراٹھے اب صرف جنگجو نہیں رہے تھے، وہ ایک سیاسی طاقت بن چکے تھے۔ سکھ، راجپوت، جاٹ — سب نے اپنے اپنے زخم یاد رکھے تھے۔ اورنگزیب کی موت کے بعد ان زخموں پر کوئی مرہم نہیں تھا۔ چند ہی دہائیوں میں وہ سلطنت جو کبھی دنیا کی امیر ترین سلطنت کہلاتی تھی، قرضوں، سازشوں اور کمزور بادشاہوں کا مجموعہ بن گئی۔ مغل بادشاہ اب بادشاہ نہیں رہے تھے، وہ صرف نام تھے — ایسے نام جنہیں استعمال کر کے طاقتور امرا اور غیر ملکی قوتیں اپنے مفادات حاصل کرتی تھیں۔ یہی وہ خلا تھا جس میں یورپی طاقتیں داخل ہوئیں۔ انگریز، جو کبھی صرف تاجر تھے، اب سیاست سمجھنے لگے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ سلطنت اب اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔ اور یہ کھوکھلا پن اورنگزیب کے بعد پیدا نہیں ہوا — یہ اس کی طویل حکمرانی کے دوران خاموشی سے بڑھتا رہا تھا۔ یہ کہنا آسان ہے کہ اورنگزیب ہی زوال کا ذمہ دار تھا۔ مگر یہ پوری سچائی نہیں۔ وہ ایک علامت تھا، ایک انتہا۔ اس سے پہلے کے مغل بادشاہوں نے بھی وہ نظام نہیں بنایا جو اس کے بعد چل سکتا۔ اورنگزیب نے اس کمزوری کو اپنی طاقت سے چھپا لیا، مگر ختم نہیں کیا۔ تاریخ یہاں انصاف کرتی ہے، مگر رحم نہیں۔ کیونکہ ایک طرف وہ بادشاہ ہے جس نے ذاتی زندگی میں سادگی، عبادت اور احتساب اپنایا۔ اور دوسری طرف وہ حکمران ہے جس کے فیصلوں نے آنے والی نسلوں کو جنگ، غلامی اور ٹوٹ پھوٹ دی۔ اورنگزیب کے بغیر مغل سلطنت کا حال یہ ثابت کرتا ہے کہ اصل عظمت فتوحات میں نہیں، اداروں میں ہوتی ہے۔ وہ ادارے جو انسان کے بعد بھی زندہ رہیں۔ اورنگزیب یہ ادارے نہیں چھوڑ سکا۔ اب سوال یہ نہیں کہ وہ نیک تھا یا بد۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایک ناکام حکمران تھا؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں۔ کیونکہ اس نے سلطنت کو بچایا، مگر قیمت بہت زیادہ تھی۔ اتنی زیادہ کہ وہ قیمت اس کے بعد آنے والوں نے ادا کی۔

Aurangzeb-Alamgir4

ایک بادشاہ، ایک لاش، اور صدیوں تک چلنے والی جنگ

اورنگزیب کی قبر دکن کی خاموش مٹی میں ہے۔ نہ کوئی سنہرا گنبد، نہ قیمتی پتھر، نہ فاتحانہ کتبہ۔ صرف ایک سادہ سی مزار — جیسے وہ خود چاہتا تھا۔ مگر تاریخ میں اس کی قبر کبھی خاموش نہیں رہی۔ اورنگزیب شاید واحد مغل بادشاہ ہے جو مرنے کے بعد بھی زندہ رہا — کبھی نفرت کی صورت، کبھی تقدیس کے لباس میں، اور کبھی سیاسی ہتھیار بن کر۔ صدیوں بعد بھی اس کے نام پر لڑائیاں ہوئیں، کتابیں جلی، مجسمے توڑے گئے، نصاب بدلے گئے۔ کیونکہ اورنگزیب صرف ایک بادشاہ نہیں رہا — وہ بیانیہ بن گیا۔ ایک طبقہ اسے ولی اللہ سمجھتا ہے، جو کہتا ہے کہ اس نے شریعت نافذ کی، بدعنوانی روکی، سادگی اپنائی، اور طاقت کے نشے سے خود کو بچایا۔ دوسرا طبقہ اسے ظالم، تنگ نظر اور سلطنت کا قاتل کہتا ہے، جو کہتا ہے کہ اس نے مذہب کو تلوار بنایا اور اتحاد کو توڑ دیا۔ سچ؟ سچ ان دونوں کے درمیان کہیں دفن ہے — بالکل ویسے ہی جیسے وہ خود دفن ہے۔ اورنگزیب نے قرآن کی آیات لکھ کر روزی کمائی، یہ سچ ہے۔ اس نے موسیقی، شراب اور عیش کو ترک کیا، یہ بھی سچ ہے۔ اس نے اپنے بیٹوں کو قید کیا، بھائیوں کو قتل کیا، اور اختلاف کو کچلا — یہ بھی سچ ہے۔ تاریخ کسی کو مکمل فرشتہ یا مکمل شیطان نہیں بناتی۔ مگر سیاست ایسا ضرور کرتی ہے۔ آج اگر اورنگزیب زندہ ہوتا تو شاید وہ یہ دیکھ کر حیران ہوتا کہ اس کے فیصلے اب اس کے ہاتھ میں نہیں رہے۔ کوئی اسے اسلام کا محافظ بنا کر پیش کرتا ہے، کوئی اسے برصغیر کے زخموں کی جڑ کہتا ہے۔ اور شاید دونوں اپنی جگہ غلط نہیں، مگر مکمل بھی نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ اورنگزیب اچھا تھا یا برا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک حکمران اپنی ذاتی نیکی سے تاریخ کو معاف کرا سکتا ہے؟ کیونکہ ریاستیں عبادت سے نہیں، توازن سے چلتی ہیں۔ اورنگزیب نے توازن توڑ دیا — شاید نیت سے نہیں، مگر نتیجے میں۔ اس نے ایک ایسی سلطنت چلائی جو صرف اس پر کھڑی تھی۔ جب وہ گرا، سب کچھ گرا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ اور اخلاق الگ ہو جاتے ہیں۔ ایک انسان نیک ہو سکتا ہے، مگر ایک حکمران کے فیصلے قوموں کی تقدیر لکھتے ہیں۔ اورنگزیب نے وہ تقدیر لکھی، جسے اس کے بعد کوئی مٹا نہ سکا۔ اسی لیے آج بھی جب برصغیر کی تاریخ پر بات ہوتی ہے، اورنگزیب کا نام آتا ہے — خاموش نہیں، بلکہ شور کے ساتھ۔ کیونکہ کچھ بادشاہ مر کر دفن ہو جاتے ہیں، اور کچھ بادشاہ مر کر سوال بن جاتے ہیں۔ اورنگزیب عالمگیر… ایک بادشاہ جو مر گیا، مگر فیصلہ آج تک جاری ہے۔

Aurangzeb-Alamgir5
Up Back to Top
WhatsApp Share on WhatsApp Facebook Share on Facebook Twitter Share on Twitter